مریم نواز، کسان کارڈ اور ’بے نظیر والے پیسے‘: کیا پنجاب حکومت کو ’ایک سال میں 80 منصوبوں‘ کا سیاسی فائدہ ہوا؟

مریم

،تصویر کا ذریعہPMLN

    • مصنف, احمد اعجاز
    • عہدہ, صحافی

پاکستان کے صوبہ پنجاب میں گندم کی کٹائی کا آغاز ہو چکا ہے۔ پنجاب کسانوں کے لیے گندم اہم ترین فصل ہے۔ پنجاب کے دیہی کلچر میں اس کے ساتھ کئی ثقافتی وسماجی سرگرمیاں و تقریبات جڑی ہوئی ہیں مگر اس بار کسان اپنی فصل کی بابت پریشانی میں مبتلا دکھائی دے رہا ہے۔

گذشتہ برس پنجاب حکومت نے گندم کی قیمت کا تعین کیا تھا، مگر اس بار نہ نرخ مقرر کیا اور نہ گندم خریدی گئی۔ نتیجتاً گندم کی قیمت نیچے آگئی اور کسانوں نے مختلف شہروں میں احتجاج کیا۔

وزیر اعلیٰ پنجاب نے اس صورتحال کو بھانپتے ہوئے بدھ کے روز گندم پیکج کا اعلان کیا ہے۔ یہ پیکج کیا ہے اور کس حد تک کسانوں کو ریلیف دینے کا باعث بنے گا؟ مگر اس سے قبل یہ جان لیتے ہیں کہ حکومت پنجاب کے شروع کردہ دیگر منصوبے کیا ہیں؟

’ایک سال میں 80 منصوبے‘

اگر ہم مریم نواز کے اقتدار کی موجودہ مُدت تک اُن کے عوامی منصوبوں کا جائزہ لیں تو یہ 80 سے زائد بنتے ہیں۔

مسلم لیگ ن کا دعویٰ ہے کہ وزیر اعلیٰ مریم نواز کے ان عوامی منصوبوں سے پنجاب کے لاکھوں افراد براہِ راست مستفید ہو رہے ہیں۔ پنجاب کی وزیرِ اطلاعات عظمیٰ بخاری دعویٰ کرتی ہیں کہ 'وزیرِ اعلیٰ مریم نواز نے ایک سال میں 80 سے زائد منصوبے شروع کیے جن میں سے 50 سے زائد مکمل بھی ہو چکے ہیں۔'

دوسری جانب ناقدین کا کہنا ہے کہ ان منصوبوں کے ذریعے نون لیگ صوبے میں سیاسی حمایت حاصل کرنا چاہتی ہے۔

واضح رہے کہ ان منصوبوں میں سے کچھ پنجاب کے دیہی علاقوں جبکہ کچھ کا دائرہ شہری علاقوں تک پھیلا ہوا ہے۔

اِن میں سے ایک ستھرا پنجاب بہت مقبول ہے۔ اس منصوبہ کا دائرہ دیہاتوں سے بڑھا کر شہروں تک کر دیا گیا ہے۔ پنجاب حکومت کے اعداد و شمار کے مطابق اس منصوبے کے تحت ایک لاکھ تک افراد کو نوکریاں بھی ملی ہیں۔

مواد پر جائیں
بی بی سی اردو اب واٹس ایپ پر

بی بی سی اردو کی خبروں اور فیچرز کو اپنے فون پر حاصل کریں اور سب سے پہلے جانیں پاکستان اور دنیا بھر سے ان کہانیوں کے بارے میں جو آپ کے لیے معنی رکھتی ہیں

سبسکرائب کرنے کے لیے کلک کریں

مواد پر جائیں

اسی طرح پنجاب حکومت نے ماہِ رمضان میں ’رمضان نگہبان پیکج‘ دیا گیا جس میں سرکاری اعداد و شمار کے مطابق 30 لاکھ لوگوں کی مالی اعانت کی گئی۔ جبکہ رمضان سہولت بازاروں سے 85 لاکھ افراد مستفید ہوئے۔

وزیر اعلیٰ پنجاب مریم نواز نے ہونہار سکالرشپ پروگرام کا بھی آغاز کیا جس کے تحت حکومتی دعویٰ ہے کہ 30 ہزار طلبا و طالبات کو اسکالرشپ دی جا چکی ہیں۔

