آپ اس وقت اس ویب سائٹ کا ٹیکسٹ پر مبنی ورژن دیکھ رہے ہیں جو کم ڈیٹا استعمال کرتا ہے۔ مرکزی ویب سائٹ جہاں تمام تصاویر اور ویڈیوز موجود ہیں دیکھیے
کیا متاثرہ فریق کی درخواست کے باوجود پولیس کی مدعیت میں مقدمہ درج ہو سکتا ہے؟
- مصنف, عمر دراز ننگیانہ
- عہدہ, بی بی سی اردو، لاہور
پاکستان تحریک انصاف کے چیئرمین عمران خان پر وزیرآباد میں قاتلانہ حملے کی ایف آئی آر چار دن بعد درج کر دی گئی ہے۔ پاکستان کی سپریم کورٹ نے صوبہ پنجاب کے پولیس چیف کو پیر کے روز ایف آئی آر درج کرنے کے لیے 24 گھنٹے کی مہلت دی تھی۔
یہ ایف آئی آر درج کرنے کے لیے تحریک انصاف نے بہت جدوجہد کی۔ تاہم پولیس نے اپنی مدعیت میں یہ ایف آئی آر درج کر دی ہے، جس میں عمران خان کی طرف سے نامزد تینوں نام شامل نہیں کیے گئے ہیں۔ تحریک انصاف کے رہنماؤں نے اس ایف آئی آر پر شدید ردعمل دیا ہے اور اسے محض کاغذ کا ایک بے وقعت ٹکڑا قرار دیتے ہوئے مسترد کر دیا ہے۔
تحریک انصاف نے اپنی مدعیت میں مقدمہ درج کرنے سے متعلق کیا کاوشیں کیں؟
سپریم کورٹ کے حکم کے بعد انصاف لائرز فورم کے وکلا ایف آئی آر درج کرنے کے لیے درخواست لے کر ایک مرتبہ پھر تھانہ سٹی وزیرآباد پہنچے تاہم پولیس نے درخواست وصول نہیں کی۔ پاکستان تحریک انصاف کے لاہور کے جنرل سیکریٹری زبیر نیازی کے مطابق ان کے وکلا نے دو گھنٹے سے زیادہ دیر تھانے میں انتظار کرنے کے بعد ’مجبور ہو کر آن لائن کمپلینٹ سینٹر میں تفصیل جمع کروا دی ہے۔ سپریم کورٹ کی توہین کی جا رہی ہے۔‘ اس سے قبل زبیر نیازی نے تین صفحوں پر مشتمل ایک درخواست ٹوئٹر پر شیئر کی تھی۔ انھوں نے بتایا تھا کہ ان کی جماعت نے یہ درخواست واقعے کے دوسرے ہی روز وزیرآباد پولیس کو جمع کروائی تاہم پولیس نے اس کے باجود مقدمہ درج نہیں کیا۔ پولیس کو جمع کروائی جانے والی اس درخواست میں پی ٹی آئی کے چیئرمین عمران خان پر حملے کا ذمہ دار تین افراد یعنی وزیرِ اعظم شہباز شریف، وزیرِ داخلہ رانا ثنا اللہ اور آئی ایس آئی کے ڈی جی سی میجر جنرل فیصل نصیر کو نامزد کیا گیا ہے۔ انصاف لائرز فورم کے وکیل حسان نیازی نے بی بی سی کو بتایا کہ پولیس کی طرف سے درخواست وصول نہ کرنے کی صورت میں پی ٹی آئی کی جانب سے درخواست کوریئر سروس کے ذریعے بھی وزیرآباد پولیس کو ارسال کی جا چکی ہے۔ ’پولیس نے نہ تو درخواست وصول کی ہے اور نہ ہی اس پر اندراج کا کوئی نمبر لگایا ہے۔ ہم نے آن لائن درخواست جمع کروا کر نمبر حاصل کیا ہے۔ اب پولیس کل کو عدالت میں یہ نہیں کہہ سکتی کہ ان کے پاس درخواست نہیں آئی یا انھیں درخواست موصول ہی نہیں ہوئی۔‘ تاہم پولیس نے اس بات کی تصدیق نہیں کی کہ ان کو درخواست موصول ہوئی ہے یا انھوں نے اس کو وصول کرنے سے انکار کیا ہے۔
پولیس نے مقدمے کے اندراج کی درخواست کیوں نہیں لی؟
انصاف لائرز فورم کے چیف آرگنائزر شاداب جعفری نے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے بتایا ان کے ضلعی سطح کے وکلا نمائندے دن 12 بجے سے تھانہ وزیرآباد میں درخواست جمع کروانے کے لیے موجود ہیں۔ تاحال وزیرآباد پولیس نے درخواست وصول نہیں کی۔
’دن 12 بجے سے شام سات بجے تک صرف دو منٹ کے لیے متعلقہ ایس ایچ او نے ہماری ٹیم کو ملاقات کا وقت دیا ہے۔ اس میں انھوں نے بتایا ہے کہ اوپر یعنی آئی جی کی سطح پر میٹنگ ہو رہی ہے اس میں جو فیصلہ ہوتا ہے اس کے مطابق آپ کو آگاہ کر دیا جائے گا۔‘
