آپ اس وقت اس ویب سائٹ کا ٹیکسٹ پر مبنی ورژن دیکھ رہے ہیں جو کم ڈیٹا استعمال کرتا ہے۔ مرکزی ویب سائٹ جہاں تمام تصاویر اور ویڈیوز موجود ہیں دیکھیے
ماں جس نے اپنے دونوں بچوں کی لاشوں کو سوٹ کیس میں بند کر کے چار برس گودام میں چھپائے رکھا
- مصنف, گیون بٹلر
- عہدہ, بی بی سی نیوز
نیوزی لینڈ کی ایک عدالت کو بتایا گیا ہے کہ سوٹ کیس سے ملنے والے دو بچوں کی لاشوں میں اینٹی ڈپریشن دوائی کے اثرات ملے ہیں۔
مبینہ طور پر ان بچوں کو ان کی والدہ نے قتل کیا۔
44 برس کی ہاکیونگ لی پر آکلینڈ کی ایک عدالت میں مقدمہ چلایا جا رہا ہے۔ ان پر الزامات ہیں کہ انھوں نے اپنے بچوں آٹھ سالہ یونا جو اور چھ سالہ مینو جو کو قتل کیا اور ان کی لاشوں کو ایک گودام میں چھپا دیا۔
ان بچوں کی باقیات ایک خاندان کو سوٹ کیس میں سے ملی تھیں۔ اس خاندان نے سنہ 2022 میں ایک نیلامی کے دوران اس گودام کا سامان خریدا تھا۔
پروسیکیوٹر نیٹلی واکر نے عدالت کو بتایا کہ اینٹی ڈپریشن دوائی ’نارٹریپٹائی لائن‘ کے اثرات دونوں بچوں میں پائے گئے۔
واضح رہے کہ یہ دوا بچوں کو نہیں دی جا سکتی اور زیادہ مقدار کی صورت میں غنودگی یا موت کا سبب بن سکتی ہے۔
ہاکیونگ لی نے سنہ 2017 میں ایک ڈاکٹر کو بتایا تھا کہ اپنے شوہر میں کینسر کی تشخیص کے بعد انھیں سونے میں دشواری کا سامنا ہے، جس کے بعد انھیں یہ دوا آزمائشی بنیادوں پر تجویز کی گئی تھی۔
عدالت کو بتایا گیا کہ ہاکیونگ لی نے قتل کے الزامات سے انکار کیا لیکن وہ قبول کرتی ہیں کہ ان کے بچوں کی موت ان کی وجہ سے ہوئی۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
انھوں نے یہ بھی تسلیم کیا کہ بچوں کی موت کے بعد انھوں نے لاشوں کو تین پلاسٹک بیگز میں لپیٹ کر سوٹ کیسز میں رکھا اور ٹیپ سے سیل کر دیا۔ پراسیکیوشن نے عدالت کو بتایا کہ ہاکیونگ لی نے سوٹ کیسز کو چار برس کے لیے گودام میں رکھا۔
پراسیکیوٹرز نے یہ الزام بھی عائد کیا کہ اپنے بچوں کو قتل کرنے کے ایک ماہ بعد لی نے اپنا نام تبدیل کر لیا اور بزنس کلاس کی سیٹ پر سیئول روانہ ہو گئیں۔
ستمبر 2022 میں انھیں جنوبی کوریا کے شہر السان سے گرفتار کیا گیا، جب انٹرپول نے ان کے لیے عالمی سطح پر ریڈ نوٹس جاری کیا۔ اسی سال نومبر میں انھیں نیوزی لینڈ کے حوالے کر دیا گیا۔
عدالت کو بچوں کی لاشیں ملنے کی بھیانک تفصیلات سے بھی آگاہ کیا گیا۔
10 اگست 2022 کو دو افراد نے نیلامی میں ہاکیونگ لی کے لاوارث گودام کے لیے 238 ڈالرز ادا کیے۔ اس گودام میں بائیکس، کپڑوں اور دو سوٹ کیسز سمیت دیگر گھریلو سامان تھا۔
خریدار نے اگلے روز جب سارا سامان ٹرالر پر لادنا شروع کیا تو انھیں ایک عجیب سی بو محسوس ہوئی۔ خریدار کے مطابق یہ ’مرے ہوئے چوہے کی بدبو‘ جیسی تھی۔ گھر آ کر اس شخص نے سوٹ کیسز کو ایک چاقو سے کھولا۔
