انڈیا کی نئی ووٹر لسٹوں میں ’مردہ ووٹر، ڈبل ووٹ اور مسلمانوں کا اخراج‘: ’یہ دنیا کی سب سے بڑی جمہوریت پر دھبہ ہے‘

بہار میں اب سات کروڑ 24 لاکھ ووٹرز ہیں جو پہلے کے مقابلے میں 65 ہزار کم ہیں

،تصویر کا ذریعہGetty Images

،تصویر کا کیپشنبہار میں ووٹر فہرستوں کی نظر ثانی کے بعد 65 لاکھ ووٹوں کو خارج کر دیا گیا ہے
    • مصنف, گیتا پانڈے
    • عہدہ, بی بی سی نیوز

چند روز پہلے انڈیا کے الیکشن کمیشن نے شمالی ریاست بہار میں ہونے والے انتخابات سے قبل عبوری ووٹر لسٹیں جاری کی تھیں۔

ریاست بہار میں تین ماہ بعد یعنی نومبر 2025 میں اہم انتخابات ہونے والے ہیں۔ اور اسی سلسلے میں عبوری ووٹر لسٹیں الیکشن کمیشن کی جانب سے ایک ماہ تک کی جانے والی نظرِ ثانی کے بعد شائع کی گئی تھیں۔

لیکن اپوزیشن جماعتوں اور الیکشن سے متعلقہ معاملات پر نظر رکھنے والی تنظیموں کا کہنا ہے کہ یہ عمل جلد بازی میں مکمل کیا گیا ہے جبکہ بہار سے تعلق رکھنے والے کئی ووٹرز نے بی بی سی کو بتایا کہ ان فہرستوں میں ناصرف غلط تصویریں شامل کی گئی ہیں بلکہ کثیر تعداد میں وہ افراد بھی ان لسٹوں کا حصہ ہیں جو وفات پا چکے ہیں۔

یاد رہے کہ گذشتہ دنوں حزب اختلاف کے رہنما راہل گاندھی نے ایک پریس کانفرنس میں بی جے پی حکومت پر ’ووٹ چوری‘ کے الزامات لگائے اور الیکشن کمیشن کی فہرستوں میں موجود خامیوں کو اجاگر کیا۔ انھوں نے ایک ہی ایڈریس پر درجنوں افراد کے ووٹ رجسٹر ہونے اور اسی ایڈریس پر کئی ذات اور کئی مذاہب کے لوگوں کے اندراج کے حوالے سے بات کی۔

راہل گاندھی کی اس پریس کانفرنس کے بعد سے سوشل میڈیا پر ’ووٹ چوری‘ اور ’ووٹ چوری ایکسپوزڈ‘ جیسے ہیش ٹیگ مسلسل گردش کر رہے ہیں اور لوگ مبینہ انتخابی بے ضابطگیوں کو اجاگر کرنے کے لیے ووٹر فہرستوں میں موجود تضادات اور خامیوں کو پوسٹ کر رہے ہیں۔۔

آج (11 اگست) کو اپوزیشن ارکانِ پارلیمنٹ نے ’ووٹ چوری‘ کے معاملے پر پارلیمنٹ سے الیکشن کمیشن کے دفتر تک احتجاجی مارچ بھی کیا جس کے دوران راہل گاندھی سمیت متعدد اراکین پارلیمان کو حراست میں لیا گیا۔

اس کے علاوہ آج ہی کانگریس کے صدر ملکارجن کھرگے ’انڈیا الائنس‘ کے اراکین پارلیمنٹ کے لیے ایک عشائیہ کا اہتمام کریں گے جس کے دوران بہار میں ووٹر لسٹوں پر جامع نظرثانی اور مبینہ ’انتخابی دھاندلی‘ کے خلاف اپوزیشن جماعتوں کو متحد کرنے کی کوششوں پر بات چیت کی جائے گی۔

ایس آئی آر کے اعداد و شمار

لوگ ایس آئی آر مطلب ووٹ چوری کے بینر تلے اس کے خلاف احتجاج کر رہے ہیں

،تصویر کا ذریعہGetty Images

،تصویر کا کیپشناپوزیشن جماعتیں اس مبینہ دھاندلی پر سراپہ احتجاج ہیں

الیکشن کمیشن کی جانب سے ووٹروں کے جامع نظرِ ثانی کے اس خصوصی عمل کو ’ایس آئی آر‘ کہا گیا ہے اور یہ 25 جون سے 26 جولائی تک جاری رہا تھا۔

