ایک غلط قدم اور سب کچھ تباہ ہونے کا خطرہ: زیر سمندر خطرناک روسی بارودی سرنگوں کو غیرفعال بنانے والے اہلکاروں کی کہانی

    • مصنف, لورا گوزی
    • مقام, اوڈیسا
  • مطالعے کا وقت: 9 منٹ

بحیرہ اسود مہلک ہتھیاروں سے بھرا ہوا ہے۔ لیکن کوئی نہیں جانتا کہ یہ ہتھیار کتنے ہیں یا کہاں ہیں؟

’جب ہم ان کے قریب پہنچیں تو ہمیں خاموش رہنا چاہیے، رفتار بھی آہستہ ہونی چاہیے اور ہمیں بہت محتاط ہونا چاہیے۔‘

وٹالی یہ تمام باتیں ہمیں سمندر کی تہہ میں موجود دھماکہ خیز مواد کی طرف تیرتے ہوئے بتا رہے تھے۔

31 سالہ دراز قد اور خوش گفتار وٹالی یوکرینی بحریہ کی 20 اراکین پر مشتمل غوطہ خوروں کی ٹیم کا حصہ ہیں، جنھیں بحیرہ اسود کے ان حصوں میں بارودی سرنگیں صاف کرنے کا کام سونپا گیا ہے جو اب بھی یوکرین کے کنٹرول میں ہیں۔

بارودی سرنگیں جنگ کی سب سے خطرناک اور دیرپا میراث ہیں، یہ دہائیوں تک فعال اور مہلک رہتی ہیں۔ جو سمندر میں ہیں وہ اضافی خطرات پیدا کرتی ہیں کیونکہ وہ لہروں اور طوفانوں کے ساتھ بہتی رہتی ہیں۔

ماسکو کی جانب سے جنگ کے آغاز میں بچھائی گئی سمندری بارودی سرنگیں بھی اس سے مختلف نہیں ہیں اور یہ خطرہ صرف خیالہ نہیں ہے۔ گزشتہ موسم گرما میں اوڈیسا کے ساحل کے قریب تین تیراک بارودی سرنگوں کے پھٹنے سے ہلاک ہو گئے تھے۔

نیوی کے مائن کاؤنٹر میژرز گروپ کے کمانڈر، جو اپنے کال سائن فاکس کے نام سے جانے جاتے ہیں، کا اندازہ ہے کہ سمندر میں موجود ان بارودی سرنگوں کی تعداد ہزاروں میں ہے۔

لیکن یہ وہ واحد خطرہ نہیں ہیں جو پانی کے نیچے چھپا ہوا ہے۔ میزائل، توپ کے گولے، بم اور زمینی بارودی سرنگیں بھی سنہ 2022 میں کاخووکا پر دھماکے کے وقت سمندر کی طرف بہا دی گئی تھیں۔ یہ بھی کسی بھی وقت پھٹ سکتے ہیں۔

فاکس کہتے ہیں کہ ’اگر ہم عام طور پر نہ پھٹنے والے ہتھیاروں کی بات کریں تو میزائل، توپ خانے کے گولے، فضائی بموں سمیت سب کی کل تعداد کئی ہزار سے کئی گنا زیادہ ہوگی۔‘

ان کی ٹیم کا کام اتنا ہی خطرناک بھی ہے جتنا کہ ضروری ہے۔

آلودگی کے حجم کے باوجود سمندری ٹریفک بند نہیں ہوئی اور ایک بڑی تعداد میں تجارتی جہاز اب بھی یوکرین سے نکلنے والے واحد سمندری برآمدی راستے میں اپنا کام کر رہے ہیں۔

یوکرین کے لیے سمندر کی تہہ صاف کرنے کی کوشش بحیرہ اسود کی بندرگاہوں کو قابل استعمال رکھنے کی وسیع تر کوشش کا حصہ ہے، خاص طور پر ان تجارتی جہازوں کے لیے جو بہت ضروری آمدنی کا ذریعہ بنتے ہیں۔

ایک بڑی فوج کی مدد ہونے کی وجہ سے فرنٹ لائن پر روس کی برتری برقرار ہے لیکن سمندر میں یوکرین نے میدان برابر کر دیا ہے۔

یوکرینی شہر اوڈیسا میں سمندر کنارے ایک کیفے میں بیٹھے بحریہ کے ترجمان دمترو پلیٹنچک کھڑکی کے پار سمندر کی وسعت کی طرف اشارہ کرتے ہیں۔

