کیا کم مقدار میں نمک کھانا صحت کے لیے اُتنا ہی نقصان دہ ہے جتنا نمک کا زیادہ استعمال؟

    • مصنف, جیسیکا براؤن
    • عہدہ, بی بی سی

سنہ 2017 میں ترکی سے تعلق رکھنے والے شیف نصرت گوکچہ کی ایک ویڈیو وائرل ہوئی جس میں وہ اپنے منفرد انداز میں سٹیک پر بے تحاشہ نمک چھڑک رہے ہیں۔ یہ ویڈیو اتنی مقبول ہوئی کہ لوگوں نے نصرت کو ’سالٹ بے‘ کا لقب دے دیا۔

اُن کی اس مقبولیت کے پیچھے ایک وجہ شاید نمک کے لیے ہمارا جنون ہے۔ تمام تر وارننگز (انتباہ) کے باوجود، دنیا بھر میں لوگ تجویز کردہ حد سے دوگنا نمک استعمال کرتے ہیں اور اس سے ہماری صحت کو نقصان پہنچ رہا ہے۔

تاہم اب ایک دوسرا نظریہ زور پکڑتا جا رہا ہے جو نمک کی مقدار کے حوالے سے کئی دہائیوں کی تحقیق کو شکوک و شبہات میں ڈال رہا ہے۔

سوڈیم نمک میں پایا جانے والا کلیدی عنصر ہے۔ یہ ہمارے جسم کے مجموعی سیال کے توازن کو برقرار رکھنے، آکسیجن اور غذائی اجزا کی نقل و حمل کے لیے ضروری ہے۔ تاریخی طور پر انسان ہمیشہ سے تجویز کردہ مقدار سے زیادہ نمک کھاتے آئے ہیں اور ہر دور میں طبی ماہرین ہمیں اسے کم کرنے کا مشورہ دیتے آئے ہیں۔

برطانیہ کی نیشنل ہیلتھ سروسز تجویز کرتی ہے کہ ایک بالغ شخص کو ہر روز چھ گرام سے زیادہ نمک نہیں کھانا چاہیے۔ یاد رہے کہ اِس میں نمک کی وہ مقدار بھی شامل ہے جو کھانے پینے کی چیزوں میں پہلے سے پائی جاتی ہے اور وہ بھی جو ہم کھانا پکاتے وقت اُوپر سے ڈالتے ہیں۔

عالمی ادارہ صحت کے اندازوں کے مطابق، عالمی سطح پر نمک کے استعمال کی اوسط مقدار تقریباً 10.8 گرام تک پہنچ گئی ہے، یعنی ہر شخص فی روز 10.8 گرام نمک کھا رہا ہے۔

لیکن اس کا صرف ایک چوتھائی حصہ اس نمک سے آتا ہے جو ہم خود سے کھانے میں شامل کرتے ہیں، باقی اُن روزمرہ کی چیزوں میں پہلے سے شامل ہوتا ہے جو ہم بازار سے خریدتے ہیں، جیسا کہ ڈبل روٹی، کیچ اپ اور نوڈلز وغیرہ۔

اس کے علاوہ مزید الجھن اس بات سے پیدا ہوتی ہے کہ کھانے پینے کی چیزوں پر مینوفیکچررز یہ لکھنے کے بجائے کہ مذکورہ چیز میں نمک کی کتنی مقدار شامل ہے، اس میں موجود سوڈیم کا حوالہ دیتے ہیں۔ اس سے اکثر لوگ اس غلط فہمی کا شکار ہو جاتے ہیں کہ وہ نمک کم استعمال کر رہے ہیں۔

نمک میں سوڈیم کے علاوہ کلورائیڈ آئنز بھی ہوتے ہیں۔ مثال کے طور پر 2.5 گرام نمک میں سوڈیم صرف ایک گرام ہی ہوتا ہے۔

ماہر غذائیت مے سمپکن کا کہنا ہے کہ ’عام لوگ اس بات سے واقف نہیں ہوتے اور یہ سوچتے ہیں کہ سوڈیم اور نمک ایک ہی چیز ہیں۔ کوئی آپ کو یہ نہیں بتاتا ہے۔‘

امریکہ کے سینٹرز فار ڈیزیز کنٹرول اینڈ پریوینشن (سی ڈی سی) کے مطابق، امریکہ میں لوگوں کی طرف سے استعمال ہونے والے سوڈیم کا تقریباً 40 فیصد پیزا، پراسیس شدہ گوشت، برریٹو اور ٹاکوز، سیوری سنیکس، پولٹری اور برگر وغیرہ سے آتا ہے۔

