’سنی اتحاد کونسل کو جانتا کون ہے؟‘: مخصوص نشستوں پر سپریم کورٹ کا فیصلہ، عدالت میں کیا ہوا

    • مصنف, شہزاد ملک
    • عہدہ, بی بی سی اردو، اسلام آباد

مخصوص نشستوں سے متعلق پشاور ہائی کورٹ کے فیصلے کے خلاف سنی اتحاد کونسل کی اپیل پر جمعے کے دن بارہ بجے فیصلہ سنایا جانا تھا اور کوئی بھی اس فیصلے کے بارے میں پیش گوئی نہیں کرسکتا تھا کہ آج کیا فیصلہ آنے والا ہے۔

یہاں تک کہ خود کمرہ عدالت میں موجود پی ٹی آئی سے تعلق رکھنے والے ارکان پارلیمان اور وکلا کو بھی یہ امید نہیں تھی کہ فیصلہ ان کی جماعت کے حق میں آئے گا کیونکہ عدالت نے تو پی ٹی آئی کی اس اپیل کی سماعت میں فریق بننے کی درخواست کو منظور نہیں کیا تھا۔

سپریم کورٹ کے رجسٹرار آفس نے اس اپیل پر فیصلہ سنانے کے لیے جمعرات کو جو کاز لسٹ جاری کی اس میں ابتدائی طور پر چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کی سربراہی میں سپریم کورٹ کے تین رکنی ریگولر بینچ نے فیصلہ سنانا تھا۔

اس سے یہ اندازہ لگایا جا رہا تھا کہ چیف جسٹس ہی اس اپیل کے آتھر جج (جس نے فیصلہ لکھا ہو) ہیں، ایسا محسوس ہو رہا تھا کہ سنی اتحاد کونسل کی اپیل مسترد ہو جائے گی۔

لیکن کچھ گھنٹوں کے بعد کاز لسٹ دوبارہ جاری کی گئی جس میں کہا گیا کہ اس اپیل پر اب 13 رکنی بینچ فیصلہ سنائے گا اور وقت دن 12 بجے کا رکھا گیا تھا۔

فیصلہ سنانے سے پہلے اسلام آباد کی ضلعی انتظامیہ نے کسی بھی ناخوشگوار واقعے سے نمٹنے کے لیے شاہراہ دستور اور سپریم کورٹ کی جانب جانے والے راستوں کو رکاوٹیں کھڑی کرکے بند کردیا تھا اور پولیس کے ساتھ فوج کی نفری بھی وہاں پر تعینات کی گئی تھی۔

فیصلہ سنائے جانے سے ایک گھنٹہ پہلے ہی کورٹ روم نمبر ون لوگوں سے بھر چکا تھا اور اس مرتبہ زیادہ تعداد پی ٹی آئی سے تعلق رکھنے والی خواتین کی تھی۔

پی ٹی آئی کے چیئرمین بیرسٹر گوہر کمرہ عدالت میں داخل ہونے کے بعد سیدھا اٹارنی جنرل منصور عثمان اعوان کے پاس گئے اور ان سے گلے ملے اور ان دونوں کی ملاقات کے بعد ایسا محسوس ہی نہیں ہو رہا تھا کہ دونوں نے اس اپیل کی سماعت کے دوران ایک دوسرے کے خلاف دلائل دیے ہیں۔

13 رُکنی بینچ 12:15 منٹ پر روم نمبر ون میں داخل ہوا اور ججز جب اپنی نشستوں پر براجمان ہو گئے تو چیف جسٹس نے اعلان کیا کہ یہ فیصلہ 8 – 5 کے تناسب سے آیا ہے۔

جب اس دوران انھوں نے کچھ توقف سے کام لیا تو ایسا تاثر قائم ہوا جیسے سنی اتحاد کونسل کی اپیل مسترد ہو گئی ہے۔ اس دوران پی ٹی آئی کے وکلا نے اپنے سروں کو جھکا لیا اور پھر چند لمحوں کے بعد چیف جسٹس نے ان ججز کے نام لیے جو کہ اکثریت میں تھے۔

جب چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے جسٹس منصور علی شاہ کو فیصلے کا آپریٹیو پارٹ پڑھنے کو کہا تو پی ٹی آئی سے تعلق رکھنے والے ارکان پارلیمان اپنی سیٹوں پر کھڑے ہوگئے اور انھیں یقین ہوگیا تھا کہ سنی اتحاد کونسل کی اپیل کو منظور کرلیا گیا ہے۔

واضح رہے کہ جسٹس منصورعلی شاہ کی سربراہی میں تین رکنی بینچ نے اس سال مئی میں سنی اتحاد کونسل کی جانب سے پشاور ہائی کورٹ کے فیصلے کے خلاف اپیل پر حکم امتناع جاری کیا تھا۔

جسٹس منصور علی شاہ جب فیصلے کا آپریٹیو پارٹ پڑھ رہے تھے تو جسٹس منیب اختر اور جسٹس اطہر من اللہ کے چہروں پر مسکراہٹ واضح تھی جبکہ چیف جسٹس قاضی فائز عیسی کے چہرے پر سنجیدگی عیاں تھی۔

سپریم کورٹ نے اپنے فیصلے میں سنی اتحاد کونسل کو پارلیمانی پارٹی تسلیم کرنے سے ہی انکار کیا اور کہا کہ چونکہ اس کے چیئرمین صاحبزادہ حامد رضا نے آزاد حیثیت میں انتحابات میں حصہ لیا ہے اس لیے وہ مخصوص نشستیں لینے کے حقدار نہیں ہیں۔

