آپ اس وقت اس ویب سائٹ کا ٹیکسٹ پر مبنی ورژن دیکھ رہے ہیں جو کم ڈیٹا استعمال کرتا ہے۔ مرکزی ویب سائٹ جہاں تمام تصاویر اور ویڈیوز موجود ہیں دیکھیے
انڈیا کے خلاف میچ سے دستبرداری کا پاکستان کے ٹی 20 ورلڈ کپ میں سفر پر کیا اثر پڑ سکتا ہے؟
- مصنف, منزہ انوار
- عہدہ, بی بی سی اردو
- مطالعے کا وقت: 10 منٹ
پاکستان کی جانب سے سات فروری سے شروع ہونے والے ٹی 20 ورلڈ کپ کے دوران انڈیا کے خلاف اپنا گروپ میچ کھیلنے سے انکار کے بعد شائقین کے ذہن میں یہ سوال گردش کر رہا ہے کہ اس دستبرداری کا پاکستان کے ورلڈ کپ میں سفر پر کیا اثر پڑ سکتا ہے اور اگر دونوں ٹیمیں ناک آؤٹ مرحلے تک پہنچتی ہیں تو کیا تب بھی پاکستان یہی فیصلہ کرے گا۔
انڈیا اور پاکستان کی ٹیمیں ٹی 20 ورلڈ کپ کے ابتدائی مقابلوں کے لیے بنائے گئے چار گروپس میں سے گروپ اے میں رکھی گئی ہیں۔
ان مقابلوں کے بعد ہر گروپ سے دو ٹیمیں سپر ایٹ مرحلے کے لیے کوالیفائی کریں گی۔ اگر پاکستان اور انڈیا سپر ایٹ مرحلے میں پہنچتے ہیں تو انھیں الگ الگ گروپس میں رکھا گیا ہے یعنی یہ دونوں ٹیمیں ابتدائی مرحلے کے بعد سیمی فائنل یا فائنل میں ہی مدِ مقابل آ سکتی ہیں۔
انڈیا کے خلاف میچ نہ کھیلنے کے اثرات
پاکستان کے انڈیا کے ساتھ ٹی ٹوئنٹی ورلڈ کپ میچ نہ کھیلنے کی صورت میں دونوں ٹیموں کے پوائنٹس اور رن ریٹ پر اثرات زیرِ بحث ہیں اور سوشل میڈیا صارفین ممکنہ نتائج کے حوالے سے منظر نامے تشکیل دے رہے ہیں۔
پاکستان کی دستبرداری کا نتیجہ اس میچ میں انڈیا کی فتح اور دو یقینی پوائنٹس کی شکل میں نکلے گا جبکہ پاکستان کو سپر ایٹ مرحلے میں جگہ بنانے کے لیے اپنے بقیہ میچ ایک اچھے رن ریٹ کے ساتھ جتینے کی ضرورت ہو گی۔
اگر بات رنز بنانے کی اوسط یا رن ریٹ کی ہو تو آئی سی سی کی ’پلیئنگ کنڈیشنز‘ کی شق 16.10.7 کے مطابق اگر کسی میچ میں ایک ٹیم کھیلنے سے انکار کرے تو دستبردار ہونے والی ٹیم کا نیٹ رن ریٹ متاثر ہو گا جبکہ دوسری ٹیم کے رن ریٹ پر کوئی اثر نہیں پڑے گا یعنی دستبرداری پاکستان کے اس ٹورنامنٹ میں رن ریٹ کو بھی متاثر کرے گی۔
گروپ اے میں انڈیا اور پاکستان کے علاوہ امریکہ، نمیبیا اور نیدرلینڈز کی ٹیمیں شامل ہیں۔
بی بی سی نے پاکستان کرکٹ بورڈ کے ترجمان عامر میر سے پوچھا کہ کیا ٹورنامنٹ کے اگلے مراحل کے دوران بھی پاکستانی ٹیم انڈیا کے خلاف میچ کا بائیکاٹ کرے گی تو ان کا کہنا تھا اس کا فیصلہ وقت آنے پر کیا جائے گا اور یہ فیصلہ ’ہم (پی سی بی) نہیں، حکومت کرے گی۔‘
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
آئی سی سی ٹورنامنٹس میں ٹیموں کے انکار کی تاریخ
سیاسی وجوہات کی بنیاد پر کھیلوں کے بائیکاٹ کی ایک طویل تاریخ رہی ہے اور آئی سی سی ٹورنامنٹس میں بھی اس کی کئی مثالیں ملتی ہیں۔