وہ کہتے ہیں کہ ’اس وقت بحری شعبے میں برابری ہے۔ ہم انھیں مارنے کے نئے طریقے تلاش کرتے ہیں۔ وہ ہمیں روکنے کے طریقے تلاش کرتے ہیں۔ جو جربہ آج کام کرتا ہے وہ کل نہیں چلے گا۔ وہ ہمارے تجربے کو اپنا لیتے ہیں، ہم ان کی زبان کو اپنا لیتے ہیں۔‘

یوکرینی جہاز اوڈیسا کے آس پاس کے علاقے سے آگے نہیں بڑھ سکتے کیونکہ روس کا پاس ساحل کے بیشتر حصے پر کنٹرول ہے۔

ماسکو نے بھی بظاہر یہ نتیجہ اخذ کر لیا ہے کہ بحیرہ اسود میں اپنے کئی بحری اڈوں سے جہازوں کو نکالنا بہت بڑا خطرہ ہے، کیونکہ وہ یوکرینی فضائی حملوں کی پہنچ میں ہوں گے۔

سنہ 2024 میں روس نے مقبوضہ کریمیا سے اپنا آخری باقی ماندہ گشتی جہاز بھی واپس بلا لیا تھا۔

یوکرینی بحریہ کے ترجمان مزید کہتے ہیں کہ ’اگرچہ روس کو زمینی اور فضائی دونوں سطح پر برتری حاصل ہو سکتی ہے، لیکن سمندر میں نہیں۔ یہاں روس کی بنیادی حکمت عملی یعنی بڑی تعداد میں اثاثے اور اہلکار ہونا کام نہیں کرتی۔‘

پلیٹنچک روس کے پاس موجود فوجیوں کی تعداد کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہتے ہیں کہ ’بحری جنگ تکنیکی ہے۔ آپ کسی علاقے پر صرف تعداد کے بل بوتے پر غالب نہیں آ سکتے۔‘

سمندری جنگ میں تعطل کے سبب یوکرین کی سمندری برآمدات جاری رہی ہیں اور نام نہاد اناج راہداری بھی فعال ہے۔

سمندری برآمدات یوکرینی زرعی برآمدات کا دو تہائی سے زیادہ حصہ ہیں، جن کی مالیت کچھ رپورٹس کے مطابق تقریباً نو ارب ڈالر بنتی ہے۔ یہ یوکرین کے لیے آمدنی کا ایک لازمی ذریعہ ہے۔

اگرچہ فضائی حملے ایک معمول کی حقیقت ہیں، تاہم بحری جہاز علاقے میں نیویگیشن جاری رکھے ہوئے ہیں۔

آسمان پر خاموشی سے سفر کرتے دو بڑے جہازوں کی طرف اشارہ کرتے ہوئے پلیٹنچک کہتے ہیں کہ ’چونکہ بحری جہازوں کی آمد و رفت میں کمی نہیں آئی، سش لیے (تجارتی کمپنیاں) ان خطرات کو قبول کرنے کے لیے تیار ہیں۔‘

اب شپنگ روٹس کو قابل استعمال رکھنا بھی پانی کی سطح کے نیچے موجود خطرے کو ختم کرنے پر منحصر ہے۔

بارودی سرنگیں اور نہ پھٹا ہوا گولہ بارود اب بھی ایک غیر فعال ہتھیار ہیں، جنھیں روس سمندری ٹریفک کو متاثر کرنے کے لیے استعمال کر سکتا ہے، چاہے اس کا خود بحیرہ اسود پر کنٹرول نہ بھی ہو۔

یہی وہ جگہ ہے جہاں وٹالی جیسے غوطہ خور کام آتے ہیں۔

وٹالی بارودی سرنگوں کو صاف کرنے کے انتہائی سست عمل کی وضاحت کرتے ہوئے کہتے ہیں ’ہم احتیاط سے اور انتہائی آہستہ حرکت کرتے ہیں تاکہ سرنگ پھٹ نہ جائے، ایک لمحہ آپ حرکت کرتے ہیں، پھر کچھ دیر ساکت رہتے ہیں اور یہ عمل دہراتے ہیں جب تک کہ آپ چیز تک نہ پہنچ جائیں۔‘

’عام طور پر شے 20 میٹر دور ہوتی ہے اور آپ اندازہ لگا سکتے ہیں کہ اس کے قریب پہنچنے میں کتنا وقت لگ جاتا ہوگا۔‘

لیکن زیر آب بارودی سرنگوں کے خاتمے کا مشن شروع ہونے سے پہلے وٹالی کے گروپ کو مطلوبہ شے کی شناخت کرنی ہوتی ہے، کیونکہ میزائل اور دوسری جنگ عظیم کے غیر پھٹے ہوئے بم روسی سمندری بارودی سرنگوں کے ساتھ سمندر کی تہہ میں پڑے ہیں۔

