آپ اس وقت اس ویب سائٹ کا ٹیکسٹ پر مبنی ورژن دیکھ رہے ہیں جو کم ڈیٹا استعمال کرتا ہے۔ مرکزی ویب سائٹ جہاں تمام تصاویر اور ویڈیوز موجود ہیں دیکھیے
’زبردست سفارتی اور خفیہ ہتھیار‘: برطانوی شہزادے ولیم کا دورہ سعودی عرب اور محمد بن سلمان سے ملاقات سے جڑی اُمیدیں، خدشات
- مصنف, ڈینیلا ریلف
- عہدہ, بی بی سی نیوز
- مطالعے کا وقت: 9 منٹ
’جب درخواست آئی تو وہ حیران نہیں ہوئے۔‘
یہ کہنا ہے شاہی محل کے ایک ذریعے کا جب اُن سے پوچھا گیا کہ شہزادہ ولیم نے برطانوی حکومت کی جانب سے سعودی عرب کا دورہ کرنے کی درخواست پر کیا ردِعمل دیا۔
’وہ پرنس آف ویلز کے طور پر اپنے کردار کو بہت سنجیدگی سے لیتے ہیں، اس لیے جب حکومت کوئی درخواست کرتی ہے تو وہ چلے جاتے ہیں۔‘
لیکن برطانوی شہزادے کا سعودی عرب کا یہ پہلا سفر سفارتی بھول بھلیوں سے کم نہیں ہے۔
اس سے قبل ایسٹونیا، پولینڈ، برازیل اور جنوبی افریقہ کے سرکاری دورے اتنے حساس نہیں تھے، لیکن سعودی عرب کا دورہ بالکل مختلف ہے۔
پیر سے شروع ہونے والے اس دورے کا ایجنڈا توانائی کے تبادلے اور نوجوانوں پر توجہ مرکوز رکھنے سے متعلق ہے۔ لیکن یہ ایک ایسے وقت میں ہو رہا ہے جب سعودی عرب میں ترقی کے کلیدی شعبوں میں اہم تبدیلیاں رُونما ہو رہی ہیں۔
شہزادہ ولیم کی دادی ملکہ الزبتھ کے 70 سالہ دورِ حکومت کا سعودی عرب شہزادہ ولیم کے دور والے سعودی عرب سے بہت مختلف ہے۔ یہاں آمرانہ طرز حکومت اور مطلق العنان بادشاہت ہے، لیکن ثقافتی طور پر معاشرے میں تنوع آ رہا ہے اور ملک تیل پر انحصار کرنے کے بجائے دیگر ذرائع سے معیشت کو ترقی دینے کی کوشش کر رہا ہے۔
سعودی عرب میں بین الاقوامی تفریحی میلوں اور کھیلوں کی سرگرمیوں کو فروغ دیا جا رہا ہے۔ جیسا کے ریاض کامیڈی فیسٹیول جس میں گذشتہ برس ڈیو چیپل، کیون ہارٹ اور بل بر سمیت دیگر اہم شخصیات نے شرکت کی تھی۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
جدہ میں ریڈ سی انٹرنیشنل فلم فیسٹیول، سعودی فارمولا ون گراں پری اور 2034 میں یہ ملک مردوں کے فٹبال ورلڈ کپ کی میزبانی کے لیے بھی تیار ہے۔
ایمنسٹی انٹرنیشنل سمیت انسانی حقوق کی تنظیمیں سعودی رہنماؤں پر انسانی حقوق کے ریکارڈ سے توجہ ہٹانے کے لیے کھیل اور کامیڈی کا استعمال کرنے کے الزامات لگاتے ہیں۔
مملکت کے ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان نے پہلے کہا تھا کہ انھیں اس بات سے کوئی فرق نہیں پڑتا ہے کہ اُن پر کیا لیبل لگایا جاتا ہے، جب تک کہ یہ سعودی معیشت کے لیے اچھا ہے۔
شہزادہ ولیم کے دورے کا اہم عنصر محمد بن سلمان سے اُن کی ملاقات ہو گی۔ وہ اپنے ایم بی ایس کے نام سے جانے جاتے ہیں۔ ولی عہد محمد بن سلمان کو سعودی عرب کا اصل حکمران سمجھا جاتا ہے۔