سوٹ کیسز کے اندر کالے رنگ کے کئی پلاسٹک بیگ ایک دوسرے کے اندر بھرے ہوئے تھے اور ان میں دو بچوں کی لاشیں تھیں (ہر سوٹ کیس میں ایک)۔
بعد میں بچوں کی شناخت یونا اور مینو کے نام سے ہوئی۔ پوسٹ مارٹم رپورٹ میں یہ واضح تھا کہ انھیں کسی نے قتل کیا۔
استغاثہ نے بتایا کہ ایک پیتھالوجسٹ کے مطابق بچوں کی ہلاکت میں ’نارٹریپٹائی لائن‘ نامی دوا کا استعمال ہوا۔
عدالت کو بتایا گیا کہ ہاکیونگ لی نے اپنے شوہر لین جو میں کینسر کی تشخیص کے پانچ ماہ بعد اگست 2017 میں ایک فارمیسی سے اس دوائی کا نسخہ لیا۔
استغاثہ کے مطابق نومبر 2017 میں لین جو کی موت کے بعد متعدد مواقع پر ہاکیونگ لی نے مبینہ طور پر کہا کہ وہ خود اور ان کے بچے بھی مر جائیں گے۔
ہاکیونگ لی کی والدہ کا دعویٰ ہے کہ وہ اکثر انھیں روتے ہوئے فون کر کے کہتی تھیں اگر لین جو کی موت ہو گئی تو وہ بھی مر جائیں گی۔
ایک اور موقع پر مبینہ طور پر ہاکیونگ لی نے اپنے شوہر کو ٹیکسٹ میسج کیا کہ ’اگر آپ کی موت ہو گئی تو میں بھی ہمارے بچوں کے ساتھ مر جاؤں گی۔‘
اپنے شوہر کی وفات کے بعد آسٹریلیا میں چھٹیاں گزارتے وقت ہاکیونگ لی نے اپنی دوست کو مبینہ طور پر بتایا کہ ان کی خواہش تھی کہ جہاز کریش ہو جائے تاکہ وہ اور ان کے بچے ایک ساتھ مر جائیں۔
استغاثہ نے عدالت کو بتایا کہ ہاکیونگ لی نے مبینہ طور پر یہ بھی کہا کہ اگر ان کے شوہر کی جگہ ان کے بچے مر جاتے تو انھیں کم دکھ ہوتا۔
وکیل دفاع لورین سمتھ نے عدالت کو بتایا کہ شوہر کی وفات کے بعد ہاکیونگ لی ’آہستہ آہستہ پاگل پن‘ کا شکار ہوئیں جس کے نتیجے میں انھوں نے اپنے بچوں کو مار ڈالا، ورنہ اس سے قبل یہ ’چھوٹا سا خاندان خوش‘ تھا۔
لورین سمتھ کہتی ہیں کہ جب لین جو آئی سی یو میں داخل ہوئے تو ہاکیونگ لی نے یہ ماننا شروع کر دیا کہ اگر یہ سب لوگ ساتھ مر جائیں تو یہ بہتر ہو گا۔
وکیل دفاع کا دعویٰ ہے کہ ہاکیونگ لی نے خود بھی اینٹی ڈپریشن کی دوائی لی اور بچوں کو بھی دی لیکن اس کی مقدار زیادہ ہو گئی اور جب وہ نیند سے جاگیں تو ان کے بچے مر چکے تھے۔
لورین سمتھ نے کہا کہ ’انھوں نے اپنے بچوں کو قتل کیا لیکن ان کے ذہنی توازن کی وجہ سے انھیں قصوروار نہیں ٹھرایا جا سکتا۔‘
سوموار کے روز جیسے ہی مقدمے کی سماعت شروع ہوئی، جسٹس جیفری ویننگ نے جیوری کو بتایا کہ کیس اس بات کا تعین کرے گا کہ ’آیا جس وقت بچوں کی موت ہوئی، ہاکیونگ لی کا ذہنی توازن درست تھا یا نہیں۔‘
واضح رہے کہ کیس کی سماعت چار ہفتے تک جاری رہے گی۔
ہاکیونگ لی کی پیدائش جنوبی کوریا میں ہوئی لیکن ان کے پاس نیوزی لینڈ کی شہریت ہے۔