آپ اس وقت اس ویب سائٹ کا ٹیکسٹ پر مبنی ورژن دیکھ رہے ہیں جو کم ڈیٹا استعمال کرتا ہے۔ مرکزی ویب سائٹ جہاں تمام تصاویر اور ویڈیوز موجود ہیں دیکھیے
امریکہ: چین کے مبینہ خفیہ ایجنٹوں پر رشوت، رخنہ ڈالنے کے الزامات عائد
- مصنف, برنڈ ڈبزمین جونیئر
- عہدہ, بی بی سی نیوز، واشنگٹن
امریکہ میں چین کے دو شہریوں پر جرم عائد کیا گیا ہے کہ انھوں نے ٹیلی کمیونیکیشن کی دنیا کی ایک بڑی کمپنی کے خلاف ایف بی آئی کی تفتیش میں رخنہ ڈالنے کے لیے ہزاروں ڈالر نقدی اور زیورات کی رشوت دی۔
استغاثہ کے مطابق ان دو چینی شہریوں نے تفتیش میں رکاوٹ ڈالنے کے لیے خفیہ طور پر ایک امریکی قانونی کمپنی کی خدمات حاصل کیں تاکہ وہ ان کے لیے سراغ رسانی کا کام کر سکے۔ جن وکلاء کو اس کام کے لیے چنا گیا وہ بیک وقت ڈبل ایجنٹ کے طور پر امریکہ کے وفاقی تحقتاتی ادارے ایف بی آئی کے لیے بھی کام کر رہے تھے۔
چین نے مذکورہ کمپنی پر الزام لگایا تھا کہ وہ عالمی سطح پر چین کو بدنام کرنے لیے ایک باقاعدہ مہم چلا رہی ہے۔
دو شہریوں کے علاوہ 11 دیگر چینی شہریوں پر بھی الزام عائد کیا گیا ہے کہ وہ بھی امریکہ میں دو مختلف خفیہ کارروائیوں میں ملوث تھے۔
استغاثہ کی دستاویزات کے مطابق دو چینی شہریوں گواچن ہی اور زینگ وانگ نے ایک امریکی کمپنی کے ملازمین کے ساتھ روابط بڑھا کر ان سے سرکاری تفتیش کی تفصیلات حاصل کرنے کی کوشش کی۔ وہ جاننا چاہتے تھے کہ اس تفتیش میں کن لوگوں کو گواہ بنایا جا رہا ہے، کیا شواہد اکھٹے کیے جا رہے ہیں اور انھیں کن جرائم کا مرتکب قرار دیا جائے گا۔
ان افراد نے ملازمین کو یہ بھی کہا تھا کہ وہ کمپنی کے دفتر میں ہونے والی ان ملاقاتوں کی خفیہ ریکارڈنگ بھی کریں جن میں چینی شہریوں کے خلاف ممکنہ مقدمے کی حکمت عملی طے کی جا رہی تھی۔
پیر 24 اکتوبر کو اپنی پریس کانفرنس میں اگرچہ امریکہ کے اٹارنی جنرل میرک گارلینڈ نے وکلاء کی امریکی کمپنی کا نام نہیں بتایا تاہم امریکی ذرائع ابلاغ کا کہنا ہے کہ یہ کمپنی ’ہیواوے‘ ہے جس کا صدر دفتر چین میں ہے۔ جب امریکی حکام سے اس بارے میں پوچھا گیا تو انھوں نے بھی کمپنی کا نام بتانے سے معذرت کر لی۔
اٹارنی جنرل کا کہنا تھا کہ یہ ایک ایسا معاملہ ہے جس میں عوامی جمہوریۂ چین کی خفیہ ایجنسی کے اہلکاروں نے ایک چینی کاروباری کمپنی کو احتساب سے بچانے اور ہمارے نظامِ انصاف کو نقصان پہنچانے کی کوشش کی ہے۔‘
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
اٹارنی جنرل کے مطابق دو مبینہ چینی ایجنٹوں نے کمپنی کے ملازمین کو ایک سرکاری خفیہ کاغذ کی تصویر اتارنے کے لیے رشوت میں ہزارہا ڈالر اور زیورات کے علاوہ 41 ہزار ڈالر کی مالیت کے بِٹ کوائن دیے۔ رشوت کا یہ سلسلہ کافی عرصے سے جاری تھا اور دونوں چینی شہریوں نے گذشتہ ہفتے بھی کمپنی کے ملازمین کو مزید رقوم بھجوائی تھیں۔
