انگلینڈ کی شارٹ پچ بولنگ پاکستانی بلے بازوں پر بھاری، پاکستان کو جیت کے لیے 263 رنز، انگلینڈ کو آٹھ وکٹیں درکار

ایک ایسی پچ پر جہاں تیسرے دن تک اکثر تجزیہ کاروں کو اس ٹیسٹ میچ کا نتیجہ ’ڈرا‘ نظر آ رہا تھا، اُسی پچ پر پانچویں روز ہر طرح کے نتائج ممکن نظر آ رہے ہیں اور اس کی وجہ انگلینڈ کی جانب سے اننگز ڈیکلیئر کرنے کا دلیرانہ فیصلہ ہے۔

پاکستان کو پہلے ٹیسٹ کے آخری روز فتح حاصل کرنے کے لیے 263 رنز درکار ہیں جبکہ انگلینڈ کو پاکستان میں 22 برس بعد ٹیسٹ میچ جیتنے کے لیے آٹھ وکٹیں درکار ہوں گی۔

انگلینڈ کی ٹیم نے اس ٹیسٹ میچ کے آغاز سے ہی جارحانہ انداز اپنایا ہوا ہے اور یہ نہ صرف ان کی بیٹنگ اور بولنگ میں عیاں تھا بلکہ آج انگلینڈ کی جانب سے کی گئی ڈیکلیریشن بھی خاصی دلیرانہ تھی۔

پہلے ٹیسٹ میچ کے چوتھے روز انگلینڈ نے پاکستان کو 343 رنز کا ہدف دینے کے بعد ڈیکلیریشن کا اعلان کر دیا حالانکہ اس وقت میچ میں تقریباً 100 سے زیادہ اوورز موجود تھے۔

آج دن کا آغاز پاکستان نے 499 رنز سات وکٹوں کے نقصان پر کیا۔ پاکستان کی جانب سے نوجوان بلے باز آغا سلمان نے نصف سنچری سکور کی۔

تاہم انگلینڈ کے سپنر ول جیکس کی جانب سے عمدہ بولنگ کا مظاہرہ کیا گیا اور انھوں نے پاکستان کی آخری تینوں وکٹیں حاصل کر کے اس بات کو یقینی بنایا کہ انگلینڈ کی میچ پر برتری برقرار رہے۔

انگلینڈ کی جانب سے ول جیکس نے چھ کھلاڑیوں کو آؤٹ کیا جبکہ انگلینڈ نے جب اپنی دوسری اننگز شروع کی تو اسے 78 رنز کی برتری حاصل تھی۔

انگلینڈ کی جانب سے دوسری اننگز میں بھی جارحانہ بلے بازی کا مظاہرہ کیا جاتا رہا اور حالانکہ پاکستانی فاسٹ بولرز نسیم شاہ نے پہلے ہی اوور میں بین ڈکٹ اور محمد علی نے چھٹے اوور میں اولی پوپ کی وکٹیں حاصل کر لی تھیں لیکن جو روٹ اور زیک کرالی کی جانب سے اچھی بیٹنگ کا مظاہرہ کیا گیا۔

دونوں کے درمیان 60 رنز کی شراکت محمد علی نے زیک کرالی کو آؤٹ کر کے توڑی اور پھر ہیری بروک اور جو روٹ کے درمیان ایک اور جارحانہ شراکت کا آغاز ہوا۔

جو روٹ جو پہلی اننگز میں صرف 23 رنز بنا سکے تھے اس مرتبہ نصف سنچری بنانے میں کامیاب ہوئے اور ہیری بروک نے گذشتہ اننگز کی طرح جارحانہ انداز میں بیٹنگ جاری رکھی اور اس بات کو یقینی بنایا کہ پاکستان کو ایک ایسا ہدف دیا جائے جس کا تعاقب پانچویں روز کرنا مشکل ہو۔

انگلینڈ کی جانب سے چائے کے وقفے سے پہلے ڈیکلریشن کا اعلان کیا گیا اور یوں پاکستان کو جیت کے 343 رنز درکار تھے۔

پاکستان اوپنرز نے آغاز میں اچھی بیٹنگ کا مظاہرہ کیا لیکن انگلینڈ کی جانب سے اس پچ پر شارٹ بولنگ کو ترجیح دی جاتی رہی ہے اور اس مرتبہ بھی بین سٹوکس اور اولی رابنسن کی جانب سے شارٹ پچ گیندوں کے ذریعے پاکستانی بلے بازوں کو نشانہ بنایا گیا اور ان کا یہ پلان کامیاب رہا۔

پہلے اوپنر عبداللہ شفیق شارٹ پچ گیند پر پُل کرتے ہوئے ڈیپ سکویئر لیگ پر کیچ آؤٹ ہو گئے۔ ان کی جگہ جب کریز پر اظہر علی آئے تو ان کا استقبال بھی ایک شارٹ پچ گیند سے کیا گیا۔

یہ گیند اظہر علی کی انگلی پر لگی اور فزیو کی جانب سے کوششوں کے باوجود وہ اس وقت بیٹنگ جاری نہیں رکھ سکے اور ریٹائرڈ ہرٹ ہو گئے۔ دیکھنا ہو گا کہ اب اظہر علی پانچویں روز بیٹنگ کرنے کی پوزیشن میں ہوں گے یا نہیں۔

ان کے بعد پہلی اننگز میں سنچری بنانے والے بابر اعظم کریز پر آئے لیکن وہ بھی صرف چار رنز بنانے کے بعد بین سٹوکس کی شارٹ پچ گیند کا نشانہ بنے اور وکٹ کیپر کو کیچ دے بیٹھے۔

پاکستان کے لیے اس وقت کریز پر اوپنر امام الحق 43 اور سعود شکیل 24 رنز پر موجود ہیں اور دونوں کی شراکت اب 55 رنز کی ہو چکی ہے۔

کل پاکستان کو جیت کے لیے 263 رنز درکار ہوں گے اور اسے امام اور سعود کی لمبی شراکت کی اشد ضرورت محسوس ہو گی۔

راولپنڈی میں پانچویں روز کا کھیل ایک مرتبہ پھر اہمیت اختیار کر گیا ہے اور پیر کو تینوں نتائج ممکن ہیں یعنی کسی ایک ٹیم کی فتح اور دوسری کی ہار یا پہلے ٹیسٹ کا بے نتیجہ اختتام۔