مواد پر جائیں
بی بی سی اردو اب واٹس ایپ پر

بی بی سی اردو کی خبروں اور فیچرز کو اپنے فون پر حاصل کریں اور سب سے پہلے جانیں پاکستان اور دنیا بھر سے ان کہانیوں کے بارے میں جو آپ کے لیے معنی رکھتی ہیں

سبسکرائب کرنے کے لیے کلک کریں

مواد پر جائیں

کمیشن کے مطابق، اس دوران اہلکاروں نے ریاست بہار کے درج شدہ 7 کروڑ 89 لاکھ ووٹروں کے گھروں میں جا کر اُن کا ڈیٹا چیک کیا۔ الیکشن کمیشن نے کہا کہ آخری بار ووٹر لسٹوں پر اس نوعیت کی نظرِ ثانی سنہ 2003 میں ہوئی تھی اور اب انھیں اپ ڈیٹ کرنا ضروری تھا۔

نئی عبوری فہرست میں 7 کروڑ 24 لاکھ نام ہیں، یعنی پچھلی فہرست سے 65 لاکھ کم۔ الیکشن کمیشن کا کہنا ہے کہ اُن 65 لاکھ افراد میں سے 22 لاکھ فوت ہو چکے ہیں، سات لاکھ ووٹر ایسے تھے جن کے نام دو بار درج تھے جبکہ اس دورانیے میں 36 لاکھ ووٹر بہار چھوڑ کر دوسری ریاستوں میں منتقل ہوئے اور وہیں اپنا ووٹ رجسٹر کروایا۔

اس فہرستوں میں درستگی کے لیے درخواستیں یکم ستمبر تک دی جا سکتی ہیں، اور اب تک 1 لاکھ 65 ہزار سے زیادہ درخواستیں موصول ہو چکی ہیں۔ الیکشن کمیشن نے بتایا کہ ایسا ہی جائزہ پورے ملک میں تقریباً ایک ارب ووٹروں کے ڈیٹا کی جانچ کے لیے کیا جائے گا۔

لیکن اپوزیشن جماعتوں نے الزام لگایا ہے کہ کمیشن نے جان بوجھ کر بہت سے ووٹروں کے نام فہرستوں سے نکالے ہیں، خاص طور پر ان مسلمان ووٹرز کے جو بہار کی چار سرحدی اضلاع میں بڑی تعداد میں رہتے ہیں۔ اپوزیشن کا الزام ہے کہ یہ سب اس لیے کیا گیا تاکہ وزیرِ اعظم نریندر مودی کی بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) کو انتخابات میں فائدہ ہو۔

الیکشن کمیشن اور بی جے پی نے یہ الزامات مسترد کیے ہیں۔ بی بی سی کے سوالات پر الیکشن کمیشن نے 24 جون کا اپنا حکم نامہ اور 27 جولائی کا پریس نوٹ شیئر کیا، جس میں کہا گیا کہ ہر اہل ووٹر کو فہرست کا حصہ بنانے کی کوشش کی گئی ہے۔

انڈین الیکشن کمیشن نے حذف شدہ ناموں کی فہرست یا مذہب کے حساب سے ووٹرز کی کوئی تفصیل جاری نہیں کی، اس لیے اپوزیشن کے خدشات کی تصدیق ممکن نہیں۔

انگریزی روزنامہ ’ہندستان ٹائمز‘ کے ایک جائزے میں معلوم ہوا کہ بہار کے ضلع کشنگنج، جہاں سب سے زیادہ مسلمان آباد ہیں، میں فہرستوں سے ووٹ نکالنے کی شرح سب سے زیادہ تھی، لیکن دیگر مسلم اکثریتی علاقوں میں ایسا نہیں ہوا۔

’جمہوریت کے لیے خطرہ‘

ووٹ چوری بند کرو کے نعرے بھی ہندی زبان میں لکھے نظر آئے

،تصویر کا ذریعہHindustan Times via Getty Images)

