روبوٹس سے بھری فیکٹریاں، غیرمعمولی سرمایہ کاری اور ’محنتی انجینیئرز‘: چین مصنوعی ذہانت کی ریس جیتنے کے لیے کیا کر رہا ہے؟

چین، مصنوعی ذہانت

،تصویر کا ذریعہBBC/ Xiqing Wang

    • مصنف, لارا بیکر
    • عہدہ, بی بی سی نامہ نگار، بیجنگ

اپنے ہاتھوں سے سر کو پکڑے، آٹھ برس کے ٹمی ایک روبوٹ کے ساتھ شطرنج کھیلتے ہوئے کچھ بڑبڑا رہے ہیں لیکن یہ مصنوعی ذہانت کا کوئی شو روم یا لیبارٹری نہیں بلکہ یہ روبوٹ بیجنگ کے ایک اپارٹمنٹ میں ٹمی کے ساتھ رہتا ہے۔

پہلے دن جب یہ روبوٹ گھر آیا تو ٹمی نے رات کو سونے سے پہلے اسے گلے لگایا لیکن ٹمی نے ابھی تک اس کا کوئی نام نہیں رکھا۔

شطرنج کھیلتے ہوئے ٹمی نے اپنی والدہ کو بتایا کہ یہ روبوٹ ’ایک ٹیچر یا دوست کی طرح ہے۔‘

تھوڑی ہی دیر بعد روبوٹ نے آواز دی کہ ’مبارک ہو، آپ جیت گئے ہیں۔‘

سکرین پر ٹمٹماتی گول آنکھوں کے ساتھ روبوٹ نے نئی گیم شروع کرنے کے لیے شطرنج کے مہروں کو دوبارہ ترتیب دیتے ہوئے ٹمی سے کہا کہ ’میں نے آپ کی قابلیت دیکھ لی، اب اگلی بار میں بہتر پرفارم کروں گا۔‘

سنہ 2030 تک ٹیکنالوجی کی سپر پاور بننے کے لیے چین بڑے پیمانے پر مصنوعی ذہانت کو اپنا رہا ہے۔ جنوری میں چین کے اے آئی چیٹ باٹ ’ڈیپ سیک‘ کی ریلیز، چین کے اس عزم کی جانب پہلا اشارہ تھا۔

مصنوعی ذہانت کے کاروبار میں بہت زیادہ سرمایہ کاری کی جا رہی ہے، جس سے ملک میں مقامی سطح پر بھی اس صنعت میں مقابلے میں اضافہ ہوا۔

چین میں 4500 سے زائد کمپنیاں اے آئی مصنوعات تیار اور فروخت کر رہی ہیں، اس سال کے اختتام تک بیجنگ کے سکولوں میں پرائمری اور سکینڈری سطح پر اے آئی کورس متعارف کروائے جائیں گے جبکہ یونیورسٹیوں میں مصنوعی ذہانت کی تعلیم حاصل کرنے والے طلبا کے لیے سیٹوں میں اضافہ کیا جا رہا ہے۔

ٹمی کی والدہ یان شیو کہتی ہیں کہ ’ایسا ہونا ہی تھا۔ ہمیں اے آئی کے ساتھ رہنا ہو گا۔ بچوں کو اسے جلد از جلد جان لینا چاہیے۔ ہم اسے مسترد نہیں کر سکتے۔‘

یان شیو چاہتی ہیں کہ ان کا بیٹا شطرنج اور بورڈ گیم ’گو‘ (GO) میں مہارت حاصل کرے۔ روبوٹ یہ دونوں گیمز کھیل سکتا ہے اور اسی وجہ سے وہ قائل ہوئیں کہ روبوٹ کو خریدنے کے لیے 800 ڈالر کی سرمایہ کاری کی جائے۔

اس روبوٹ کو تخلیق کرنے والے پہلے ہی اس میں لینگویج ٹیوشن پروگرام شامل کرنے کے بارے میں سوچ رہے ہیں۔

