ایران کے خلاف جنگ نے پاکستان اور جنوبی ایشیا کے دیگر ممالک میں عید کے تہوار کو کیسے مہنگائی کی نظر کر دیا؟

Shopkeeper showing a dress while two women are passing by.

،تصویر کا ذریعہGetty Images

،تصویر کا کیپشنکئی مسلمان خاندان اس وقت ایک ایسی عید منائیں گے جو حالیہ جنگوں کے سبب مہنگی ترین عیدوں میں شمار کی جا رہی ہے
    • مصنف, نادیہ سلیمان
    • عہدہ, ساؤتھ ایشیا جرنلزم ٹیم
  • مطالعے کا وقت: 10 منٹ

’میں اس عید پر اپنے چھوٹے بچوں کے لیے نئے کپڑے اور چوڑیاں نہیں خرید سکوں گا۔‘ یہ کہنا ہے جمال کا جو کہ کراچی میں ایک الیکٹریشن ہیں۔

وہ چھ افراد پر مشتمل اپنے خاندان کی کفالت کے لیے پورے سال اپنی کمائی کی ایک، ایک پائی جمع کرتے ہیں۔ لیکن عید کا تہوار ہمیشہ ان کے لیے مختلف رہا ہے۔

یہ سال کا وہ واحد وقت ہے جب وہ اپنے بچوں کو چھوٹی چھوٹی خوشیاں پوری کر پاتے ہیں۔ یہ دبئی میں مقیم ان کے بیٹے عابد کی جانب سے بھیجی گئی رقم کی وجہ سے ممکن ہو پاتا ہے۔

عابد ٹیکسی چلاتے ہیں اور عام طور پر عید کے موقع پر اپنی نوجوان بہنوں کے لیے نئے کپڑے اور تحائف خریدنے اور عید کے موقع پر خصوصی کھانا تیار کرنے کے لیے اضافی رقم گھر بھیجتے ہیں۔

ہزاروں جنوبی ایشیائی خاندانوں کے لیے بیرون ملک سے بھیجی گئی ترسیلات تہواروں کو مزید خوشگوار بنانے میں مدد دیتی ہیں۔ لیکن اس سال حالات کافی مختلف ہیں۔

ایران میں جنگ کے باعث پیدا ہونے والے وسیع تر اقتصادی مسائل کا بیرون ملک کام کرنے والے افراد کی آمدن پر منفی اثر پڑا ہے اور اکثر کے پاس گھر بھیجنے کے لیے کچھ بھی نہیں ہے۔

اس کا نتیجہ یہ نکل رہا ہے کہ بہت سے مسلم خاندانوں کو کئی برسوں میں پہلی بار اتنی مہنگی عید کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔ پاکستان، انڈیا، بنگلہ دیش، سری لنکا اور نیپال میں لوگ کھانے پینے کی اشیا کی قیمتوں میں اضافے، مہنگے کرایے اور کم آمدنی کا سامنا کر رہے، وہ بھی ایسے میں جب سال کا سب سے بڑا تہوار سر پر ہے۔

آئیے دیکھتے ہیں کہ مشرقِ وسطیٰ کی جنگ کی وجہ سے اس سال عید منانا کیوں مہنگا پڑ رہا ہے؟

A plane is flying in the sky while plumes of smoke can be seen from an ongoing fire near Dubai International Airport

،تصویر کا ذریعہAFP via Getty Images

،تصویر کا کیپشنایمریٹس کا ایک طیارہ 16 مارچ 2026 کو دبئی کے دبئی انٹرنیشنل ایئرپورٹ کے قریب لگنے والی آگ سے اٹھنے والے دھوئیں کے بادلوں سے گزر رہا ہے۔

بڑھتے سفری اخراجات

مواد پر جائیں
بی بی سی اردو اب واٹس ایپ پر

بی بی سی اردو کی خبروں اور فیچرز کو اپنے فون پر حاصل کریں اور سب سے پہلے جانیں پاکستان اور دنیا بھر سے ان کہانیوں کے بارے میں جو آپ کے لیے معنی رکھتی ہیں

سبسکرائب کرنے کے لیے کلک کریں

مواد پر جائیں

رمضان ایک ایسا مہینہ ہے جب پورے پورے خاندان اور برادریاں ایک ساتھ مل کر خوشیاں مناتی ہیں۔ دوسرے شہروں اور یہاں تک کہ بیرونِ ملک ملازمت کرنے والے افراد بھی رمضان اور عید کے لیے اپنے آبائی علاقوں میں پہنچنے کی کوشش کرتے ہیں۔