سیاسی وجوہات کی بنیاد پر کھیلوں کے بائیکاٹ کا ایک واقعہ 1979 میں پیش آیا جب سری لنکا نے آئی سی سی ٹرافی میں اسرائیل کے خلاف اپنا میچ چھوڑ دیا اور پوائنٹس کھو دیے۔ اس فیصلے سے سری لنکا نے ورلڈ کپ سے باہر ہونے کا خطرہ بھی مول لیا، تاہم بعد ازاں وہ 1979 کے ورلڈ کپ کے لیے کوالیفائی کرنے میں کامیاب ہو گئے۔
1980 اور 1990 کی دہائیوں میں آسٹریلیا، ویسٹ انڈیز، نیوزی لینڈ اور انگلینڈ نے سیاسی یا مقام کی وجوہات کی بنیاد پر کچھ میچوں سے دستبرداری اختیار کی۔
1982 میں ویسٹ انڈیز خواتین کی ٹیم کو 1982 کے خواتین کے ورلڈ کپ میں شرکت کے لیے مدعو کیا گیا، جس میں آسٹریلیا، انگلینڈ، انڈیا، نیدرلینڈز اور میزبان نیوزی لینڈ شامل تھے۔ لیکن ویسٹ انڈیز نے نیوزی لینڈ میں 1981 کے اپارٹائیڈ دور کے دوران جنوبی افریقہ کی رگبی ٹیم کی میزبانی کے احتجاج کے طور پر حصہ نہیں لیا۔ نیدرلینڈز بھی مالی وجوہات کی بنا پر شامل نہ ہو سکا۔ ان دونوں ٹیموں کی جگہ ایک انٹرنیشنل الیون نے لی، جس میں انڈیا، آسٹریلیا، نیوزی لینڈ، انگلینڈ اور نیدرلینڈز کے کھلاڑی شامل تھے۔
1986 میں انڈیا نے سری لنکا میں ہونے والے ایشیا کپ میں شرکت سے انکار کیا کیونکہ وہ سری لنکا میں تمل باشندوں کے ساتھ سلوک پر تحفظات رکھتے تھے۔
1988 میں انڈیا کی خواتین کی ٹیم نے ورلڈ کپ میں شرکت نہیں کی، کیونکہ ان کے داخلے کے اندراج کی باضابطہ کارروائی نہیں کی گئی تھی۔ یہ مسئلہ ’بیوروکریٹک الجھن اور سیاسی کھیل‘ کی وجہ سے پیدا ہوا۔
1990‑91 میں پاکستان نے کشمیر تنازع کی وجہ سے ایشیا کپ میں شرکت نہیں کی۔
1993 کا ایشیا کپ انڈیا اور پاکستان کے درمیان کشیدہ تعلقات اور 1993 کے بم دھماکوں کے بعد منسوخ کر دیا گیا۔
1996 میں آسٹریلیا اور ویسٹ انڈیز نے سری لنکا میں ہونے والے اپنے ورلڈ کپ میچز کے لیے سری لنکا کا دورہ منسوخ کر دیا، اس وقت وہاں خانہ جنگی جاری تھی اور کولمبو میں بم دھماکہ بھی ہوا۔ نتیجتاً، دونوں ٹیمیں گروپ میچوں سے دستبردار ہو گئیں اور بعد میں سری لنکا نے لاہور میں فائنل میں آسٹریلیا کو شکست دی۔
2003 کے کرکٹ ورلڈ کپ میں انگلینڈ نے زمبابوے کے خلاف میچ کھیلنے سے انکار کر دیا۔ اس فیصلے کی وجہ زمبابوے کے صدر رابرٹ موگابے کی حکومت کے خلاف انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کے الزامات اور سکیورٹی خدشات بتائے گئے۔ برطانوی حکومت کی جانب سے زمبابوے میں سکیورٹی صورتحال پر تحفظات ظاہر کیے جانے کے بعد انگلینڈ کے کھلاڑیوں کو ممکنہ خطرات کا اندیشہ تھا، جس کے باعث ٹیم نے میچ فورفیٹ کرنے کا فیصلہ کیا۔
اسی ٹورنامنٹ میں نیوزی لینڈ نے بھی کھلاڑیوں کی سلامتی کے خدشات کے پیشِ نظر کینیا کا سفر نہیں کیا اور اپنا میچ نہیں کھیلا۔ ابتدا میں انگلینڈ اور نیوزی لینڈ دونوں نے یہ امید ظاہر کی تھی کہ متعلقہ میچز کو کسی تیسرے ملک، خصوصاً جنوبی افریقہ، منتقل کیا جائے گا، تاہم ایسا نہ ہو سکا اور قوانین کے تحت ان میچز کے پوائنٹس زمبابوے اور کینیا کو دے دیے گئے۔