چین، مصنوعی ذہانت

،تصویر کا ذریعہBBC/ Joyce Liu

،تصویر کا کیپشنٹمی کی والدہ یان شیو کہتی ہیں کہ ’ایسا ہونا ہی تھا۔ ہمیں اے آئی کے ساتھ رہنا ہو گا اور بچوں کو اسے جلد از جلد جان لینا چاہیے۔‘

شاید یہ ہی وہ چیز تھی جس کی چین کی کمیونسٹ پارٹی نے امید کی تھی، جب انھوں نے سنہ 2017 میں اعلان کیا تھا کہ اے آئی ملکی ترقی کا ’بنیادی محرک‘ ہو گی۔

چینی صدر شی جن پنگ اب اس پر بہت زیادہ انحصار کر رہے ہیں کیونکہ چین کی معیشت اپنے سب سے بڑے تجارتی پارٹنر امریکہ کی طرف سے عائد کردہ محصولات (ٹیرف) سے متاثر ہو رہی ہے۔

بیجنگ ٹیکنالوجی کی دنیا میں واشنگٹن پر برتری حاصل کرنے کے لیے آئندہ 15 برس میں دس کھرب چینی یوآن (1.4 کھرب ڈالر) کی سرمایہ کاری کا ادارہ رکھتا ہے۔

چینی حکومت مصنوعی ذہانت کے لیے بڑی تعداد میں فنڈز جمع کر رہی ہے۔ امریکہ نے چپس کی برآمدات پر پابندیاں سخت کیں اور مزید چینی کمپنیوں کو بلیک لسٹ میں شامل کیا تو چین نے جنوری میں مصنوعی ذہانت کے شعبے میں 60 ارب یوآن کا سرمایہ کاری فنڈ بنایا۔

لیکن ڈیپ سیک نے دکھایا ہے کہ چینی کمپنیاں ان رکاوٹوں کو بھی دور کر سکتی ہیں اور یہ ہی وہ چیز ہے کہ جس نے سیلیکون ویلی اور اس انڈسٹری کے ماہرین کو چونکا دیا کیونکہ وہ چین کی جانب سے اتنی جلدی اس پیشرفت کی امید نہیں رکھتے تھے۔

ڈریگنز کے درمیان ٹیکنالوجی کا مقابلہ

گذشتہ چھ ماہ میں ٹومی ٹینگ کو بھی اکثر ایسا چونکا دینے والا ردعمل ہی ملتا ہے جب وہ شطرنج کھیلنے والے اپنی کمپنی کے تیار کردہ روبوٹ کو مختلف مقابلوں میں لے کر جاتے ہیں۔

ٹمی کے گھر میں موجود روبوٹ بھی اسی کمپنی ’سینس روبوٹ‘ کا تیار کردہ ہے، جو کئی صلاحتیوں کا حامل ہے۔

چین کے سرکاری میڈیا نے سنہ 2022 میں اس کے جدید ورژن کا خیرمقدم کیا تھا، جس نے شطرنج کے ’گرینڈ ماسٹرز‘ کو شکست دی تھی۔

ٹومی ٹینگ کہتے ہیں کہ ’والدین اس روبوٹ کی قیمت پوچھتے ہیں اور پھر سوال کرتے ہیں کہ میرا تعلق کہاں سے ہے؟ ان کے خیال میں، میں امریکہ یا یورپ سے تعلق رکھتا ہوں۔‘

ٹومی مسکراتے ہوئے کہتے ہیں کہ ’والدین کو یہ سن کر حیرت ہوتی ہے کہ میں چین سے ہوں۔ جب بھی میں یہ بتاتا ہوں کہ میرا تعلق چین سے ہے تو ہمیشہ ایک یا دو سیکنڈ کے لیے خاموشی چھا جاتی ہے۔‘

ٹومی ٹینگ کی کمپنی اب تک ایک لاکھ سے زیادہ یہ روبوٹ فروخت کر چکی ہے اور اب امریکہ کی بڑی سپر مارکیٹ ’کاسٹکو‘ کے ساتھ بھی ان کا معاہدہ ہو گیا ہے۔

