لال کنور: وہ مغنیہ جس کی محبت میں مغل شہنشاہ جہان دار شاہ ’تماشا‘ بن گئے

،تصویر کا ذریعہClassical Nummismatic Gallery
- مصنف, وقار مصطفیٰ
- عہدہ, صحافی و محقق، لاہور
اورنگزیب عالمگیر کے پوتے جہان دارشاہ ابھی اقتدارسے کچھ دور ہی تھے کہ پہلی بار دھرپد گانے کے لیے مشہور کلاونت گھرانے کی فنکار لال کنور کو سنا۔
تاریخ دان ولیم ارون کے مطابق لال کنور شہنشاہ اکبر کے زمانے کے گایک تان سین کی نسل سے خصوصیت خان کی بیٹی تھیں۔ ان کی آواز اور اندازنے جہان دار شاہ کو ایسا مسحور کیا کہ اپنی بانہوں میں اندر کے کمرے میں لے گئے اور رات گئے تک ان سے بار بار گانے کے لیے کہا۔
29 مارچ 1712 کو 51 سالہ جہان دار شاہ، امیر الامرا ذوالفقار خان کی مدد سے ہندوستان کے مغل شہنشاہ بنے۔
لکھاری سواپنا دتا کے مطابق جہان دار شاہ لال کنور کو ’فرشتہ چہرہ اور بلبل آواز‘ کہہ کر مخاطب کرتے تھے۔
لال کنور نے کہا کہ وہ صرف ایک غلام ہیں تو خود سے آدھی عمر کی مغنیہ کو چوتھی بیوی کے طور پر بیاہ کر لال قلعہ لے آئے۔
امتیاز محل کا خطاب دے کرکپڑوں اور جواہرات کے علاوہ دوکروڑ روپے سالانہ وظیفہ بھی مقررکر دیا۔
لال کنور بولیں ’لیکن مجھے پھر محل میں رہنا پڑے گا۔ میں زہرہ سے کیسے ملوں گی؟‘
بادشاہ نے پوچھا: زہرہ کون ہے؟ لال کنورنے جواب دیا کہ ’زہرہ میری بہترین دوست ہے۔ وہ تربوزبیچتی ہے۔۔۔ دلی کے سب سے میٹھے تربوز۔‘
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
بادشاہ نے زہرہ کو ان کی خادمہ خاص مقرر کر دیا تاکہ وہ ان کے ساتھ محل میں رہ سکیں اور پھر سال بھر دلی، آگرہ اور لاہور میں طاقت کا مرکز رہیں۔

،تصویر کا ذریعہGetty Images
بی بی سی اردو کی خبروں اور فیچرز کو اپنے فون پر حاصل کریں اور سب سے پہلے جانیں پاکستان اور دنیا بھر سے ان کہانیوں کے بارے میں جو آپ کے لیے معنی رکھتی ہیں
سبسکرائب کرنے کے لیے کلک کریں
مواد پر جائیں
ملکہ بننے کے بعد انھیں بادشاہ کی طرح نوبت اور پانچ سو سپاہیوں کے ساتھ چلنے کی اجازت تھی۔
لاہور میں دونوں نے مہینے میں تین بار روشنی کا تیوہار، دیوالی، منایا، جس سے تیل کی قیمت میں زبردست اضافہ ہوا۔ پھر جب شہر کا سارا تیل استعمال ہو گیا تو گھی استعمال کیا گیا یہاں تک کہ یہ بھی ملنا بند ہو گیا۔
ایک روز لال کنورنے جہان دارشاہ سے پوچھا کہ ’لیکن نیامت کا کیا ہوگا؟ وہ میرا بھائی ہے اور سارنگی بجاتا ہے۔‘
