یہ صفحہ مزید اپ ڈیٹ نہیں کیا جا رہا!
بی بی سی اردو کی لائیو کوریج جاری ہے تاہم یہ صفحہ اب مزید اپ ڈیٹ نہیں کیا جا رہا ہے۔
پاکستان کی سپریم کورٹ کی جانب سے فوجی عدالتوں میں سویلینز کا ٹرائل کیے جانے سے متعلق سپریم کورٹ کے دو ججز کا تفصیلی اختلافی نوٹ جاری کر دیا گیا ہے جس میں کہا گیا ہے کہ’ فوج کا کام ملک کا دفاع ہے نہ کہ عدلیہ کے فرائض سر انجام دینا، اگر فوج عدلیہ کے فرائض سر انجام دینے لگی تو لوگوں کا ان پر اعتماد نہیں رہے گا۔‘
بی بی سی اردو کی لائیو کوریج جاری ہے تاہم یہ صفحہ اب مزید اپ ڈیٹ نہیں کیا جا رہا ہے۔

،تصویر کا ذریعہAFP
پاکستان کے صوبہ بلوچستان کے شہر سوراب میں جمعہ کے روز مسلح افراد کے حملے میں ایڈیشنل ڈپٹی کمشنر ریونیو ہدایت بلیدی ہلاک ہو گئے ہیں جبکہ عسکریت پسندوں نے متعدد سرکاری عمارات کو بھی نذر آتش کیا ہے۔
سرکاری حکام کے مطابق 60 سے زائد مسلح افراد شہر میں داخل ہوئے اور دو گھنٹے سے زائد تک شہر کے بعض اہم حصے ان کے کنٹرول میں رہے جن میں سرکاری دفاتر بھی شامل تھے۔
حکومت بلوچستان کے ترجمان شاہد رند نے اے ڈی سی ریونیو ہدایت بلیدی کی ہلاکت کی تصدیق کرتے ہوئے کہا ہے کہ حملے کے دوران اے ڈی سی ریونیو مسلح افراد کے خلاف لڑتے ہوئے ہلاک ہوئے۔
ایک بیان میں ان کا کہنا تھا کہ مسلح افراد نے سوراب بازار میں ایک بینک کو بھی لوٹا ہے جبکہ مختلف سرکاری افسران کے گھروں کو بھی نذر آتش کیا گیا ہے۔
سوراب میں مسلح افراد کا بینک اور انتظامی افسران کی رہائشگاہوں پر حملہ ریاستی رٹ چیلنج کرنے کی مذموم کوشش ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ سکیورٹی فورسز کا مسلح افراد کے خلاف علاقے میں سرچ آپریشن جاری ہے۔
سوراب شہر میں اس واقعے کی ذمہ داری کالعدم عسکریت پسند تنظیم بلوچ لبریشن آرمی نے قبول کی ہے۔
سوراب میں مسلح افراد کس وقت حملہ آور ہوئے؟
قلات ڈویژن کے ایک سینیئر انتظامی آفیسر نے بی بی سی کو بتایا کہ 60 سے زائد مسلح افراد مختلف اطراف سے سوراب شہر میں شام کے وقت داخل ہوئے۔ شہر میں داخل ہونے کے بعد انھوں نے اہم علاقوں کا کنٹرول سنبھال لیا جن میں ڈپٹی کمشنر، ایڈیشنل ڈپٹی کمشنر، پولیس تھانہ، لیویز فورس کا تھانہ وغیرہ شامل تھے۔
ان کا کہنا تھا کہ مسلح افراد تقریباً دو گھنٹے سے زائد شہر کے مختلف علاقوں میں رہے اور جانے سے قبل انھوں نے ڈپٹی کمشنر اور ایڈیشنل ڈپٹی کمشنر کے گھروں کو نذرآتش کرنے کے علاوہ، بینک، پولیس تھانہ اور لیویز فورس کے تھانے کو بھی نذرآتش کیا۔
سماجی رابطوں کی میڈیا پر گردش کرنے والی ایک ویڈیو میں پولیس تھانہ سوراب سے دھواں اٹھتا ہوا دکھائی دے رہا ہے۔
