جدید ہتھیار، نئی ٹیکنالوجی اور عسکری جدت: انڈیا کا 75 ارب ڈالر کا دفاعی بجٹ جو پاکستان اور چین کو نظر میں رکھتے ہوئے بنایا گیا

،تصویر کا ذریعہGetty Images
- مصنف, مرزا اے بی بیگ
- عہدہ, بی بی سی اردو دہلی
دنیا میں عسکری معاملات پر نظر رکھنے والے ادارے سٹاک ہوم انٹرنیشنل پیس ریسرچ انسٹی ٹیوٹ (سپری) کی تازہ رپورٹ کے مطابق دنیا میں دفاع پر سب سے زیادہ خرچ کرنے والے ممالک میں انڈیا چوتھے نمبر پر ہے تاہم گذشتہ پانچ سال کے دوران انڈیا دنیا بھر میں سب سے زیادہ عسکری سازوسامان خریدنے والا ملک رہا ہے۔
منگل کے دن پیش کیے جانے والے انڈیا کے سالانہ بجٹ سے بھی ظاہر ہوتا ہے کہ انڈین حکومت کی دفاع کے شعبے پر توجہ میں اضافہ ہی دیکھنے میں آ رہا ہے۔
سنہ 25-2024 کے لیے انڈیا کی پارلیمان میں 48 لاکھ کروڑ روپے کا جو بجٹ پیش کیا گیا ہے اس میں سب سے زیادہ تقریبا چھ لاکھ 22 ہزار کروڑ روپے دفاع کے شعبے کے لیے مختص کیے گئے ہیں جو کہ مجموعی بجٹ کا تقریبا 13 فیصد بنتا ہے۔
کئی مبصرین کا کہنا ہے گذشتہ سال کی طرح آئندہ برس کا دفاعی بجٹ بھی چین اور پاکستان کو نظر میں رکھتے ہوئے بنایا گیا ہے۔
عسکری امور پر لکھنے والے انڈین صحافی پرتیک پرشانت موکانے نے لائیو منٹ میں لکھا ہے کہ انڈیا کا دفاعی جدت پر زور پڑوسی ممالک کے تناظر میں نظر آتا ہے اور اس کے ساتھ انھوں نے چین اور پاکستان کے دفاعی بجٹ کا خاکہ بھی پیش کیا ہے۔
واضح رہے کہ انڈیا کے تقریبا 75 ارب ڈالر کے دفاعی بجٹ کے مقابلے میں چین نے 2024 میں دفاع کے لیے 230 ارب ڈالر سے زیادہ کی رقم مختص کی جبکہ دوسری جانب انڈیا کا دفاعی بجٹ پاکستان کے مقابلے میں تقریبا دس گنا زیادہ ہے۔
ایسے میں پہلے یہ دیکھنا ضروری ہے کہ خود انڈیا کی حکومت کے مطابق دفاعی بجٹ کا استعمال کیسے کیا جائے گا۔
انڈیا کے دفاعی بجٹ کا استعمال کہاں ہو گا؟

،تصویر کا ذریعہGetty Images
انڈیا کے وزیر دفاع راج ناتھ سنگھ نے اس بارے میں سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر اپنے پیغام میں جہاں وزیر خزانہ نرملا سیتا رمن کا شکریہ ادا کیا وہیں اس رقم کے استعمال کے بارے میں تفصیل بھی دی۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
انھوں نے لکھا کہ دفاع کے شعبے کو جو بجٹ ملا ہے اس میں سے ایک لاکھ 72 ہزار کروڑ روپے کی سرمایہ کاری سے مسلح افواج کی صلاحیتوں کو مزید تقویت ملے گی۔
انھوں نے مزید لکھا: ’مجھے خوشی ہے کہ کیپٹل ہیڈ کے تحت گذشتہ بجٹ کے مقابلے میں سرحدی سڑکوں کو مختص کیے جانے والی رقم میں 30 فیصد اضافہ کیا گیا ہے۔ بی آر او کے لیے 6,500 کروڑ روپے مختص کرنے سے ہمارے سرحدی انفراسٹرکچر میں مزید بہتری آئے گی۔‘
سرکاری ویب سائٹ پی آئی بی کے مطابق انڈیا کی توجہ دفاعی فورسز کی جدت پر ہے اور اس کے لیے کیپیٹل ہیڈ کے تحت بجٹ کی مختص رقم مالی سال 2022-23 کے اصل اخراجات سے 20.33 فیصد زیادہ ہے۔
