آپ اس وقت اس ویب سائٹ کا ٹیکسٹ پر مبنی ورژن دیکھ رہے ہیں جو کم ڈیٹا استعمال کرتا ہے۔ مرکزی ویب سائٹ جہاں تمام تصاویر اور ویڈیوز موجود ہیں دیکھیے
ایئرفورس کے زیر زمین سینٹر سے حملوں کی کمانڈ: ایران پر اسرائیلی حملوں سے متعلق اب تک ہم کیا جانتے ہیں؟
اسرائیلی فضائیہ کے طیاروں نے جمعہ اور سنیچر کی درمیانی شب ایران میں موجود عسکری تنصیبات کو نشانہ بنایا ہے۔
اسرائیل کا دعویٰ ہے کہ ان حملوں کے ذریعے ایران نے اسرائیل پر حال ہی میں کیے گئے میزائل حملوں کی قیمت ادا کی ہے۔ اسرائیلی فوج کے ترجمان کے مطابق ’یہ ایک واضح پیغام ہے کہ جو لوگ اسرائیلی ریاست کے لیے خطرہ بنیں گے انھیں اس کی بھاری قیمت چکانی پڑے گی۔‘
ایرانی فوج اسرائیلی حملوں میں اب تک اپنے چار فوجیوں کی ہلاکت کی تصدیق کر چکی ہے۔
بی بی سی نے اس تفصیلی رپورٹ میں ان حملوں سے متعلق چند اہم سوالات کا جواب دینے کی کوشش کی ہے۔
اسرائیل کے حملے کا آغاز کب ہوا؟
ایران کے سرکاری خبر رساں ادارے ’ارنا‘ کے مطابق ملک کے مختلف حصوں میں جمعہ اور سنیچر کی درمیانی شب مقامی وقت کے مطابق دو بج پر 15 منٹ پر دھماکوں سے ’مِلتی جُلتی‘ آوازیں سُنی گئی تھیں۔
ابتدائی طور پر ایران نے اسرائیلی حملوں کی تصدیق نہیں کی تاہم ایران میں سوشل میڈیا پر صارفین اِن دھماکوں سے متعلق آگاہ کرتے رہے۔
ایک صارف نے بی بی سی کو بتایا کہ انھوں نے جنوبی تہران میں امام خمینی ایئرپورٹ کے قریب دھماکوں کی آوازیں سُنی ہیں۔
ایک اور صارف کا کہنا تھا کہ ’تہران کے لوگ رات 2 بج کر 14 منٹ پر (پاکستان کے مقامی وقت کے مطابق رات تین بج کر 45 منٹ پر) یکے بعد دیگرے تین دھماکوں کی خوفناک آواز سُن کر بیدار ہوئے‘ جبکہ تہران میں موجود ایک اور شخص نے لکھا کہ ’ہم نے سات خوفناک دھماکوں کی آوازیں سُنی ہیں۔‘
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
دھماکوں کی یہ ابتدائی آوازیں سُنائی دیے جانے کے کچھ ہی دیر بعد اسرائیلی فوج کے ترجمان نے سماجی رابطے کی ویب سائٹ ایکس کے ذریعے آگاہ کیا کہ ’اسرائیل کے خلاف ایرانی حکومت کے مہینوں سے جاری حملوں کے جواب میں اِس وقت اسرائیلی کی دفاعی افواج ایران میں عسکری اہداف پر حملے کر رہی ہے۔‘
ایران میں کن مقامات اور تنصیبات کو نشانہ بنایا گیا؟
ایران پر کیے گئے حملوں کا دورانیہ لگ بھگ چار گھنٹوں پر محیط تھا۔
اسرائیل کا کہنا ہے کہ اس کی دفاعی افواج نے انٹیلیجنس کی بنیاد پر سنیچر کے روز ایران پر فضائی حملے کیے اور اس کے طیاروں نے میزائل بنانے والے ایرانی تنصیبات کو نشانہ بنایا۔