بیرون ملک بالخصوص خلیجی ممالک میں کام کرنے والے افراد کے لیے عید پر گھر پہنچنا اگر ناممکن نہیں تو مشکل ضرور ہو گیا ہے۔ پروازیں منسوخ ہو رہی ہیں، ہوائی اڈے بند ہو رہے ہیں اور جو پروازیں جا رہی ہیں ان کے کرایے بہت زیادہ ہیں۔

مثال کے طور پر دبئی سے دہلی تک کی ایک طرفہ پرواز اب تقریباً 400 ڈالر سے 2,200 ڈالر کے بیچ ہے، جبکہ دبئی سے کراچی تک کے ٹکٹ کی قیمت 700 سے 2000 ڈالر تک چلی گئی ہے۔ ایران کے تنازع کے آغاز سے قبل یہی ٹکٹیں 150 ڈالر سے کم میں دستیاب تھیں۔

اندرونِ ملک سفر کرنے والوں کے لیے صورتحال قدرے مختلف ہے۔ جہاں انڈیا میں ایندھن کے اضافی چارجز کی وجہ سے اندرون ملک ہوائی جہاز کے کرایوں میں تیزی سے اضافہ ہوا ہے وہیں پاکستان میں اندرون ملک ٹکٹ کی قیمت میں خاطر خواہ تبدیلی نہیں آئی ہے۔

تاہم ایندھن کی بڑھتی قیمتیں لوگوں کے مجموعی اخراجات میں اضافے کا باعث بنی ہیں اور بہت سے خاندانوں کے لیے پروازیں اب ان کی پہنچ سے باہر ہیں۔ اس سے ٹرین کے سفر کی اہمیت میں اضافہ ہوا تاہم ٹرین کے کرایے بھی بڑھ گئے ہیں۔

لاہور سے تعلق رکھنے والی حنا سلیم جیسے لوگوں کے لیے ہوائی جہاز کے ٹکٹ پہلے ہی دسترس سے باہر تھے، جس کی وجہ سے وہ عموماً اپنے شوہر اور دو بیٹوں کے ساتھ ٹرین میں سفر کرتی تھیں۔

انھوں نے بی بی سی کو بتایا ’چار افراد کے خاندان کے لیے ٹرین سب سے بہترین آپشن ہے، لیکن اس سال یہ بھی اور مہنگا ہو گیا ہے۔‘

حنا ہر سال اپنے سسرال والوں کے ساتھ عید منانے کے لیے کراچی جاتی ہیں۔

Train at railway station while many are trying to get onboard with their luggage

،تصویر کا ذریعہQaiser Khan/Anadolu via Getty Images

،تصویر کا کیپشن’چار افراد کے خاندان کے لیے، ٹرین سب سے بہترین آپشن ہے، لیکن اس سال یہ بھی اور مہنگا ہو گیا ہے‘

اب یہ زیادہ اخراجات حنا کے جیسے خاندانوں کے لیے بوجھ بن گئے ہیں۔

اس کی وجہ یہ ہے کہ پاکستان نے ایندھن کی قیمتوں میں اضافے کے بعد ریلوے کے کرایوں میں پانچ سے 10 فیصد اضافہ کر دیا ہے۔

اس کا مطلب ہے کہ حنا کا خاندان زیادہ آرام دہ اے سی کلاس کے بجائے اب اکانومی کلاس میں لمبا سفر کرے گا۔

لاہور سے کراچی یک طرفہ اے سی کلاس کا کرایہ پہلے تقریباً 8,000 روپے تھا، تاہم قیمتیں بڑھنے کے بعد اب تقریبا 8,800 روپے ہو گیا ہے جبکہ لاہوراور کراچی روٹ پر اکانومی کا کرایہ 2,950 روپے سے بڑھ کر تقریباً 3,095 روپے ہو گیا ہے۔

حنا کے چار رکنی خاندان کے لیے یہ اضافہ جلد ہی بڑا بوجھ بن جاتا ہے۔ اے سی کے بجائے اکانومی کلاس میں جانا بڑھتے ہوئے عید کے اخراجات کو سنبھالنے کے چند عملی طریقوں میں سے ایک ہے۔

