وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز کا دورہِ جاپان اور ایئر فورس کا خصوصی طیارہ: ایسے دورے دیگر صوبوں کے وزیر اعلیٰ کیوں نہیں کرتے؟

،تصویر کا ذریعہMaryam Nawaz Sharif/Facebook
- مصنف, ترہب اصغر
- عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام، لاہور
پاکستان کے آبادی کے لحاظ سے بڑے صوبہ پنجاب کی وزیر اعلیٰ اور مُلک کے سابق وزیر اعظم نواز شریف کی بیٹی مريم نواز کا جاپان کے حالیہ دورے کا سوشل میڈیا پر خاصہ چرچا رہا ہے۔
سوشل میڈیا پر صارفین کی جانب سے اُن کے اس دورے کے حوالے سے متعدد سوالات اُٹھائے جاتے رہے ہیں اور شاید یہ سلسلہ اب بھی تھما نہیں ہے۔
ایک جانب تو حکومت پنجاب نے اس دورے کی خبریں اشتہارات کے ذریعے ٹیلی ویژن اور اخبارات کی زینت بنائی رکھیں تو دوسری جانب اس دورے پر آنے والے اخراجات سمیت دورے کے لیے استعمال ہونے والا پاکستان ایئرفورس کا خصوصی طیارہ بھی زیر بحث رہا۔

،تصویر کا ذریعہ@pmln_org/X
مريم نواز کے جاپان کے سرکاری دورے سے کیا حاصل ہوا؟
پنجاب حکومت کے مطابق مریم نواز شریف کے دورہِ جاپان سے پنجاب میں جاپان جیسی ترقی، صفائی، ماحولیات اور انفراسٹرکچر جیسی دیگر سہولیات اور بہترین نظام فراہم کرنے میں مدد ملے گی۔ یہی نہیں مریم نواز نے جاپان کے شہر یوکو ہاما کا دورہ کیا جو اپنے بنیادی ڈھانچے، ٹراسپورٹ کے نظام، توانائی اور جدید ڈیزائن کے لیے جانا جاتا ہے۔
جاپانی شہری منصوبہ سازوں کے ساتھ ملاقاتوں کے دوران انھوں نے راوی اربن ڈویلپمنٹ اتھارٹی اور’یوکو ہاما‘ کے طرز پر بنانے اور سٹی ٹو سٹی تعاون کے امکانات کا اظہار کیا۔
پنجاب حکومت کے مطابق مريم نواز اور ان کے وفد نے جاپان کی مختلف فیکٹریوں اور اداروں کا دورہ کیا جہاں انھوں نے زراعت، ویسٹ مینجمنٹ، ٹیکنالوجی، ہیلتھ سسٹم سمیت ڈیری انڈسٹری اور دیگر شعبوں کا نظام پنجاب میں متعارف کروانے کا فیصلہ کیا ہے۔
بی بی سی سے بات کرتے ہوئے پنجاب حکومت کے اعلیٰ افسر نے بتایا کہ ’ابھی تک اس دورے کے دوران انھوں نے جاپان میں ملاقات کے دوران ملنے والے مختلف شعبوں کے ماہرین سمیت جاپان کی حکومت کو پاکستان بالخصوص پنجاب میں آنے اور وہاں سرمایہ کاری کرنے کی دعوت دی ہے۔ ابھی یہ نہیں معلوم کہ اس دورے کے بعد پنجاب میں کتنی سرمایہ کاری آئے گی۔‘
انھوں نے مزيد کہا کہ ’اس بجٹ کے علاوہ تشہیری بجٹ الگ سے استعمال کیا گیا ہے۔‘
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
مريم نواز کے اس دورے پر آنے والے اخراجات پر تنقید کرنے والوں کو ایکس پر جواب دیتے ہوئے وزیر اطلاعات پنجاب اعظمیٰ بخاری نے لکھا ’ایک ہفتے کے دورے میں مناسب اخراجات کرکے بڑی سرمایہ کاری اور پنجاب میں جدید ٹیکنالوجی، ویسٹ مینجمینٹ، ٹرین سروس، واٹر فلٹریشن پروگرام، جدید انفراسٹرکچر کے لیے بھاگ دوڑ کرنا غلط ہے تو یہ غلطی پنجاب حکومت باربار کرے گی۔ چین سے کینسر کا علاج، ٹریکٹرز بنانے کے لیے معاونت، الیکٹرک بسیں، ٹرام، بڑے چینی اداروں کا انویسٹ کرنا پچھلے دورے کی کامیابی ہے۔‘
بی بی سی سے بات کرتے ہوئے صحافی تجزیہ کار عاصمہ شیرازی کا کہنا تھا کہ ’ابھی تو بظاہر اس دورے میں انھوں نے جاپان میں زیادہ تر ملاقاتوں میں سرمایہ کاری کی دعوت ہی دی ہے۔ اب دیکھنا یہ ہے کہ کروڑوں روپے خرچ ہونے کے بعد وہ کتنی سرمایہ کاری لانے میں کامیاب ہوتی ہیں۔‘