اسرائیلی فوج نے مزید کہا کہ جن میزائل تنصیبات کو نشانہ بنایا گیا وہاں وہ میزائل بنائے جاتے تھے جو ایران نے حالیہ مہینوں میں اسرائیل پر داغے ہیں۔
اسرائیلی فوج کے بیان میں مزید کہا گیا ہے کہ زمین سے فضا میں مار کرنے والے میزائلوں اور اضافی ایرانی فضائی صلاحیتوں کو بھی نشانہ بنایا گیا۔
دوسری جانب ایران نے اپنے ’اڈوں‘ پر ہونے والے اسرائیلی حملوں کی تصدیق تو کی ہے تاہم اس سے ہونے والے نقصانات کے بارے میں کچھ نہیں بتایا۔
ایران کی دفاعی افواج نے اپنے ایک بیان میں کہا کہ تہران، خوزستان اور ایلام میں فوجی اڈوں پر حملے ہوئے ہیں۔
اسرائیلی فوج کے ترجمان نے مزید کہا کہ اسرائیل نے ایران میں نشانہ بنائی گئی تنصیبات کا چناؤ ’بہت سے دستیاب اہداف‘ میں سے کیا۔ انھوں نے مزید کہا کہ ضرورت پڑنے پر مزید اہداف کا چناؤ کر کے ان پر حملہ کیا جا سکتا ہے۔
اس سے زیادہ تفصیلات نہ تو فی الحال اسرائیل نے شیئر کی ہیں اور نہ ہی ایران نے۔
ان حملوں میں کتنا نقصان ہوا؟
اگرچہ ایران نے اسرائیلی حملوں کی تصدیق کی ہے لیکن ابتدائی طور پر ریاستی میڈیا نے اِن حملوں کو ’ناکام‘ قرار دیتے ہوئے اس کے نتیجے میں ہونے والے کسی بھی نقصان سے متعلق خبروں کی تردید کی۔
ایران کی فوج نے اپنے ایک بیان میں کہا ہے کہ تہران، خوزستان اور ایلام میں فوجی اڈوں پر حملے ہوئے ہیں۔
ایران کی سرکاری خبر رساں ایجنسی ’ارنا‘ کے مطابق دھماکوں کی ابتدائی آوازوں کے بعد ایران کا دفاعی میزائل شکن نظام فعال بنا دیا گیا تھا جس نے کامیابی کے ساتھ اسرائیلی حملوں کو ناکام بنایا تاہم بعد ازاں ایرانی فوج نے کہا کہ ’اسرائیلی حملوں کو کامیابی کے ساتھ روکا گیا تاہم چند مقامات پر ’محدود نقصان‘ ہوا۔‘
ایران کی جانب سے اس ’محدود نقصان‘ کی کوئی تفصیلات فراہم نہیں کی گئی ہیں۔
بی بی سی فارسی کے نمائندے بہمان کلباسی کا کہنا ہے کہ فی الوقت ایران کا ریاستی میڈیا ان حملوں کو ناکام قرار دے رہا ہے اور کسی بھی نقصان کی تردید کر رہا ہے۔
کلباسی کے مطابق ’ایران اور اس سے متعلقہ اہداف پر کسی بھی حملے کے بعد ایران کا عمومی ردعمل ایسا ہی ہوتا ہے۔‘
کلباسی کا کہنا ہے کہ اسرائیلی حملوں کے بعد ایرانی ردعمل یہ ظاہر کرتا ہے کہ ایران اب یہ معاملہ ختم کرنا چاہتا ہے۔ تاہم کلباسی کے مطابق اگر آگے چل کر ایران میں ہلاکتوں اور عسکری تنصیبات کو پہنچنے والے نقصانات کے ثبوت سامنے آ جاتے ہیں تو ایران کی یہ سٹریٹجی متاثر ہو سکتی ہے۔
ایران پر اسرائیلی حملوں میں کن ممالک کی فضائی حدود استعمال ہوئی؟