بادشاہ نے نیامت کو ملتان کا گورنر مقرر کر دیا۔ نیامت خان وزیر ذوالفقار خان کی ایک ہزار سارنگی تحفہ دینے کی فرمائش پوری نہ کر سکے۔ نیامت نے 200 سارنگیاں فراہم کردیں لیکن جہان دار سے شکایت بھی کردی۔
شہنشاہ نے وزیر سے پوچھا کہ وہ اتنی سارنگیوں کا کیا کریں گے توانھوں نے کہا کہ چونکہ سارنگی بجانے والوں کو گورنر بنایا جا رہا ہے اس لیے وہ سلطنت کے ہر رئیس کو ایک سارنگی پیش کرنا چاہتے ہیں تاکہ وہ بھی ہتھیارچھوڑ کر اور انھیں سیکھ کر شہنشاہ کی خدمت کے اہل ہو جائیں۔
اپنے تخت کے لیے وزیر پر منحصر ہونے کی وجہ سے، جہان دار کو شرمندگی ہوئی اور انھوں نے یہ تقرری منسوخ کر دی۔
جان ایف رچرڈ لکھتے ہیں کہ ذوالفقار خان اکبر کے دور حکومت سے لے کر تب تک مغل سلطنت کے وزرائے اعظم میں سے طاقتور ترین تھے۔
کے ایس لال کہتے ہیں کہ لال کنور کا موازنہ نور جہاں سے کیا جاتا ہے، جنھوں نے اپنے رشتہ داروں کی تعیناتی میں کافی اثر و رسوخ استعمال کیا۔

،تصویر کا ذریعہClassical Nummismatic Gallery
نورجہاں کی طرح، لال کنور کو بھی بڑا وظیفہ ملا، ساتھ ہی زیورات اور قیمتی سامان بھی مگر ریکھا مسرا کا کہنا ہے کہ نورجہاں کے برعکس، لال کنور ریاست کی پالیسی پر اثر انداز نہیں ہوئیں اور ان کے مفادات اپنے خاندان اور شہنشاہ پر مرکوز نظر آتے ہیں۔
لال کنور کے تینوں بھائیوں کو نیامت خان، نامدار خان اور خانزاد خان کے القابات سے نوازا گیا اور چار یا پانچ ہزاری منصب پر فائز ہوئے۔ شہرمیں اعلیٰ محل انھیں رہنے کو دیے گئے۔
جادوناتھ سرکار کا کہنا ہے کہ جہان دارشاہ کی پھوپھی زینت النسا بیگم کو یہ سب ناگوار گزرا تو بادشاہ نے ان سے ملنا چھوڑ دیا اوران کی وہ دعوت بھی قبول نہ کی جس میں لال کنورکو نہیں بلایا گیا تھا۔
لال کنور کو جہان دار شاہ کے دو جوان بیٹے عزالدولہ اور معزالدولہ ناپسند تھے، چنانچہ جہان دار نے انھیں بھی ملنا چھوڑ دیا اورقید کردیا۔
ریکھا مسرا لکھتی ہیں کہ ان اقدامات نے دربار کے امرا کے غصے کو بھی دعوت دی۔ وزیر ذوالفقار خان، نے لال کنورکے ایک بھائی کو ایک شادی شدہ خاتون سے دست درازی کے الزام میں گرفتار کر لیا، جائیداد ضبط کر لی اورقید خانے بھیج دیا۔ لال کنورکچھ نہ کر سکیں۔
سید ضمیر حسن ’دلی کی بپتا‘ میں لکھتے ہیں کہ ’اورنگزیب کے جانشینوں میں ایک بھی اس لائق نہ تھا کہ حکومت کی باگ ڈور سنبھال لیتا، سب کے سب عیبی تھے، تلوار اٹھانا ہی بھول گئے تھے۔ ہاں جتنا چاہو ناچ رنگ کرالو۔۔۔ جہان دار شاہ بھی لال کنور پر ایسے فریفتہ ہوئے کہ اسے لمبا چوڑا خطاب دے کر اپنے حرم میں داخل کر لیا۔‘