سوراب کہاں واقع ہے؟
سوراب شہر بلوچستان کے دارالحکومت کوئٹہ سے تقریباً 250 کلومیٹر کے فاصلے پر جنوب مغرب میں کوئٹہ کراچی ہائی کے قریب واقع ہے۔
سوراب شہر سمیت ضلع کی آبادی مختلف بلوچ قبائل پر مشتمل ہے۔ ضلع سوراب انتظامی لحاظ سے بلوچستاں کے قلات ڈویژن کا حصہ ہے۔ قلات ڈویژن کے دیگر اضلاع خضدار، قلات، آواران، لسبیلہ، حب اور مستونگ کی طرح سوراب میں بھی ماضی میں سنگین بدامنی کے واقعات پیش آتے رہے ہیں لیکن دیگر اضلاع کے مقابلے میں سوراب میں ان کی شرح کم رہی ہے۔
تاہم قلات ڈویژن کے کسی اور علاقے کے مقابلے میں آبادی کے لحاظ سے کسی بڑے شہر میں یہ اپنی نوعیت کی یہ بڑی مسلح کارروائی ہے۔
اس قبل مسلح افراد نے اس ڈویژن کے ضلع خضدار کے دو شہروں زہری اور اورناچ میں اس نوعیت کی کاروائیاں کی تھیں جبکہ 2024 سے قلات ڈویژن سمیت بلوچستان کے دیگر علاقوں میں قومی شاہراہوں پر بھی مسلح افراد ناکہ بندی کرتے رہے ہیں جن کے دوران بڑی تعداد میں لوگ ہلاک اور زخمی بھی ہوئے ہیں۔
تاہم سرکاری حکام کا کہنا ہے کہ ماضی کے مقابلے میں سکیورٹی کے انتظامات کو سخت کر دیا گیا ہے۔

،تصویر کا ذریعہISPR
پاکستان کے چیف آف آرمی سٹاف اور فیلڈ مارشل عاصم منیر کا کہنا ہے کہ پاکستان کسی بھی جارحیت کو شکست دے گا۔
پاکستانی فوج کے شعبہ تعلقات عامہ کے مطابق فیلڈ مارشل سید عاصم منیر نے کمانڈ اینڈ اسٹاف کالج کوئٹہ کا دورہ کیا اور کمانڈ اینڈ سٹاف کالج کے طلبہ افسران اور فیکلٹی سے خطاب کیا۔
انھوں نے کہا ’پاکستان کو کبھی بھی مجبور نہیں کیا جاسکتا اور دشمنوں کی جانب سے دہشت گردی کے خلاف جنگ میں پاکستان کی کوششوں کا رخ موڑنے کے عزائم کو مکمل طور پر شکست دی جائے گی۔‘
فیلڈ مارشل عاصم منیر نے جنوبی ایشیا کے استحکام کے لیے تنازعِ کشمیر کے پرامن حل کی ضرورت پر زور دیا۔
آئی ایس پی آر کی جانب سے جاری بیان کے مطابق جنرل عاصم منیر نے ’انڈیا کی جانب سے غیر قانونی ہائیڈرو دہشت گردی کے خلاف خبردار کیا۔‘
بیان کے مطابق ’پاکستان کے اندر دہشت گردی کی سرپرستی میں بھارتی ریاست کے کردار پر روشنی ڈالتے ہوئے آرمی چیف نے انسداد دہشت گردی کی بحالی کی مہم پر تبصرہ کیا اور اس اعتماد کا اظہار کیا کہ دہشت گردی کے خلاف پاکستان کی جنگ کو منطقی انجام تک پہنچایا جائے گا۔‘
فیلڈ مارشل نے طلبہ افسران کو مشورہ دیا کہ وہ اپنی ذمہ داریاں پوری لگن، جذبے اور عزم کے ساتھ نبھائیں۔
انھوں نے کمانڈ اینڈ سٹاف کالج کوئٹہ سے خطاب میں کہا کہ ’نوجوان افسران کی تربیت کو نہ صرف موجودہ حقائق کی عکاسی کرنی چاہیے بلکہ ہمیں مستقبل کے میدان جنگ کے لیے بھی تیار کرنا چاہیے۔‘

