’پاکستان کی دوست‘ خالدہ ضیا کی وفات: بنگلہ دیش کی پہلی خاتون وزیراعظم کون تھیں؟

خالدہ ضیا

،تصویر کا ذریعہGetty Images

،تصویر کا کیپشنخالدہ ضیا اور پرویز مشرف کی 2002 کی تصویر جب جنرل مشرف ڈھاکہ کا دورہ کر رہے تھے

بنگلہ دیش کی پہلی خاتون وزیراعظم بیگم خالدہ ضیا 80 سال کی عمر میں انتقال کر گئی ہیں۔ وہ گذشتہ کئی عرصے سے علیل تھیں۔

بنگلہ دیش نیشنلسٹ پارٹی نے سوشل میڈیا سائٹ ’فیس بک‘ پر لکھا کہ ’ہماری پیاری لیڈر اب ہم میں موجود نہیں ہیں۔ وہ صبح چھ بجے ہمیں چھوڑ کر چلی گئی ہیں۔‘

ان کے ڈاکٹروں کی ٹیم نے پیر کو کہا تھا کہ خالدہ ضیا کی حالت ’انتہائی تشویشناک‘ ہے اور اُن کی حالت تیزی سے گر رہی ہے۔ خالدہ ضیا گذشتہ کئی ماہ سے بیمار تھیں اور وہ ڈھاکہ کے ہسپتال میں زیر علاج تھیں۔

بنگلہ دیش نیشنلسٹ پارٹی نے سوشل میڈیا سائٹ ایکس پر اپنی پوسٹ میں لکھا کہ ’بی این پی کی چیئرپرسن اور بنگلہ دیش کی سابق وزیراعظم صبح چھے بجے فجر کی نماز کے کچھ کے دیر بعد انتقال کر گئی ہیں۔‘

پاکستان کے وزیر اعظم شہباز شریف نے خالدہ ضیا کی وفات پر اپنے پیغام میں لکھا کہ ’بیگم ضیا پاکستان کی دوست تھیں۔‘ شہباز شریف نے اپنے بیان میں کہا ہے کہ حکومت پاکستان غم کی اس گھڑی میں بنگلہ دیش کی عوام کے ساتھ کھڑی ہے۔

شہباز شریف

،تصویر کا ذریعہX/@CMShehbaz

،تصویر کا کیپشنپاکستان کے وزیر اعظم شہباز شریف نے خالدہ ضیا کی وفات پر اپنے پیغام میں لکھا کہ ’بیگم ضیا پاکستان کی دوست تھیں‘

بیگم خالدہ ضیا گذشتہ چار دہائیوں سے بنگلہ دیش کی سیاست میں سرگرم تھیں۔ اُنھوں نے اپنے شوہر ضیا الرحمان کی ہلاکت کے بعد پارٹی کی قیادت سنھبالی۔

وہ 1991 میں بنگلہ دیش میں 20 سال کے بعد ہونے والے انتخابات میں کامیابی کے بعد ملک کی پہلی وزیراعظم بنیں۔

دو بار ملک کی وزیراعظم رہنی والی سیاسی رہنما خالدہ ضیا سیاست بدعنوانی کے الزامات اور سیاسی حریف جماعت عوامی لیگ کے مابین کھینچا تانی کا شکار رہی۔

بیگم خالدہ ضیا بنگلہ دیشں کی سیاست میں ایک جماعت کے بجائے مختلف جماعتوں کی موجودگی کی حامی تھیں۔

تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ خالدہ ضیا نے ایک ایسی جماعت کی قیادت سنھبالی جس کی تشکیل طاقت کے ایوانوں میں ہوئی لیکن وہ سیاسی طور پر آگے بڑھی۔

نہ صرف بنگلہ دیش کی پہلی وزیراعظم منتخب ہو کر انھوں نے تاریخ رقم کی بلکہ انھوں نے پانچ نشستوں سے انتخاب لڑا اور اُس میں کامیابی حاصل کی۔

1991 میں اپنے پہلے دورِ حکومت میں خالدہ ضیا کی قیادت میں بنگلہ دیش میں پارلیمانی نظامِ حکومت متعارف کروایا گیا۔

انتخابات سے قبل ملک میں پارلیمانی نظام بحالی اور اُس وقت کے صدر کے خلاف تین اتحاد بنے۔