’ایک دن لال کنور اپنے چہیتے کے ساتھ جھروکوں میں بیٹھی تھیں۔ سامنے جمنا کا پاٹ تھا۔ ساحل پر کچھ لوگ کشتی میں سوار ہوئے تو اس مال زادی نے اٹھلا کر کہا کہ ’ہم نے کشتی ڈوبتے کبھی نہیں دیکھی۔‘ بادشاہ نے تالی بجائی، محلی حاضر ہوا تو اسے حکم دیا کہ سامنے جو کشتی جارہی ہے اسے غرق کردیا جائے۔‘
تاہم ’عبرت نامہ‘ میں کام راج لکھتے ہیں کہ ذوالفقارخان نے کشتی ڈبونے کو منع کردیا تھا۔

،تصویر کا ذریعہGetty Images
ایک رات دونوں نے شہر کے مختلف باغات کا دورہ کیا اور پھر ایک شراب فروش کے گھر داخل ہوئے جو لال کنور کی دوست تھیں۔ وہ وہاں پیتے پیتے مد ہوش ہو گئے۔ جاتے وقت، انھوں نے دکان کی مالک خاتون کو رقم اور ایک گاؤں کی آمدن انعام میں دی۔
سید ضمیر حسن کا کہنا ہے کہ ’رات گئے جب بادشاہ سلامت لال کنور کے ساتھ نشے میں چور قلعہ میں واپس آئے تو گاڑی کے ساتھ وہ بھی اصطبل ہی میں بند کردیے گئے۔ کافی دیر بعد ڈھنڈیا مچی۔ اصطبل کھولا گیا اور اس میں سے بادشاہ برآمد ہوئے۔
تاریخ دان ستیش چندر کے مطابق جب لال کنور نے کہا کہ وہ یہ جاننے کے لیے متجسس ہیں کہ دونوں اطراف کے درختوں کے بغیر نہر فیض کیسی دکھائی دے گی تو شہنشاہ نے فوری طور پرمحل سے جہاں نما کہلاتی شکارگاہ تک کے راستے پر درختوں کو گرانے کا حکم دے دیا۔
ولیم ارون لکھتے ہیں کہ لال کنورکی صحبت میں، جہان دار شاہ نے خود کو بے حیائی کے حوالے کر دیا جیسے کہ عوام میں نہانا اور برہنہ ہونا اور اپنے ہی دربار میں شرابی موسیقاروں کی جسمانی اور زبانی زیادتیوں کا نشانہ بننا۔ ان کے اثر و رسوخ سے مغل درباری نظام اور شہنشاہ کے کردار کے احترام میں کمی آئی۔
دلی میں ایک عام عقیدہ تھا کہ اگر کوئی بے اولاد جوڑا ہر اتوار کو چراغِ دلی کے عرف سے مشہورشیخ ناصر الدین اودھی کے مزار کے حوض میں چالیس ہفتوں تک برہنہ نہائے تو اولاد پائے گا، چونکہ جہان دار شاہ کا لال کنور سے کوئی بچہ نہیں تھا تو وہ دونوں ہر اتوار کو مزار پر غسل کرنے لگے اور دوسرے زائرین انھیں دیکھتے۔
دربار میں یہ رواج ہو گیا کہ گانے بجانے والے ہر رات شہنشاہ کے ساتھ شراب پینے کے لیے محل میں جمع ہوتے۔ نشے میں دھت ہو جاتے تو جہان دار شاہ کو لاتیں مارتے اور چیختے۔ جہان دار شاہ لال کنور کی ناراضی کے خوف سے یہ توہین برداشت کرتے۔

،تصویر کا ذریعہGetty Images