،تصویر کا ذریعہPA Media / Getty Images
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے چین پر الزام عائد کیا ہے کہ وہ محصولات کی جنگ میں دو ہفتے سے جاری تعطل کی خلاف ورزی کر رہا ہے۔ یہ بیان اس بات کی علامت ہے کہ دنیا کی دو بڑی معیشتوں کے درمیان تجارتی تناؤ ایک بار پھر بڑھ سکتا ہے۔
واشنگٹن اور بیجنگ نے رواں ماہ کے اوائل میں جنیوا میں ہونے والے مذاکرات کے بعد محصولات کو عارضی طور پر کم کرنے پر اتفاق کیا تھا۔
ٹرمپ نے جمعے کے روز ایک سوشل میڈیا پوسٹ میں کہا تھا کہ دونوں ملکوں کے درمیان معاہدے سے قبل محصولات نے چین کو ’شدید معاشی خطرے‘ میں ڈال دیا تھا۔
تاہم انھوں نے کہا کہ چین نے ہمارے ساتھ اپنے معاہدے کی مکمل خلاف ورزی کی ہے۔
امریکی تجارتی نمائندے جیمیسن گریر نے بعد میں کہا کہ چین اُن نان ٹیرف رکاوٹوں کو ختم نہیں کر رہا ہے جس پر اتفاق کیا گیا تھا۔
بیجنگ نے ابھی تک ان دعووں کا جواب نہیں دیا ہے۔
یہ بھی پڑھیے
گریر نے ٹی وی نیٹ ورک سی این بی سی کو بتایا کہ چین نے ابھی تک امریکہ پر عائد دیگر تجارتی پابندیوں کو مناسب طریقے سے واپس نہیں لیا ہے۔
انھوں نے کہا کہ جب چین نے امریکہ کے محصولات کا جواب دیا تو اس کے ساتھ انھوں نے کچھ امریکی کمپنیوں کو بلیک لسٹ میں ڈالنے اور نایاب معدنیات کی ترسیل کو محدود کرنے جیسے جوابی اقدامات بھی کیے۔
سفیر گریر کا کہنا تھا کہ’انھوں نے ٹیرف کو ہماری طرح ختم کر دیا لیکن کچھ جوابی اقدامات واپس نہیں لیے۔‘
انھوں نے مزید کہا کہ امریکہ اس بات پر گہری نظر رکھے ہوئے ہے کہ چین معاہدے پر عمل کرتا ہے یا نہیں تاہم وہ اس کی جانب سے پیش رفت سے’بہت فکرمند‘ ہیں۔
گریر نے کہا کہ ’امریکہ نے وہی کیا جو اسے کرنا چاہیے تھا اور چینی اپنے اقدامات میں سستی ک رہا ہے جو مکمل طور پر ناقابل قبول ہے اور اس سے نمٹنے کی ضرورت ہے۔‘
بیجنگ نے ابھی تک ان دعووں کا جواب نہیں دیا ہے۔
جمعے کے روز چین کی وزارت خارجہ نے امریکی وزیر خزانہ سکاٹ بیسنٹ کے اس بیان کا جواب دینے سے انکار کر دیا تھا جس میں انھوں نے کہا تھا کہ چین کے ساتھ تجارتی مذاکرات ’قدرے تعطل کا شکار‘ ہو گئے ہیں۔

،تصویر کا ذریعہGetty Images
پاکستان کی سپریم کورٹ کی جانب سے فوجی عدالتوں میں سویلینز کا ٹرائل کیے جانے سے متعلق سپریم کورٹ کے دو ججز کا تفصیلی اختلافی نوٹ جاری کر دیا گیا ہے جس میں کہا گیا ہے کہ’ فوج کا کام ملک کا دفاع ہے نہ کہ عدلیہ کے فرائض سر انجام دینا، اگر فوج عدلیہ کے فرائض سر انجام دینے لگی تو لوگوں کا ان پر اعتماد نہیں رہے گا۔‘