،تصویر کا کیپشن’ووٹ چوری بند کرو‘ کے نعرے بھی ہندی زبان میں لکھے نظر آئے

اپوزیشن ارکان نے اس صورتحال کو جمہوریت کے لیے خطرہ قرار دے کر پارلیمنٹ میں اس پر بحث کا مطالبہ کیا ہے۔ پارلیمان کے باہر موجود مظاہرین نے اس موقع پر ’مودی مردہ باد‘، ’ایس آئی آر واپس لو‘ اور ’ووٹ چوری بند کرو‘ جیسے نعرے لگائے۔

ان فہرستوں کے خلاف سپریم کورٹ سے بھی رجوع کیا گیا ہے جو اس معاملے کی سماعت کر رہا ہے۔ الیکشن کے اصلاحاتی ادارے ’اے ڈی آر‘ نے اس کے وقت پر سوال اٹھایا ہے۔

اے ڈی آر کے جگدیپ چھوکر نے بی بی سی سے کہا کہ ’یہ عمل اسمبلی انتخابات سے صرف تین ماہ پہلے ہو رہا ہے اور اسے مکمل کرنے کے لیے کافی وقت نہیں دیا گیا۔‘

ان کے مطابق، رپورٹس سے واضح ہے کہ ڈیٹا اکٹھا کرنے میں بے ضابطگیاں اور سنگین غلطیاں ہوئیں۔

عدالت میں اے ڈی آر نے موقف اختیار کیا کہ یہ عمل لاکھوں اصلی ووٹروں کو ووٹ کے حق سے محروم کر دے گا، خاص طور پر بہار جیسی غریب ریاست میں جہاں بڑی تعداد میں پسماندہ طبقات رہتے ہیں۔

ان کا کہنا ہے کہ ایس آئی آر لوگوں پر شہریت ثابت کرنے کا بوجھ ڈال رہا ہے، اور وہ بھی ایک مختصر مدت میں خود اور اپنے والدین کے کاغذات جمع کرا کے، جو غریب مزدوروں کے لیے تقریباً ناممکن ہے۔

جب عبوری فہرست جاری ہو رہی تھیں، بی بی سی کی ایک ٹیم پٹنہ اور آس پاس کے دیہات گئی تاکہ لوگوں سے اس بارے میں بات کر سکے۔

دنارا گاؤں ’مہا دلت‘ کہلانے والے انتہائی غریب طبقے سے تعلق رکھنے والے افراد کا گاؤں ہے۔ یہاں زیادہ تر لوگ کھیتوں میں مزدوری کرتے ہیں یا بے روزگار ہیں۔

گھروں کی حالت خراب ہے، تنگ گلیاں اور کھلے نالے ہیں، اور مقامی مندر کے پاس بدبو دار پانی کا تالاب ہے۔

زیادہ تر لوگوں کو ایس آئی آر یا اس کے اثرات کے بارے میں کچھ علم نہیں تھا، اور کئی کو شک تھا کہ اہلکار ان کے گھروں تک پہنچے بھی نہیں۔ لیکن وہ اپنے ووٹ کو قیمتی سمجھتے ہیں۔ ریکھا دیوی نے بی بی سی کی گیتا پانڈے سے بات کرتے ہوئے کہا: ’ووٹ ڈالنے کا حق کھونا تباہ کن ہو گا، یہ ہمیں مزید غربت میں دھکیل دے گا۔‘

ریکھا دیوی (انتہائی بائيں) کا کہنا ہے کہ ووٹ کا حق کھونے سے وہ سب مزید غربت کی جانب دھکیل دیے جائیں گے

،تصویر کا ذریعہAfzal Adeeb Khan/ BBC

،تصویر کا کیپشنریکھا دیوی (انتہائی بائيں) کا کہنا ہے کہ ووٹ کا حق کھونے سے وہ سب مزید غربت کی جانب دھکیل دیے جائیں گے

کھریکا گاؤں میں کئی مردوں نے بتایا کہ انھوں نے ایس آئی آر کے بارے میں سُنا اور فارم جمع کرائے، ساتھ ہی 300 روپے خرچ کر کے نئی تصویریں بھی بنوائیں۔

