1200 ایکڑ زمین اور 200 فلیٹس کا مالک کروڑوں کا مبینہ گھپلا کر کے نو سال تک پولیس سے کیسے بھاگتا رہا؟

PUNJAB POLICE

،تصویر کا ذریعہPUNJAB POLICE

حال ہی میں انڈین پنجاب میں کروڑوں روپے کے مبینہ گھپلے کے مرکزی ملزم نیرج اروڑہ کو گرفتار کیا گیا ہے جو پولیس کے تعاقب سے بچنے کے لیے پلاسٹک سرجری کے ذریعے اپنی شکل بدلنے کا منصوبہ بنا رہا تھا۔

پولیس نے گذشتہ ہفتے کروڑوں روپے کا فراڈ کرنے والے اور نو سال سے فرار ملزم نیرج اروڑہ کو گرفتار کیا تھا۔

پنجاب پولیس کے مطابق ملزم پنجاب اور مدھیہ پردیش کی ریاستوں میں 1200 ایکڑ سے زائد اراضی اور 200 رہائشی فلیٹس کا مالک ہے، جن کی مالیت ایک ہزار کروڑ روپے سے زیادہ ہے۔

سات لاکھ سے 100 کروڑ تک پہنچنے کی کہانی

پنجاب پولیس کے مطابق نیرج اروڑہ کے والد انٹیلی جنس ڈپارٹمنٹ میں انسپکٹر کے عہدے پر تھے جبکہ ان کی والدہ ٹیچر کے طور پر کام کرتی تھیں۔

ایم بی اے کی اپنی تعلیم مکمل کرنے کے بعد، نیرج اروڑہ نے اپنے دوست پرمود ناگپال کے ساتھ مل کر صابن، چائے اور دیگر روزمرہ استعمال کی اشیا بیچنے کا ایک چھوٹا سا کاروبار شروع کیا۔

پولیس کی تفتیش کے مطابق ’نیرج اروڑہ نے اپنے کیریئر کا آغاز ایک نجی نیٹ ورکنگ کمپنی سے کیا جہاں انھوں نے نیٹ ورکنگ بزنس کی بنیادی باتیں سیکھیں۔‘

سال 2002 میں نیرج اروڑا نے تین دیگر ساتھیوں کے ساتھ صرف سات لاکھ روپے کی سرمایہ کاری کے ساتھ نیچر وے نیٹ ورکنگ کمپنی کے نام سے ایک فرم قائم کی اور ایک دہائی کے اندر نیرج کی فرم نے 100 کروڑ کا کاروبار کیا۔

سال 2003 تک ان کا گروسری کا کاروبار راجستھان تک بھی پھیل چکا تھا۔

سنہ 2011 میں انڈیا کی 12 ریاستوں میں نیچرز وے مصنوعات کے تقریباً 400 سٹورز تھے۔

فرید کوٹ پولیس کے ایک اہلکار نے بتایا ’نیرج نے اعتراف کیا کہ اس نے اپنی کمپنی کے پنجاب اور راجستھان میں نیچر وے کے ایجنٹوں اور کلائنٹس کا نیٹ ورک بنانے کے لیے 16 لاکھ کلومیٹر سے زیادہ کا سفر کیا۔‘

انھوں نے کہا ’نیٹ ورکنگ میں ایک ایجنٹ کو زیادہ سے زیادہ لوگوں کو کمپنی سے بحیثیت گاہک جوڑنے کا کام سونپا گیا، جس کے نتیجے میں ان کے کمیشن میں اضافہ ہوا۔‘

انھوں نے مزید کہا ’نیچر وے کمپنی 500 گروسری اور دیگر مصنوعات فروخت کرتی تھی اور کمپنی 2012 تک اچھی کارکردگی کا مظاہرہ کر رہی تھی۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ نیرج اروڑہ کو سال 2013 میں بہترین ٹیکس دہندہ ہونے کا ایوارڈ ملا تھا۔‘

فاضلکا کے ایک پولیس افسر نے بتایا ’نیرج اروڑہ بھی فاضلکا ضلع میں مقامی سیاست دانوں کا مبینہ شکار بن گیا۔ جب نیرج پولیس کے مقدمات میں پھنستا گیا تو فاضلکا ضلع کے ایک معروف شراب فروش نے نیرج اروڑہ سے بہت کم قیمت پر کئی جائیدادیں لیں۔‘

bbc

،تصویر کا ذریعہGetty Images

،تصویر کا کیپشنفراڈ

وہ کس طرح لوگوں کو دھوکہ دیتا تھا

مواد پر جائیں
بی بی سی اردو اب واٹس ایپ پر

بی بی سی اردو کی خبروں اور فیچرز کو اپنے فون پر حاصل کریں اور سب سے پہلے جانیں پاکستان اور دنیا بھر سے ان کہانیوں کے بارے میں جو آپ کے لیے معنی رکھتی ہیں

