آپ اس وقت اس ویب سائٹ کا ٹیکسٹ پر مبنی ورژن دیکھ رہے ہیں جو کم ڈیٹا استعمال کرتا ہے۔ مرکزی ویب سائٹ جہاں تمام تصاویر اور ویڈیوز موجود ہیں دیکھیے
ٹوئٹرکا ’بلو ٹک اکاونٹس‘ سے ماہانہ فیس لینے کا اعلان
سوشل میڈیا پلیٹ فارم ٹوئٹر پیر سے ایک بار پھر بلو ٹک اکاونٹس سے فیس لینا شروع کر رہا ہے۔ ٹوئٹر انتظامیہ نے گذشتہ ماہ جعلی اوکانٹس کی بھرمار بلو ٹک صارفین سے فیس لینےکا فیصلہ مؤخر کر دیا تھا۔
یہ سہولت حاصل کرنے کے لیے اب صارفین کو آٹھ امریکی ڈالر ادا کرنے پڑیں گے۔ لیکن ایپل ڈیوائسز پر ٹویٹر ایپ استعمال کرنے والوں کو اب گیارہ ڈالر کی ادائیگی کرنی پڑے گی۔
ٹوئٹر کے ارب پتی مالک ایلون مسک اس سے قبل ٹویٹس میں ایپل کی جانب سے ایپ کی خریداری پر وصول کیے جانے والے کمیشن پر ناپسندیدگی کا اظہار کر چکے ہیں۔
ٹویٹر نے بلیو ٹک کی اضافی خصوصیات میں ترمیم کا بٹن شامل ہے۔
کچھ ٹویٹر صارفین ایڈٹ کی اضافی سہولت دینے کی درخواست کر رہے تھے، اگرچہ کچھ لوگ یہ دلیل دیتے ہیں کہ اگر کسی ٹویٹ کو وسیع پیمانے پر شیئر کرنے کے بعد تبدیل کیا جاتا ہے تو اس سے غلط معلومات کے پھیلاؤامکانات بڑھ جائیں گے۔
پلیٹ فارم کا کہنا ہے کہ اب بلیو ٹک صارفین کو اشتہارات کم نظر آئیں گے، ان کے ٹویٹس کو دوسروں پر اولیت دیئے جانے کے علاوہ طویل اور بہتر معیار کی ویڈیوز پوسٹ کرنے اور دیکھنے کے قابل ہوں گے۔
اس سے پہلے ایک نیلے رنگ کا ٹک ہائی پروفائل اکاؤنٹس کے تصدیق شدہ ہونے کی نشانی تھی ۔ بلو ٹک کا نشان ٹویٹر کی طرف سے مفت فراہم کیا جاتا تھا اور فرم خود فیصلہ کرتی تھی کہ یہ نشان کس کو دیا جائے۔
ایولن مسک کا کہنا ہے کہ یہ غیر منصفانہ تھا۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
جن لوگوں کے پاس پچھلی انتظامیہ کے دوران بلیو ٹک تھا وہ اب بھی موجود رہے گا، لیکن اب ان میں سے کچھ صارفین کا اگر ٹک دبا ہوا ہے تو ایک پیغام بھی ملے گا کہ یہ اکاؤنٹ "اصل تصدیق شدہ اکاؤنٹ" ہے ۔
تاہم ، ٹویٹر کے مطابق وہ آگے چل کر گولڈ (کاروباری اداروں کے لیے) یا گرے (حکام جیسے دوسروں کے لیے) نشانوں سے تبدیل کردیا جائے گا۔
نئے نظام کے تحت جو صارفین اپنا نام یا پرفائل تصویر تبدیل کرتے ہیں تو ان کا بلو ٹک نشان اس وقت تک غائب ہو جائے گا جب تک کہ ٹویٹر انتظامیہ کی جانب سے اکاؤنٹ کا جائزہ نہیں لیا جاتا۔
جعلی اکاونٹس
بلیو ٹک پیڈ سروس کا آغاز نومبر میں ہوا تھا ، جب لوگوں نے بڑے برانڈز اور مشہور شخصیات کی نقالی کرنا شروع کردی تھی اور نیلے رنگ کے ٹک بیج کے لیے ادائیگی کرنا شروع کردی تھی تاکہ وہ مستند نظر آئیں۔
بہت سے لوگوں نے خود ایلون مسک ہونے کا ڈرامہ کیا۔
مثال کے طور پر امریکی دواسازی فرم ایلی ہونے کا دعوی کرنے والے ایک صارف نے ٹویٹ کیا کہ "انسولین مفت ہے"، جس کی وجہ سے حقیقی فرم کے حصص کی قیمت گر گئی۔تاہم، ایلی نے اس بات پر اتفاق کیا ہے کہ انسولین کی قیمتیں واقعی کم ہوسکتی ہیں۔
ٹویٹر میں تبدیلیاں
ایلون مسک نے اکتوبر کے آخر میں ٹویٹر کو 44 ارب ڈالر (38 بلین پاؤنڈ) میں خریدنے کے بعد اس میں بڑے پیمانے پر تبدیلیاں کی ہیں۔
انہوں نے کہا کہ فرم روزانہ چالیس لاکھ ڈالر کے خسارے میں کام کر رہی ہے اور اسے منافع بخش بننے کی ضرورت ہے۔
انھوں نے اپنی نصف افرادی قوت کو فارغ کر دیا ہے۔ سان فرانسسکو میں ٹوئٹر ہیڈ کوارٹر میں طویل اوقات تک کام کرنے والے باقی عملے کے لیے دفتر میں بستر بچھائے دیئے گئے ہیں۔
ٹوئٹر کی نئی انتظامیہ نے کئی متنازعہ اکاونٹس کو جنھیں سابقہ انتظامیہ نے معطل کر دیا تھا، انھیں بحال کر دیا جن میں ریپر کانیے ویسٹ اور سابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ شامل ہیں۔
ایلون مسک کا یہ بھی کہنا ہے کہ ایک مخصوص مدت کے لیے غیر فعال رہنے والے ٹویٹر اکاؤنٹس کو حذف کردیا جائے گا۔ اس سے ان لوگوں میں مایوسی پیدا ہوئی ہے جو چاہتے ہیں کہ وہ مرنے والے پیاروں کے اکاؤنٹس کو برقرار رہنا چاہیے۔
فلم ڈائریکٹر روڈ لوری نے ٹویٹ کیا کہ ان کے مرحوم بیٹے ہنٹر کا اکاؤنٹ غائب ہونے کے خیال سے ان کا "دل ٹوٹ گیا"۔
فیس بک کے برعکس ، ٹویٹر صارفین اپنی موت کے بعد اپنے اکاؤنٹ کا کنٹرول سنبھالنے کے لیے کسی کو نامزد نہیں کرسکتے ہیں۔