پاکستان سے برطانیہ سمگلنگ، کپڑوں میں چھپی ہیروئن اور پیسوں کا لالچ:21 سال قید کی سزا پانے والی سدرہ نوشین ’بڑی سازش کا مرکزی کردار تھیں‘

سدرہ نوشین

،تصویر کا ذریعہNational Crime Agency

    • مصنف, ریچل رسل
    • عہدہ, یارک شائر

برطانیہ میں بریڈ فورڈ کی رہائشی سدرہ نوشین کو منشیات کے مقدمے میں ساڑھے 21 سال قید کی سزا سنا دی گئی ہے۔

گذشتہ سال برطانوی نیشنل کرائم ایجنسی (این سی اے) کے افسران کو سدرہ کے گھر سے تقریبا ایک کروڑ امریکی ڈالر مالیت کی ہیروئن ملی تھی۔

این سی اے کا الزام تھا کہ 34 سالہ سدرہ نوشین ایک ایسے منظم سمگلنگ گروہ کا حصہ ہیں جو پاکستان سے برطانیہ ہیروئن لانے کے بعد اسے ملک میں بیچ رہا تھا۔

جون 2024 میں جب سدرہ نوشین کو اُن کے گھر سے گرفتار کیا گیا تھا تو این سی اے افسران کو اُن کپڑوں میں چھپائی گئی ہیروئن ملی تھی۔ اس کے علاوہ حکام کو گھر میں موجود بالٹیوں، بیگز، مختلف آلات اور ایک دیوار کے وال پیپر کے پیچھے سے بھی ہیروئن ملی تھی۔

منگل کے روز جب بریڈ فورڈ کی کراؤن کورٹ میں سدرہ نوشین کو ہیروئن کی سپلائی اور دیگر الزامات پر قید کی سزا سنائی گئی تو این سی اے کے رک مکینزی کا کہنا تھا کہ نوشین ایک بڑی سازش کا مرکزی کردار تھیں۔

ان کا کہنا تھا کہ بظاہر سدرہ نوشین بریڈ فورڈ میں عام سی زندگی گزار رہی تھیں لیکن ’حقیقت میں وہ برطانیہ میں ہیروئن سے منسلک بڑی سازش کا مرکزی حصہ تھیں۔‘

انھوں نے کہا کہ سدرہ ’موت اور نشے کا کاروبار کر رہی تھیں۔‘

’پیسے کا لالچ‘

این سی اے کے مطابق بریڈ فورڈ میں جب افسران سدرہ نوشین کے گھر کی تلاشی لے رہے تھے تو انھیں ایسے ڈبے بھی ملے جن پر موجود کپڑوں پر سے ابھی پلاسٹک بھی نہیں اُتارا گیا تھا۔

حکام کا کہنا ہے کہ سدرہ نوشین کے فون سے پاکستان میں موجود ایک سہولت کار کے نام سینکڑوں پیغامات بھی ملے جن میں برطانیہ میں ہیروئن کی سپلائی کے بارے میں بات کی گئی تھی۔

اس کے علاوہ یہ شواہد بھی دریافت ہوئے ہیں کہ نوشین نے کئی کلوگرام منشیات برطانیہ میں لوگوں تک پہنچائی تھی۔ ایک موقع پر انھیں بریڈ فورڈ کے ایک مجرمانہ گروہ سے ڈھائی لاکھ پاؤنڈ بھی وصول ہوئے تھے۔

نوشین نے عدالت میں ہیروئن فراہم کرنے اور اسے درآمد کرنے کے الزامات تسلیم کیے تھے، جس کے بعد اُن کو سزا سنائی گئی۔ مکینری نے کہا کہ ’نوشین نے ایک لمحے کے لیے بھی نہیں سوچا کہ ہیروئن سے معاشرے میں کیا تباہی ہو گی۔ ان کی دلچسپی صرف پیسہ کمانے میں تھی۔‘