جسٹس جمال خان مندو خیل اور جسٹس نعیم اختر افغان نے 36 صفحات پر مشتمل اختلافی نوٹ جاری کیا۔
اختلافی نوٹ میں ججوں نے کہا کہ ’ہم اکثریتی ججز کے فیصلے سے اتفاق نہیں کرتے‘۔
یاد رہے کہ سپریم کورٹ نے فوجی عدالتوں میں عام شہریوں کے مقدمے چلانے کے عمل کو غیرآئینی قرار دیے جانے کے خلاف انٹرا کورٹ اپیلیں منظور کر لی تھیں۔ جسٹس امین الدین کی سربراہی میں عدالتِ عظمیٰ کے سات رکنی بینچ نے اس معاملے پر سماعت کے بعد پانچ مئی کو فیصلہ محفوظ کیا تھا جو سات مئی کو سنایا گیا۔ یہ ایک اکثریتی فیصلہ تھا جس میں پانچ ججوں نے وفاق اور دو صوبائی حکومتوں کی اپیل منظور کیں جبکہ دو نے ان کے خلاف رائے دی۔
جسٹس جمال مندو خیل اور جسٹس نعیم اشتر افغان نے اکثریتی فیصلے سے اختلاف کرتے ہوئے اپیلیں خارج قرار دے دیتے ہوئے کہا کہ کہا سویلینز کا فوجی عدالتوں میں ٹرائل آئین میں دیے گئے بنیادی حقوق کے برخلاف ہے۔
خیال رہے کہ سپریم کورٹ کے سابق چیف جسٹس جواد ایس خواجہ نے اس کیس میں آئینی بینچ کے فیصلے کے خلاف نظر ثانی درخواست دائر کی ہے۔
’سیاسی نوعیت کے مقدمات کے حل کا بوجھ فوجی عدالتوں پر‘
جسٹس جمال مندو خیل اور جسٹس نعیم اشتر افغان کے تفصیلی اختلافی نوٹ میں کہا گیا کہ ’ایسا معلوم ہوتا ہے کہ بدقسمتی سے ان حکومتوں کو فوجداری عدالتوں پر اعتماد نہیں رہا، افسوس سے کہنا پڑتا ہے کہ ان منتخب حکومتوں نے فوجداری عدالتوں پر اعتماد ختم کردیا ہے، حکومتوں نے غیر سنجیدہ، سیاسی نوعیت کے مقدمات کے حل کا بوجھ فوجی عدالتوں پر ڈال دیا ہے، جو کہ ناقابل فہم ہے۔‘
اختلافی نوٹ میں کہا گیا ہے کہ ’فوجی افسران جو فوجی عدالتوں کی صدارت کرتے ہیں وہ فوجی معاملات میں مہارت رکھتے ہیں، ان افسران کے پاس عدالتی تجربہ نہیں ہوتا اور نہ ہی وہ دیوانی مقدمات سے نمٹنے کے لیے تربیت یافتہ ہوتے ہیں، فوجی عدالتوں کو عام عدالتی نظام کے برابر نہیں سمجھا جا سکتا، عام عدالتوں کے افسران عدالتی تجربے کے ساتھ ساتھ آزادی کے حامل ہوتے ہیں۔‘
ججز کے اختلافی نوٹ میں کہا گیا ہے کہ ’وفاقی اور صوبائی حکومتیں دہشت گردی کے مقدمات کو سمجھنے کی بجائے اپنے مقصد کے لیے فوجی عدالتوں پر انحصار کر رہی ہیں۔ عام فوجداری عدالتوں سے یہ توقع رکھنا کہ وہ بغیر ثبوت افراد کو مجرم ٹھہرائیں تو منصفانہ ٹرائل کی خلاف ورزی ہوگی۔‘
یہ بھی پڑھیے

،تصویر کا ذریعہGetty Images
’آرمی ایکٹ صرف اور صرف مسلح افواج کے ممبران پر لاگو ہوتا ہے‘