سبسکرائب کرنے کے لیے کلک کریں

مواد پر جائیں

پنجاب پولیس کے مطابق نیچر وے فرم کی کامیابی کے بعد نیرج نے امیت ککر اور پرمودھ ناگپال سمیت دیگر شراکت داروں کے ساتھ رئیل سٹیٹ کا کاروبار شروع کیا۔

انھوں نے 2012 کے وسط میں نیچر ہائٹس انفرا پرائیویٹ لمیٹڈ کے نام سے ایک فرم قائم کی۔

فرید کوٹ پولیس نے بتایا ’نیچر وے کی کامیابی کی وجہ سے نیرج نے عام لوگوں اور سرمایہ کاروں میں اچھی ساکھ حاصل کی اور لوگوں نے اس کے کاروبار میں سرمایہ کاری کرنا شروع کر دی جہاں ان سے کم وقت میں زیادہ رقم کا وعدہ کیا گیا تھا۔‘

پولیس کے مطابق ’نیرج نے 2013 سے 2015 کے درمیان پنجاب کے مختلف اضلاع میں جائیدادیں خریدیں، جب جائیدادیں فراہم کرنے میں اسے ناکامی کا سامنا کرنا پڑا تو لوگوں نے پولیس سے رابطہ کیا اور اس کے خلاف شکایتیں درج کروائیں۔ بعد میں پورے پنجاب میں اس کے خلاف کئی ایف آئی آر درج کی گئیں۔‘

فرید کوٹ پولیس نے بتایا ’تحقیقات سے یہ بات سامنے آئی ہے کہ نیرج نے پہلے سے طے شدہ طریقے سے ذاتی فائدے کے لیے سرمایہ کاروں کو دھوکہ دینے کی کوشش کی۔ ان کی فرم متعلقہ محکموں سے منظور شدہ پرائم لوکیشنز میں سستے پلاٹ پیش کرتی تھی۔‘

ایک سرمایہ کار جج سنگھ نے بتایا ’ہمیں بعد میں معلوم ہوا کہ ہمیں ہوشیار پور میں جو چار ایکڑ زمین دی جانی تھی، اس کا ٹھیکہ چار دوسرے لوگوں کو بھی دیا گیا تھا۔‘

’اس کمپنی نے نہ تو سرمایہ کاروں کو پلاٹ الاٹ کیے اور نہ ہی پیسے واپس کیے، یہاں تک کہ کمپنی کی جانب سے جاری کیے گئے چیک بھی باؤنس ہوئے۔ کمپنی نے مبینہ طور پر پنجاب بھر کے صارفین سے کروڑوں روپے بٹورے، تمام برانچ آفس بند کر دیے گئے۔‘

ایس ایس پی پرگیہ جین کا کہنا ہے کہ جن لوگوں نے ادائیگیاں نہیں کیں کیونکہ وہ پہلے ماہدوں میں بتائی گئی کم قیمت سے موجودہ قیمت پر زمین یا پلاٹ نہیں خریدنا چاہتے تھے انھوں نے ادائیگی کے بجائے، باقی اقساط پر رقم کی واپسی کا مطالبہ کرنا شروع کر دیا۔ رقم واپس کرنے کے بجائے، نیچر ہائٹس کمپنی نے ان سے عدالتی مقدمات کی پیروی کرنے کو کہا۔‘

پلاسٹک سرجری کیوں نہ ہو سکی؟

PUNJAB POLICE

،تصویر کا ذریعہPUNJAB POLICE

ڈی ایس پی اقبال سنگھ نے بتایا ’نیرج اروڑہ نے اپنی گرفتاری سے بچنے کے لیے پنجاب کے ضلع پٹھان کوٹ کے پاسپورٹ سمیت کئی جعلی شناختی کارڈ تیار کیے تھے۔ نیرج مفرور ہونے کے دوران چندی گڑھ، دہرادون اور ممبئی میں رہ رہا تھا۔ نیرج نے جعلی پاسپورٹ پر تھائی لینڈ اور کمبوڈیا جیسے ممالک کا سفر کیا تھا۔

انھوں نے مزید بتایا کہ ’پولیس نے نیرج سے پلاسٹک سرجن سے متعلق میڈیکل ریکارڈ برآمد کر لیا ہے۔ تحقیقات سے پتہ چلا کہ نیرج پلاسٹک سرجری کے ذریعے اپنی شکل بدلنے کا منصوبہ بنا رہا تھا، لیکن پیسے کی کمی کی وجہ سے ایسا نہیں کر سکا۔