2009 میں زمبابوے نے انگلینڈ میں ہونے والے ٹی20 ورلڈ کپ کے میچ میں حصہ نہیں لیا، کیونکہ حکومتوں کے درمیان اختلافات کی وجہ سے کھلاڑیوں کو ویزا ملنے کا مسئلہ پیدا ہوا۔ اس وقت زمبابوے کرکٹ کے چیئرپرسن پیٹر چنگوکا نے کہا تھا کہ انھیں بتایا گیا ہے کہ برطانوی حکومت کھلاڑیوں کو ویزا نہیں دے سکتی اور اس صورتحال کے باعث ٹیم نے حصہ نہ لینے کا فیصلہ کیا۔ اس ٹی20 ورلڈ کپ میں سکاٹ لینڈ نے زمبابوے کی جگہ لی تھی۔
2016 میں جب ڈھاکہ میں ایک اطالوی خیراتی کارکن کو قتل کر دیا گیا تو آسٹریلیا کی انڈر 19 کرکٹ ٹیم نے بنگلہ دیش کے انڈر 19 ورلڈ کپ کے لیے سفر منسوخ کر دیا آسٹریلوی حکومت نے کرکٹ آسٹریلیا کو مشورہ دیا کہ کھلاڑیوں کو نہ بھیجا جائے کیونکہ بنگلہ دیش میں آسٹریلوی مفادات کو خطرہ تھا۔ اس کے نتیجے میں آئرلینڈ کو آسٹریلیا کی جگہ مدعو کیا گیا۔
2022 میں قرنطینہ کی پابندیوں کے باعث نیوزی لینڈ نے ویسٹ انڈیز میں ہونے والے انڈر 19 ورلڈ کپ میں حصہ نہیں لیا اور سکاٹ لینڈ نے ان کی جگہ لی۔
جب ماضی میں انڈین ٹیم کو بھی اپنی حکومت سے اجازت نہیں ملی تھی
2025 کی چیمپئنز ٹرافی پاکستان میں 29 سال بعد پہلا آئی سی سی ٹورنامنٹ ہونے والا تھا۔ نومبر 2021 میں پاکستان کو میزبان کے طور پر تصدیق مل چکی تھی، لیکن سب سے بڑا سوال یہ تھا کہ کیا انڈیا (جس نے 2008 کے بعد پاکستان میں میچ نہیں کھیلا تھا) وہاں کا سفر کرے گا یا نہیں کیونکہ دونوں ممالک کے درمیان سیاسی تعلقات کشیدہ تھے تاہم پاکستان نے 2023 کے ون ڈے ورلڈ کپ کے لیے انڈیا کا دورہ کیا تھا۔
لیکن بی سی سی آئی نے کہا کہ انڈیا اپنے چیمپئنز ٹرافی کے میچز کے لیے پاکستان نہیں جائے گا، کیونکہ انھیں حکومت سے اجازت نہیں ملی۔ دونوں بورڈز اور آئی سی سی کے درمیان کئی مذاکرات کے بعد 2024‑2027 کے دور کے لیے سمجھوتہ طے پایا: کسی بھی آئی سی سی ٹورنامنٹ میں، جو انڈیا یا پاکستان میں ہو، دوسرے ملک کے میچز نیوٹرل مقام پر کھیلیں جائیں گے۔ نتیجتاً، 2025 کے چیمپئنز ٹرافی میں انڈیا کے میچز دبئی میں کھیلے گئے۔
اسی دوران پاکستان نے خواتین کے ورلڈ کپ میں اپنے میچز نیوٹرل مقام پر کھیلنے کا فیصلہ کیا تاکہ سکیورٹی اور سیاسی مسائل کا حل نکالا جا سکے۔ انڈیا نے دبئی میں اپنا بیس بنایا جبکہ پاکستان نے تمام میچز کولمبو میں کھیلے۔
2026 میں جب بی سی سی آئی نے بنگلہ دیش کے مستفیض الرحمان کو آئی پی ایل کھیلنے سے روک دیا تو اس کے بعد بنگلہ دیش نے ٹی20 ورلڈ کپ میں حصہ نہ لینے کا فیصلہ کیا اور بی سی بی نے سکیورٹی خدشات کی بنیاد پر اپنی ٹیم انڈیا بھیجنے سے انکار کر دیا جس کے بعد آئی سی سی نے یہ کہتے ہوئے کہ ٹیم کو حفاظتی نقطہ نظر سے کوئی خطرہ نہیں، ان کی جگہ سکاٹ لینڈ کو شامل کر لیا۔