اختلافی نوٹ میں کہا گیا ہے کہ عدالت کے سامنے اس معاملے سے متعلق 2 سوالات تھے، کیا آرمی ایکٹ کا سیکشن 2 ون ڈی، آئین کے آرٹیکل 8 تین اے سے مطابقت رکھتا ہے؟ اور کیا آئین پاکستان کے تناظر میں آرمی ایکٹ کے سیکشن 2 ون ڈی کے تحت سویلینز کا ملٹری ٹرائل ہوسکتا ہے؟ ‘
نوٹ کے مطابق ’پاکستان آرمی ایکٹ ایک خصوصی قانون ہے جو مسلح افواج کے ممبران پر لاگو ہوتا ہے، یہ قانون فوجی جرائم کیلئے سزا تجویز کرتا ہے تاکہ فوج کی تنظیم قائم رہ سکے۔‘
تفصیلی اختلافی نوٹ میں ججز نے لکھا کہ ’پاکستان میں دیگر عمومی جرائم کیلئے عمومی قانون موجود ہے جو تمام افراد پر لاگو ہوتا ہے۔ عمومی جرائم کے ٹرائل عام عدالتوں میں ہوتے ہیں، جنہیں سول جرائم کہا جاتا ہے۔ اگر کسی فوجی سے عام جرم سرزد ہو جائے تو عام عدالتیں اور فوجی عدالتیں دونوں کا دائرہ اختیار بنتا ہے۔ تاہم یہ فیصلہ عام عدالت کو کرنا ہے کہ آیا یہ کیس کو فوجی عدالت بھیجنا ہے یا نہیں۔ ‘
اختلافی نوٹ میں ججوں نے کہا کہ ’ہمیں بالکل شک نہیں کہ آرمی ایکٹ صرف اور صرف مسلح افواج کے ممبران پر لاگو ہوتا ہے، 1967 کے آرڈیننس کے تحت آرمی ایکٹ میں سیکشن 2 ون ڈی کا اضافہ کیا گیا۔ مسلح افواج کے ممبران کو اپنی ڈیوٹی سے غفلت برتنے پر اکسانے والے کو بھی آرمی ایکٹ کے ماتحت کردیا گیا۔ آفیشل سیکرٹ ایکٹ کے تحت جرائم کرنے والے کو بھی آرمی ایکٹ کے ماتحت کردیا گیا۔‘
’اسی طرح آرمی ایکٹ میں سیکشن 59 میں سب سیکشن 4 کا اضافہ بھی کیا گیا۔ سب سیکشن 4 میں جرائم کو سول جرائم قرار دے دیا گیا۔ جبکہ سیکشن ڈی ون میں موجود جرائم تعزیرات پاکستان کے سیکشن 131 میں پہلے سے موجود تھے۔‘
تفصیلی نوٹ میں وٰضاحت کی گئی کہ ’سیکشن ڈی ٹو میں موجود جرائم آفیشل سیکرٹ ایکٹ میں پہلے سے موجود تھے، سب سیکشن 4 کے اضافے سے آرمی ایکٹ کا دائرہ اختیار سویلینز تک بھی وسیع کردیا گیا۔‘
ججز نے اختلافی نوٹ میں لکھا کہ ’1962 کا آئین ایک ملٹری ڈکٹیٹر نے تحریر کیا تھا، ڈکٹیٹرشپ میں عدلیہ کو ایگزیکٹو سے الگ رکھنے کا کوئی تصور موجود نہ تھا۔ 1973 کے آئین کے بعد صورتحال مکمل طور پر مختلف ہے۔ پہلی بار سیکشن ٹو ون ڈی کے تحت ملٹری ٹرائل کو چیلنج کیا گیا ہے۔‘
فیصلے میں کہا گیا ہے کہ ’اپنی نوعیت کا پہلا کیس ہونے کے باعث اس کا جواب 1973 کے آئین کی روشنی میں دینا چاہیے، آئین کے تحت حکومت ریاست کی مالک نہیں، بلکہ عوام کی ایما پر ریاست کا نظام چلانے کی مجاز ہے۔‘
سپریم کورٹ کے دو ججوں کے فیصلے میں کہا گیا ہے کہ’ یہ کہنا کہ دنیا میں دہشت گردی کے مقدمات کا سامنا کرنے کیلئے فوجی عدالتیں قائم کی جاتی ہیں، درست نہیں‘۔