شہزادہ ولیم کو اس سفر سے پہلے اچھی طرح سے متعدد امور پر آگاہی بھی دی جائے گی۔
اُنھیں سعودی عرب میں انسانی حقوق کی صورتحال سے آگاہ کیا جائے گا، جہاں ہم جنس پرستی کو جرم قرار دیا جاتا ہے اور عوامی احتجاج اور سیاسی اختلاف پر سزا دی جاتی ہے۔
شہزادہ ولیم سعودی عرب میں خواتین کے کردار سے بھی آگاہ ہوں گے اور ملک میں اُن کے ساتھ ہونے والے سلوک پر بھی اُنھیں بریف کیا جائے گا۔
گو کہ حالیہ برسوں میں خواتین کو آزادی دی گئی ہے اور سنہ 2018 میں اُنھیں گاڑی چلانے کی اجازت بھی دی گئی تھی، لیکن اب بھی مردوں کے مقابلے میں اُن پر بہت زیادہ پابندیاں ہیں۔
اہم بات ہے کہ شہزادہ ولیم کو محمد بن سلمان کی ساکھ اور تاریخ کے بارے میں بھی بریفنگ دی جائے گی۔
کیا وہ ولی عہد کے ساتھ اپنی گفتگو میں ان موضوعات کو سامنے لائیں گے؟
شاہی محل محمد بن سلمان اور شہزادہ ولیم کے مابین ہونے والی نجی گفتگو تو سامنے نہیں لائے گا، لیکن سفارتی حساسیت کو مدنظر رکھتے ہوئے یہ تصور کرنا مشکل ہے کہ شہزادہ ولیم نجی محفلوں میں ان معاملات پر بات کریں گے۔
شہزادہ ولیم کی رہنمائی لندن میں دفتر خارجہ اور سعودی عرب میں برطانوی سفارتخانہ کرے گا، جو برطانیہ کے لیے اس دورے کے مثبت نتائج کو یقینی بنانے کے لیے اُن کی معاونت کرے گا۔
یہ دورہ جنسی مجرم جیفری ایپسٹین کے متعلق لاکھوں نئی فائلز سامنے آنے کے بعد ہو رہا ہے، کیونکہ ایپسٹین فائلز شاہی خاندان کے لیے بھی شرمندگی کا باعث بنیں تھیں۔
ان میں جیفری ایپسٹین اور 'دی ڈیوک' نامی شخص کے درمیان ای میل کا تبادلہ بھی شامل ہے، جس میں بکھنگم پیلس میں رات کا کھانا کھانے پر بات کی جا رہی ہے کیوں کہ وہاں 'بہت زیادہ تنہائی' میسر ہو گی۔ 'دی ڈیوک' کے متعلق خیال کیا جا رہا ہے کہ یہ برطانیہ کے شاہ چارلس کے چھوٹے بھائی اینڈریو ماؤنٹ بیٹن ونڈسر کا ذکر ہو رہا ہے۔
یہ شہزادہ ولیم کے لیے بھی کوئی سازگار بین الاقوامی دورہ نہیں ہے۔ تاہم ذرائع کا کہنا ہے کہ برطانوی حکومت کی جانب سے سعودی عرب کا دورہ کرنے کی درخواست ترجیحی بنیادوں پر دی گئی کیونکہ حکومت محمد بن سلمان کے ساتھ اپنے روابط مضبوط کرنا چاہتی ہے۔
ایسا کرنے کے لیے شاہی خاندان کے ایک ایسے فرد کا انتخاب کیا گیا ہے، جو حکومت کو لگتا ہے کہ اس میں مددگار ثابت ہو سکتے ہیں۔
ایک ذریعے نے بی بی سی کو بتایا کہ ’وہ ایک زبردست سفارتی اور خفیہ ہتھیار ہیں جو اس مقصد کے لیے استعمال کیے جا سکتے ہیں۔‘
شہزادہ ولیم جو جدید بادشاہت سے متعلق اپنا ایک نظریہ رکھتے ہیں، خود ایک ایسے ملک کا دورہ کر رہے ہیں جو تبدیلی سے گزر رہا ہے۔