فرید کوٹ کے سینئر پولیس کپتان ہرجیت سنگھ نے بی بی سی کو بتایا کہ ’ہم نے اس کیس کی تحقیقات کے لیے ایک خصوصی ٹیم تشکیل دی تھی جو گذشتہ ایک ماہ سے کام کر رہی تھی۔ ہمیں ایس ایس پی فاضلکا پرگیہ جین سے بھی اہم معلومات ملیں جس کے نتیجے میں انتہائی مطلوب نیرج اروڑہ کی گرفتاری عمل میں آئی۔‘

پنجاب کے 21 اضلاع میں نیرج کے خلاف 108 مقدمات درج ہیں

ڈی ایس پی اقبال سنگھ سندھو کا کہنا ہے کہ ملزم نیرج کے خلاف پنجاب میں 21 اضلاع میں 108 مقدمات درج کیے گئے ہیں۔ انھوں نے رقم یا پلاٹ کا وعدہ کرکے لوگوں کو دھوکہ دیا۔

انھوں نے کہا ’کل 108 ایف آئی آر میں سے، فاضلکا میں 47، فیروز پور میں آٹھ؛ پٹیالہ اور فتح گڑھ صاحب میں چھ، روپ نگر، موہالی اور ایس اے ایس نگر میں پانچ، پانچ؛ فرید کوٹ، سری مکتسر صاحب اور جالندھر کمشنریٹ میں چار چار درج کیے گئے ہیں۔

فرید کوٹ پولیس نے بتایا واضح رہے کہ نیرج اروڑہ کو فاضلکا پولیس نے فروری 2016 میں گرفتار کیا تھا لیکن وہ ضمانت پر آنے کے بعد فرار ہو گیا تھا۔‘

ای ڈی نے نیرج اور دیگر ساتھیوں کی جائیدادیں بھی ضبط کر لی ہیں۔

انفورسمنٹ ڈائریکٹوریٹ (ای ڈی) نے نیرج اور اس کی کمپنی کے تقریباً 22 کروڑ روپے کے اثاثوں اور بینک ڈپازٹس کو بھی ضبط کیا تھا۔

ای ڈی نے 2017 میں اس معاملے کی جانچ شروع کی تھی۔ اس دوران اسے سرمایہ کاروں کی جانب سے مزید 491 شکایات موصول ہوئیں۔

PUNJAB POLICE

،تصویر کا ذریعہPUNJAB POLICE

’ہم نے اپنی ساری زندگی کی کمائی لگائی‘

فرید کوٹ ضلع کے جج سنگھ نیرج اروڑہ کی نیچر ہائٹس انفرا لمیٹڈ میں لگائے گئے تقریباً 91 لاکھ روپے کھو دیے

جج سنگھ برار نے بی بی سی کے ساتھ فون پر بات چیت میں کہا ’وہ 2012 میں نیرج اروڑہ کے ساتھ رابطے میں آئے تھے اور ان کے پاس زمین کی رقم تھی جو ہم نے ان کی فرم میں لگائی تھی۔‘

انھوں نے مزید بتایا کہ ’نیرج نے 2017 میں ہمیں چار ایکڑ زمین دینے پر رضامندی ظاہر کی تھی جس میں باغات لگائے جانے تھے اور اس وقت تک انھیں ہر ماہ 50,000 روپے بطور معاوضہ ادا کرنا تھا۔ ابتدائی سالوں میں وہ چیک دیتے تھے لیکن کچھ عرصے بعد ان کے چیک بینک میں باؤنس ہونے لگے۔

جج سنگھ نے مزید بتایا ’ہم نے اپنی پوری زندگی کی کمائی سرمایہ کاری لگا دی، لیکن ہم نے 91 لاکھ روپے کی رقم کھو دی۔ ہم نے دھوکہ دہی کی وجہ سے بہت نقصان اٹھایا ہے اور شرم کی وجہ سے کسی رشتہ دار کو بتا بھی نہیں سکتے۔

انھوں نے حکومت سے سوال کرتے ہوئے کہا کہ ہم نے فرم میں سرمایہ کاری اس لیے کی کہ انھوں نے حکومت سے حاصل کیے گئے تمام لائسنس یا اجازت نامے ظاہر کیے تھے اور یہ متعلقہ حکومت کا فرض تھا کہ وہ سرمایہ کاروں کے مفادات کا تحفظ کرے۔