ستیش چندر ’میڈیول انڈیا یا قرون وسطیٰ کا ہندوستان‘ میں لکھتے ہیں کہ شہنشاہ کے احترام اوردبدبے میں اس قدرکمی آ گئی کہ جب وہ شکاریا کسی میلے میں جاتے تو نہ امرا ان کے ساتھ ہوتے نہ ہی فوج ان کے ہمراہ۔
پرانے امرا سے دوری ہی جہان دارشاہ کی ان کے بھتیجے اور عظیم الشان کے بیٹے فرخ سیئرسے شکست کا باعث بنی۔
جہان دار شاہ سندھ کے صوبیدار رہ چکے تھے اور ایک خوشحال تاجر تھے، جب ان کے دادا اورنگزیب عالمگیر نے انھیں 1671 میں بلخ کا گورنر مقرر کیا۔
27 فروری 1712 کو بہادرشاہ اور شاہ عالم اول کہلائے جانے والے ان کے والد کا انتقال ہوا تو جہان دار اور ان کے بھائی عظیم الشان میں جانشینی کے لیے جنگ ہوئی۔ اس جنگ میں عظیم الشان 17 مارچ 1712 کو مارے گئے۔ فرخ سیئر انھی عظیم الشان کے بیٹے تھے۔
ستیش چندر لکھتے ہیں کہ مئی 1712 میں فرخ سیئرکی فوجوں کی پیشقدمی کی خبرملی تو جہان دار شاہ نے شہزادے عزالدین کو خبرلینے کوآگرہ بھیجا۔
وزیر ذوالفقارخان کے مشورے کے بغیرکوکلتاش خان کے برادرنسبتی خان ِدوراں کی کمان میں تمام فوج دے دی جو لڑائی میں اتنے ناتجربہ کار تھے کہ انھوں نے، ایک ہم عصرکے مطابق ’کبھی بلی تک نہیں ماری تھی۔‘
عزالدین فرخ سیئر کے الہٰ آباد پہنچنے کی خبرپا کرکھجوا کی طرف بڑھے مگرآسانی سے شکست کھا گئے۔
’فوج کو پچھلے گیارہ ماہ سے تنخواہ نہیں ملی تھی، پیسہ تھا نہیں۔ علاقے کے زمین داروں نے محصول دینا روک رکھا تھا اورجو پیسے تھے، بہت پہلے خرچ ہو چکے تھے۔ اکبر کے دورسے محفوظ سونے اور چاندی کے برتن توڑے گئے اورکارخانے کھولے گئے تاکہ فوجیوں کو تنخواہیں دی جا سکیں۔ یہاں تک کہ محلوں کی سونے کی چھتیں بھی توڑی گئیں۔ جہان دار کی فوج تھی تو سیئر کی فوج سے بڑی مگراسے چلانے والے امرا کے مفادات ایک دوسرے سے مختلف تھے۔‘
لاہور میں شہنشاہ کو ایک جنگ کے بعد بھاگنا پڑا اور لال کنور نے دارا شکوہ کے اجڑے محل میں پناہ لی۔ لال کنورنے ایک بار میدان جنگ میں زخمی جہان دارکی جان بچائی۔ وہ اپنے ہاتھی پر میدان میں پہنچیں اور بادشاہ کو حفاظت کے ساتھ نکال لائیں اورتب تک ان کی دیکھ بھال کی جب تک کہ وہ دوبارہ لڑائی کے قابل نہ ہوگئے۔
مغل اشرافیہ میں لال کنور کی تقریباً متفقہ طور پر خراب ساکھ کے باوجود، کچھ جدید محققین کا کہنا ہے کہ انھیں نچلے طبقے کے لیے ہمدرد کہا جا سکتا ہے۔

،تصویر کا ذریعہPenguin India
جہان دار شاہ کی بدانتظامی کا نتیجہ یہ نکلا کہ وزیر کے علاوہ تمام رئیس اور گورنران کے خلاف ہو گئے۔ وہ 10 جنوری 1713 کو آگرہ کی لڑائی میں فرخ سیئرکے ہاتھوں شکست کھا گئے۔
