بابر اعظم صفر پر آؤٹ اور پاکستانی بیٹنگ میں 55 ڈاٹ گیندیں: ’اب آپ کا دفاع کرنا مشکل ہو گیا ہے‘

،تصویر کا ذریعہGetty Images
راولپنڈی میں پہلے ٹی ٹوئنٹی انٹرنیشنل میچ میں جنوبی افریقہ نے پاکستان کو 55 رنز سے شکست دی ہے۔
مہمان ٹیم نے 195 رنز کا ہدف دیا تھا جس کے جواب میں کریز پر پاکستانی بلے باز قدم نہ جما سکے۔ اوپنر صائم ایوب 37 رنز کے ساتھ پاکستان کے ٹاپ سکورر رہے جبکہ ٹی ٹوئنٹی ٹیم میں واپسی پر بابر اعظم صفر پر آؤٹ ہوئے۔
جنوبی افریقہ کے بولر کوربن بوش نے چار جبکہ جارج لنڈے نے تین وکٹیں حاصل کیں۔
جنوبی افریقہ کے ریضا ہینڈرکس نے پہلی اننگز میں 60 رنز کی باری کھیل کر اپنی ٹیم کی پوزیشن مضبوط کی تھی۔

،تصویر کا ذریعہGetty Images
بابر اعظم سمیت پاکستانی بلے بازوں کی مایوس کن کارکردگی
اننگز کے آغاز میں اوپنرز صاحبزادہ فرحان اور صائم ایوب کے درمیان 31 رنز کی شراکت قائم ہوئی تھی مگر لیزاد ولیمز کی ایک تیز گیند پر صاحبزادہ 24 رنز بنانے کے بعد بولڈ ہوگئے۔
میچ کا اہم لمحہ چھٹے اوور میں دیکھا گیا جب ٹی ٹوئنٹی ٹیم میں واپسی کرنے والے سابق کپتان بابر اعظم اپنی دوسری ہی گیند پر صفر رنز بنا کر کیچ آؤٹ ہوگئے۔ وہ بوش کی بولنگ پر جارحانہ شاٹ کھیلنا چاہتے تھے مگر ہینڈرکس کو آسان کیچ دے بیٹھے۔
اس کے بعد بوش نے کپتان سلمان آغا کو ایل بی ڈبلیو کیا۔
چوتھی وکٹ کے لیے صائم اور عثمان خان کے درمیان 39 رنز کی شراکت قائم ہوئی۔ اس کے بعد صائم 37 رنز بنا کر سپنر لنڈے کا شکار بنے۔ اس کے بعد دو اوورز میں عثمان خان (12)، حسن نواز (3) اور فہیم اشرف (1) کی وکٹیں بھی گِر گئیں۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
نویں وکٹ کے لیے محمد نواز اور شاہین آفریدی کے درمیان 20 رنز کی شراکت قائم ہوئی۔ پھر شاہین بوش کا تیسرا شکار بنے۔ نسیم شاہ کو بھی بوش نے ہی آؤٹ کیا۔
آخری وکٹ محمد نواز کی گِری جو 36 رنز بنا کر ویلمز میں شکار بنے۔