اختلافی نوٹ کے مطابق ’یہ درست ہے کہ عام فوجداری عدالتوں میں سزا کی شرح کم ہے، اس کا مطلب یہ نہیں کہ ان عدالتوں میں انصاف فراہم کرنے کی صلاحیت یا خواہش موجود نہیں ہے، سپریم کورٹ مستقل طور پر نچلی عدالتوں کے فیصلوں کا عدالتی جائزہ لے رہی ہے۔‘
اختلافی نوٹ میں ججز نے لکھا کہ ’عدالتی مشاہدے میں آیا کہ زیادہ تر بریت کے فیصلے بے بنیاد سیاسی مقدمات آتے ہیں، ایسے فیصلے غیر پیشہ ورانہ تفتیش اور کمزور پراسیکیوشن کا نتیجہ ہوتے ہیں، انٹر کورٹ اپیلیں وفاقی، پنجاب اور بلوچستان حکومت کی طرف سے دائر کی گئیں۔‘

،تصویر کا ذریعہGetty Images
’فوجی عدالتوں کے پاس سویلین کا ٹرائل کرنے کا دائرہ اختیار نہیں‘
اختلافی نوٹ میں سوال اٹھایا گیا ہے کہ ’جب استغاثہ کے پاس کوئی ثبوت یا مواد نہ ہو تو فوجی عدالت سزا کیسے دے سکتی ہے؟ ‘
اختلافی نوٹ میں کہا گیا کہ ’9 مئی مقدمات سے متعلق کورٹ مارشل ہونے والے کچھ افراد نے بھی عدالت سے رجوع کیا، سپریم کورٹ کے 25 مارچ 2024 کے حکمنامے کے بعد سویلینز کے ٹرائل آگے بڑھے اور سزائیں سنائی گئیں، فوجی عدالتوں میں سزاؤں سے بہت سارے سویلینز سزا یافتہ ہیں۔‘
اختلافی نوٹ میں ججز نے لکھا کہ ’فوجی عدالتوں کے پاس سویلین کا ٹرائل کرنے کا دائرہ اختیار نہیں، اور نو مئی مقدمات میں سویلینز کو سنائی جانے والی سزائیں اور ان کے ٹرائل کالعدم قرار دیے جاتے ہیں۔‘
اختلافی نوٹ میں کہا گیا ’یہ غلط تاثر قائم ہو چکا ہے کہ اگر فوجداری عدالتیں دہشت گردی ختم نہیں کرسکتیں تو فوجی عدالتیں حل ہیں، کیا 21 ویں آئینی ترمیم کے زریعے خطرناک دہشت گردوں کو فوجی عدالتوں سے سزائیں سنانے سے دہشت گردی ختم ہوئی؟ جواب ہے کہ قدرتی طور پر ایک فوجی افسر کا کام نہیں کہ وہ مجرمان کو سزائیں دے۔‘
اختلافی نوٹ میں کہ کہا گیا کہ’ فوج کا کام ملک کا دفاع ہے نہ کہ عدلیہ کے فرائض سر انجام دینا، اگر فوج عدلیہ کے فرائض سر انجام دینے لگی تو لوگوں کا ان پر اعتماد نہیں رہے گا۔‘
اختلافی نوٹ میں کہا گیا کہ جسٹس منیب اختر کے فیصلے میں یہ درست قرار دیا گیا کہ فوجی عدالتوں میں بنیادی حقوق میسر نہیں ہوتے، سویلینز کے فوجی ٹرائل سے متعلق یہ اپیلیں وفاقی حکومت، پنجاب حکومت اور بلوچستان حکومت کی طرف سے دائر کی گئی ہیں، فوجی عدالتوں سے سزا پانے والے سویلینز ملزمان کو آزادانہ فورم کے سامنے اپیل کا حق نہ دینا بھی بینادی حقوق کی خلاف ورزی ہے۔‘
اختلافی نوٹ میں کہا گیا ’فوجی عدالتوں میں سویلینز کا ٹرائل اقوام متحدہ ہیومن رائٹس کمیشن اور دیگر قراردادوں کے بھی خلاف ہے۔ فوجی عدالتوں میں سویلینز کا ٹرائل آرٹیکل 245 میں فوج کے بنیادی کردار سے بھی باہر ہے۔‘