اٹارنی جنرل کا کہنا تھا کہ چینی شہریوں کو معلوم نہیں تھا کہ مذکورہ ملازمین خفیہ طور پر ایف بی آئی کے لیے کام کر رہے تھے اور وہ چینی شہریوں کو جو دستاویزات بھیج رہے تھے وہ جعلی تھیں۔
دیگر چینی شہریوں کے خلاف ایک اور کارروائی ریاست نیو جرسی میں کی گئی جس میں مبینہ طور پر چینی خفیہ ایجنسی کے تین اہلکاروں سمیت چار افراد پر الزام ہے کہ انھوں نے کچھ سابق اور موجودہ امریکی اہلکاروں کو اپنے مقاصد کے لیے استعمال کرنے کی غرض سے ایک جعلی تھِنک ٹینک میں بھرتی کرنے کی کوشش کی۔۔
اٹارنی جنرل میرک گارلینڈ کا کہنا تھا کہ اس معاملے میں ملوث چینی شہری امریکہ سے کچھ آلات خرید کر چین درآمد کرنے کی کوشش کر رہے تھے۔ اس کے علاوہ یہ افراد امریکہ کو ’بدنام‘ کرنے کے لیے امریکہ میں جاری مظاہروں میں بھی دخل اندازی کی کوشش کر رہے تھے۔
ان چار چینی افراد کے علاوہ امریکی حکام نے سات مزید چینی شہریوں کے خلاف مقدمہ قائم کیا ہے۔ ان افراد پر الزام ہے کہ انھوں نے امریکہ میں شہریت حاصل کرنے والے ایک چینی باشندے کو زبردستی واپس چین بھیجنے کی کوشش کی۔
امریکی حکام کے مطابق یہ اسی سلسلے کی ایک کڑی ہے جس کے تحت چین دیگر ممالک میں پناہ لینے والے چینی شہریوں کو کسی بہانے ملک واپس لانا چاہتی ہے۔ ان سات چینی شہریوں میں سے تین پہلے ہی امریکہ میں حراست میں لیے جا چکے ہیں۔
یاد رہے کہ گزشتہ برس بھی امریکی حکام نے چین کے خفیہ اداروں کے کچھ اہلکاروں پر اسی قسم کے الزامات عائد کیے تھے جن میں کہا گیا تھا کہ وہ امریکہ کی شہریت حاصل کرنے والے چینی افراد پر دباؤ ڈال کر انہیں چین واپس جانے پر مجبور کر رہے ہیں۔
مثلاً امریکی حکام کو یقین ہے کہ 2021 کے آخری اور 2022 کے ابتدائی عرصے میں چین کی وزارت برائے قومی سلامتی (ایم ایس ایس) سے منسلک ایک شخص نے امریکی کانگریس کے ایک امیدوار کے بارے میں ’تہلکہ خیز‘ معلومات حاصل کرنے کی غرض سے ایک پرائیویٹ ایجنٹ کی خدمات حاصل کرنے کی کوشش کی تھی۔ کانگریس کے اس امیدوار نے ہانگ کانگ میں چینی حکومت کے خلاف مظاہروں میں شرکت کی تھی۔
چینی شہریوں پر امریکی حکام کی جانب سے لگائے جانے والے حالیہ الزامات کے حوالے سے چینی وزارتِ خارجہ کے ترجمان وانگ وینبِن کا کہنا ہے کہ انھیں معلوم نہیں کہ یہ الزامات کس خاص تناظر میں لگائے جا رہے ہیں، تاہم ترجمان نے اتنا ضرور کہا کہ امریکہ کا محکمۂ قانون ہمیشہ چین کو بدنام کرنے کے لیے اس قسم کے من گھڑت جھوٹ بولتا رہتا ہے جن کا مقصد چینی کاروباری کمپنیوں پر دباؤ ڈالنا اور مفرور چینی شہریوں کا کھوج لگانے میں رکاوٹ پیدا کرنا ہے۔‘ ترجمان کے مطابق امریکہ کی کوشش ہے کہ و ہ ’امریکہ کو (چین کے) بدعنوان اور قانون شکن افراد کے لیے محفوظ ٹھکانا بنا دے۔‘
چینی ترجمان کا مزید کہنا تھا کہ ’ امریکہ کی جانب سے جو کچھ کیا جا رہا ہے اس سے نا صرف چین اور امریکہ کے اس باہمی تعاون کو نقصان پہنچ رہا ہے جس کا مقصد قانونی کی حکمرانی قائم کرنا ہے بلکہ اس سے امریکہ کی اپنی شبیہہ بھی متاثر ہو رہی ہے۔‘