بین الاقوامی تھنک ٹینک چیٹھم ہاؤس میں مشرق وسطیٰ اور شمالی افریقہ کے پروگرام سے تعلق رکھنے والے ڈاکٹر نیل کوئلیم کہتے ہیں کہ ایک دہائی کے دوران سعودی معاشرے میں بہت سی تبدیلیاں آئی ہیں۔
اُن کے بقول بادشاہت میں نئی نسل اور پالیسی ساز اپنے اپنے آباؤ اجداد کے مقابلے میں زیادہ متحرک اور لین دین کے ماہر ہیں۔ سعودی عرب میں برطانیہ میں سرمایہ کاری کرنے کے لیے سخت مقابلہ ہے۔
اُن کے بقول سعودیوں کو بہت خوشی ہوتی ہے جب اُنھیں اہمیت دی جاتی اور تسلیم کیا جاتا ہے اور ایک شہزادے کا وہاں کے دورے پر جانا ایک پیغام دیتا ہے کہ ہم آپ کو بہت اہمیت دیتے ہیں۔
ڈاکٹر نیل کہتے ہیں کہ اس میں کوئی دو رائے نہیں کہ دورے کے دوران محمد بن سلمان اور شہزادہ ولیم کی تصاویر بہت سے لوگوں کو ہضم نہیں ہوں گی۔
سنہ 2021 میں امریکی انٹیلیجنس رپورٹ میں پتا چلا تھا کہ سنہ 2018 میں جلا وطن سعودی صحافی جمال خاشقجی کے قتل کی منظوری محمد بن سلمان نے دی تھی۔
بائیڈن انتظامیہ کی جانب سے ریلیز کی جانے والی اس رپورٹ میں کہا گیا تھا کہ محمد بن سلمان نے جمال خاشقجی کی ’قتل یا حراست‘ میں لینے کی منظوری دی تھی۔
سعودی عرب نے اس رپورٹ کو مسترد کرتے ہوئے اسے ’منفی، جھوٹ اور ناقابلِ قبول‘ قرار دیا تھا۔ محمد بن سلمان نے بھی جمال خاشقجی کے قتل میں کسی بھی کردار سے انکار کیا تھا۔
جدیدیت کی جانب پیش قدمی کے درمیان جو چیز نہیں بدلی وہ سعودی حکام کا اندرون ملک یا بیرون ملک مقیم اپنے ناقدین کے ساتھ روانہ رکھے جانے والا رویہ ہے۔
جنوری میں برطانیہ کی ایک عدالت کے ایک جج نے فیصلہ دیا تھا کہ سعودی عرب کو لندن میں مقیم یوٹیوبر اور مزاح نگار غنم المسریر کو 30 لاکھ پاؤنڈ سے زیادہ کر ہرجانہ ادا کرنا ہو گا۔
غنیم المصریر کا شمار سعودی حکومت کے ناقدین میں ہوتا ہے اور وہ سوشل میڈیا پر سعودی حکومت سے متعلق طنز و مزاح پر مبنی مواد مواد شائع کرتے ہیں۔
اُنھوں نے عدالت کو بتایا تھا کہ سعودی شاہی خاندان کے ایجنٹوں نے اُنھیں لندن میں ہراساں کیا، ان کا پیچھا کیا گیا اور اُن کا فون ہیک کر کے اُنھیں نفسیاتی اذیت دی گئی۔ ججز نے اُن کی درخواست کو قبول کرتے ہوئے سعودی حکومت کو ہرجانہ ادا کرنے کا حکم دیا۔
اپنے تجربے کے باوجود المصریر شہزادہ ولیم کے دورے کے خلاف نہیں ہیں، لیکن وہ برطانیہ کے مستقبل کے بادشاہ پر زور دیتے ہیں کہ وہ پیچھے نہ ہٹیں۔
المصریر کہتے ہیں کہ ’میں سمجھتا ہوں کہ وہ کیوں جا رہے ہیں، وہ سعودی-برطانیہ تعلقات کو مضبوط کرنے کے لیے جا رہے ہیں۔ مجھے اس بات پر کوئی اعتراض نہیں کہ وہ جا رہے ہیں، شہزادہ ولیم کو ایک خصوصی مقام اور موقع حاصل ہے کہ وہ محمد بن سلمان سے بات کریں۔‘
