25 سالہ ٹینس کھلاڑی کا قتل، والد گرفتار: ’رادھیکا کچن میں گِری ہوئی تھی اور پستول ڈرائنگ روم میں پڑی تھی‘

،تصویر کا ذریعہSocial Media
انڈیا میں پولیس کا کہنا ہے کہ ایک 25 سالہ ٹینس کھلاڑی کو مبینہ طور پر ان کے والد نے گولی مار کر قتل کیا ہے۔
رادھیکا یادو انٹرنیشنل ٹینس فیڈریشن (آئی ٹی ایف) کی خواتین سنگلز کیٹیگری میں 1999ویں رینک پر تھیں۔ انھوں نے اس سال کے اوائل میں اندور اور کوالالمپور میں منعقدہ پروفیشنل ٹورنامنٹس کے کوالیفائنگ راؤنڈز میں بھی حصہ لیا تھا۔
کندھے کی چوٹ کے بعد انھوں نے کوچنگ کا رُخ کیا اور نئی دہلی کے پڑوسی شہر گڑگاؤں میں، جہاں وہ اپنے خاندان کے ساتھ رہائش پذیر تھیں، ایک ٹینس اکیڈمی چلانا شروع کی۔
پولیس کے مطابق رادھیکا کے والد کو گرفتار کیا گیا ہے اور انھوں نے پولیس کی تحویل میں اعتراف جرم کیا ہے۔ مقامی عدالت نے ریمانڈ پر انھیں پولیس کے حوالے کیا ہے۔
پولیس نے موقعہ واردات سے ایک 32 بور ریوالور برآمد کیا ہے، جسے دیپک نے مبینہ طور پر گولیاں چلانے کے لیے استعمال کیا۔
پولیس کے مطابق انھوں نے مبینہ طور پر پانچ گولیاں چلائی تھیں جن میں سے تین گولیاں رادھیکا کی پشت پر لگیں اور وہ موقع پر ہی ہلاک ہو گئیں۔
’رادھیکا کے والد اکیڈمی کی وجہ سے ناراض تھے‘
خبر رساں ایجنسی پریس ٹرسٹ آف انڈیا کی رپورٹ کے مطابق پولیس نے رادھیکا کے چچا کلدیپ یادو کی شکایت پر ایف آئی آر درج کی۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
ایف آئی آر کے مطابق واقعے کے وقت رادھیکا کی والدہ منجو یادو گھر کی پہلی منزل پر موجود تھیں تاہم انھوں نے بعد میں پولیس کو بتایا کہ وہ بخار کی وجہ سے آرام کر رہی تھیں۔
رپورٹس کے مطابق رادھیکا کچن میں تھیں جب ان کے والد نے ان پر فائرنگ کی۔
رادھیکا کے چچا نے ٹائمز آف انڈیا کو بتایا کہ انھوں نے جمعرات کی صبح 10:30 بجے کے قریب گولی چلنے کی آواز سنی۔
’میں اپنے بھائی کے گھر کی پہلی منزل پر گیا اور دیکھا کہ میری بھتیجی رادھیکا یادو کچن میں گری ہوئی تھی اور ڈرائنگ روم میں ایک ریوالور پڑا تھا۔‘
انھوں نے بتایا کہ وہ اور ان کا بیٹا رادھیکا کو ہسپتال لے گئے لیکن ڈاکٹروں نے انھیں مردہ قرار دیا۔
بی بی سی اردو کی خبروں اور فیچرز کو اپنے فون پر حاصل کریں اور سب سے پہلے جانیں پاکستان اور دنیا بھر سے ان کہانیوں کے بارے میں جو آپ کے لیے معنی رکھتی ہیں
سبسکرائب کرنے کے لیے کلک کریں
مواد پر جائیں
رادھیکا یادو کی موت کے بعد قتل کے محرکات پر قیاس آرائیاں شروع ہو گئی ہیں۔ کچھ رپورٹس کے مطابق دیپک اپنی بیٹی کی سوشل میڈیا پر بڑھتی مقبولیت اور انسٹاگرام ریلز سے ناخوش تھے۔
انڈیا کے مقامی ذرائع ابلاغ کے مطابق رادھیکا کے والد اپنے گاؤں والوں کی جانب سے اپنی بیٹی کی آمدن پر گزارا کرنے کے طعنوں سے پریشان تھے۔
دوسری جانب پولیس نے کہا ہے کہ وہ قتل کے تمام ممکنہ پہلوؤں کی تفتیش کر رہے ہیں اور انھوں نے اس بات کی تردید کی کہ یہ قتل نام نہاد غیرت کی وجہ سے ہوا۔
پولیس کا کہنا ہے کہ ’رادھیکا کے والد اکیڈمی کی وجہ سے ان سے ناراض تھے جو وہ خود چلا رہی تھیں۔‘
کئی ٹینس کھلاڑیوں نے رادھیکا کی موت پر افسوس کا اظہار کیا ہے۔
انھیں یاد کرتے ہوئے انڈین ٹینس کھلاڑی سوجنیا بھاویسیٹی نے اس واقعے کو ’دل دہلا دینے والا‘ قرار دیا۔ اپنے سوشل میڈیا پر انھوں نے لکھا کہ ’رادھیکا کی مسکراہٹ سب سے خوبصورت تھی۔ مجھے یقین نہیں آ رہا کہ ان کے اپنے ہی والد نے اتنا سنگین جرم کرنے کا سوچا۔ ایک زندگی کو صرف اس وجہ سے چھین لیا گیا کہ لوگ کیا کہیں گے۔‘
سابق قومی چیمپیئن شرمادا بالو نے اس واقعے کو ’پریشان کن‘ قرار دیا۔
رادھیکا کو ایک پرعزم شخصیت قرار دیتے ہوئے ان کے سابق کوچ نے ان کی موت کو بڑا نقصان قرار دیا۔