بی بی سی فارسی کے ژیار گُل کے مطابق خلیج فارس کے ممالک اور اردن ماضی میں یہ اعلان کر چکے ہیں کہ وہ اپنی فضائی حدود ایران کے خلاف استعمال نہیں ہونے دیں گے۔ اس کے بعد گذشتہ مہینوں میں یہ قیاس آرائیاں کی جاتی رہی ہیں کہ آخر اسرائیل کس ملک کی فضائی حدود استعمال کرے گا۔
اگر سنیچر کو ایران میں اسرائیلی حملوں کا نشانہ بننے والے مقامات کو دیکھا جائے تو یہ واضح ہو جاتا ہے کہ اسرائیل نے ایران پر حملہ کرنے کے لیے شام اور عراق کی فضائی حدود کا استعمال کیا ہے۔
سنیچر کی صبح شام کا فضائی دفاعی نظام کافی متحرک تھا۔ ایسا لگتا ہے جیسے اسرائیلی لڑاکا طیارے پہلے شام کی فضائی حدود سے گزرے اور پھر انھوں عراق کی فضائی حدود بھی استعمال کی۔
اسرائیل نے ایران میں تہران، ایلام اور خوزستان کے فوجی اڈوں کو نشانہ بنایا ہے۔ یہ تمام علاقے عراقی سرحد سے قریب ہیں۔
ماضی میں بھی اسرائیلی اور امریکی فضائیہ شام اور عراق کی فضائی حدود کی خلاف ورزیاں کرتی رہی ہیں۔ شاید اسی سبب اسرائیل نے ان ہی دونوں ممالک کی فضائی حدود کا استعمال کیا تاکہ کوئی نیا سفارتی تنازع کھڑا نہ ہو۔
ژیار گُل کے مطابق متعدد جائزوں سے معلوم ہوتا ہے کہ ایران کا فضائی دفاعی نظام اور میزائل سسٹم اسرائیل کے اہداف میں سے ایک تھا۔
ایران کے دفاعی نظام کو نشانہ بنانے کا مقصد یہ پیغام دینا ہو سکتا ہے کہ جب اسرائیل اپنے دشمن کے میزائل ڈیفینس سسٹم کو نشانہ بنا سکتا ہے تو دیگر مقامات کو نشانہ بنانا بھی اس کے لیے مشکل نہیں ہے۔
ماضی کے مقابلے میں اسرائیل نے پہلی مرتبہ ایران پر حملوں کی ذمہ داری قبول کی ہے
دہائیوں سے ایران اور اسرائیل ایک دوسرے کے خلاف کارروائیاں کر رہے ہیں اور آج کے حملے سے قبل بھی حالیہ مہینوں میں دونوں ممالک نے ایک دوسرے کی سرزمین پر بھی حملے کیے ہیں۔
اس سے قبل 2 اکتوبر کو ایران نے اسرائیل پر فضائی حملہ کیا تھا اور اسرائیلی فوج نے تصدیق کی تھی کہ اس حملے میں ان کے فضائی اڈوں کو نشانہ بنایا گیا تھا۔
تاہم اسرائیلی فوج نے کہا تھا کہ اس حملے میں فضائی اڈے پر موجود طیاروں، ڈرونز اور دیگر اہم تنصیبات کو کوئی نقصان نہیں پہنچا۔
ایرانی سرزمین پر اس سے قبل بھی حملے ہو چکے ہیں لیکن اسرائیل نے کبھی ان حملوں کی براہ راست ذمہ داری قبول نہیں کی ہے۔
رواں برس اپریل میں بھی ایران کے علاقے اصفہان میں فضائی حملے ہوئے تھے لیکن اس حملے پر تاحال اسرائیل نے تبصرہ نہیں کیا ہے۔ تاہم امریکی حکام نے ایران پر اس اسرائیلی حملے کی تصدیق کی تھی۔
جب اسرائیل کی جانب سے حماس، حزب اللہ، حوثیوں یا عراق مسلح گروہوں کے خلاف کارروائی کی جاتی ہے تو وہ فوراً اس کی ذمہ داری قبول کر لیتے ہیں۔