ریٹائرڈ ٹیچر ترکشور سنگھ نے کہا کہ ’یہ سب گڑبڑ ہے۔‘ انھوں نے اپنے خاندان کی تفصیلات والے صفحات دکھائے جن میں ان کے مطابق کئی غلطیاں تھیں، جیسا کہ ان کے نام کے سامنے کسی اور کی تصویر موجود تھی۔

انھوں نے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے کہا: ’مجھے نہیں معلوم یہ کس کی تصویر ہے۔‘ اُن کی بیوی اور بیٹے کی تصویریں بھی غلط تھیں، اور دوسرے بیٹے کے نام کے ساتھ تو کسی نامعلوم عورت کی تصویر تھی۔

انھوں نے بتایا کہ ان کی بہو جُوہی کماری کے ووٹ میں شوہر کے خانے میں ان کے بیٹے کے بجائے انہی کا نام درج ہے۔ دوسری بہو سنگیتا سنگھ کا نام دو بار درج ہے، ایک میں درست تصویر اور تاریخِ پیدائش کے ساتھ اور دوسرے میں غلط۔

ان کے کئی رشتہ داروں اور پڑوسیوں کو بھی یہی شکایت ہے۔ انھوں نے ایک کزن کا نام دکھایا جو پانچ سال پہلے فوت ہو گیا تھا مگر فہرست میں اب بھی ہے، اور کچھ نام ایسے ہیں جو دو بار درج ہیں۔

ان کا کہنا ہے کہ اس سے ’یہ ظاہر ہے کہ کوئی جانچ نہیں ہوئی، فہرست میں مردہ لوگ، دوہرے نام اور وہ لوگ بھی ہیں جنھوں نے فارم تک نہیں بھرا۔ یہ سرکاری وسائل اور اربوں روپے کا ضیاع ہے۔‘

عدالت سے رجوع

راہل گاندھی نے الیکشن کمیشن پر 'جمہوریت کو برباد کرنے' کا الزام لگایا ہے

،تصویر کا ذریعہGetty Images

،تصویر کا کیپشنراہل گاندھی نے الیکشن کمیشن پر ’جمہوریت کو برباد کرنے‘ کا الزام عائد کیا ہے

چھوکر نے کہا کہ وہ یہ معاملہ اس ہفتے سپریم کورٹ میں اٹھائیں گے۔ عدالت نے جولائی میں کہا تھا کہ اگر درخواست گزار 15 حقیقی ووٹروں کی فہرست دے سکیں جن کے نام کاٹے گئے ہیں تو وہ اس عمل پر روک لگا دے گی۔ چھوکر نے بی بی سی سے کہا کہ ’یہ کیسے ممکن ہے جب کمیشن نے 65 لاکھ حذف شدہ ناموں کی فہرست ہی فراہم نہیں کی؟‘

ان کے مطابق، ایک جج نے مشورہ دیا کہ اس عمل کو آنے والے انتخابات سے الگ کر دیا جائے تاکہ درست جائزے کے لیے وقت مل سکے۔

ایس آئی آر اور عبوری فہرست نے بہار کی سیاست کو تقسیم کر دیا ہے۔ اپوزیشن راشٹریہ جنتا دل (آر جے ڈی) اس پر سوال اٹھا رہی ہے، جب کہ حکومتی اتحادی جنتا دل (یونائیٹڈ) اور بی جے پی اس کی حمایت کر رہے ہیں۔

آر جے ڈی کے جنرل سیکریٹری شیوا نند تیواری نے کہا کہ نظرِ ثانی کی پیچیدگی نے لوگوں کو الجھا دیا ہے۔

وہ کمیشن کے اس دعوے پر سوال اٹھاتے ہیں کہ 98.3 فیصد ووٹروں نے فارم بھرے ہیں، اور کہتے ہیں کہ زیادہ تر دیہات میں ہمارے کارکنوں نے بتایا کہ بلاک لیول آفیسر (جو عام طور پر مقامی سکول کا استاد ہوتا ہے) گھر گھر نہیں پہنچے۔

کئی افسر تربیت یافتہ نہیں اور فارم اپ لوڈ کرنے کا طریقہ بھی نہیں جانتے۔ لیکن کمیشن کا کہنا ہے کہ ان افسران نے ذمہ داری سے کام کیا ہے۔