چین، مصنوعی ذہانت، ٹومی ٹینگ

،تصویر کا ذریعہBBC/ Xiqing Wang

،تصویر کا کیپشنٹومی ٹینگ کی کمپنی اب تک ایک لاکھ سے زیادہ روبوٹ فروخت کر چکی ہے
مواد پر جائیں
بی بی سی اردو اب واٹس ایپ پر

بی بی سی اردو کی خبروں اور فیچرز کو اپنے فون پر حاصل کریں اور سب سے پہلے جانیں پاکستان اور دنیا بھر سے ان کہانیوں کے بارے میں جو آپ کے لیے معنی رکھتی ہیں

سبسکرائب کرنے کے لیے کلک کریں

مواد پر جائیں

چین کی اس کامیابی کا ایک راز اس کا نوجوان طبقہ ہے۔ سنہ 2020 میں چین کے 35 لاکھ نوجوانوں نے سائنس، ٹیکنالوجی، انجینیئرنگ اور ریاضی میں ڈگریاں حاصل کیں۔

چین کے صدر شی جن پنگ نے گذشتہ ہفتے پارٹی رہنماؤں کو بتایا کہ ’یہ تعداد کسی بھی ملک سے زیادہ ہے اور ہم اس کا پورا فائدہ اٹھانا چاہتے ہیں۔ تعلیم، سائنس اور ٹیلنٹ کو آگے بڑھانا ہم سب کی مشترکہ ذمہ داری ہے۔‘

شنگھائی میں اے آئی کھلونے بنانے والی کمپنی ’وہیلز بوٹ‘ کے نائب صدر ایبوٹ لیو کہتے ہیں کہ ’1970 کی دہائی کے اواخر میں جب سے چین نے اپنی معیشت کو دنیا کے لیے کھولا، تب سے وہ ٹیلنٹ اور ٹیکنالوجی کو جمع کرنے کے عمل سے گزر رہا ہے۔‘

’اس دور میں ہمارے پاس بہت زیادہ انجینیئرز ہیں اور وہ بہت زیادہ محنتی ہیں۔‘

ایبوٹ لیو جہاں بیٹھے تھے، ان کے پیچھے رنگ برنگی اینٹوں سے بنا ایک ڈائنوسار موجود تھا۔ اسے ایک سات برس کے بچے نے سمارٹ فون پر کوڈ کے ذریعے بنایا تھا۔

یہ کمپنی تین سال کے بچوں کو کوڈ سیکھنے میں مدد کے لیے کھلونے تیار کر رہی ہے۔ اینٹوں کا ہر پیکج کوڈ کے ایک کتابچے کے ساتھ آتا ہے۔ اس کے بعد بچے منتخب کر سکتے ہیں کہ وہ کیا بنانا چاہتے ہیں اور اسے بنانے کا طریقہ بھی سیکھ سکتے ہیں۔ سب سے سستا کھلونا تقریباً 40 ڈالر میں فروخت ہوتا ہے۔

ایبوٹ لیو کہتے ہیں کہ دوسرے ممالک کے پاس بھی مصنوعی ذہانت کے روبوٹ موجود ہیں لیکن جب مقابلے اور سمارٹ ہارڈوئیر کی بات آتی ہے تو چین آگے ہے۔

انھوں نے کہا کہ ’ڈیپ سیک کی کامیابی نے اس کے چیف ایگزیکٹو لیانگ وینفینگ کو قومی ہیرو بنا دیا۔ ڈیپ سیک نے لوگوں کو بتایا کہ اے آئی صرف کوئی نظریہ نہیں بلکہ یہ لوگوں کی زندگیاں بدل سکتا ہے۔ اس نے لوگوں کے تجسس کو متاثر کیا۔‘

