’ناروے کے شاہی خاندان کی تاریخ کا سب سے بڑا سکینڈل‘: شہزادی کا بیٹا ریپ اور تشدد سمیت 38 مقدمات میں گرفتار

،تصویر کا ذریعہLISE ASERUD/NTB/AFP
- مصنف, پال کربی
- عہدہ, بی بی سی نیوز، اوسلو
- مطالعے کا وقت: 7 منٹ
ناروے کی شہزادی میٹے ماریٹ کے بیٹے ماریئس بورگ ہوئیبی کو پولیس نے اتوار کے روز ایک خاتون پر حملے کے الزام میں گرفتار کیا ہے۔ 29 سالہ ہوئیبی کے خلاف منگل کے روز اوسلو میں عدالتی کارروائی کا آغاز ہوگا۔
ماریئس بورگ ہوئیبی پر 38 سنگین الزامات عائد ہیں، جن میں چار خواتین کے ریپ، تشدد، منشیات کی ترسیل اور ٹریفک قوانین کی خلاف ورزی شامل ہیں۔
پولیس کے مطابق تازہ ترین واقعے میں ہوئیبی نے مبینہ طور پر چاقو لہرانے اور عدالتی احکامات کی خلاف ورزی کی۔ عدالت نے پولیس کی درخواست پر انھیں چار ہفتے کے لیے ریمانڈ پر بھیج دیا تاکہ دوبارہ جرم سے بچا جا سکے۔
اگست 2024 سے اب تک ناروے کی شہزادی کے بیٹے کو چار مرتبہ گرفتار کیا جا چُکا ہے۔ سنہ 2024 میں جب انھیں گرفتار کیا گیا تھا تو اُس وقت ان پر ایک خاتون پر حملے کا الزام لگا تھا جن کے ساتھ ان کا تعلق تھا۔ ہوئیبی نے سنگین الزامات سے انکار کیا ہے لیکن کچھ معمولی جرائم کا اعتراف بھی کیا ہے۔
اس مقدمے کے ساتھ ساتھ ناروے کے عوام شہزادی میٹے ماریٹ کے ماضی کے ایک اور تنازعے پر بھی سوالات اٹھا رہے ہیں۔ انکشاف ہوا ہے کہ انھوں نے سنہ 2011 سے سنہ 2014 تک بدنام زمانہ امریکی مجرم جیفری ایپسٹین کے ساتھ خط و کتابت بھی کی۔ شہزادی نے اس تعلق کو ’غلط فیصلہ‘ قرار دیا اور متاثرین کے ساتھ ہمدردی کا اظہار کیا۔
یہ بھی سامنے آیا ہے کہ انھوں نے ایپسٹین کے فلوریڈا والے گھر میں چار راتیں قیام کیا۔ اگرچہ اس دوران ایپسٹین وہاں موجود نہیں تھے۔ اس معاملے پر ناروے کے وزیراعظم یوناس گاہر سٹورے نے بھی شہزادی کے فیصلے کو ’غلط اقدام‘ قرار دیا۔

،تصویر کا ذریعہUK Press via Getty Images
شاہی محل نے ماریئس ہوئیبی کے مقدمے سے خود کو دور رکھنے کی کوشش کی ہے۔ تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ اگرچہ ہوئیبی کو شاہی خاندان کا رکن نہیں سمجھا جاتا لیکن وہ ولی عہد کے سوتیلے بیٹے ہیں اس لیے اس معاملے سے براہِ راست شاہی خاندان کی ساکھ متاثر ہو رہی ہے۔
شہزادی میٹے ماریٹ اس وقت پھیپھڑوں کی بیماری ’پلمونری فائبروسس‘ میں مبتلا ہیں اور ڈاکٹروں نے پیوندکاری کی تیاری شروع کر دی ہے۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
یہ مقدمہ اور ایپسٹین تنازع ناروے کے شاہی خاندان کے لیے ایک بڑے امتحان کی حیثیت رکھتے ہیں اور عوامی سطح پر ان کی ساکھ کو شدید نقصان پہنچا رہے ہیں۔
ناروے کے شاہی خاندان کے لیے بڑا امتحان
بی بی سی اردو کی خبروں اور فیچرز کو اپنے فون پر حاصل کریں اور سب سے پہلے جانیں پاکستان اور دنیا بھر سے ان کہانیوں کے بارے میں جو آپ کے لیے معنی رکھتی ہیں
سبسکرائب کرنے کے لیے کلک کریں
مواد پر جائیں
ناروے کے دارالحکومت اوسلو کی ڈسٹرکٹ کورٹ میں منگل کے روز کمرۂ عدالت نمبر 250 میں جب ماریئس بورگ ہوئیبی پیش ہوں گے تو قریبی رشتہ دار ان کے ساتھ موجود نہیں ہوں گے، یعنی ان کی والدہ شہزادی میٹے ماریٹ اور سوتیلے والد ولی عہد شہزادہ ہاکون عدالتی کارروائی کا حصہ نہیں بنیں گے۔
اگلے سات ہفتوں تک عدالت کے اندر یا باہر ان کی کوئی تصویر شائع نہیں کی جا سکے گی کیونکہ عدالت نے اس پر پابندی لگا دی ہے۔ تاہم دنیا بھر کے صحافی اوسلو میں موجود ہیں جبکہ شاہی محل اس مقدمے سے مکمل طور پر دوری اختیار کیے ہوئے ہے۔
29 سالہ ہوئیبی پر 38 سنگین الزامات عائد ہیں، جن میں چار خواتین کا ریپ، گرل فرینڈ پر حملہ اور دھمکیاں دینا، ان کے فلیٹ کو نقصان پہنچانا، منشیات سے متعلق مقدمات اور ٹریفک قوانین کی خلاف ورزی شامل ہیں۔
ہوئیبی نے کچھ معمولی جرائم کا اعتراف کیا ہے جن میں جسمانی تشدد اور گھریلو سامان کی توڑ پھوڑ کے واقعات شامل ہیں۔
اُن پر جن چار ریپ کے واقعات کی بات ہو رہی ہے اُن سے متعلق مقدمات سنہ 2018 سے سنہ 2024 کے درج ہوئے۔ ایک واقعہ میں الزام ہے کہ انھوں نے خاتون کے ساتھ نیند کے دوران جنسی تعلق قائم کیا، جبکہ باقی تین واقعات میں خواتین کے ساتھ بے ہوشی کی حالت میں ریپ کے واقعات شامل ہیں۔
ان تمام مقدمات میں اگر ان پر جرم ثابت ہو گیا تو انھیں 10 سال سے زائد قید کی سزا ہو سکتی ہے۔
عوامی سطح پر یہ تاثر ہے کہ محل مقدمے سے خود کو دور رکھنے کی کوشش کر رہا ہے لیکن چونکہ ماریئس ہوئیبی ولی عہد شہزادہ ہاکون کے سوتیلے بیٹے ہیں اس لیے عوامی تنقید براہِ راست خاندان پر ہو رہی ہے۔