مریم نواز نے صوبے میں 27 ہزار طلبہ کو الیکٹرک بائیکس بھی دی ہیں۔

دھی رانی پروگرام کے تحت پہلے مرحلے میں 1500 بچیوں کی شادیاں ہوئی ہیں جبکہ دوسرا مرحلہ جلد شروع کیا جارہا ہے۔ اسی طرح ایک لاکھ 30 ہزار 427 لائیو سٹاک کارڈ کا اجرا ہوچکا ہے۔

جنوبی پنجاب کی خواتین میں 3664 گائے اور بھینسیں اب تک تقسیم کی جا چکی ہیں۔

پنجاب حکومت کے مطابق ساڑھے سات لاکھ کسانوں کو کسان کارڈ دیے گئے ہیں جس کے تحت کسان 50ارب سے زائد کی خریداری کرچکے ہیں جبکہ 10ہزار سے زائد کسانوں کو گرین ٹریکٹر دیے جا چکے ہیں۔ جبکہ ایک ہزار کسانوں کو سپرسیڈر دیے جا چکے ہیں۔

پنجاب حکومت کے 'اپنی چھت اپنا گھر' پروگرام کے تحت 20 ہزار افراد کو 15 لاکھ کے قرضے دیے جا چکے ہیں جبکہ آسان کاروبار پروگرام کے تحت نوجوانوں کو 15 لاکھ سے تین کروڑ تک بلاسود قرضے دیے جا چکے ہیں۔

گندم پیکج کیا ہے؟

kissan program

،تصویر کا ذریعہGovernment of Punjab

پنجاب حکومت کی جانب سے اعلان کردہ اس پیکج کے اہم مندرجات میں پنجاب حکومت نے گندم کے ساڑھے پانچ لاکھ کاشتکاروں کو براہ راست گندم سپورٹ فنڈ کے تحت 15 ارب دینے کی منظوری دی ہے۔

اس میں گندم کے کاشتکاروں کو کسان کارڈ کے ذریعے ڈائریکٹ فنانشل سپورٹ کے ساتھ ساتھ آبیانہ اور فکس ٹیکس میں چھوٹ کا اعلان بھی کیا ہے۔

وزیر اعلیٰ پنجاب کے اعلان کردہ پیکج میں کسانوں کومارکیٹ کے دباؤ سے محفوظ رکھنے کے لیے چار ماہ مفت سٹوریج کی سہولت دینے اور ’الیکٹرانک ویئر ہاؤسنگ ریسیٹ‘ یعنی ای ڈبلیو آر سسٹم کے نفاذ کا فیصلہ بھی کیا گیا ہے۔

اس پیکج میں گندم خریداری کے لیے فلور ملز اور گرین لائسنس ہولڈرز کو 100 ارب روپے تک بینک آف پنجاب سے حاصل کردہ قرضوں کا مارک اپ ادا کرنے کا بھی اعلان کیا گیا ہے۔

مریم نواز کے منصوبوں کو دیہی پنجاب کے عوام کیسے دیکھتے ہیں؟

پنجاب حکومت یہ دعویٰ کرتی ہے کہ وہ کسانوں کو بہت زیادہ مراعات سے نواز رہی ہے۔ اس دعوے کو تائید کسانوں سے متعلق مختلف نوعیت کی سکیموں سے ملتی ہے۔

چونکہ پنجاب میں گندم کی کٹائی جاری ہے تو سوشل میڈیا پر بھی گندم کے نرخ پر کافی شوراُٹھا ہوا ہے۔ ہم نے گندم کی کٹائی میں مصروف پنجاب کے چند کسانوں سے بات چیت کے ذریعے سکیموں کی بابت اُن کا ردِعمل جاننے کی کوشش کی۔

مجموعی طورپر پنجاب کے کسان حکومت سے سخت نالاں دکھائی دیے۔ وہ اِن سکیموں کو پیسے اور وقت کا ضیاع سمجھتے ہیں اور کہتے ہیں کہ یہ سکیمیں کوئی نئی نہیں اور محض چند ایک کو فائدہ پہنچانے کے علاوہ یہ مجموعی طوپر کسانوں کو درپیش مسائل کا حل نہیں۔

حکومت کے اس پیکج پر بات کرتے ہوئے ضلع سرگودھا کے نوجوان زمیندار وقاص احمد کہتے ہیں کہ کسان کارڈ کے تحت جس ڈائریکٹ فنانشل سپورٹ کی بات کی گئی ہے، یہ ساڑھے بارہ ایکڑ کے کسان کو نہیں ملتا۔