ڈیپ سیک سمیت چین کی چھ اے آئی کمپنیوں (یونیٹری روبوٹکس، ڈیپ روبوٹکس، برین کو، گیم سائنس اور مینی کور ٹیکنالوجی) کو انٹرنیٹ پر ’لٹل ڈریگنز‘ کا نام دیا گیا ہے۔

چین، مصنوعی ذہانت، روبوٹس

،تصویر کا ذریعہBBC/Joyce Liu

ان میں سے کچھ کمپنیاں حال ہی میں شنگھائی میں ہونے والی اے آئی کی ایک نمائش میں موجود تھیں، جہاں ریسکیو سرگرمیوں میں استعمال ہونے والے جدید روبوٹس اور کتے کی شکل کے روبوٹ پیش کیے گئے۔

یہ روبوٹس ہال میں لوگوں کے درمیان گھوم پھر رہے تھے۔

ایک ہال میں انسانی شکل والے روبوٹس کی دو ٹیمیں، سرخ اور نیلی جرسیوں، میں فٹ بال کھیل رہی تھیں۔ جب دونوں ٹیموں میں ٹکڑاؤ ہوا تو یہ مشینیں گر گئیں اور ان میں سے ایک روبوٹ کو پھر سٹریچر پر میدان سے باہر لے جایا گیا۔

ڈیپ سیک کے تناظر میں ان روبوٹس کے ڈویلپرز میں پائے جانے والے جوش کو نظر انداز کرنا مشکل تھا۔

26 برس کے انجینیئر یو جنگی نے کہا کہ ’ڈیپ سیک کا مطلب ہے کہ دنیا جانتی ہے کہ ہم یہاں ہیں۔‘

چین کی ’میراتھن‘ کے لیے تیاری

لیکن جیسے جیسے دنیا اے آئی کی صنعت میں چین کی صلاحیتوں کو جاننے لگی ہے، اس بارے میں بھی خدشات موجود ہیں کہ اے آئی چینی حکومت کو اپنے صارفین کے بارے میں معلومات جمع کرنے کی اجازت دے رہی ہے۔

اے آئی کو ڈیٹا کی بہت زیادہ ضرورت ہوتی ہے، جتنا زیادہ ڈیٹا ہو گا، اتنا ہی یہ سمارٹ ہو جائے گی۔ امریکہ میں صرف 400 ملین کے مقابلے میں چین میں ایک ارب موبائل فونز کے ساتھ بیجنگ کو حقیقی فائدہ حاصل ہے۔

مغربی ممالک، ان کے اتحادیوں اور بہت سے ماہرین کا خیال ہے کہ چینی ایپس جیسے ڈیپ سیک، ریڈ نوٹ اور ٹک ٹاک کی جانب سے جو ڈیٹا جمع کیا جاتا ہے، چین کی حکمران کمیونسٹ پارٹی کو اس تک رسائی حاصل ہوتی ہے۔

کچھ افراد اس کے ثبوت کے طور پر چین کے قومی انٹیلیجنس قانون کی طرف اشارہ کرتے ہیں لیکن چینی کمپنیاں، جیسے ٹک ٹاک کی مالک کمپنی بائیٹ ڈانس، کا کہنا ہے کہ یہ قانون نجی کمپنیوں اور ذاتی ڈیٹا کی حفاظت کے لیے ہے۔

پھر بھی اسی شک کی بیناد پر کہ ٹک ٹاک پر امریکی صارفین کا ڈیٹا چینی حکومت کے ہاتھ لگ سکتا ہے، امریکہ نے اس انتہائی مقبول ایپ پر اپنے ملک میں پابندی لگانے کا فیصلہ کیا۔

یہ ہی شکوک ڈیپ سیک کو بھی متاثر کر رہے ہیں۔ جنوبی کوریا نے ڈیپ سیک کو ڈاؤن لوڈ کرنے پر پابندی عائد کر دی جبکہ تائیوان اور آسٹریلیا نے حکومت کی جانب سے جاری کردہ ڈیوائسز پر اس ایپ کو ڈاؤن لوڈ کرنے سے منع کیا ہے۔