کرکٹ کے عالمی ٹورنامنٹس میں ایسا بار بار کیوں ہوا؟
کرکٹ کے مشہور صحافی، کمنٹیٹر اور تجزیہ کار جیرڈ کیمبر کے مطابق یہ کہنا کہ سیاست کرکٹ میں مداخلت نہیں کرتی، درست نہیں بلکہ سیاست تو کرکٹ کی اوپننگ کرتی ہے۔ ابتدا ہی سے سیاست نے اس کھیل کو محدود رکھا ہے اور اب ہم ایسے ورلڈ کپ کے قریب ہیں جس میں سیاست کی وجہ سے ایک ٹیم شامل نہیں ہے اور دوسری نے ایک کے خلاف میچ کھیلنے سے انکار کر دیا ہے۔
اپنے یوٹیوب چینل پر ایک ویڈیو میں جیرڈ کہتے ہیں کہ ’کرکٹ نے قومیں تعمیر کیں مگر انھی ممالک کی سیاست نے اکثر اس کھیل کو تقسیم کرنے کی کوشش کی۔ سیاست ایک عجیب شے ہے۔۔۔ سب چاہتے ہیں کہ اسے کھیل سے الگ رکھا جائے مگر یہ ایسے ہی ہے جیسے پانی سے گیلا پن الگ کرنے کی کوشش کرنا۔ سیاست کو کسی چیز سے مکمل طور پر الگ نہیں کیا جا سکتا، کیونکہ اس کی فطرت ہی یہی ہے کہ وہ ہر چیز سے جڑ جاتی ہے۔‘
وہ 2023 کی ایشز سیریز میں لارڈز کے میدان میں ایک سٹمپنگ کے واقعے کی مثال دیتے ہیں جس پر دونوں ممالک کے وزرائے اعظم (انگلینڈ اور آسٹریلیا) نے تبصرے کیے۔ یہ اس لیے نہیں تھا کہ وہ کھیل سے غیر معمولی محبت رکھتے تھے، بلکہ اس لیے کہ یہ عوامی مقبولیت حاصل کرنے کا ایک آسان ذریعہ تھا۔
اسی طرح آسٹریلیا کے سینڈ پیپر سکینڈل پر بھی ایک سابق وزیر اعظم نے غیر ضروری طور پر اسے بڑا سیاسی مسئلہ بنا دیا۔
جیرڈ کہتے ہیں کہ حالیہ برسوں میں جنوبی افریقہ کی حکومت کی کرکٹ انتظامیہ میں مداخلت، امریکہ میں ٹی ٹوئنٹی لیگ کا سیاست کی زد میں آنا اور یہ حقیقت کہ موجودہ آئی سی سی چیئرمین انڈیا کے وزیر داخلہ کے بیٹے ہیں۔۔۔۔ یہ سب اس بات کی مثالیں ہیں کہ سیاست کرکٹ کے ہر درجے میں موجود ہے۔
’یہ کھیل ہمیشہ پیسے اور سیاست کے امتزاج سے چلتا رہا ہے۔ ورلڈ کپ کا تصور بھی پیسہ کمانے کے لیے ہی سامنے آیا اور وقت کے ساتھ ہر تبدیلی نے کرکٹ میں مزید سرمایہ لانے کا راستہ نکالا۔‘
ماضی میں اگر کسی ٹیم کو کسی ملک میں کھیلنے پر اعتراض ہوتا تو وہ میچ نہ کھیلنے کا فیصلہ کر کے پوائنٹس سے دستبردار ہو جاتی تھی۔
تاہم اب کرکٹ ایک اربوں ڈالر کی صنعت بن چکی ہے۔ ایسے میں انڈیا کا پاکستان میں چیمپئنز ٹرافی کھیلنے سے انکار محض فورفیٹ تک محدود نہیں رہا۔ میچ چاہے کہیں بھی کھیلا جائے پاکستان اور انڈیا دونوں ہی ایک دوسرے کی شمولیت سے مالی فائدہ اٹھاتے ہیں۔
جیرڈ کے مطابق یہی وہ نکتہ ہے جہاں کرکٹ کی کمزور گورننس نمایاں ہو جاتی ہے۔ اگر یہ کھیل مضبوط نظم و نسق اور ایک ہی مارکیٹ پر انحصار سے آزاد ہوتا تو بہتر فیصلے ممکن تھے۔۔۔ مگر کرکٹ ہمیشہ سے متضاد مفادات کا ایک نازک اتحاد رہا ہے۔