چیٹ جی پی ٹی کے قانون سے متعلق جھوٹے حوالے جنھوں نے ایک وکیل کو پھنسا دیا

،تصویر کا ذریعہReuters
- مصنف, کیتھرین آرم سٹرونگ
- عہدہ, بی بی سی نیوز
امریکہ میں نیو یارک کے ایک وکیل کو خود اس وقت عدالت کا سامنا کرنا پڑ گیا جب ان کی کمپنی نے تحقیق کے لیے مصنوعی ذہانت کے پروگرام چیٹ جی پی ٹی کا استعمال کیا۔
عدالت میں جج کا کہنا تھا کہ ان کو ایک غیر معمولی صورت حال کا سامنا ہے کیوںکہ وکیل کی کمپنی کی جانب سے جو کیس فائل کیا گیا اس میں ایسی قانونی مثالیں موجود تھیں جو حقیقت میں وجود ہی نہیں رکھتی تھیں۔
وکیل نے عدالت کو بتایا کہ ان کو علم نہیں تھا کہ اس کیس کا مواد جھوٹا ہو سکتا ہے۔ واضح رہے کہ چیٹ جی پی ٹی ایک ایسا پروگرام ہے جس پر کسی قسم کے مواد کی درخواست ڈالی جائے تو وہ چند منٹوں میں سامنے آ جاتا ہے تاہم اس کے ساتھ ایک تنبیہ موجود ہوتی ہے کہ یہ پروگرام غلط معلومات بھی فراہم کر سکتا ہے۔
جس کیس کے لیے چیٹ جی پی ٹی کا استعمال کیا گیا وہ ایک شخص کی جانب سے ایک ایئر لائن کمپنی پر ہرجانے کا مقدمہ ہے۔ وکیل کی ٹیم نے ماضی کے فیصلوں کی نظیر دیتے ہوئے یہ ثابت کرنے کی کوشش کی تھی کہ یہ مقدمہ کیوں چلنا چاہیے۔
تاہم ایئر لائن کے وکیل نے جب اس کیس کا جائزہ لیا تو انھوں نے جج کو آگاہ کیا کہ ان کو اس میں موجود مقدمات کا حوالہ نہیں مل رہا۔
عدالت کے جج کاسٹل نے اپنے حکم میں وضاحت مانگتے ہوئے لکھا کہ جن مقدمات کا حوالہ دیا گیا ان میں سے چھ بوگس ہیں جن میں بوگس حوالے موجود ہیں۔
یہ معمہ بعد میں حل ہوا کہ یہ تحقیق خود پیٹر لوڈوکا نامی وکیل نے نہیں کی تھی بلکہ ان کی کمپنی کے ایک ساتھی کا کام تھا۔ سٹیون شوارٹز نامی وکیل، جو 30 سال کا تجربہ رکھتے ہیں، نے اس سے پہلے بھی چیٹ جی پی ٹی کا استعمال کیا تھا۔

،تصویر کا ذریعہGetty Images
اپنے تحریر بیان میں سٹیون نے وضاحت دی کہ اس تحقیق میں پیٹر لوڈوکا شامل نہیں تھے اور وہ اس بات سے بالکل لاعلم تھے کہ چیٹ جی پی ٹی کا استعمال کیا گیا ہے۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
بی بی سی اردو کی خبروں اور فیچرز کو اپنے فون پر حاصل کریں اور سب سے پہلے جانیں پاکستان اور دنیا بھر سے ان کہانیوں کے بارے میں جو آپ کے لیے معنی رکھتی ہیں
سبسکرائب کرنے کے لیے کلک کریں
مواد پر جائیں
سٹیون شوارٹز نے اپنی غلطی پر ندامت کا اظہار کرتے ہوئے لکھا کہ انھوں نے اس سے پہلے قانونی تحقیق کے لیے اس پروگرام کو استعمال نہیں کیا تھا اور وہ نہیں جانتے تھے کہ یہ غلط مواد بھی پیش کر سکتا ہے۔
انھوں نے وعدہ کیا ہے کہ آئندہ وہ قانونی تحقیق کے لیے مصنوعی ذہانت کا استعمال اس وقت تک نہیں کریں گے جب تک وہ اس کے مواد کی صداقت کو جانچ نہیں لیتے۔
عدالت میں چیٹ جی پی ٹی اور ان کے درمیان بات چیت کے سکرین شاٹ بھی پیش کیے گئے جس میں ایک پیغام میں لکھا گیا کہ کیا وارگیز ایک اصلی کیس ہے؟
چیٹ جی پی ٹی نے ہاں میں جواب دیا تو وکیل نے لکھا کہ اس کا ذریعہ کیا ہے؟
چیٹ جی پی ٹی نے اپنی طرف سے دوبارہ چیک کرنے کے بعد لکھا کہ یہ اصلی کیس ہے جس کا حوالہ لیکسس نیکس اور ویسٹ لا جیسے قانونی کیسز کے ڈیٹا بیس میں موجود ہے۔
لیویڈو اینڈ اوبرمین نامی لا فرم کے لیے کام کرنے والے دونوں وکلا کو وضاحت دینے کے لیے کہا گیا ہے کہ آٹھ جون کو ان کے خلاف کارروائی کیوں نہ کی جائے۔
واضح رہے کہ نومبر 2022 میں لانچ ہونے والے چیٹ جی پی ٹی کو لاکھوں لوگ استعمال کرتے ہیں۔
یہ پروگرام سوالات کے جواب دیتا ہے جو کسی انسان کے تحریر شدہ لگتے ہیں۔ تاہم اس سے متعلق خدشات کا اظہار کیا جاتا رہا ہے جن میں ممکنہ طور پر غلط معلومات پھیلانے اور جانب داری کا خدشہ بھی شامل ہے۔