حنا نے وضاحت کی کہ ’ہم جانتے ہیں کہ یہ عید مہنگی ہوگی، جیسے کھانے پر زیادہ خرچ اور رشتہ داروں سے ملنے پر زیادہ اخراجات، اس لیے ہم جتنا ہو سکے پیسہ بچانا چاہتے ہیں۔‘

کھانے پینے کی اشیا کی بڑھتی قیمتیں

پورے ماہ کے روزوں کے بعد عید ایک پرتکلف تہوار ہوتا ہے جب زیادہ تر دسترخوانوں پر گوشت اور مٹھائیاں موجود ہوتی ہیں۔

تاہم خوراک سے لے کر ایندھن تک ہر چیز کی قیمتیں تیزی سے بڑھنے کے باعث خاندان اب سادہ مینو اور نسبتاً کم پرتکلف تقریبات کی طرف جا رہے ہیں۔

ایران نے آبنائے ہُرمز میں ٹریفک پر کنٹرول سخت کر دیا ہے جس کی وجہ سے تیل اور گیس لے جانے والے جہاز اور دیگر اشیا بردار بحری جہاز یا تو بندرگاہوں پر پھنسے ہوئے ہیں یا لمبے راستوں پر موڑے جا رہے ہیں۔ اس سے سفر کے وقت اور اخراجات دونوں میں نمایاں اضافہ ہو گیا ہے۔

Line chart of Pakistan's weekly inflation up by 1.89 percent for the week ending 11 March 2026

،تصویر کا ذریعہPakistan Bureau of Statistics

،تصویر کا کیپشنپاکستان میں ہفتہ وار مہنگائی 11 مارچ 2026 کو ختم ہونے والے ہفتے میں 1.89 فیصد بڑھ گئی ہے

اس صورتحال نے دنیا بھر میں ٹرانسپورٹ، کھانے پکانے کے تیل، بجلی کی پیداواری لاگت، شپنگ اور خوراک کی تیاری سمیت ہر چیز کے اخراجات میں اضافہ کر دیا ہے۔

توانائی کی درآمد پر بہت زیادہ انحصار کرنے والا جنوبی ایشیا سب سے زیادہ متاثر ہونے والے خطوں میں شامل ہے۔

پاکستان میں مرغی کی قیمت ایک ہی ہفتے میں تقریباً 10.5 فیصد بڑھ گئی، جو تقریباً 400 روپے فی کلو سے بڑھ کر 440 روپے تک جا پہنچی ہے جبکہ سرکاری طور پر اضافہ ایک فیصد سے بھی کم بتایا گیا ہے۔

پاکستان کا ہفتہ وار مہنگائی کا انڈیکس بھی 11 مارچ 2026 کو ختم ہونے والے ہفتے میں 1.89 فیصد بڑھ گیا۔ پاکستان بیورو آف سٹیٹسٹکس کی رپورٹ کے مطابق اس کی بڑی وجہ مرغی، ایل پی جی اور پٹرول کی قیمتوں میں اضافہ تھا۔

خطے بھر میں کھانے پکانے والی گیس بھی مہنگی ہو رہی ہے۔

انڈیا اور نیپال میں حالیہ ایل پی جی کی کمی نے ریستورانوں کو مجبور کر دیا ہے کہ وہ مینو کم کریں، ترکیبیں بدلیں یا سادہ پکوان تیار کریں۔

پاکستان میں ایل پی جی کی قیمتیں گو کہ سرکاری طور پر نہیں بڑھائی گئیں، تاہم اوپن مارکیٹ میں 10 کلو کا سلینڈر تقریباً 100 روپے زیادہ میں فروخت ہو رہے ہیں۔

ریستوران اور چھوٹی کھانے کی جگہیں مقبول پکوانوں کی قیمتیں بڑھا رہی ہیں اور خاندان زیادہ سادہ عید کی تقریبات کی طرف جا رہے ہیں۔

In India and Nepal, recent LPG shortages have forced restaurants to trim menus, adjust recipes or switch to simpler preparations

،تصویر کا ذریعہGetty Images

،تصویر کا کیپشنانڈیا اور نیپال میں حالیہ ایل پی جی کی کمی نے ریستورنٹس کو مینو کم کرنے پر مجبور کر دیا ہے

خریداری میں کمی

پُر رونق بازار، سیل اور آخری وقت کی خریداری کے سودے ہمیشہ سے عید کے جوش و خروش کا حصہ رہے ہیں۔ روایتاً دکانوں میں عید سے پہلے اچانک مانگ بڑھ جاتی ہے۔