اس تحریر میں ایسا مواد ہے جو X کی جانب سے دیا گیا ہے۔ کسی بھی چیز کے لوڈ ہونے سے قبل ہم آپ سے اجازت چاہتے ہیں کیونکہ یہ ممکن ہے کہ وہ کوئی مخصوص کوکیز یا ٹیکنالوجیز کا استعمال کر رہے ہوں۔ آپ اسے تسلیم کرنے سے پہلے X ککی پالیسی اور پرائیویسی پالیسی پڑھنا چاہیں گے۔ اس مواد کو دیکھنے کے لیے ’تسلیم کریں، جاری رکھیں‘ پر کلک کریں۔
X پوسٹ کا اختتام
حکومت کے مطابق ’رواں مالی سال کے لیے مختص اضافی فنڈز کا مقصد موجودہ اور بعد کے مالی سالوں میں بڑی خریداریوں کے لیے اہم خلا کو پُر کرنا ہے۔ اس کا مقصد مسلح افواج کو جدید ترین ٹیکنالوجی، مہلک ہتھیاروں، لڑاکا طیاروں، بحری جہازوں، آبدوزوں، پلیٹ فارمز، بغیر پائلٹ کی فضائی گاڑیاں، ڈرونز اور خصوصی مہارت کی حامل گاڑیاں وغیرہ حاصل اور تیار کرنا ہے۔‘
’پانچ فیصد کا اضافہ کچھ بھی نہیں‘

،تصویر کا ذریعہGetty Images
بی بی سی اردو کی خبروں اور فیچرز کو اپنے فون پر حاصل کریں اور سب سے پہلے جانیں پاکستان اور دنیا بھر سے ان کہانیوں کے بارے میں جو آپ کے لیے معنی رکھتی ہیں
سبسکرائب کرنے کے لیے کلک کریں
مواد پر جائیں
اگرچہ انڈیا میں یہ تاثر عام ہے کہ انڈیا کے دفاعی بجٹ میں اضافہ پاکستان اور چین کو نظر میں رکھتے ہوئے بنایا گیا تاکہ عسکری جدت کو فروغ دیا جا سکے تاہم ایک تجزیہ کار کا ماننا ہے کہ اب بھی انڈیا کا دفاعی بجٹ کافی نہیں۔
بی بی سی اردو نے انڈیا میں عسکری معاملات کے ماہر راہل بیدی سے بات کی تو انھوں نے پرانے اسلحہ کے متبادل کی تلاش سمیت دیگر ایسی وجوہات کی جانب اشارہ کیا جو ان کے خیال میں بجٹ میں حالیہ اضافے سے ممکن نہیں۔
انھوں نے کہا کہ اگر مہنگائی کو نظر میں رکھا جائے تو گذشتہ سال کے مقابلے میں تقریبا پانچ فیصد کا اضافہ کوئی اضافہ نہیں ہے۔ اگر ٹھیک سے دیکھا جائے تو یہ اضافہ محض 79۔4 فیصد ہے۔
انھوں نے یہ بھی بتایا کہ ’دفاعی بجٹ کے دو حصے ہوتے ہیں ایک ریوینو اور دوسرا کیپیٹل۔ ریوینو والے حصے میں کھانے پینے پر خرچ، آمد و رفت پر خرچ اور فوج کی تنخواہ وغیرہ شامل ہوتی ہے جس میں بجٹ کا تقریبا دو تہائی حصہ جا رہا ہے جبکہ پینشن کے لیے الگ سے رقم مختص کی گئی ہے۔‘
ان کے مطابق فوج کو جدید بنانے اور سازوسامان کی خرید و درآمدات کے لیے ایک تہائی سے کچھ زیادہ رقم مختص کی گئی ہے جو کہ فوج کی موجودہ صورت حال کے پیش نظر کچھ نہیں ہے۔
راہول بیدی کا کہنا ہے کہ ’انڈیا کا 60 فیصد فوجی سازوسامان ابھی تک سویت روس کے عہد کا ہے جنھیں ہم لیگیسی ایکیوپمنٹ کہتے ہیں اور ان پر بہت زیادہ خرچ آتا ہے۔‘

،تصویر کا ذریعہGetty Images
ان کے مطابق اس معاملے پر گذشتہ 20 سالوں سے تشویش ظاہر کی جا رہی ہے لیکن یوکرین کی جنگ کے بعد اس کے قابل استعمال ہونے پر تشویش زیادہ گہری ہوئی ہے۔