،تصویر کا ذریعہ@TahirImran/X
ایسے دورے دیگر صوبوں کے وزیر اعلیٰ کیوں نہیں کرتے؟
یہ وہ سوال ہے جو مریم نواز کے ہر دورے کے بعد سامنے آتا ہے۔ کچھ لوگوں کا خیال ہے کہ ایسے دورے وزیر اعلیٰ کے بجائے وزیر اعظم کو کرنے چاہییں۔ جبکہ کئی سیاسی حلقوں میں یہ تبصرہ بھی کیا جاتا ہے کہ شاید یہ دورے مریم نواز کو وزیر اعظم بننے کی تربیت کے طور پر کروائے جا رہے ہیں۔
اس معاملے پر بی بی سی سے بات کرتے ہوئے سیاسی تجزیہ کار سلمان غنی کا کہنا تھا کہ ’یہ بات سمجھنے کی ضرورت ہے کہ ایسے دورے کرنے میں جو آسانی مریم نواز کے لیے ہے وہ دوسرے صوبوں کے وزیر اعلیٰ کے لیے نہیں ہے کیونکہ وفاق میں ان کے چچا کی حکومت ہے اور وزیر خارجہ اسحاق ڈار ان کے قریبی رشتے دار ہیں۔‘
اُن کا مزید کہنا تھا کہ ’یہ بات بھی اہم ہے کہ مریم نواز کی نظر صوبے کے بعد مرکز پر بھی ہے اس لیے یہ دورے ان کے لیے اہم ہیں۔‘

،تصویر کا ذریعہ@pmln_org/X
’ایئر فورس کو کتنی پیمنٹ کی گئی ہے‘
بی بی سی اردو کی خبروں اور فیچرز کو اپنے فون پر حاصل کریں اور سب سے پہلے جانیں پاکستان اور دنیا بھر سے ان کہانیوں کے بارے میں جو آپ کے لیے معنی رکھتی ہیں
سبسکرائب کرنے کے لیے کلک کریں
مواد پر جائیں
وزير اعلیٰ پنجاب مريم نواز نے زیادہ تر بیرونِ ملک سرکاری دورے کے لیے ائیرفورس کا خصوصی طیارہ استعمال کیا ہے۔ جس کی وجہ سے عوام اور سوشل میڈیا صارفین کی جانب سے تنقیدی انداز میں پوچھا جاتا ہے کہ کیا یہ طیارہ سفارش پر دیا گیا ہے یا پھر اسے حکومت پنجاب کی جانب سے پیسے دے کر چارٹرڈ کروایا گیا ہے؟
اس بارے میں بی بی سی بات کرتے ہوئے وزیر اعلی پنجاب کے ترجمان عمران اسلم کا کہنا تھا کہ ’پنجاب حکومت کی جانب سے ایئر فورس کا جہاز پیسے دے کر بک کیا گیا ہے۔ طویل سفر اور دوسرے جہازوں کی فنی خرابی کی وجہ سے دیر سویر ہونا سرکاری دوروں پر مناسب نہیں ہوتا۔ قانونی طور پر وزیر اعلیٰ وی آئی پی فلائٹس کا استعمال کرنے کا اختیار رکھتی ہیں۔‘
دوسری جانب بی بی سی بات کرتے ہوئے نام نہ ظاہر کرنے کی شرط پر ایک اعلیٰ حکومتی افسر کا کہنا تھا کہ ’کیونکہ وفاق میں مسلم لیگ ن کی حکومت ہے اور جیسا کہ یہ طیارہ وزیر اعظم سمیت دیگر معاملات کے لیے بھی استعمال ہوتا ہے جیسا کے لوگوں کو ریسکیو کرنے اور فوجیوں کی نقل و حرکت کے لیے۔‘
ان تمام کاموں کے لیے استعمال ہونے والے اس طیارے کے پیسے ائیر فورس کو ہی جاتے ہیں اور جہاں تک مریم نواز کے استعمال کی بات ہے تو کیونکہ وفاق میں مسلم لیگ ن کی ہی حکومت ہے تو پنجاب حکومت کے بجائے وفاق ہی اس چارٹرڈ فلائٹ کی پیمنٹ کر سکتی ہے۔
اس معاملے پر تبصرہ کرتے ہوئے تجزیہ کار عاصمہ شیرازی کا کہنا تھا کہ ’اس طرح کے دورے کرنے میں کوئی حرج نہیں ہے لیکن ایسے دورے اس وقت تنقید کی زد میں آتے ہیں جب آپ طویل دورے بڑے وفد کے ساتھ کرتے ہیں۔ کمرشل فلائٹ کے بجائے خصوصی طیاروں کا استعمال کرتے ہیں۔‘
اُن کا مزید کہنا تھا کہ ’یہاں ایک اہم سوال یہ بھی اٹھتا ہے کہ آپ جب ملک کی نمائندگی کرتے ہوئے دوسرے ممالک میں جا کر کہتے ہیں کہ آپ کو سرمایہ کاری اور مدد کی ضرورت ہے تو وہ یہ دیکھتے ہیں کہ جہاں ایک وزیر کی ضرورت تھی وہاں آپ چھ لے کر گئے ہیں۔ ایک ملک جس کی معیشت کے بُرے حالات ہیں وہاں کے ایک صوبے کی وزیر اعلیٰ جب اس انداز میں دورے کریں گی تو اس سے دنیا کو یہی پیغام جاتا ہے کہ آپ یہ سب اخرجات اٹھا سکتے ہیں۔‘
’جبکہ دنیا میں ایسا نہیں ہوتا ہے۔ اس لیے میرا خیال ہے کہ انھیں ان باتوں کا خیال رکھنے کی ضرورت ہے۔‘
اس بارے میں تجزیہ کار سلمان غنی کا کہنا ہے کہ ’بطور ایک صوبے کی وزیر اعلیٰ ایسے اخراجات کرنا ان کی صوابدید ہے اس لیے قانونی طور پر تو ہم ان پر اعتراض نہیں کر سکتے ہیں۔ البتہ سیاسی طور پر مخالفین کی تنقید جائز ہے۔‘