شاداب جعفری کا کہنا تھا کہ ان کے نمائندے مقدمہ درج کروانے کے لیے تھانے میں موجود رہیں گے کیونکہ پولیس کے پاس منگل کے روز بارہ بجے تک کا وقت ہے جس دوران انھیں سپریم کورٹ کے احکامات کے مطابق مقدمہ درج کرنا ہے۔
’ہمیں امید ہے کہ پولیس اس وقت کے ختم ہونے سے قبل ہماری درخواست پر مقدمہ درج کرے گی۔‘
کیا پولیس کو مقدمہ درج کرنے سے پنجاب حکومت نے روکا؟
یاد رہے کہ اس سے قبل پی ٹی آئی کی قیادت پنجاب کے انسپکٹر جنرل آف پولیس فیصل شاہکار پر عدم اعتماد کا اظہار کرتے ہوئے انھیں تبدیل کرنے کی خواہش کا اظہار کر چکی ہے۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
اس کے بعد فیصل شاہکار نے خود بھی وفاقی حکومت کو ایک خط کے ذریعے پنجاب میں مزید کام جاری نہ رکھنے کی اپنی خواہش سے آگاہ کیا تھا تاہم وفاقی حکومت کی طرف سے انھیں کام جاری رکھنے کا کہا گیا ہے۔
خیال رہے کہ پنجاب میں پی ٹی آئی کی حکومت ہے تاہم وزیراعلیٰ پنجاب پرویز الہٰی کا تعلق پی ٹی آئی سے نہیں بلکہ ان کی اتحادی جماعت پاکستان مسلم لیگ ق سے ہے۔ چوہدری پرویز الہٰی کئی مرتبہ براہِ راست پی ٹی آئی کے سربراہ عمران خان سے ملاقات کر چکے ہیں۔
ان کی طرف سے واضح طور پر یہ نہیں بتایا گیا کہ ان کی حکومت میں پولیس واقعے کا مقدمہ کیوں درج نہیں کر پائی اور کیا انھوں نے پولیس کو اس حوالے سے کوئی احکامات جاری کیے ہیں۔
تاہم ٹوئٹر پر ان کے صاحبزادے اور سابق وفاقی وزیر مونس الہٰی نے ایک بیان میں اس بات کی تردید کی کہ وزیراعلیٰ پنجاب کی طرف سے مقدمہ درج کرنے سے پولیس کر روکا گیا ہے۔
انھوں نے لکھا کہ پنجاب حکومت نے ’پولیس کو نامعلوم افراد پر ایف آئی آر درج کرنے سے روکا ہے۔ پولیس کی مدعیت میں ایف آئی آر درج کرنے سے روکا گیا ہے۔‘
کیا پولیس مقدمہ درج کرنے سے انکار کر سکتی ہے؟
قانونی ماہرین کے مطابق پولیس کسی بھی صورت میں کسی فوجداری مقدمے کی ایف آئی آر درج کرنے سے انکار نہیں کر سکتی۔
وکیل اور قانونی ماہر عابد ساقی نے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے بتایا کہ اگر ایک واقعہ ایسا ہوا ہو جس کے ابتدائی شواہد بھی پولیس کے پاس موجود ہوں اور پولیس کو پتہ ہو کہ ایسا واقع ہوا ہے تو پولیس پابند ہے کہ وہ سب سے پہلے اس واقعے کی ایف آئی آر درج کرے۔
’قانونی طور پر پولیس مقدمہ درج کرنے سے کسی صورت بھی انکار نہیں کر سکتی۔ سب سے پہلے پولیس نے مقدمہ درج کرنا ہوتا ہے اس کے بعد وہ باقی کارروائی کا آغاز کرتی ہے۔‘
عابد ساقی کا کہنا تھا کہ پولیس اس بات پر بھی اعتراض نہیں کر سکتی کہ درخواست گزار نے مقدمے کے لیے دی جانے والی درخواست میں کسی شخص کو ملزم نامزد کیا ہے تو وہ غلط ہے اس کا نام نکالا جائے۔
یہ بھی پڑھیے
’ایف آئی آر درج کرنے کی سطح پر پولیس انکوائری یا تحقیقات نہیں کر سکتی۔ پہلے پولیس کو ایف آئی آر درج کرنی ہو گی اس کے بعد وہ انکوائری یا تحقیقات کر سکتی ہے۔‘
عابد ساقی کا کہنا تھا کہ اس تحقیقات کے بعد اگر پولیس اس نتیجے پر پہنچتی ہے کہ درخواست گزار نے کسی فریق کا نام غلط درخواست میں دیا ہے اور وہ اس میں ملوث نہیں ہے تو پولیس عدالت میں اس حوالے سے الگ نوٹ جمع کروا سکتی ہے یا منسوخی کے لیے عدالت کو کہہ سکتی ہے۔ ’تاہم ہر صورت میں پولیس نے ایف آئی آر ضرور درج کرنی ہوتی ہے۔‘