،تصویر کا ذریعہGetty Images
نو وکٹیں گِرنے کے باوجود جنوبی افریقہ کی جارحانہ بیٹنگ
پاکستان کے کپتان سلمان آغا نے ٹاس جیت کر پہلے بولنگ کا فیصلہ کیا تھا۔
جنوبی افریقہ کے بلے بازوں کا آغاز جارحانہ تھا اور انھوں نے وکٹیں گنوانے کے باوجود پوری اننگز کے دوران رن ریٹ بڑھائے رکھا۔
پاکستان کو پہلی کامیابی چوتھے اوور میں ملی۔ صائم ایوب کی گیند پر کوئنٹن ڈیکاک کیچ آؤٹ ہوئے۔ ڈیکاک نے پانچ چوکوں کی مدد سے 13 گیندوں پر 23 رنز بنائے تھے۔
ٹونی زی زورزی 16 گیندوں پر 33 رنز بنا کر محمد نواز کا پہلا شکار بنے۔ پھر نواز نے ڈیوالڈ بریوس کو بولڈ کیا۔ 11ویں اوور میں پاکستان کو چوتھی وکٹ ملی جب صائم ایوب کی گیند پر میتھیو بریٹزکے کیچ آؤٹ ہوئے۔
محمد نواز نے اپنے سپیل کی آخری گیند پر جنوبی افریقہ کے کپتان ڈوناون فریرا کو بولڈ کیا۔
پھر ابرار احمد نے اوپنر ریضا ہینڈرکس کی وکٹ حاصل کی جنھوں نے 60 رنز کی باری کھیلی تھی۔ نسیم شاہ نے 36 رنز بنانے والے جارج لنڈے کو آؤٹ کیا۔ کوربن بوش شاہین آفریدی کا شکار بنے اور لیزاد ولیمز رن آؤٹ ہوئے۔
یوں جنوبی افریقہ نے 20 اوورز میں نو وکٹوں کے نقصان پر 194 رنز بنائے۔
پاکستانی شائقین ناراض: ’اب آپ کا دفاع کرنا مشکل ہو گیا ہے‘
اس میچ کے بعد ویسے تو پوری پاکستانی ٹیم ہی تنقید کی زد میں ہے لیکن بابر اعظم کی کارکردگی سے شائقین خاصے مایوس نظر آ رہے ہیں۔
سوشل میڈیا پر ایک صارف نے کہا کہ بابر نے نہ صرف اس میچ میں ایک کیچ چھوڑا بلکہ ایک رن آؤٹ بھی مِس کر دیا اور اس کے بعد صفر پر آؤٹ ہو گئے۔
ایک دوسرے صارف نے لکھا کہ ’بابر پلیز فارم میں واپس آ جائیں، اب آپ کا دفاع کرنا بھی مشکل ہو رہا ہے۔‘
صحافی عبدالغفار نے سوال کیا کہ ’پاکستان کرکٹ ٹیم کو آخر ہو کیا گیا ہے؟‘
اس تحریر میں ایسا مواد ہے جو X کی جانب سے دیا گیا ہے۔ کسی بھی چیز کے لوڈ ہونے سے قبل ہم آپ سے اجازت چاہتے ہیں کیونکہ یہ ممکن ہے کہ وہ کوئی مخصوص کوکیز یا ٹیکنالوجیز کا استعمال کر رہے ہوں۔ آپ اسے تسلیم کرنے سے پہلے X ککی پالیسی اور پرائیویسی پالیسی پڑھنا چاہیں گے۔ اس مواد کو دیکھنے کے لیے ’تسلیم کریں، جاری رکھیں‘ پر کلک کریں۔
X پوسٹ کا اختتام
ایک صارف نے تبصرہ کیا کہ جنوبی افریقہ اور پاکستان دونوں کی پاور پلے میں بیٹنگ کا انداز ’میلوں دور رہا۔‘
کئی صارفین نے اس چیز پر بھی تنقید کی کہ پاکستانی بلے بازوں نے 55 ڈاٹ گیندیں کھیلیں جبکہ جنوبی افریقہ نے محض 36 ڈاٹ گیندیں کھیلی تھیں۔
فیضان لاکھانی نے اس جانب اشارہ کیا کہ پاکستان ٹاس جیتنے کے باوجود اب تک 53 ٹی ٹوئنٹی میچز ہار چکا ہے اور سب سے زیادہ ٹاس جیت کر میچ ہارنے والی ٹیموں میں ویسٹ انڈیز اور بنگلہ دیش کے بعد تیسرے نمبر پر ہے۔
شہزاد نے اپنی رائے دیتے ہوئے کہا کہ ’ایک اور میچ، ایک اور مایوسی۔ یہ معمول بن چکا ہے۔‘
راجہ حسیب نے طنز کیا کہ ’پاکستان کرکٹ ٹیم نے پنڈی کی فلیٹ پچ کو شاید گابا بریسبین کی وکٹ سمجھ لیا۔‘ اور عبدالرؤف نے سوال کیا کہ ’ان آزمائے ہوئے بلے بازوں کو اور کتنے مواقع دیے جائیں گے؟‘