’لیکن انہیں وہاں اوپر ہاتھ ملاتے ہوئے دیکھنا، یہ حقیقت نہیں ہے۔‘
’شہزادہ ولیم ایک ایسے شخص کے ساتھ کھڑے ہوں گے، جس کے بارے میں ہم جانتے ہیں کہ سی آئی اے نے کہا تھا کہ اس نے خاشقجی کے قتل کا حکم دیا تھا، یہ ایسی چیز ہے جسے آپ سمجھ نہیں سکتے۔‘
جمال خاشقجی کے قتل اور سعودی عرب کے انسانی حقوق کے ریکارڈ پر عوامی رائے نے بظاہر دنیا کے رہنماؤں کے محمد بن سلمان کا خیرمقدم کرنے میں کوئی رکاوٹ پیدا نہیں کی ہے۔ ولیم اب ایک ممتاز شخصیات کی فہرست میں شامل ہو رہے ہیں جو محمد بن سلمان سے ملاقات کے لیے جاتی ہیں۔
محمد بن سلمان کے حالیہ مہمانوں پر ایک نظر ڈالنے سے سعودی عرب کے دنیا میں اثر و رسوخ کے بارے میں بہت کچھ ظاہر ہوتا ہے۔ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ، فرانس کے ایمانوئل میکخواں، جرمنی کے چانسلر فریڈرش مرٹز، یوکرین کے ولادیمیر زیلنسکی اور برطانیہ کے اپنے وزیرِاعظم سر کیئر اسٹارمر اس فہرست میں شامل ہیں۔
یہاں تک کہ جو بائیڈن، جنھوں نے ایک وقت میں سعودی عرب کو اس کی انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں پر جوابدہ بنانے کا وعدہ کیا تھا، وہ بھی سنہ 2022 میں شدید تنقید کے طوفان کے درمیان جدہ گئے تاکہ ولی عہد شہزادے سے ملاقات کر سکیں۔
یہ ایک مخمصہ ہے کہ ایک ملک کی قیادت سے آپ کے کچھ نظریات سے آپ بھلے ہی متفق نہ ہوں لیکن آپ کو ان سے ملاقات کرنی پڑتی ہے۔
یہ وہ چیز ہے جس میں برطانوی شاہی خاندان روایتی طور پر ماہر رہا ہے، یہ نظریہ کہ اگر آپ تعلقات اور مضبوط روابط قائم کریں تو آپ حکومت کے لیے مشکل اور حساس موضوعات کو زیادہ آسانی سے حل کرنے کا دروازہ کھول دیتے ہیں۔ یہی شاہی نظام کی طاقت ہے۔
یہ ایسا دورہ ہوگا جس دو شاہی خاندانوں کو قریب لے آئے گا۔
ولیم کے والد شاہ چارلس نے بھی سعودی عرب کے کئی عوامی اور نجی دورے کیے ہیں اور ان کے سعودی شاہی خاندان کی موجودہ نسل کے ساتھ گرمجوش تعلقات برقرار ہیں۔
ماضی میں سعودی عرب میں تعینات ایک سابق برطانوی سفیر نے مجھے بتایا تھا کہ ’شاہ چارلس کو صحرا سے محبت ہے اور وہ سعودی عرب میں بہت وقت گزارتے ہیں، وہاں کی جنگلی حیات انھیں پسند ہے اور وہ اس کی خوبصورتی سے محبت کرتے ہیں۔‘
’دو شاہی خاندانوں کے درمیان ایک خصوصی تعلق ہے، ان دونوں مملکتوں میں ایک قربت ہے اور ان کی تاریخ بھی ملتی ہے۔‘
یہ دورہ ایک ایسا موقع ہوگا جسے شہزادہ ولیم کے ساتھ کام کرنے والے لوگ ان کی بطور عالمی مدبر ترقی قرار دیں گے۔
ان کا کام ایک راستہ ہموار کرنا ہوگا جس سے اس خطے میں برطانیہ کے تعلقات مضبوط ہوں اور جس سے برطانیہ کی سٹریٹجک اہمیت بڑھ سکے۔