،تصویر کا ذریعہRune Hellestad/Getty Images
شاہی خاندان کا موقف
ناروے کے شاہی خاندان کو اپنی تاریخ کے سب سے بڑے سکینڈل کا سامنا ہے۔ مشہور میگزین سی اوگ ہور کے ایڈیٹر انچیف نکلاس کوکن تھوریسن کے مطابق ’یہ ناروے کے شاہی خاندان کے لیے سب سے بڑا بحران ثابت ہوا ہے اس پیمانے پر انھیں پہلے کبھی کسی معاملے سے نہیں نمٹنا پڑا۔‘
29 سالہ ماریئس بورگ ہوئیبی شہزادی میٹے ماریٹ کے بیٹے نے بچپن سے ذہنی بیماریوں اور منشیات کے استعمال کے مسائل کا اعتراف کیا ہے۔
تاہم ماریئس بورگ ہوئیبی کے جرائم سے متعلق شاہی محل کا کہنا ہے کہ ہوئیبی اب شاہی خاندان کا حصہ نہیں ہیں اور نہ ہی وہ عوامی شخصیت ہیں۔ تاہم شہزادہ ہاکون انھیں اپنا بیٹا مانتے ہیں اور بادشاہ ہیرالڈ پنجم بھی انھیں اپنے پوتے کی طرح دیکھتے ہیں۔
ولی عہد شہزادہ ہاکون نے مقدمے سے قبل متاثرہ خواتین اور ان کے خاندانوں سے ہمدردی کا اظہار کیا۔ انھوں نے کہا کہ ’ہوئیبی ہمارے خاندان کا اہم حصہ ہے۔ لیکن ہم ان خواتین کے لیے بھی فکر مند ہیں جو متاثر ہوئیں، ہمیں معلوم ہے کہ آپ سب مشکل وقت سے گزر رہے ہیں۔‘
بادشاہ ہیرالڈ پنجم اور ملکہ سونیا دونوں 88 برس کے ہیں اور مقدمے میں شریک نہیں ہوں گے۔ وہ اٹلی میں سرمائی اولمپکس کے آغاز پر ناروے کے کھلاڑیوں سے ملاقاتیں کر رہے ہیں۔
اگرچہ سکینڈلز نے شاہی خاندان کو شدید دباؤ میں ڈال دیا ہے لیکن عوامی سروے کے مطابق اب بھی 73 فیصد نارویجین عوام بادشاہت کی حمایت کرتے ہیں۔
شاہی خاندان جانتا ہے کہ وہ غفلت کے متحمل نہیں ہو سکتے۔ اسی لیے ولی عہد کی بیٹی شہزادی انگریڈ الیگزینڈرا نے حال ہی میں شمالی ناروے کے علاقے فن مارک کا دورہ کیا، جسے بعض مبصرین مقدمے سے قبل عوامی اعتماد بحال کرنے کی کوشش قرار دے رہے ہیں۔
ماہرین کے مطابق یہ لمحہ شاہی خاندان کے لیے نہایت خطرناک ہے کیونکہ عوامی توقعات کے مطابق شاہی خاندان کو معاشرے میں نمونہ اور رول ماڈل ہونا چاہیے۔
اس حالیہ عدالتی کارروائی کو ناروے کے حالیہ برسوں کا سب سے بڑا اور سنگین مقدمہ قرار دیا جا رہا ہے جس نے شاہی خاندان کو شدید دباؤ میں ڈال دیا ہے۔

،تصویر کا ذریعہAFP
مقدمے کی گواہیاں اور متاثرہ خواتین
عدالت میں کئی خواتین بطور گواہ پیش ہوں گی۔ ان میں سے ایک معروف سوشل انفلوئنسر نورا ہاؤکلینڈ ہیں جنھوں نے عدالت سے اپنی شناخت چھپانے کی درخواست کی تھی لیکن اسے مسترد کر دیا گیا۔ ان کے الزامات فردِ جرم کا حصہ ہیں جن میں انھوں نے کہا کہ ہوئیبی نے ان کے ساتھ مار پیٹ کی، نامناسب زبان کا استعمال کیا اور گلا تک دبایا۔
دیگر متاثرہ خواتین میں کچھ مشہور انفلوئنسرز بھی شامل ہیں لیکن زیادہ تر عام خواتین ہیں جنھیں اب کئی ہفتوں تک اپنی ذاتی زندگی کے انتہائی حساس پہلوؤں کو صحافیوں کے سامنے بیان کرنا ہوگا۔












