’حکومت کا تختہ الٹنے کی کوشش‘ اور جھوٹی گواہی: سلطان سلیمان کا کردار نبھانے والے ترک اداکار جنھیں ایک تعلق نے مشکل میں ڈال دیا

سلطنت عثمانیہ کے حکمران سلطان سلیمان پر بننے والی ترک سیریز

،تصویر کا ذریعہTims Productions

،تصویر کا کیپشنسلطنت عثمانیہ کے حکمران سلطان سلیمان پر بننے والی ترک سیریز کا ایک منظر

سلطنت عثمانیہ کے حکمران سلطان سلیمان پر بننے والی ترک سیریز (The Magnificent Century) میں مرکزی کردار ادا کرنے والے ہالیت آرینج کو ترکی کی عدالت نے قید کی سزا سنائی تاہم بعد میں اس سزا کو معطل کر دیا گیا۔

ترکی کے سرکاری میڈیا کے مطابق عدالت نے ہالیت آرینج کے خلاف فیصلہ 23 مئی کو سنایا تھا۔

سلطنت عثمانیہ کے 10ویں حکمران سلطان سلیمان اور ان کی اہلیہ حوریم سلطان پر بننے والی ترک سیریز (The Magnificent Century) کو سنہ 2011 میں ترکی میں فلمایا گیا تھا۔

اس سیریز کا شمار ترک ٹی وی کے سب سے مشہور اور مہنگے پروجیکٹس میں ہوتا ہے۔

55 برس کے ہالیت آرینج کے ساتھ ساتھ ایک اور مشہور ترک اداکار رضا کجاوغلو کو سنہ 2013 میں ہونے والے مظاہروں کے معاملے میں مبینہ طور پر جھوٹی گواہی دینے پر سزا سنائی گئی۔

سنہ 2013 میں استنبول میں گیزی پارک میں درختوں کی غیر قانونی کٹائی کے خلاف احتجاج شروع ہوا تھا، جس نے بعد میں ملک بھر میں بڑے پیمانے پر حکومت مخالف مظاہروں کی شکل اختیار کر لی تھی۔

اس معاملے کے تفتیش کاروں کو ہالیت آرینج اور رضا کجاوغلو کے ایک اور اداکار اور سماجی کارکن میمت علی الابورا کے ساتھ روابط کے بارے میں دلچسپی تھی۔

یاد رہے کہ ترکی میں الابورا پر ’حکومت کا تختہ الٹنے کی کوشش‘ کا الزام ہے۔

ہالیت آرینج نے ابتدائی تفتیش میں الابورا کے ساتھ کسی بھی قسم کے تعلق کو مسترد کرتے ہوئے دعویٰ کیا تھا کہ وہ انھیں صرف ایک اداکار کی حیثیت سے ہی جانتے ہیں۔

سلطان سلیمان اور حوریم سلطان

،تصویر کا ذریعہTims Productions

،تصویر کا کیپشنسلطان سلیمان اور حوریم سلطان کے تعلق کی اس سے پہلے مثال نہیں تھی اور ایک مؤرخ کے نزدیک سلطنت عثمانیہ کے اس دور کو ’سلیمان اور روکسیلانا کا دور‘ بھی کہا جا سکتا ہے

استغاثہ کے مطابق ہالیت آرینج نے اس بارے میں جھوٹی گواہی دی۔

اس معاملے کی تفتیش کرنے والوں کے مطابق سنہ 2013 کے بعد سے ہالیت آرینج اور میمت علی الابورا کے درمیان فون کالز اور میسیجز کے ذریعے 12 مرتبہ رابطہ ہوا۔

تفتیش کاروں کے مطابق گیزی پارک مظاہروں کے دوران رابطوں کا یہ سلسلہ مزید بڑھ گیا۔

ترک تفتیش کاروں کے مطابق ان مظاہروں کے دوران ہالیت آرینج کو الابورا کے ساتھ دیکھا گیا اور فوٹیج بھی موجود ہے کہ یہ دونوں اداکار ایک دوسرے کا ہاتھ پکڑ کر چل رہے تھے۔

عدالت نے ہالیت آرینج کو دو برس تین ماہ قید کی سزا سنائی تاہم مقدمے کی سماعت کے دوران ان کے رویے کی بنیاد کر اس سزا کو کم کر کے ایک برس، 10 ماہ اور 15 دن کر دیا گیا۔

عدالت نے جب یہ دیکھا کہ ہالیت آرینج کا کوئی مجرمانہ ریکارڈ نہیں تو پھر ان کی سزا کو معطل کر دیا گیا۔

عدالت نے فیصلے کو ملتوی کرتے ہوئے رضا کجاوغلو کو ایک برس آٹھ ماہ قید کی سزا سنائی۔

ہالیت آرینج جلد ہی ترکی کے نئے ڈرامے 'اگر بادشاہ ہار جائے' (If the King Loses) میں بھی نظر آئیں گے۔

دوران سماعت انھوں نے کہا فلم انڈسٹری میں وہ ایسے بہت سے لوگوں کے ساتھ بھی تصاویر بنواتے ہیں، جن کے ساتھ ان کے کوئی قریبی تعلقات نہیں ہوتے۔