چینی کمپنیاں ان خدشات سے بخوبی واقف ہیں اور ٹومی ٹینگ نے بی بی سی کو بتایا کہ ان کی کمپنی کے لیے ’پرائیویسی سرخ لکیر کی مانند ہے۔‘

چین کو خود بھی اندازہ ہے کہ یہ خدشات اے آئی کی دنیا میں عالمی رہنما بننے کی اس کی کوششوں میں چیلنج ثابت ہوں گے۔

چین کے سرکاری اخبار ’بیجنگ ڈیلی‘ کے مطابق ’ڈیپ سیک کی تیز پیشرفت نے مغرب میں کچھ لوگوں کی طرف سے مخالفانہ ردعمل کو جنم دیا۔ چین کے اے آئی ماڈلز کے لیے ترقی کا ماحول انتہائی غیر یقینی کا شکار ہے۔‘

لیکن اس کے باوجود چین کی اے آئی کمپنیاں رک نہیں رہیں بلکہ ان کا ماننا ہے کہ اس جدت سے انھیں ناقابل تردید فائدہ ہو گا کیونکہ ڈیپ سیک کا دعویٰ تھا کہ وہ لاگت کے حوالے سے چیٹ جی بی ٹی کا مقابلہ کر سکتا ہے۔

چین، مصنوعی ذہانت

،تصویر کا ذریعہBBC/ Joyce Liu

لہذا چیلنج یہ ہے کہ کم پیسوں میں زیادہ سے زیادہ اے آئی مصنوعات کیسے تیار کی جائیں۔ ٹینگ کہتے ہیں کہ ’یہ ہمارے لیے ناممکن تھا۔‘

ان کی کمپنی کو پتا چلا کہ شطرنج کھیلنے کے لیے روبوٹ کا بازو بنانا بہت زیادہ مہنگا ہے اور اس پر 40 ہزار ڈالر کا خرچ آ سکتا ہے۔

لہذا انھوں نے انجینیئرز کے کام اور مینوفیکچرنگ کے عمل میں مصنوعی ذہانت کو استعمال کرنے کی کوشش کی۔ ٹینگ کا دعویٰ ہے کہ اس سے یہ لاگت کم ہو کر صرف ایک ہزار ڈالر ہو گئی۔

وہ کہتے ہیں کہ ’یہ جدت ہے۔ مصنوعی انجینیئرنگ اب مینوفیکچرنگ کے عمل میں ضم ہو گئی۔‘

چین کا سرکاری میڈیا پہلے ہی انسانی شکل کے روبوٹس سے بھری فیکٹریاں دیکھا رہا ہے۔ جنوری میں چینی حکومت نے کہا کہ وہ ملک میں بوڑھے افراد کی بڑھتی تعداد کی دیکھ بھال کے لیے اے آئی سے تیار کردہ انسانی روبوٹس تیار کرے گا۔

چینی صدر بار بار ’ٹیکنالوجی میں خود انحصاری‘ کو ایک اہم ہدف قرار دے چکے ہیں، جس کا مطلب ہے کہ چین امریکی پابندیوں کے بعد اپنی چپس بنانا چاہتا ہے۔

چینی صدر کوعلم ہے کہ وہ ایک طویل ریس کا حصہ ہیں۔ بیجنگ ڈیلی نے حال ہی میں خبردار کیا ہے کہ ’ڈیپ سیک اے آئی کی فتح کا وقت نہیں بلکہ ہم ابھی تک اس کے قریب پہنچنے کی کوشش کر رہے ہیں۔‘

صدر شی ایک ایسی میراتھن کی تیاری کے لیے مصنوعی ذہانت، روبوٹس اور جدید ٹیکنالوجی میں بہت زیادہ سرمایہ کاری کر رہے ہیں، جس کے بارے میں انھیں امید ہے کہ چین بالآخر یہ ریس جیت جائے گا۔