عابد ساقی کے مطابق اگر پولیس مقدمہ درج نہ کرے تو متاثرہ فریق عدالت سے رجوع کر سکتا ہے۔
کیا پی ٹی آئی عدالت کا راستہ اختیار کرنے کا ارادہ رکھتی ہے؟
یاد رہے کہ پاکستان کی عدالتِ عظمٰی پہلے ہی اس معاملے پر پولیس کو احکامات جاری کر چکی ہے اور اس کا نوٹس لیتے ہوئے معاملے کو آگے بڑھانے کا عندیہ بھی دے چکی ہے۔
تاہم قانونی طور پر اگر پولیس کسی فریق کی درخواست پر مقدمہ درج نہ کرے یا اس کی درخواست وصول کرنے سے انکار کرے تو وہ عدالت سے رجوع کر سکتا ہے۔ وکیل عابد ساقی کے مطابق مطابق متاثرہ فریق مقامی سطح پر عدالت جسے جسٹس آف پیس کورٹ کہا جاتا ہے اس سے رجوع کر سکتا ہے۔
'ضابطہ فوجداری کی شق 22 اے اور بی کے تحت متاثرہ فریق جسٹس آف پیس کی عدالت میں جا کر بتا سکتا ہے کہ پولیس اس کا مقدمہ درج کرنے سے انکار کر رہی ہے جس پر عدالت پولیس کو مقدمہ درج کرنے کا حکم دیتی ہے۔ اگر پھر بھی پولیس مقدمہ درج کرنے سے انکار کرے تو متاثرہ فریق ہائی کورٹ سے بھی رجوع کر سکتا ہے۔‘
تاہم انصاف لائرز فورم کے چیف آرگنائزر شاداب جعفری کے مطابق انھیں جسٹس آف پیس عدالت کی طرف جانے کی ضرورت نہیں پڑے گی۔ ’سپریم کورٹ یعنی ملک کی سب سے بڑی عدالت نے معاملے کا نوٹس لے لیا ہے اور پولیس کو احکامات بھی جاری کر دیے ہیں۔‘
شاداب جعفری کا کہنا تھا کہ پولیس مقدمہ ضرور درج کرے گی اور سپریم کورٹ کی حکم عدولی نہیں کرے گی۔
کیا ایف آئی آر میں تاخیر سے مقدمے کو نقصان ہو سکتا ہے؟
وزیرآباد واقعے کو لگ بھگ چار روز سے زیادہ کا وقت گزر چکا ہے جبکہ ایف آئی آر کے اندراج میں ایک گھنٹے کی تاخیر سے بھی متاثرہ فریقین کا مقدمہ عدالت میں کمزور ہو سکتا ہے۔
قانونی ماہرین کے مطابق مقدمے کے اندراج میں تاخیر کی وجہ سے بعد ازاں ملزمان عدالت میں یہ دفاع لینے کی کوشش کرتے ہیں کہ ایف آئی آر کے اندراج میں تاخیر بری نیت کی وجہ سے کی گئی جس دوران ملزمان کو غلط مقدمے میں پھنسانے کے لیے ساز باز سے کام لیا گیا۔
تاہم وکیل اور قانونی ماہر عابد ساقی کے مطابق وزیرآباد واقعے میں مقدمے کے اندراج میں تاخیر کی وجہ سے پاکستان تحریکِ انصاف یا دیگر متاثرین کو عدالت میں نقصان نہیں ہو گا۔
’وہ تو مقدمہ درج کروانے کے لیے درخواست لے کر پولیس کے پاس پہنچے ہیں لیکن پولیس درخواست لینے سے انکار کر رہی ہے۔ اس طرح متاثرہ فریق نے اپنا قانونی فرض پورا کیا ہے اورعدالت کو ثبوت کے ساتھ یہ بتا سکتے ہیں۔‘
اس لیے عابد ساقی کے مطابق عدالت میں ملزمان مقدمے کے اندراج میں تاخیر کو اپنا دفاع نہیں بنا سکتے۔
عابد ساقی کا کہنا تھا کہ قانونی طور پر پولیس کی مدعیت میں ایف آئی آر درج کی جا سکتی ہے۔
قانون یہ ہے کہ کوئی بھی شخص کسی قابلِ سماعت جرم کی اطلاع دے کر ایف آئی آر یا فرسٹ انفارمیشن رپورٹ کروا سکتا ہے۔ اس کا متاثرہ شخص سے کسی قسم کا تعلق ہونا ضروری نہیں ہے۔
اس صورت میں وہ پولیس کا اہلکار جس نے یہ واقعہ دیکھا ہو یا اسے اس کا علم ہو تو وہ ایف آئی آر کروا سکتا ہے۔
تاہم عابد ساقی کا کہنا تھا کہ اس صورت میں بھی پولیس اگر چاہے تو اس درخواست کا بھی ایف آئی آر میں شامل کر سکتی جو متاثرہ فریق نے دے رکھی ہے۔