تیواری نے الزام لگایا کہ کمیشن جانبدار ہے اور انتخابات میں ہیرا پھیری کر رہا ہے، اور ہدف وہ سرحدی علاقے ہیں جہاں بڑی تعداد میں مسلمان رہتے ہیں جو بی جے پی کو ووٹ نہیں دیتے۔

بی جے پی اور جے ڈی یو نے اس تنقید کو سیاسی قرار دیتے ہوئے مسترد کر دیا۔ بی جے پی کے بھیم سنگھ نے کہا: 'صرف انڈین شہریوں کو ووٹ کا حق ہے اور ہمارا ماننا ہے کہ حالیہ برسوں میں سرحدی علاقوں میں بہت سے روہنگیا اور بنگلہ دیشی آباد ہو گئے ہیں، جنھیں فہرست سے نکالنا ضروری ہے۔'

ان کا کہنا تھا کہ ایس آئی آر کا کسی کے مذہب سے کوئی تعلق نہیں، اپوزیشن اس لیے شور مچا رہی ہے کیونکہ اسے اپنی شکست نظر آ رہی ہے۔

جے ڈی یو کے ترجمان اور ریاستی رکنِ اسمبلی نیرج کمار سنگھ نے کہا: ’الیکشن کمیشن صرف اپنا کام کر رہا ہے۔ فہرست میں کئی ووٹر دو یا تین بار درج ہیں، تو کیا اسے درست نہیں کرنا چاہیے؟‘

سوشل میڈیا پر ہنگامہ

شمال مشرقی ریاست آسام میں کانکریس کے سٹوڈنٹ ونگ این ایس یو آئی نے 'ووٹ چوری' کے خلاف مظاہرہ کیا

،تصویر کا ذریعہINCIndia/X

،تصویر کا کیپشنشمال مشرقی ریاست آسام میں کانکریس کے سٹوڈنٹ ونگ این ایس یو آئی نے مبینہ ’ووٹ چوری‘ کے خلاف مظاہرہ کیا

بہار میں ’آر جے ڈی‘ کے رہنما اور سابق وزیر اعلی لالو پرساد اور ربری ڈیوی کے بیٹے تیجوسی یادو نے ایک پریس کانفرنس میں کہا کہ بہار میں جو فہرست جاری ہوئی ہے اس میں تین لاکھ سے زیادہ گھروں کے مکان نمبر کی جگہ ایک صفر (0)، دو صفر (00) یہاں تک کہ تین صفر (000) درج ہیں۔

انھوں نے کہا کہ ’یہ کوئی مذاق ہے۔ میرے خیال سے الیکشن کمیشن کو چیزوں کو اپنی انا کا مسئلہ نہیں بنانا چاہیے۔‘

الیکشن کمیشن کی فہرست کا مذاق اڑاتے ہوئے فوک گیت کی گلوکارہ نیہا سنگھ راٹھور نے لکھا کہ ’الیکشن کمیشن کے مطابق دنیا میں سب سے عمر دراز لوگ بہار میں رہتے ہیں۔‘

اس کے ساتھ انھوں نے ایک سکرین شاٹ پیش کیا ہے جس میں منتا دیوی کی عمر 124 سال، آشا دیوی کی عمر 120 سال اور منتوریا دیوی کی عمر 119 سال بتائی گئی ہے۔

معروف بلاگر دھرو راٹھی کے ایک ویڈیو کو لوگ شیئر کر رہے ہیں جس میں یہ الزام لگایا گیا ہے کہ ’بہار میں الیکشن کمیشن نے اپنی سائٹ سے پی ڈی ایف فائل ہٹا کر اسی کا سکینڈ ورژن اپ لوڈ کر دیا تاکہ مشین (کمپیوٹر) سے ناموں کی جانچ نہ کی جا سکے اور غلطیاں تلاش کرنے کے لیے انسانوں کو مشقت کرنی پڑے۔‘

رینٹنگ گولا نامی ایک ولاگر نے راہل گاندھی کی پریس کانفرنس کا کلپ شیئر کرتے ہوئے لکھا: ’راہل گاندھی نے ثابت کر دیا کہ ووٹ کیسے چوری ہوتے ہیں۔ یہ انتہائی شرمناک اور دنیا کی سب سے بڑی جمہوریت پر دھبہ ہے!‘