زیادہ نمک استعمال کرنے کے نقصانات

تحقیق سے پتہ چلا ہے کہ نمک کے زیادہ استعمال سے ہائی بلڈ پریشر (بلند فشارِ خون) ہو سکتا ہے جو فالج (سٹروک) اور امراضِ قلب کا باعث بن سکتا ہے۔ ماہرین نمک کے نقصان دہ اثرات کے بارے میں بڑی حد تک متفق ہیں۔

جب ہم نمک کھاتے ہیں تو جسم پانی کی زیادہ مقدار برقرار رکھتا ہے جس کے نتیجے میں بلڈ پریشر بڑھتا ہے جب تک ہمارے گردے اسے جسم سے باہر نہیں نکال دیتے۔ طویل عرصے تک نمک کا زیادہ مقدار میں استعمال ہماری شریانوں پر دباؤ ڈال سکتا ہے اور ہائپرٹینشن کا باعث بن سکتا ہے۔

عالمی ادارہ صحت کے مطابق، 62 فیصد فالج اور 49 فیصد امراضِ قلب کے کیسز کی وجہ ہائپرٹینشن ہوتی ہے۔ ڈبلیو ایچ او کا اندازہ ہے کہ سوڈیم کا زیادہ استعمال ہر سال دنیا بھر میں تقریباً 19 لاکھ اموات کی وجہ بنتا ہے۔

35 سالوں کے دوران شائع ہونے والی تحقیقات کے جائزے سے پتا چلا ہے کہ روزانہ 5 گرام اضافی نمک استعمال کرنے سے امراضِ قلب کا خطرہ 17 فیصد جبکہ سٹروک کا خطرہ 23 فیصد زیادہ ہو جاتا ہے۔

نمک کا استعمال کم کرنے کے فوائد

جیسا کہ آپ توقع کر سکتے ہیں کہ نمک کا استعمال کم کرنے کے مثبت اثرات ہوتے ہیں۔

برطانیہ کے ہیلتھ سروے کے آٹھ سالہ اعداد و شمار کے تجزیے میں، محققین نے پایا کہ نمک کی مقدار میں روزانہ 1.4 گرام کی کمی بلڈ پریشر میں کمی کا باعث بن سکتی ہے۔ بلڈ پریشر میں اس کمی کے نتیجے میں فالج کے مہلک کیسز میں 42 فیصد کمی اور دل کی بیماری سے ہونے والی اموات میں 40 فیصد کمی آئی۔

سنہ 2023 میں شائع ہونے والے ایک کلینکل ٹرائل میں سامنے آیا ہے کہ ایک ہفتے تک کم سوڈیم والی ڈائٹ لینے سے بلڈ پریشر کم کرنے میں اتنی ہی مدد ملتی ہے جتنی عام طور پر ہائی بلڈ پریشر کے لیے دی جانے والی دوا سے۔

تاہم، محققین کا کہنا ہے کہ نمک میں کمی کے اثرات کو دیگر خوراک اور طرز زندگی کے رویوں سے مکمل طور پر الگ کرنا مشکل ہے۔ ان کے مطابق، وہ افراد جو نمک کے استعمال کے بارے میں زیادہ محتاط ہوتے ہیں ان میں مجموعی طور پر صحت مند کھانا کھانے، زیادہ ورزش کرنے، کم سگریٹ نوشی اور کم شراب نوشی کا رجحان زیادہ پایا جاتا ہے۔

طویل المدتی مگر کسی ترتیب کے بغیر کیے جانے والے تجربات میں اگر ایسے افراد کا موازنہ کیا جائے جو تھوڑا سا نمک کے مقابلے میں بہت زیادہ کھاتے ہیں تو انسانی جسم پر نمک کے استعمال کے اثرات کے بارے میں حتمی طور پر کچھ کہا جا سکے گا۔ لیکن فنڈنگ اور دیگر اخلاقی وجوہات کے باعث ایسے تجربات کم ہی کیے جا سکے ہیں۔

یونیورسٹی آف واروک سے تعلق رکھنے والے امراض قلب اور وبائی امراض کے پروفیسر فرانچسکو کپوچیو کہ نمک کے اثرات معلوم کرنے کے لیے ایسے بے ترتیب تجربات کرنا تقریباً ناممکن ہیں۔

’لیکن موٹاپے کے اثرات کو لے کر بھی ایسے بے ترتیب تجربات نہیں کیے گئے ہیں لیکن ہم جانتے ہیں کہ یہ جان لیوا ثابت ہو سکتا ہے۔‘

دریں اثنا، اس بارے میں بڑے پیمانے پر مشاہداتی ثبوت دستیاب ہیں.