تاہم چاہے وہ ایرانی سائنس دان محسن فخری زادہ کا قتل ہو، جوہری تنصیبات کے خلاف کارروائی ہو یا شام میں پاسدارانِ انقلاب کے کمانڈروں کی ہلاکت، اسرائیل ان معاملات میں اپنے کردار کے حوالے سے خاموش ہی رہتا ہے۔
رواں برس اپریل میں دمشق میں ایرانی سفارتی عمارت پر حملہ ہوا تھا جس میں پاسدارانِ انقلاب کے اہلکار بھی ہلاک ہوئے تھے۔ تاہم اسرائیل نے آج تک اس واقعے پر بھی کوئی تبصرہ نہیں کیا ہے۔
اس کے بعد ایران نے بھی اسرائیل پر جوابی میزائل حملے کیے تھے۔
اگست میں حماس کے رہنما اسماعیل ہنیہ کو تہران میں قتل کیا گیا تھا لیکن اسرائیل نے اس حملے میں اپنے ملوث ہونے یا نہ ہونے کی تاحال تصدیق نہیں کی ہے۔
تاہم سنیچر کو اسرائیل کا ایران پر حملہ ماضی کے حملوں کے مقابلے میں اس لحاظ سے مختلف تھا کہ جب سنیچر کو تہران کے اطراف متعدد دھماکوں کی آواز سُنی گئی تو اسرائیلی فوج نے فوراً ہی تصدیق کر دی کہ انھوں نے ایران پر حملہ کیا ہے۔
اسرائیلی فوج کے ترجمان ڈینیئل ہگاری کا کہنا تھا کہ اسرائیل نے ایران میں عسکری اہداف کو نشانہ بنایا ہے۔
ایران کا ردعمل کیا ہو سکتا ہے؟
مشرقِ وسطیٰ میں بی بی سی کے علاقائی مدیر سبیچیئن اشعر کا کہنا ہے کہ ان حملوں پر ایرانی ردعمل کا انحصار ایرانی قیادت پر ہے کہ وہ کس طرح اس کا جواب دینا چاہے گی۔
ایران کی نیم سرکاری خبر رساں ادارے ’تسنیم‘ نے کہا کہ اِس میں کوئی شک نہیں کہ اسرائیل کو مناسب ردعمل کا سامنا کرنا پڑے گا۔
تاہم اب تک ایران کے رہبر اعلیٰ اور سرکاری حکام نے اس ضمن میں کوئی بیان نہیں دیا جبکہ امریکہ نے ایران کو ممکنہ ردعمل کے حوالے سے خبردار کیا ہے۔
اس تمام تر صورتحال پر بی بی سی کے سکیورٹی نامہ نگار فرینک گارڈنر کا تجزیہ ذیل میں پیش کیا جا رہا ہے۔
خطے میں ہر کوئی جانتا تھا کہ اسرائیل کا جواب آنے والا ہے لیکن کم از کم کچھ ممالک کو یہ توقع تھی کہ اسرائیل امریکی صدارتی انتخابات کے بعد تک انتظار کرے گا۔
امریکہ کے خلیجی عرب اتحادیوں کے پاس گھبرانے کی اب بہت سے وجوہات ہیں، خاص طور پر آج صبح جب وہ اس انتظار میں ہیں کہ ایران کس طرح اسرائیل کوجواب دیتا ہے۔
دوسری جانب امریکہ نے یہ پیغام دیا ہے کہ وہ ایران پر ہونے والے اس حملے میں ملوث نہیں تھا لیکن اپنے تھاڈ ایئر ڈیفنس سسٹم کو چلانے کے لیے اسرائیل میں تقریبا 100 فوجی اہلکاروں کو تعینات کرنے کے بعد امریکہ اب کسی بھی ممکنہ ایرانی جوابی کارروائی کے خلاف اسرائیل کے دفاع میں مدد کرنے میں شامل ہو سکتا ہے۔
دریں اثنا خلیجی عرب حکومتیں جو اس تنازعے سے دور رہنے کی خواہاں ہیں، انھوں نے حال ہی میں ایران سے کہا ہے کہ وہ اپنے ممالک کو ایران پر اسرائیلی حملوں میں استعمال نہیں ہونے دیں گے۔