’جن چھوٹے کاشت کاروں کو ملتا ہے اس کی شرح بھی بہت کم ہے یعنی تین سو چھوٹے کسانوں میں سے بمشکل بیس سے پچیس کو کارڈ مل پاتا ہے۔‘

وقاص احمد نے یہاں ایک اہم نقطے کی جانب یہاں اشارہ کرتے ہوئے کہا کہ گندم کی خریداری کے لیے فلورملز اور گرین لائسنس ہولڈر وہ لوگ ہیں جن کو مریم نواز نے خود ’مافیا‘ کہا ہے۔

'گرین لائسنس والے کسان سے گندم خرید کر رکھ لیں گے اور پھر بینک آف پنجاب سے قرض لیں گے، یہ فائدہ میں رہیں گے جبکہ میرے جیسے چھوٹے اور درمیانہ درجے کے بے شمار کسانوں کو اس وقت پیسوں کی اشد ضرورت ہے۔ہم تین چار ماہ تو درکنار ایک ماہ کے لیے بھی فصل کو سٹاک نہیں کر سکتے۔‘

ضلع لودھراں سے تعلق رکھنے والے کاشت کار سید جعفر گیلانی کہتے ہیں کہ ’پنجاب حکومت نے اس پیکج میں یہ کہا کہ ہم آبیانہ معاف کر رہے ہیں جبکہ آبیانہ تو ڈنڈے کے زور پر یہ ہم سے مارچ میں وصول کرچکے ہیں۔'

دوسرا یہ کہ ایسے پیکجز سے ریلیف لینے کا طریقہ کار بہت مشکل ہوتا ہے۔ سید جعفر گیلانی کے موقف کی تائید ضلع لیہ کے کسان خالد خان میرانی بھی کرتے ہیں۔

وہ کہتے ہیں کہ آبیانہ تو حکومت ہم سے وصول کر چکی ہے۔ ان کا مزید کہنا تھا کہ ’کسان مالی مسائل کی وجہ سے گندم سٹور کرنے کی پوزیشن میں نہیں بلکہ سٹور کرنے کا فائدہ سرمایہ کار کو ہوگا۔‘

کسان تنظیمیں اس پیکج کو کیسے دیکھ رہی ہیں؟ مرکزی چیئرمین کسان اتحاد خالد حسین نے اس بارے میں بات کرتے ہوئے کہا کہ ساڑھے پانچ لاکھ کاشتکاروں کو جو 15 ارب دینے کا اعلان ہوا ہے یہ رقم مجموعی طور پر فی کسان لگ بھگ 27 ہزار روپے بنتی ہے۔

ای ڈبلیو آر سسٹم یورپ کے 28 ملکوں میں رائج ہے ’وہاں تو چل سکتا ہے کیونکہ اس نظام کے تحت بڑے کسانوں کو ریلیف ملتا ہے جبکہ یہاں تو پانچ سات ایکڑ کے کاشتکار زیادہ ہیں اُن کے لیے یہ کیسے ریلیف کا باعث بن سکتا ہے؟‘

ان کا کہنا تھا کہ ہم اس پیکج کو مسترد کرتے ہیں۔ ’ہم کہتے ہیں کہ کسان کی گندم کے بہتر نرخ کا تعین کیا جائے اور اس کو خریدا جائے۔‘

ٹوبہ ٹیک سنگھ کے زمیندار چودھری نیاز محمد نمبردار کہتے ہیں کہ پنجاب حکومت کی سکیموں کے باوجود ’کسان بے چین ہیں۔‘ وہ سکیموں سے زیادہ کاشت کاری سے جڑے زرعی آلات کی سستے داموں فراہمی کو اہم سمجھتے ہیں۔

اسی طرح کے خیالات کا اظہار سیالکوٹ، قصور، اوکاڑہ، ساہیوال، پاکپتن، خانیوال، ملتان، لیہ رحیم یار خان، بھکر اور مظفر گڑھ کے کسانوں نے بھی کیا۔

’ستھرا پنجاب‘ سکیم

دوسری جانب ’ستھرا پنجاب‘ ایسی سکیم ہے جس کا دائرہ پہلے تو صرف گاؤں یا دیہات تک تھا لیکن اب اس کا دائرہ وسیع کر دیا گیا ہے۔