،تصویر کا ذریعہ@pmln_org/x
تشہیر کا نیا انداز ’جاپان میں وزير اعلی نے ایک مصروف دن گزارا‘
وزير اعلیٰ پنجاب مريم نواز کے جاپان کے دورے کے دوران ابھی تک یہ تو معلوم نہیں کہ سرمایہ کاری کتنی آئے گی یا پھر کون سا منصوبہ کب شروع ہو گا۔ تاہم اخبارات اور ٹیلی وزیژن پر ان کے گزارے دن کی مصروفیات کے بارے میں بڑے بڑے اشتہارات شائع کیے گئے۔
عموماً ایسی پریس ریلز رپوٹرز کو سرکاری طور پر بھیجی جاتی ہے جس کی خبر بنا کر وہ اسے شائع کرتے ہیں۔ لیکن اس دفعہ حکومت پنجاب نے پیسے خرچ کرکے یہ مصروفیات اشتہارات کے ذریعے عوام تک پہنچائی۔
اس بارے میں بی بی سی سے بات کرتے ہوئے ایک نجی چینل کے ملازم نے بتایا کہ ’ایک چینل پر جب اشتہار چلتا ہے تو بڑے چینل کے ایک منٹ کی قیمت تقریباً تین لاکھ روپے ہوتی ہے۔‘
بی بی سی نے اس تنقید کے بارے میں ڈی جی پی آر صغیر شاہد سے بات کی تو ان کا کہنا تھا کہ ’پنجاب کی پالیسی کے مطابق وزیر اعلیٰ کے تمام منصوبوں کے بارے میں معلومات عوام تک پہنچانا ہمارا کام ہے۔‘
اس معاملے پر تجزیہ کار عاصمہ شیرازی کا کہنا تھا کہ ’جہاں تک اشتہارات کی بات ہے کہ تو وہ تو ویسے ہی مذاق بن چکا ہے کہ آپ ایک بڑا سرمایہ آپ اس طرح اپنی تشہیر پر لگا رہے ہیں۔ بلکہ اس طرح سے اشتہارات میں مریم نواز کے گزرے دن کی اطلاعات دینا مناسب نہیں ہے۔ اس پر سوال بھی بنتا ہے اور اپوزیشن کو چاہیے کہ وہ حکومت سے ان سوالات کے جواب طلب کرے۔‘