1960 کی دہائی میں جب جاپانی حکومت نے لوگوں کر نمک کا استعمال کم کرنے کی ترغیب دینے کے لیے مہم چلائی تو روزانہ کی بنیاد پر نمک کا اوسط استعمال 13.5 گرام سے کم ہو کر 12 گرام پر آ گیا۔ اسی عرصے کے دوران نہ صرف لوگوں کے بلڈ پریشر میں کمی دیکھی گئی بلکہ فالج سے ہونے والی اموات میں بھی 80 فیصد کمی دیکھنے میں آئی۔

فن لینڈ میں 1970 کی دہائی میں نمک کا اوسط استعمال 12 گرام تھا جو سنہ 2002 تک کم ہو کر نو گرام پر آ گیا۔ اس دوران امراضِ قلب اور فالج سے ہونے والی اموات میں بھی 75 سے 80 فیصد تک کمی واقع ہوئی۔

نمک کا ہر کسی پر مختلف اثر کیوں پڑتا ہے؟

نمک کے اثرات کا پتہ کرنے میں ایک اور مشکل یہ ہے کہ نمک کے استعمال سے ہر شخص کے بلڈ پریشر اور دل کی صحت پر اثر دوسرے سے مختلف ہوتا ہے۔

تحقیقات میں سامنے آیا ہے نمک کے لیے ہر شخص کی حسساسیت دوسرے سے مختلف ہوتی ہے اور اس میں مختلف عوامل جیسے کہ نسل، عمر، باڈی ماس انڈیکس، صحت اور ہائی بلڈ پریشر کی خاندانی تاریخ سے فرق پڑتا ہے۔

کچھ مطالعات سے پتا چلا ہے کہ نمک کی زیادہ حساسیت والے افراد کو نمک سے وابستہ ہائی بلڈ پریشر کا خطرہ زیادہ ہوتا ہے۔

درحقیقت، اب کچھ سائنس دانوں کا کہنا ہے کہ کم نمک والی خوراک بھی ہائی بلڈ پریشر کے لیے اتنی ہی خطرناک ہے جتنی زیادہ نمک والی۔

مثال کے طور پر، ایک میٹا تجزیے میں نمک کی کم مقدار اور قلبی امراض سے ہونے والی اموات کے درمیان تعلق پایا گیا ہے۔ میٹا تجزے میں مختلف تحقیقات کے نتائج کا موازنہ کر کے کسی ایک نتیجے پر پہنچنے کی کوشش کی جاتی ہی۔

محققین دلیل دیتے ہیں کہ روزانہ 5.6 گرام سے کم یا 12.5 گرام سے زیادہ نمک کھانے سے صحت پر منفی اثرات مرتب ہو سکتے ہیں۔

2020 میں شائع ہونے والی ایک اور تحقیق میں پتا چلا ہے کہ نمک کے استعمال پر سخت پابندیاں دل کے مریضوں کی صحت کی خرابی سے منسلک ہیں خاص طور پر کم عمر اور غیر سفید فام لوگوں میں۔

ایک مختلف تحقیق جس میں 170,000 سے زیادہ افراد شامل تھے میں بھی اسی طرح کے نتائج سامنے آئے ہیں۔

اس مطالعے میں دن میں 7.5 گرام سے کم نمک کے استعمال کرنے والے افراد میں قلبی امراض اور موت کا خطرہ بڑھ جاتا ہے۔ اس میں وہ افراد شامل ہیں جو ہائپر ٹینشن کے مریض ہیں اور وہ بھی جن کو یہ عارضہ لاحق نہیں۔

اونٹاریو میں میک ماسٹر یونیورسٹی میں غذائی امراض کے ماہر اینڈریو مینٹے اس کے مرکزی محقق ہیں۔

انھوں نے اس مطالعے سے یہ نتیجہ اخذ کیا کہ نمک کی مقدار کو زیادہ سے اعتدال والی مقدار تک کم کرنے سے ہائی بلڈ پریشر کا خطرہ کم ہو جاتا ہے لیکن اس سے زیادہ کمی میں اس کے صحت کے لیے کوئی فوائد نہیں۔ اس کے علاوہ نمک کے استعمال کی مقدار کو کم سے اعتدال تک بڑھانے سے بھی مدد مل سکتی ہے۔