وزیراعظم بننے کے بعد انھوں نے ملک میں صدارتی نظام کے بجائے پارلیمانی نظام بحال کرنے کے لیے قانون متعارف کروایا جسے کثرتِ رائے سے منظور کر لیا گیا۔

اس طرح 16 سال کے بعد ملک میں پارلیمانی طرزِ حکومت بحال ہوئی جس نے بی این پی میں خالدہ ضیا کی پوزیشن مضبوط کیا۔

انھوں نے مذہبی سیاسی پارٹی جماعتِ اسلامی کے ساتھ بھی اتحاد کیا۔

ख़ालिदा ज़िया

،تصویر کا ذریعہGetty Images

،تصویر کا کیپشنخالدہ ضیا بنگلہ دیش کی پہلی خاتون وزیراعظم تھیں
مواد پر جائیں
بی بی سی اردو اب واٹس ایپ پر

بی بی سی اردو کی خبروں اور فیچرز کو اپنے فون پر حاصل کریں اور سب سے پہلے جانیں پاکستان اور دنیا بھر سے ان کہانیوں کے بارے میں جو آپ کے لیے معنی رکھتی ہیں

سبسکرائب کرنے کے لیے کلک کریں

مواد پر جائیں

اس سے قبل 25 دسمبر کو اُن کے بیٹے طارق الرحمان 17 سال کے بعد لندن سے واپس ڈھاکہ آئے تھے اور اُن کے آنے کے پانچ دن کے بعد اُن کی علیل والدہ انتقال کر گئیں۔

اس وقت بنگلہ دیش نیشنلسٹ پارٹی ملک کی سب سے بڑی سیاسی جماعت ہے۔ طارق رحمان نے بنگہ دیش واپسی پر ایک بڑی ریلی سے خطاب میں ملک میں ’جمہوری اور اقتصادی حقوق کی بحالی‘ کا وعدہ کیا تھا۔

شیخ حسینہ کے اقتدار میں آنے کے بعد سے بیگم خالدہ ضیا جیل میں تھیں اور اُن کے بیٹے طارق الرحمان پر مختلف مقدمات تھے لیکن اُن کی حکومت کے خاتمے کے بعد بنگلہ دیش کی عبوری حکومت نے خالدہ ضیا اور اُن کے بیٹے کے خلاف کیسز ختم کیے۔

بنگلہ دیش میں اب 12 فروری کو عام انتخابات ہو رہے ہیں اور شیخ حسینہ کی جماعت عوامی لیگ پر انتخابات میں حصہ لینے پر پابندی ہے۔ ایسے میں عوامی لیگ کی غیر موجودگی میں بنگلہ دیش نیشنلسٹ پارٹی ملک میں اہم سیاسی جماعت ہے۔

بنگلہ دیش کے ذرائع ابلاغ کا کہنا ہے کہ موجود حالات جب ملک میں عدم استحکام ہے، عدم برداشت ہے اور انڈیا کے ساتھ تعلقات بھی خراب ہیں۔ ایسے میں یہ انتخابات خالدہ ضیا کے بیٹے اور اُن کے سیاسی جانشین طارق الرحمان کے لیے آسان نہیں ہیں۔

बांग्लादेश

،تصویر کا ذریعہ@bdbnp78

،تصویر کا کیپشنطارق الرحمان چند روز قبل 17 سال کے بعد بنگلہ دیش پہنچے ہیں

گھریلو خاتون سے وزیراعظم تک

اُن کا نام خالدہ خانم ہے اور اُن کے اہلخانہ انھیں ’پتھل‘ پکارتے تھے۔ بنگالی زبان میں اس کا مطلب گڑیا ہے۔

خالدہ کی بہن سلیمہ اسلام کے مطابق شادی کے بعد انھوں نے اپنا نام خالدہ ضیا کر لیا اور سیاست میں انھیں اسی نام سے پکارا گیا۔

خالدہ ضیا کی شادی 1960 میں پاکستانی فوجی افسر ضیا الرحمان سے 15 سال کی عمر میں ہوئی تھی۔ اس وقت ضیا الرحمان کپتان تھے۔ تاہم 1971 میں ضیا الرحمان مشرقی پاکستان میں ہونے والی بغاوت کا حصہ بنے۔

بیگم خالدہ ضیا کے شوہر جنرل ضیا الرحمان بعد میں بنگلہ دیش کے صدر بنے اور سنہ1981 میں وہ ایک قاتلانہ حملے میں مارے گئے۔