جہان دار شاہ اور لال کنور ایک بیل گاڑی میں فرار ہوئے اور دلی تک اپنا کھانا بھیک مانگتے رہے۔ کسی نے انھیں نہیں پہچانا کیونکہ وہ تقریباً چیتھڑوں میں تھے۔ بہت سے لوگ راہ کنارے گانے بجانے کو کہتےاور متھرا میں تو لال کنور کو بدمعاشوں نے اغوا کرنےکی کوشش کی لیکن وہ انھیں بے وقوف بنا کر فرار ہونے میں کامیاب رہیں۔
دلی پہنچے تو انھیں وزیرذوالفقار خان نے پکڑوا کر نئے شہنشاہ فرخ سیئر کے حوالے کر دیا تاہم وزیر کو بھی نہیں بخشا گیا اور انھیں گلا دبا کر قتل کردیا گیا۔
جہان دار شاہ اور لال کنور کوایک ساتھ قید کیا گیا تاہم قید کی شرائط جلد ہی سخت کر کے معزول شہنشاہ کے پاؤں میں بیڑیاں ڈال دی گئیں۔
گیارہ فروری 1713 کو نئے شہنشاہ نے جہان دار کی پھانسی کے لیے کچھ لوگوں کو قید خانے میں بھیجا۔ جیسے ہی یہ گروہ قید خانے میں داخل ہوا، لال کنور نے چیخ ماری، اپنے عاشق کی گردن سے لپٹ گئیں اور انھیں جانے دینے سے انکار کر دیا۔
انھیں زبردستی الگ کرتے ہوئے، وہ لوگ جہان دار شاہ کو گھسیٹ کر سیڑھیوں سے نیچے لے گئےاور ہاتھ سے ان کا گلا گھونٹ دیا۔ چونکہ وہ ایک دم نہیں مرے، اس لیے بھاری ایڑی والے جوتوں سے کئی بار ان کے جسم کے کمزور حصوں میں لاتیں ماریں اور انھیں ختم کر دیا گیا۔
قید خانے کے ناظم کو پیغام دیا گیا کہ ایک جلاد کی ضرورت ہے۔
ناظم ،محمد یار خان، جو کمرے کے باہر کھڑے ٹھنڈے پسینے میں نہا رہے تھے، پوچھنے لگے کہ جلاد کے لیے کیا باقی رہ گیا ہے؟
گروہ کے سربراہ نے جواب دیا کہ ’اس کا سر کاٹ کر شہنشاہ کے پاس لے جانا ہے۔‘
سر کاٹ کر ایک طشتری میں رکھا گیا۔ رات ڈھلنے کے آدھ گھنٹے بعد سر اور جسم کو نئے شہنشاہ کے خیمے کے دروازے پر ڈال دیا۔
تاریخ دان مظفرعالم نے لکھا کہ جب فرخ سیئر آگرے سے دلی آئے تو جہاندار شاہ کا سر ایک ہاتھی پربیٹھے جلاد کے لمبے نوکیلے بانس پر تھا اور لاش دوسرے ہاتھی کی پشت پر۔ گلیوں میں بے پناہ ہجوم تھا، کچھ لوگ اس ظالمانہ تماشے پر اپنے غم کو قابو میں نہ رکھ سکے۔
جہاندار شاہ کی قبر ہمایوں کے مقبرے میں ہے جہاں تقریباً 150 مغل شاہی افراد دفن ہیں۔
لال کنور کو سہاگ پورہ بستی بھیجا گیا، جہاں فوت ہونے والے شاہی افراد کی بیوائیں اور خاندان رہتے تھے۔ 17 جون 1759 کوان کا انتقال ہوا۔
لال کنورسے تو اولاد نہیں تھی لیکن دیگر بیویوں سے تین بیٹوں میں سے ایک، عزیز الدین محمد، عالم گیردوم کے خطاب کے ساتھ جہان دار شاہ کے قتل کے اکتالیس سال بعد 1754 اور 1759 کے درمیان شہنشاہ رہے۔







