’آپ کو پلے آف تک پہنچنے والی پہلی ٹیم پیش کرتے ہیں‘

،تصویر کا ذریعہGetty Images
لاہور قلندرز اس پاکستان سپر لیگ کے رواں سیزن 8 میں بالکل ہی ایک نئے روپ میں نظر آئی ہے۔ جہاں قلندرز کی بولنگ سائیڈ اسے دوسری ٹیموں پر برتری دلاتی ہے وہیں اس کی جارحانہ بیٹنگ سائیڈ اسے ایک مخالف ٹیم کے سامنے ایک پہاڑ جیسا ہدف کھڑا کرنے میں مدد فراہم کرتی ہے۔
سنیچر کو لاہور میں کھیلے گئے میچ میں بھی کچھ ایسا ہی ہوا۔ ٹاس جیت کر پہلے کھیلتے ہوئے لاہور قلندرز نے ملتان سلطانز کو جیت کے لیے 181 رنز کا ہدف دیا اور پھر باآسانی سلطانز کو چت کرتے ہوئے 21 رنز سے فتح اپنے نام کی۔
فخر زمان اپنا رنگ نہ دکھا سکے اور سمین گل کی دوسری بال پر ہی تھرڈ مین کی پوزیشن پر اسامہ میر کو اپنا کیچ تھما بیٹھے تو ان کے بعد آنے والوں نے اپنا کردار خوب نبھایا اور ابتدائی دو نقصان کے باوجود اوسط کو نہیں گرنے دیا۔
مرزا طاہر بیگ کا ساتھ دینے عبداللہ شفیق آئے اور دونوں نے 50 رنز کی شراکت قائم کر کے اپنی ٹیم کو اچھی بنیاد فراہم کی لیکن اسی سکور پر طاہر بیگ 17رنز بنانے کے بعد احسان اللہ کے ہاتھوں اپنی وکٹ گنوا بیٹھے۔
اس کے بعد عبداللہ شفیق نے ایک منجھے ہوئے بیٹسمین کی طرح سیم بلنگز کے ہمراہ 69 رنز کی شراکت قائم کر کے بڑے ہدف کی طرف سفر یقینی بنا لیا۔

،تصویر کا ذریعہGetty Images
عبداللہ شفیق نے 48 اور بلنگز نے 35 گیندوں پر 54 رنز کی اننگز کھیلی۔ ملتان سلطانز نے اختتامی اوورز میں نپی تلی باؤلنگ کر کے قلندرز کی ٹیم کو بریک ضرور لگائی اور اس بات کو یقینی بنایا کہ قلندرز کسی صورت اپنے پسندیدہ ہدف 200 کو عبور نہ کر سکیں مگر پھر جس طرح قلندرز نے سلطانز کے بلے بازوں کے گرد گھیرا تنگ کیا تو 180 بھی پہاڑ جیسا ہدف ہی ثابت ہوا۔
ملتان سلطانز نے پاور پلے کے ابتدائی اوورز میں اچھی پرفارمنس دکھائی مگر پھر یکے بعد دیگرے وکٹیں ایسی گریں کہ جیسے سلطانز کے بیٹسمین گیم کا سکرپٹ ہی بھول گئے ہوں۔ اس میں قلندرز کی مستعدی نے مزید سلطانز کو مشکل میں ڈالا جب ریویو کے ذریعے امپائرز کو اپنے فیصلے تبدیل کرنے پڑے اور سلطانز کے خلاف ابتدائی فیصلے تبدیل کرتے ہوئے انگلی ہوا میں بلند کرنی پڑی۔
قلندرز کے خلاف سلطانز 159 رنز ہی بنا سکے۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
اس جیت کے ساتھ ہیں لاہور قلندرز پلے آف مرحلے تک پہنچنے والی پہلی ٹیم بھی بن گئی۔

،تصویر کا ذریعہGetty Images
’آپ کو پلے آف تک پہنچنے والی پہلی ٹیم پیش کرتے ہیں‘
سوشل میڈیا پر صارف مزمل آصف نے اس قلندرز کی اس جیت پر تبصرہ کرتے ہوئے لکھا کہ ’آپ کو پلے آف تک پہنچنے والی پہلی ٹیم پیش کرتے ہیں‘۔
اس تحریر میں ایسا مواد ہے جو X کی جانب سے دیا گیا ہے۔ کسی بھی چیز کے لوڈ ہونے سے قبل ہم آپ سے اجازت چاہتے ہیں کیونکہ یہ ممکن ہے کہ وہ کوئی مخصوص کوکیز یا ٹیکنالوجیز کا استعمال کر رہے ہوں۔ آپ اسے تسلیم کرنے سے پہلے X ککی پالیسی اور پرائیویسی پالیسی پڑھنا چاہیں گے۔ اس مواد کو دیکھنے کے لیے ’تسلیم کریں، جاری رکھیں‘ پر کلک کریں۔
X پوسٹ کا اختتام, 1
کرکٹ تجزیہ کار کے آصف احمد نے اس جیت کو قلندرز کے کپتان شاہین آفریدی اور سپنر راشد خان کی کارکردگی سے جوڑا ہے۔
اس تحریر میں ایسا مواد ہے جو X کی جانب سے دیا گیا ہے۔ کسی بھی چیز کے لوڈ ہونے سے قبل ہم آپ سے اجازت چاہتے ہیں کیونکہ یہ ممکن ہے کہ وہ کوئی مخصوص کوکیز یا ٹیکنالوجیز کا استعمال کر رہے ہوں۔ آپ اسے تسلیم کرنے سے پہلے X ککی پالیسی اور پرائیویسی پالیسی پڑھنا چاہیں گے۔ اس مواد کو دیکھنے کے لیے ’تسلیم کریں، جاری رکھیں‘ پر کلک کریں۔
X پوسٹ کا اختتام, 2
راشد خان تو اس بار صحیح معنوں میں جادوی سپنر ثابت ہوئے۔ خود پاکستان سپر لیگ نے اپنے ٹوئٹر اکاؤنٹ سے راشد خان کی بال پر وکٹ گرنے کے مناظر کو دو الفاظ میں بیان کیا ہے: دی آرٹ، دی آرٹسٹ۔
اس تحریر میں ایسا مواد ہے جو X کی جانب سے دیا گیا ہے۔ کسی بھی چیز کے لوڈ ہونے سے قبل ہم آپ سے اجازت چاہتے ہیں کیونکہ یہ ممکن ہے کہ وہ کوئی مخصوص کوکیز یا ٹیکنالوجیز کا استعمال کر رہے ہوں۔ آپ اسے تسلیم کرنے سے پہلے X ککی پالیسی اور پرائیویسی پالیسی پڑھنا چاہیں گے۔ اس مواد کو دیکھنے کے لیے ’تسلیم کریں، جاری رکھیں‘ پر کلک کریں۔
X پوسٹ کا اختتام, 3
راشد خان نے میچ کے بہترین کھلاڑی ہونے کا اعزاز اپنے نام کیا۔ انھوں نے چار اوورز میں 15 رنز دیے اور تین کھلاڑیوں کو پویلین کی راہ دکھائی۔
ساج صادق نامی صارف نے راشد خان کی اس کارگردگی کو سراہتے ہوئے لکھا کہ راشد خان نے راشد کو جو 15 رنز بنے وہ سب سنگل کی صورت میں ممکن ہو سکے ہیں جبکہ راشد خان کی نو گیندوں پر کوئی رن حاصل نہیں کیا جا سکا۔