کمانڈر فاکس وضاحت کرتے ہیں کہ سرنگوں کی عام طور پر دو اقسام ہوتی ہیں: کانٹیکٹ مائنز، جو ٹکرانے پر پھٹ جاتی ہیں اور انفلوئنس مائنز، جو اس وقت پھٹ جاتی ہیں جب ان کے سینسرز آواز، دباؤ یا مقناطیسیت میں تبدیلیاں محسوس کرتے ہیں۔

مقناطیسی بارودی سرنگیں خاص طور پر بڑے تجارتی جہازوں کے لیے خطرناک ہوتی ہیں۔

فاکس کہتے ہیں کہ ’مائن نیچے موجود ہے اور جب ایک بڑا جہاز قریب آتا ہے تو یہ پھٹ جاتی ہے۔‘

ان بارودی سرنگوں کو ناکارہ بنانا ایک صبر طلب کام ہے۔

فاکس مزید بتاتے ہیں کہ ’دو غوطہ خور مکمل خاموشی سے حرکت کرتے ہیں اور سانس لینے کے ایسے آلات کا استمعال کرتے ہیں جن میں کوئی بلبلے نہیں بنتے ہوں۔ ایک بار جب سرنگ کی شناخت ہو جاتی ہے تو اسے ناکارہ بنانے کا عمل اکثر اگلے دن ہوتا ہے۔‘

وٹالی کے مطابق سرنگوں میں نصب سینسرز کو پہلے کنٹرول شدہ دھماکوں کی ایک سیریز کے ذریعے غیر فعال کیا جاتا ہے، جن میں پہلا دھماکہ تقریباً 10 میٹر دور سے کیا جاتا ہے۔

یہ حتمی فیصلہ کہ بارودی سرنگ کو منتقل کرنا ہے یا اسی جگہ پر تباہ کرنا ہے ہیڈکوارٹر کرتا ہے۔

اس سرجیکل آپریشن کو کرنے میں دو دن، کئی کشتیاں، اور 20 افراد لگتے ہیں، جو روسی میزائلوں اور ڈرونز کے مسلسل خطرے میں کام کر رہے ہیں، چاہے وہ فضائی ہوں یا بحری، جو آسانی سے مائنز کو متحرک کر سکتے ہیں۔

سمندر کو بارودی سرنگوں سے پاک کرنا ناممکن نہیں، لیکن فعال لڑائی کے دوران ایسا کرنا خطرہ کافی بڑھا دیتا ہے۔

فاکس کہتی ہیں کہ ’سب کچھ غلط ہو سکتا ہے۔‘

وٹالی ان کی حمایت میں سر ہلاتے ہیں۔ وہ یاد کرتے ہوئے بتاتے ہیں کہ وہ ایک بار زیرِ سمندر کان کے قریب پہنچ رہے تھے اور اچانک ان کی سکرین پر ایک اور چیز نمودار ہوئی، جو آہستہ آہستہ اندھیرے میں حرکت کر رہی تھی۔

ان کا پہلا خیال یہ تھا کہ یہ روسی زیر ڈرون ہو سکتا ہے اور مائن پھٹ جائے گی۔

پھر انھوں نے مڑ کر دیکھا تو وہاں چار یا پانچ ڈالفن تیر رہی ہیں۔

’یہ خوبصورت تھیں مگر اس لمحے نہیں۔‘

پلیٹنچک کے مطابق سنہ 2025 میں ڈی مائننگ گروپ نے 50 سے زائد بارودری سرنگوں کو غیر فعال کیا۔

سنہ 2023 میں برطانوی بحریہ نے یوکرین کو دو بارودی سرنگیں تلاش کرنے والے جہاز تحفے میں دیے تھے جو کام کو تیز کر سکتے تھے، لیکن چونکہ بحیرہ اسود میں بڑے جہاز آسان ہدف ہیں اس لیے وہ جہاز اب بھی برطانیہ میں ہی موجود ہیں اور جنگ بندی پر اتفاق ہونے تک یوکرین نہیں آئیں گے۔

موجودہ حالات میں وٹالی کہتے ہیں کہ سمندر کی تہہ صاف کرنے میں درجنوں سال لگیں گے۔

جتنا زیادہ عرصہ جنگ جاری رہے گی خطرات کے باوجود، سمندری برآمدات سے حاصل ہونے والی آمدنی یوکرین کے لیے اتنی ہی زیادہ اہم ہوتی جائے گی۔

اسی لیے وٹالی جیسے غوطہ خور بار بار پانی میں واپس جاتے ہیں، کبھی حرکت کرتے اور کبھی ٹھہرتے ہوئے مسلسل ایک خطرے کی طرف تیرتے ہوئے۔

اضافی رپورٹنگ: لیوبوف شولودکو