انڈیا کا بجٹ پاکستان اور چین کے تناظر میں
ہم نے ان سے سوال کیا کہ اگر ان کی رائے میں فوج پر زیادہ خرچ نہیں کیا جا رہا ہے تو اسے بعض مبصرین کس طرح پڑوسی ممالک چین اور پاکستان کے تناظر میں دیکھ رہے ہیں۔
اس کے جواب میں انھوں نے کہا کہ چين کا دفاعی بجٹ 231 بلین ڈالر سے زیادہ ہے جو کہ انڈیا کے دفاعی بجٹ 75 بلین امریکی ڈالر سے کہیں زیادہ ہے اور چین ہر سال اپنے بجٹ میں اضافہ کر رہا ہے۔
’اسی طرح پاکستان کا دفاعی بجٹ سات بلین ڈالر سے قدرے زیادہ ہے لیکن جوہری ہتھیار کے لیے ان کے خفیہ بجٹ عوام کی نظر میں نہیں ہیں اس لیے اس پر کچھ نہیں کہا جا سکتا لیکن پاکستان کے حالیہ دفاعی میں گذشتہ چھ برسوں میں دوسرا سب سے بڑا اضافہ نظر آیا ہے۔‘
انھوں نے کہا کہ ’تازہ بجٹ میں کچھ اشاریے ضرور ہیں جو یہ بتاتے ہیں کہ انڈیا نے اپنے بجٹ کو چین اور پاکستان کو دھیان میں رکھتے ہوئے تیار کیا ہے اور یہ بی آر او کے بجٹ میں اضافے سے ظاہر ہوتا ہے۔‘
انھوں نے کہا کہ اس بار انڈیا نے ساڑھے چھ ہزار کروڑ روپے سرحدی سڑک تنظیم (بی آر او) کو مختص کیا ہے جو کہ پچھلے سال کے مقابلے میں 30 فیصد اضافہ ہے۔
اس جانب وزیر دفاع راج ناتھ سنگھ نے بھی اشارہ کیا ہے۔ بی آر او کے لیے مختص رقم سرحدی علاقوں میں سڑک کی مرمت سے لے کے دوسری چیزوں پر خرچ ہوگی جس سے انڈیا کو سرحد کی حفاظت اور دور دراز کے علاقے میں رسائی میں سہولت ہوگی۔
دفاعی صلاحیت میں جدت پسندی کی مد میں سب سے زیادہ اضافہ ہوا ہے تاہم راہل بیدی کا کہنا ہے کہ اس سے فوجی سازوسامان بنانے والی مقامی صنعت کو فروغ ملے گا جب کہ انڈیا کو جدید ہتھیاروں کی ضرورت ہے اور ’پرانے سازو سامان کو نئے سازو سامان سے بدلنے کے لیے اسے بہت پیسوں کی ضرورت ہے جو اس کے پاس نہیں ہے۔‘
راہل بیدی کے مطابق انڈیا کے پاس ابھی تقریبا 13 لاکھ فوجی ہیں اور ان کی تعداد کو کم کرکے آٹھ لاکھ تک لانے کا منصوبہ ہے جس سے فوجیوں کی تنخواہ اور دوسرے اخراجات میں کمی ہوگی اور اس رقم کو دوسری جگہ لگایا جا سکے گا۔
انھوں نے اس سے قبل بی بی سی اردو سے بات کرتے ہوئے کہا تھا کہ ’اگر پانچ لاکھ فوج کم کر دی جائے تو پنشن، تنخواہوں، میڈیکل اور دوسری سہولیات کے اخراجات میں بھی اسی کی مناسبت سے کمی آئے گی۔‘
راہل بیدی کا کہنا ہے کہ انڈیا اور چین کے ساتھ انڈیا کی 3500 کلومیٹر اور پاکستان کے ساتھ 774 کلومیٹر طویل سرحد ہے اور یہ بیشتر پہاڑی اور دشوار گزار علاقے ہیں۔ اس وقت انڈیا کی فوج کے پاس موجود ٹیکنالوجی سے ان مشکل سرحدوں کی نگرانی کرنا بہت مشکل ہے۔
’وہاں فوجیوں کی موجودگی کی ضرورت ہے۔ وہاں جوانوں کی ضرورت ہے۔ جدید ٹیکنالوجی بہت آگے نکل چکی ہے لیکن اسے حاصل کرنے کے لیے بہت پیسہ چاہیے۔‘