دوسری جانب اس سال پاکستان بھر کے بازاروں میں کچھ رش تو ہے، مگر کاروبار کہیں کم ہے۔

دکانداروں کا کہنا ہے کہ خریداروں سے زیادہ صرف دیکھنے والے ہیں کیونکہ لوگ سخت بجٹ پر عمل پیرا ہیں۔

عید سے پہلے بازار تک پہنچنا بھی مہنگا ہوتا جا رہا ہے۔ رکشہ، ٹیکسی اور بس چلانے والوں کا کہنا ہے کہ ان کے اخراجات بڑھ گئے ہیں اور کئی نے کرایے پہلے ہی بڑھا دیے ہیں

پاکستان بھر میں ٹرانسپورٹ کے کرایے ایندھن کی قیمتوں میں تیز اضافے کے بعد 20 فیصد تک بڑھ گئے ہیں جو ایران تنازع کے بعد اوگرا کی دو بار کی نظرثانی کے نتیجے میں ہوا۔

فروری کے آخر میں تقریباً 258 روپے فی لیٹر پٹرول کی قیمت پہلے آٹھ روپے بڑھی اور پھر سات مارچ کی ایڈجسٹمنٹ میں 55 روپے کا اضافہ ہوا جس سے قیمت 321.17 روپے فی لیٹر تک جا پہنچی اور ملک بھر میں سفری اخراجات بڑھ گئے۔

بڑے شہروں میں مسافر پہلے ہی دباؤ محسوس کر رہے ہیں کیونکہ چھوٹی مسافت بھی چند ہفتے پہلے کے مقابلے میں زیادہ مہنگی ہو گئی ہے۔

گھر والوں کے لیے خریداری، بازار کے چکر، ضروری کام اور بڑھتے ہوئے سفر کے اخراجات عید کی تیاریوں کو نمایاں طور پر زیادہ مہنگا بنا رہے ہیں۔

Shopkeepers say there are more browsers than buyers, as families stick to strict budgets.

،تصویر کا ذریعہGetty Images

،تصویر کا کیپشندکانداروں کا کہنا ہے کہ خریداروں سے زیادہ صرف دیکھنے والے آ رہے ہیں

جنوبی ایشیائی خاندانوں پر ترسیلات کا دباؤ

ترسیلاتِ زر لاکھوں جنوبی ایشیائی خاندانوں اور ان کی قومی معیشتوں کے لیے ریڑھ کی ہڈی کی حیثیت رکھتی ہیں۔

پاکستان میں 2024–25 کے دوران ترسیلاتِ زر کا حجم مجموعی قومی پیداوار (جی ڈی پی) کا تقریباً 9.4 فیصد سے 10 فیصد تھا، جبکہ بنگلہ دیش میں یہ شرح 6 فیصد سے 7 فیصد رہی۔

یہ فرق واضح کرتا ہے کہ پاکستانی خاندان بیرونِ ملک سے آنے والی رقوم پر کس قدر شدید انحصار کرتے ہیں۔

Across the Gulf region around 18.1 million South Asian migrants live and work

،تصویر کا ذریعہGetty Images

،تصویر کا کیپشنخلیجی ممالک میں اس وقت تقریباً 1 کروڑ 81 لاکھ جنوبی ایشیائی تارکین وطن رہتے اور کام کرتے ہیں

خلیجی خطے میں اس وقت تقریباً ایک کروڑ 81 لاکھ جنوبی ایشیائی تارکین وطن رہتے اور کام کرتے ہیں۔

ان کی بھیجی ہوئی رقوم پاکستان، انڈیا، بنگلہ دیش، نیپال اور سری لنکا جیسے ممالک میں لاکھوں خاندانوں کے لیے خوراک، کرایے، تعلیم اور علاج کے اخراجات پورے کرنے کا بنیادی ذریعہ ہیں۔

کسی بھی وجہ سے معمولی تاخیر بھی ان خاندانوں پر فوری اثر ڈالتی ہے۔

جمال کے لیے اس کا مطلب یہ ہے کہ انھیں اپنی بیٹیوں کو بتانا پڑے گا کہ اس عید پر شاید نئے کپڑے نہ مل سکیں اور لاکھوں دوسرے خاندانوں کے لیے بھی یہ عید کچھ زیادہ پررونق نہیں بلکہ ایک اداس موقع ثابت ہو سکتی ہے جس پر سینکڑوں میل دور جاری تنازع کا سایہ ہے۔