فیصلہ سنائے جانے کے بعد کمرہ عدالت میں موجود پی ٹی آئی کے ارکان ایک دوسرے کو مبارکباد دے رہے تھے، جبکہ اس وقت سنی اتحاد کونسل کے چیئرمین صاحبزادہ حامد رضا بھی کمرہ عدالت میں موجود تھے لیکن پی ٹی آئی کا کوئی بھی رہنما ان کے پاس انھیں مبارکباد دینے نہیں جا رہا تھا اور اس صورت حال کو دیکھتے ہوئے سنی اتحاد کونسل کے چیئرمین خود پی ٹی آئی کے رہنماؤں کے پاس جاکر ان سے گلے ملتے رہے۔

پی ٹی آئی کے ارکان پارلیمان کمرہ عدالت میں ہی گفتگو کررہے تھے کہ شکر ہے کہ سپریم کورٹ نے ہماری آزاد حثیت کو ختم کرتے ہوئے ہمیں ایک جماعت تسلیم کیا ہے اور اس کے ساتھ ساتھ مخصوص نشستوں کا حقدار بھی ٹھہرایا ہے۔

سردار لطیف کھوسہ، جو کہ لاہور سے سابق وزیر اعظم عمران خان کے حلقے سے رکن قومی اسمبلی منتخب ہوئے ہیں، ان سے پوچھا گیا کہ سنی اتحاد کونسل میں آپ کی شمولیت کیوں نہیں ہوئی؟ اس سوال کا جواب دیتے ہوئے انھوں نے کہا کہ صاحبزادہ حامد رضا کا احترام اپنی جگہ لیکن ’سنی اتحاد کونسل کو جانتا کون ہے‘ یہ تو پارلیمانی جماعت ہی نہیں ہے، ہم تو مجبوری میں اس جماعت میں شامل ہوئے تھے ورنہ ووٹ تو عمران خان کے نام پر ہمیں ملا ہے۔

عدالتی فیصلہ سننے کے بعد جب بیرسٹر گوہر، شبلی فراز اور علی محمد خان نے سپریم کورٹ کے احاطے میں صحافیوں سے گفتگو کی تو ان کے ساتھ صاحبزادہ حامد رضا بھی کھڑے تھے۔ لیکن انھیں صرف چند جملے بولنے کا موقع دیا گیا اور پھر ساری گفتگو پی ٹی آئی کے رہنماؤں نے ہی کی۔

میڈیا سے گفتگو کے بعد پی ٹی آئی کے رہنما ایک دوسرے کے ساتھ کورٹ روم کے احاطے سے باہر چلے گئے، جبکہ صاحبزادہ حامد رضا اکیلے ہی اپنی گاڑی میں بیٹھ کر سپریم کورٹ سے گئے۔

فیصلہ سنائے جانے کے بعد کمرہ عدالت میں موجود صحافیوں اور وکلا کا کہنا تھا کہ شاید اب پی ٹی آئی کے اراکین سنی اتحاد کونسل کے چیئرمین کو اتنی اہمیت نہ دیں جو اس فیصلہ کے آنے سے پہلے دی جاتی تھی۔

فیصلے پر سوشل میڈیا ردعمل

سپریم کورٹ کے فیصلے پر جہاں سیاستدان، قانون دان اور سیاسی جماعتیں اپنا اپنا ردعمل دے رہی ہیں وہیں سوشل میڈیا پر بھی صارفین اس پر ملے جلے ردعمل کا اظہار کر رہے ہیں۔

صحافی منیزے جہانگیر نے سپریم کورٹ کے فیصلے کے بعد ٹویٹ کرتے ہوئے لکھا کہ ’سپریم کورٹ کے فیصلے جس میں کہا گیا ہے کہ پی ٹی آئی کو مخصوص نشستوں سے محروم کرنا قانون کے مطابق نہیں تھا، اس سے پاکستانی سیاست میں ایک واضح تبدیلی آئے گی۔ اور اس کا سینیٹ اور صدارتی انتخابات پر بہت بڑا اثر پڑے گا!‘

سعد نامی صارف نے فیصلے پر تبصرہ کرتے ہوئے لکھا کہ ’جو اس فیصلے پر خوشیاں منا رہے ہیں وہ یاد رکھیں اس کا مطلب یہ نہیں کہ عمران خان دوبارہ وزیر اعظم بن جائیں گے۔ اب مزید تجربات نہیں کیونکہ پاکستان کوئی تجربہ گاہ نہیں ہے۔‘

جاوید حسن نامی صارف نے فیصلے پر رائے دی کہ عدلیہ تاریخ کی صیحح جانب کھڑی ہے۔ آٹھ پانچ کا تناسب سننے میں بھلا لگ رہا ہے۔

وکیل اور انسانی حقوق کی کارکن خدیجہ صدیقی نے عدالت عظمیٰ کے فیصلے پر رائے دی کہ ’آج سپریم کورٹ نے اِس بات پر بھی مُہر لکا دی کہ تحریکِ انصاف ایک سیاسی جماعت تھی اور رہے گی، دہشت گرد جماعت کہنے والوں کو پتا ہونا چاہیے عوام حق اور سچ کے ساتھ ہیں! نو مئی کا بیانیہ بھی دفن ہو گیا ہے۔‘

عمر اعجاز نامی صارف نے جسٹس فائز عیسیٰ کو سراہاتے ہوئے لکھا کہ ’13 رکنی بینچ تشکیل دینے کا کریڈٹ چیف جسٹس فائز عیسیٰ کو جاتا ہے، وہ اچھی طرح جانتے تھے کہ وہ اس کیس کے فیصلے پر اثر انداز نہیں ہو سکیں گے۔

اسی طرح سے ادارے بنتے اور قائم ہوتے ہیں۔ جمہوریت مضبوط ہوئی۔