اس منصوبے پر تحفظات کے باوجود مجموعی طورپر تحسین پائی جاتی ہے۔ اسی طرح تجاوزات کے خلاف آپریشن کو سراہا تو جا رہا ہے لیکن یہ تشویش بھی ظاہر کی جا رہی ہے کہ اس کا عمل نچلی سطح پر قدرے سست پڑتا دکھائی دے رہا ہے بلکہ دیہات میں سماجی سطح پر اس آپریشن کی اشد ضرورت محسوس کی جا رہی ہے۔

حافظ آباد کے گاؤں گڑھی عبداللہ کے نمبرداراحسان گوندل کہتے ہیں کہ ’ستھرا پنجاب کے تحت ہمارے گاؤں میں صفائی ستھرائی ہوتی رہتی ہے لیکن تجاوزات کے خلاف آپریشن ابھی تک شہروں یا قصبوں کی حد تک ہے۔‘

وہ کہتے ہیں کہ اس آپریشن کی دیہات میں بھی اشد ضرورت ہے۔

ٹوبہ ٹیک سنگھ کے چودھری نیاز محمد کہتے ہیں کہ صاف ستھرا پنجاب ایک نہایت قابلِ تعریف اقدام ہے لیکن حکومت کو اس سے بھی زیادہ توجہ گاؤں دیہات سے تجاوزات کے خاتمے پر دینی چاہیے تاکہ ’لوگوں کو جدید رہائشی سہولیات میسر ہوں اور اس سے دیہات سے شہروں کی طرف نقل مکانی کے رجحان کو روکنے میں بھی مدد ملے گی۔‘

وہ کہتے ہیں کہ ’جب چک ڈیزائن کیے گئے تو اُس وقت سڑکیں 56 فٹ کھلی رکھی گئیں لیکن تجاوزات کی وجہ سے وہ اب 20 فٹ تک محدود ہو کر رہ گئی ہیں۔‘

منڈی بہاؤالدین کے فتووالا گاؤں کے شہزاد رانجھا ایڈووکیٹ کہتے ہیں کہ ستھرا پنجاب اور تجاوزات کے خلاف آپریشن سے براہِ راست لوگوں کو فائدہ پہنچ رہا ہے۔

مختلف دیہات کے افراد تجاوزات کے خلاف آپریشن کو وسیع پیمانے پر دیکھنے کے خواہاں ہیں۔ وہ کہتے ہیں کہ گلیوں اور سڑکوں کے کناروں پر معمولی قبضے چھڑوانا بھی بعض مرتبہ مقامی بااثرلوگوں کے بس میں نہیں ہوتا اور اس پر بڑی لڑائیاں جنم لیتی ہیں۔

دوسری جانب دھی رانی پروگرام اور جنوبی پنجاب کی دیہی خواتین کو ملنے والی گائے بھینس کی سکیم کے بارے میں سماجی سطح پر تحسین پائی جاتی ہے۔

شیخوپورہ کے عارف علی نان ٹکی کا کام کرتے ہیں۔ وہ کہتے ہیں کہ ’میں پہلے ریڑھی پر نان ٹکی بیچتا تھا، ایک خدا ترس نے تھوڑی اِمداد کی تو چھوٹی سی دُکان لگا لی۔ جس دِن کام اچھا لگ جائے تو 700 روپے ورنہ 500 کما لیتا ہوں۔ میری چھ بیٹیاں ہیں۔ اِن کے ہاتھ پیلے کیسے کروں گا یہ سوچ میری دماغی حالت کو غیر کر دیتی تھی لیکن بڑی بیٹی کی باعزت طریقے سے شادی ہوئی تو اطمینان کا احساس ہوا۔‘

مظفرگڑھ کی کومل ناز کے دو چھوٹے بچے اور ایک بوڑھی ماں ہیں۔ وہ کہتی ہیں کہ ’جب سے مریم بی بی کی طرف سے بھینس ملی، اطمینان محسوس ہوا۔ چند دِن پہلے بیماری لگی تو حکومتی ڈاکٹرآ کر چیک کر گیا، اب میری بھینس بالکل ٹھیک ہے۔‘

Punjan Government

،تصویر کا ذریعہSocial Media

یہ منصوبے سیاسی حمایت کا سبب بن رہے ہیں؟

پنجاب حکومت کے زیادہ تر منصوبے کوئی نئے نہیں، ماضی میں بھی مختلف ادوار میں ایسی سکیمیں اور منصوبے پیش کیے جاتے رہے ہیں۔ اس لیے ان منصوبوں کے حوالے سے ملے جلے تاثرات سامنے آتے رہتے ہیں۔