تاہم، پروفیسر فرانچسکو کپوچیو بضد ہیں کہ نمک کے استعمال میں کمی ہر کسی میں بلڈ پریشر کم کرنے میں مدد دیتی ہے نہ کہ صرف ان لوگوں میں جو نمک کا زیادہ استعمال کرتے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ حالیہ برسوں میں ہونے والی تحقیقات جن میں یہ نتیجے اخذ کیے گئے ہیں کہ نمک کا استعمال کم کرنے کا زیادہ فائدہ نہیں، چھوٹے پیمانے پر کی گئی ہیں۔

وہ مزید دعویٰ کرتے ہیں کہ ان مطالعوں میں ناقص ڈیٹا استعمال کیا گیا اور اس میں ایسے شرکا بھی شامل ہیں جو پہلے سے بیمار تھے۔

ان کا کہنا ہے کہ مینٹے کی تحقیق میں 24 گھنٹے کی مدت میں متعدد ٹیسٹ کرنے کے بجائے فاسٹنگ سپاٹ یورین ٹیسٹ پر انحصار کیا گیا۔

برٹش نیوٹریشن فاؤنڈیشن کی سائنس ڈائریکٹر سارا سٹیننر اس بات سے متفق ہیں کہ ہائی بلڈ پریشر والے افراد میں نمک کا استعمال کم کرنے سے بلڈ پریشر کم ہوتا ہے اور دل کی بیماری کا خطرہ بھی کم ہوتا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ ایسے افراد کی تعداد بہت کم ہے جو دن میں تین گرام سے بھی کم نمک استعمال کرتے ہیں۔ یہ نمک کی وہ سطح ہے جسے تحقیق میں خطرناک حد قرار دیا گیا ہے۔

ان کا کہنا ہے کہ ہمارے کھانوں میں پائے جانے والے نمک کی مقدار کو دیکھتے ہوئے اتنا کم نمک استعمال کرنا بہت مشکل ہے۔

ماہرین اس بات پر بھی بٹے ہوئے دکھائی دیتے ہیں کہ زیادہ نمک کے استعمال کے اثرات کو صحت مند غذا اور ورزش کی مدد سے کم کیا جا سکتا ہے۔

سٹیننر سمیت کچھ ماہرین کا خیال ہے کہ ایسی غذا کا استعمال جس میں پوٹیشیم کی مقدار زیادہ ہوتی ہے نمک کے ہائی بلڈ پریشر پر ہونے والے اثرات کو کم کر سکتی ہے۔ عام طور پر پوٹیشیم پھلوں، سبزیوں، گری دار میوے اور دودھ میں پایا جاتا ہے۔

سو میٹیوز کنکسٹر یونیورسٹی میں ہیلتھ اکنامکس ڈیپارٹمنٹ کی سینیئر لیکچرار ہیں۔ وہ مشورہ دیتی ہیں کہ ہمیں نمک سے اجتناب کرنے کی کوشش کرنے کے بجائے اس بات پر دھیان دینے کی ضرورت ہے کہ ہماری خوراک میں کتنا نمک شامل ہے۔

وہ کہتی ہیں کہ بہت زیادہ نمک کے استعمال سے جو مسائل پیدا ہوتے ہیں وہ نمک کم کھانے کے مسائل سے ملتے جلتے ہو سکتے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ اس بارے میں مزید تحقیق کرنے کی ضرورت ہے۔

سو میٹیوز کہتی ہیں کہ ایک صحت مند شخص کے معتدل مقدار میں نمک استعمال کرنے میں کوئی مسائل نہیں۔

’ہمیں یہ سمجھنے کی ضرورت ہے کہ نمک کا بہت زیادہ استعمال صحیح نہیں لیکن اسے اپنی خوراک سے بالکل نکال دینے کی بھی ضرورت نہیں۔‘

سنہ 2022 کے ایک ریسرچ پیپر میں محققین نے نتیجہ اخذ کیا تھا کہ کم یا زیادہ سوڈیم والی غذا کے مقابلے میں روزانہ کی بنیاد پر تین سے چھ گرام تک نمک کا استعمال دل کے امراض کا خطرہ کم کرنے میں مددگار ثابت ہو سکتا ہے۔

حالیہ سالوں میں سامنے والی تحقیقات جس میں کم نمک کے استعمال کے خطرات سے آگاہ کیا گیا ہے اور لوگوں میں نمک سے متعلق حساسیت میں تضاد ہونے کے باوجود موجودہ تحقیق سے یہ تو ثابت ہے کہ نمک کا بہت زیادہ استعمال یقینی طور پر بلڈ پریشر کو بڑھاتا ہے۔