آپ اس وقت اس ویب سائٹ کا ٹیکسٹ پر مبنی ورژن دیکھ رہے ہیں جو کم ڈیٹا استعمال کرتا ہے۔ مرکزی ویب سائٹ جہاں تمام تصاویر اور ویڈیوز موجود ہیں دیکھیے
کراچی: ’پولیس کے اشارے پر نہ رکنے‘ والے نوجوان کی ہلاکت، پولیس مقابلے کا دعویٰ ’غلط‘
پاکستان کے سب سے بڑے شہر کراچی میں حال ہی میں مبینہ طور پر پولیس کے ہاتھوں ایک نوجوان کی ہلاکت کے بعد تین پولیس اہلکاروں کو معطل کر کے ان کے خلاف مقدمہ درج کر لیا گیا ہے۔
صوبائی وزیر اطلاعات شرجیل انعام میمن نے بدھ کو ایک پریس کانفرنس میں بتایا کہ وزیرِ اعلیٰ سندھ مراد علی شاہ نے اس واقعے کا نوٹس لے لیا ہے اور پولیس اہلکاروں کو گرفتار کر لیا گیا ہے۔
واقعے کا مقدمہ مقتول نوجوان عامر کی والدہ کریمہ کی مدعیت میں کراچی کے تھانہ شارعِ فیصل میں درج کیا گیا ہے۔
واقعہ کیسے پیش آیا؟
بی بی سی کے پاس موجود ایف آئی آر کی کاپی کے مطابق ہلاک ہونے والے شخص کی والدہ کو منگل کی شام ساڑھے پانچ بجے اُن کی بیٹی نے اطلاع دی کہ عامر کو کسی نے گولی مار کر زخمی کر دیا ہے اور اُنھیں جناح ہسپتال لے جایا گیا ہے، اور جب وہ جناح ہسپتال پہنچیں تو دیکھا کہ ان کا بیٹا ہلاک ہو چکا تھا۔
ایف آئی آر کے مطابق اُنھیں عامر کے ساتھ جانے والے شخص حمیداللہ نے بتایا کہ گلستانِ جوہر کے بلاک 20 میں واقع نعمان ایوینیو آنے کے لیے جب اُنھوں نے الہٰ دین پارک کے قریب یوٹرن لیا تو دو موٹرسائیکلوں پر سوار تین پولیس اہلکاروں نے اُنھیں رکنے کا اشارہ کیا تو شاید عامر نے اُنھیں نہیں دیکھا۔
حمیداللہ نے اس پر عامر کو بتایا کہ پولیس والے روک رہے ہیں لیکن عامر نہیں رکا اور نعمان ایوینیو کی طرف جانے لگا اور کہنے لگا کہ مجھے اپنے والد کے لیے بھائی کے گھر سے پانی اور دوا وغیرہ لینے کی جلدی ہے، لہٰذا عامر موٹر سائیکل چلا کر نعمان ایوینیو کی طرف جاتا رہا۔
رپورٹ کے مطابق اس پر پولیس اہلکار تعاقب میں لگ گئے اور عامر کے پیچھے پیچھے نعمان ایوینیو کے اندر داخل ہو گئے اور ’لفٹ کے پاس آ کر عامر پر فائرنگ کر دی‘۔
اس حوالے سے سی سی ٹی وی فوٹیجز بھی سامنے آئی ہیں جن میں لفٹ کے قریب سیڑھیوں پر پڑے ہوئے ایک نوجوان کو دیکھا جا سکتا ہے جو تھوڑی دیر ہوش و حواس میں رہتا ہے لیکن کچھ دیر کے بعد سیڑھی پر ڈھے جاتا ہے۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
اس کے بعد تین پولیس اہلکار اس کے گرد جمع ہو جاتے ہیں اور کافی تذبذب کے عالم میں نظر آتے ہیں۔ تھوڑی دیر میں وہاں پر مجمع جمع ہو جاتا ہے۔
مدعیہ نے پولیس کانسٹیبلز ناصر اکبر، شہریار خان اور فیصل کو مقدمے میں نامزد کیا ہے۔
شارعِ فیصل تھانے میں درج ہونے والے اس مقدمے میں تعزیراتِ پاکستان کی دفعہ 34 اور 302 جبکہ انسدادِ دہشتگردی ایکٹ کی دفعہ سات شامل کی گئی ہے۔
صوبائی حکومت نے بتایا ہے کہ مذکورہ پولیس اہلکاروں کو معطل کر کے گرفتار کر لیا گیا ہے۔
گرفتار اہلکاروں کو بدھ کو انسدادِ دہشتگردی کی عدالت میں پیش کیا گیا جہاں پولیس نے ملزمان کے جسمانی ریمانڈ کی استدعا کی۔
پولیس نے بتایا کہ ملزمان نے پولیس مقابلے میں ایک ’ڈاکو‘ کو ہلاک کرنے کا دعویٰ کیا جو ابتدائی تفتیش میں غلط ثابت ہوا ہے۔
عدالت نے تینوں ملزمان کو پانچ روزہ ریمانڈ پر پولیس کے حوالے کرتے ہوئے سماعت دو جنوری تک ملتوی کر دی ہے۔
کراچی پولیس کے ہاتھوں شہریوں کے قتل کے واقعات
پاکستان کے سب سے بڑے شہر میں قانون نافذ کرنے والے اہلکاروں کی جانب سے عام لوگوں کو مجرم سمجھ کر ہلاک کرنے یا راہ چلتے لوگوں کے فائرنگ کی زد میں آ کر ہلاک ہونے کے متعدد واقعات پیش آ چکے ہیں۔
اس حوالے سے سب سے مشہور واقعات میں اگست 2018 میں 10 سالہ امل عمر کی ہلاکت ہے۔ امل مبینہ جرائم پیشہ افراد اور پولیس کے درمیان فائرنگ کی زد میں آ کر اس وقت ہلاک ہو گئی تھیں جب وہ اپنے والدین کے ساتھ اپنی گاڑی میں بیٹھی تھیں۔
ان واقعات میں 19 سالہ انتظار کا قتل بھی شامل ہے جنھیں جنوری 2018 میں کراچی کے علاقے کلفٹن میں پولیس اہلکاروں نے گاڑی پر فائرنگ کر کے قتل کر دیا تھا۔
اسی طرح فروری 2019 میں کراچی پولیس اور مبینہ ڈاکوؤں کے درمیان فائرنگ کی زد میں آ کر میڈیکل کی 22 سالہ طالبہ نمرہ بیگ ہلاک ہو گئی تھیں۔
اپریل 2019 میں پولیس اہلکاروں کی فائرنگ سے صفورا چورنگی کے قریب رکشہ میں سوار ڈیڑھ سالہ بچہ ہلاک ہو گیا تھا۔ اس وقت کراچی پولیس کے ایک ڈی آئی جی عامر فاروقی نے بتایا تھا کہ پولیس کی جانب سے موٹرسائیکل سوار لٹیروں پر فائرنگ کی جا رہی تھی جس کی زد میں رکشہ آ گیا۔
جنوری 2021 میں کراچی کے علاقے سائٹ ایریا میں پولیس اہلکاروں نے گلگت بلتستان سے تعلق رکھنے والے سلطان نذیر کو فائرنگ کر کے ہلاک کر دیا تھا اور ابتدائی طور پر بتایا تھا کہ اُنھیں پولیس مقابلے میں ہلاک کیا گیا ہے۔