خالدہ ضیا کی عمر 36 سال تھی جب اُن کے شوہر ضیا الرحمان کو ہلاک کیا گیا۔ سیاست میں آنے سے پہلے وہ گھریلو خاتون تھیں جن کی زندگی اُن کے دو بچوں تک محدود تھی۔ شوہر کی ہلاکت کے بعد مشکل وقت میں خالدہ ضیا نے پارٹی کی قیادت سنھبالی۔

اُن کی بہن سلیمہ اسلام نے بی بی سی کو بتایا کہ خالدہ کی سیاست میں بالکل دلچسپی نہیں تھی اور شوہر کے صدر بننے کے بعد بھی وہ سیاسی معاملات سے الگ تھلگ رہتی تھیں۔

خالدہ ضیا کے ناقدین کا کہنا ہے کہ شوہر کی موت کے بعد پارٹی کی قیادت اُنھیں میراث میں ملی لیکن اُن کی زندگی پر کتاب لکھنے والے صحافی محافظ اللہ اس رائے سے متفق نہیں ہیں۔

بی بی سی سے بات کرتے ہوئے انھوں نے کہا کہ کم عمری میں بیوہ ہونے کے بعد خالدہ ضیا نے ایک قدامت پرست پدرشاہی معاشرے میں جگہ بنائی اور پارٹی میں اینے قیادت کو مستحکم کیا۔

خالدہ ضیا کی سیاست اور انڈیا سے روابط

وہ سنہ 1991 میں بنگلہ دیش کی پہلی خاتون وزیراعظم منتخب ہوئیں۔ اُس کے بعد سنہ 2001 میں انتخابات میں کامیابی کے بعد سنہ 2006 تک وہ دوبارہ بنگلہ دیش کی وزیراعظم بنیں۔ اس کے بعد بنگلہ دیش میں ہونے والے تین عام انتخابات کا اُن کی جماعت نے بائیکاٹ کیا۔

سنہ 2024 میں شیخ حسینہ کے خلاف شروع ہونے والی تحریک کی بھی خالدہ ضیا نے حمایت کی۔

اگست سنہ 1975 میں بنگلہ دیش کی آزادی کی تحریک کے رہنما اور پہلے وزیراعظم شیخ میجب الرحمان کو اُن کے خاندان کے سمیت ایک قاتلانہ حملے میں ہلاک کر دیا جاتا ہے۔ یہ واقعہ بنگلہ دیش او انڈیا کے تعلقات میں ایک اہم موڑ ثابت ہوا۔

بیگم خالدہ ضیا کے شوہر جنرل ضیا الرحمان بنگلہ دیش کے صدر تھے

،تصویر کا ذریعہGeety images

،تصویر کا کیپشنبیگم خالدہ ضیا کے شوہر جنرل ضیا الرحمان بنگلہ دیش کے صدر تھے

اس حملے کے بعد بنگلہ دیش میں فوجی حکومت کا آغاز ہوا اور اس حکومت کے ایک اہم کردار ضیا الرحمان تھے۔

ضیا الرحمان نے 1976 سے 1981 تک بنگلہ دیش کی قیادت کی۔ ضیا الرحمان کو بھی ایک فوجی نے ہی قتل کیا تھا۔ اُس کے بعد 1982 سے 1990 تک بنگلہ دیش کی قیادت حسین محمد ارشاد نے کی۔

بیگم خالدہ ضیا کے دورِ حکومت میں انڈیا کے بنگلہ دیش تعلقات بہت اچھے نہیں تھے لیکن اُن کی علالت کے دوران انڈیا کے وزیراعظم نریندر مودی نے خالدہ ضیا کو معاونت فراہم کرنے کی پیشکش کی تھی۔

خالدہ ضیا کی جماعت بنگلہ دیش نیشنلسٹ پارٹی شیخ حسینہ کی انڈیا میں موجوگی پر تنقید کر رہی ہے۔ انڈیا کے وزیراعظم نریندر مودی نے سنہ 2015 میں بنگلہ دیش کے دورے کے دوران بیگم خالدہ ضیا سے ملاقات کی تھی۔

یہ وہ وقت تھا جب بنگلہ دیشں اور انڈیا کے مابین لینڈ باؤنڈری پر معاہدہ ہوا تھا اور اس دوران حزبِ اختلاف کی رہنما سے انڈیا کے وزیراعظم کی ملاقات غیر معمولی تھی۔