تو کیا مریم نواز کے یہ منصوبے دیہی عوام میں نون لیگ کی سیاسی حمایت کا سبب بن رہے ہیں یا نہیں؟

وزیر آباد میں مسلم لیگ ن کے رہنما اور سینیئر ایڈووکیٹ اعجاز پرویا کہتے ہیں کہ دیہات میں بہت مایوسی پائی جاتی ہے۔ ’ابھی وزیرِ اعظم نے بجلی سستی کی مگر مَیں نے گاوں دیہات میں کسی بندے کو اس کا اظہار کرتے نہیں دیکھا۔‘

وہ کہتے ییں کہ ’سکیمیں اچھی ہیں اور ممکن ہے کہ آگے جا کر ان کے کوئی اثرات نکلیں۔‘

ننکانہ سے تعلق رکھنے والے مسلم لیگ ن کے سابق ایم پی اے میاں اعجاز بھٹی کہتے ہیں کہ جب تک مہنگائی کم نہیں ہو گی، ان منصوبوں کا کوئی فائدہ نہیں۔

ساہیوال کے ماسٹر محمد فاروق کہتے ہیں کہ جو حکومت کے منصوبوں سے براہِ راست مستفید ہو رہے ہیں وہ بھی ان منصوبوں کو مسائل کا دیرپا حل نہیں سمجھتے۔

بھکر کے زمیندار اور سیاسی کارکن ناصر علی خان سمجھتے ہیں کہ اگر صرف کسانوں کو دیکھا جائے تو بڑی تعداد حکومت کی پالیسیوں کو کسان دُشمن قراردیتی ہے۔

سیالکوٹ سے تعلق رکھنے والے لکھاری اور کاشتکار اکمل شہزادگھمن بھی کہتے ہیں کہ یہ سکیمیں کوئی نئی تو نہیں۔

’نوے کی دہائی میں ہمارے خاندان کو بے نظیر بھٹو کی سکیم سے ٹریکٹر ملا تھا۔ قرعہ اندازی پر مبنی سکیمیں محض سیاسی داؤ ہی ہوتی ہیں۔‘

Maryam Nawaz

،تصویر کا ذریعہGetty Images

ملتان سے تعلق رکھنے والے انور مہوٹہ ایڈووکیٹ سمجھتے ہیں کہ یہ پروگرام جنوبی پنجاب کے دیہی اور پسماندہ علاقوں کا براہ راست حل تو رکھتے ہیں مگر ان کے خیال میں یہ منصوبے قلیل مدتی پاپولزم کے لیے ہیں لیکن بعض لوگ ان سکیموں اور منصوبوں کے سماجی و سیاسی ثمرات کے فیکٹر کو نظر انداز نہیں کرتے۔

خوشاب کے زمین دارغلام یاسین واگھرہ کہتے ہیں کہ لوگوں کو گندم کاشت کرنے میں مالی لحاظ سے بہت مشکلات کا سامنا تھا لیکن کسان کارڈ کی وجہ سے ہی لوگ گندم کاشت کر سکے ہیں۔

’بے نظیر والے پیسے مل رہے ہیں‘

خوشاب کی امیراں بی بی کہتی ہیں کہ ہمارے علاقے کی عورتوں کو جب بھی موجودہ حکومت کی طرف سے کوئی مالی مدد ملتی ہے تو وہ ایک دوسرے سے کہتی ہیں کہ ’بے نظیر والے پیسے مل رہے ہیں۔‘

ایسے ہی خیالات کا اظہار وزیر آباد سے تعلق رکھنے والے عقیل لودھی بھی کرتے ہیں۔ اُن کے مطابق مریم نواز کے مالی معاونت کے پروگرام سے مستفید ہونے والے اسے ’بے نظیر انکم سپورٹ فنڈ‘ ہی سمجھتے ہیں۔

جب ہم نے اس سلسلے میں مختلف لوگوں سے بات کی تو مجموعی طورپر یہ رائے سامنے آئی کہ مریم نواز خواتین میں ابھی خود کو رجسٹرڈ کروانے میں شاید کامیاب نہیں ہوئی ہیں۔

اس بارے میں گجرات سے تعلق رکھنے والے ن لیگ کے سینیئر رہنما چودھری عابد رضا کوٹلہ کہتے ہیں کہ لوگوں کی سوچ میں بہت تبدیلی آ چکی ہے اور اب لوگوں کو جو ریلیف ملتا ہے ، وہ اُسے اپنا حق سمجھ کر وصول کرتے ہیں۔