نو مئی کے ملزمان کی سزائیں کالعدم
دو ججوں کے اختلافی نوٹ میں فوجی عدالتوں کی جانب سے نو مئی کے ملزمان کو سنائی گئی سزائیں کو بھی کالعدم قرار دیا گیا۔
اختلافی نوٹ میں کہا گیا ہے کہ ’فوجی حراست میں ملزمان کو انڈر ٹرائل قیدی تصور کیا جائے اور ملزمان کے کیسز دائر اختیار رکھنے والی متعلقہ عدالتوں کو منتقل کیا جائے تاکہ متعلقہ عدالتیں قانون کے مطابق تیزی کے ساتھ ان کے ٹرائل نمٹائیں۔ اس کے علاوہ جو ملزمان فوجی عدالتوں سے بری ہو چکے یا اپنی سزا مکمل کر چکے ان کو مقدمے سے خارج کیا جائے۔‘

،تصویر کا ذریعہGetty Images
خبر رساں ادارے روئٹرز کے مطابق اقوام متحدہ کے ایک ادارے نے اسرائیل پر الزام عائد کیا ہے کہ اس نے غزہ میں زیادہ تر امداد کو داخل ہونے سے روک دیا ہے اور علاقے میں تیار خوراک نہیں پہنچانی دی جا رہی۔
اقوام متحدہ کے دفتر برائے رابطہ برائے انسانی امور کے ترجمان جینز لارکے کا کہنا ہے کہ غزہ زمین پر سب سے زیادہ بھوک کا شکار جگہ ہے۔
لارکے نے نامہ نگاروں کو بتایا کہ 900 امدادی ٹرکوں میں سے صرف 600 کو غزہ کے ساتھ اسرائیل کی سرحد تک جانے کی اجازت دی گئی ہے۔
بیوروکریسی اور سکیورٹی دونوں رکاوٹوں کی وجہ سے لوگوں کو محفوظ طریقے سے امداد حاصل کرنا تقریبا ناممکن ہے۔
انھوں نے کہا کہ غزہ کی 100 فیصد آبادی کو قحط کا خطرہ ہے۔
دوسری جانب غزہ میں جنگ بندی کے حوالے مجوزہ منصوبے پر حماس نے یہ اعتراض ظاہر کیا تھا کہ ان کے مطابق اس میں کہیں یہ نہیں لکھا گیا کہ یہ سیزفائر دیرپا جنگ بندی کی شکل اختیار کر کے جنگ ختم کرنے کا باعث بنے گا۔ اور یہ کہ اس میں یہ واضح نہیں ہے کہ اسرائیل غزہ سے فوجوں کا انخلا کرتے ہوئے انھیں واپس آخری سیزفائر والی پوزیشنز پر لے جائے گا یا نہیں۔
حماس کی جانب سے اس بارے میں مزید خدشات سامنے آ رہے ہیں جن میں یہ بتایا جا رہا ہے کہ ان کی جانب سے امریکہ سے جو بات بیک چینلز کے ذریعے کی جا رہی تھی وٹکوف کا مجوزہ منصوبہ اس سے یکسر مختلف ہے۔
حماس کے ایک کمانڈر نے بی بی سی کے نامہ نگار رشدی ابوالعوف کو بتایا کہ ان کا ماننا ہے کہ اسرائیل مفت میں یرغمالیوں کی رہائی چاہتا ہے اور حماس ایسا ہونے نہیں دے گا۔
یہ بھی پڑھیے

،تصویر کا ذریعہGetty Images
مبینہ طور پر جنگ بندی کی تجویز میں کیا ہے؟
حماس کا کہنا ہے کہ وہ امریکہ کی جانب سے غزہ میں جنگ بندی کی تجویز پر غور کر رہی ہے۔
لیکن اس کا کہنا ہے کہ منصوبے میں گروپ کے بنیادی مطالبات کو پورا نہیں کیا گیا۔
منصوبے کی مکمل تفصیلات ابھی تک منظر عام پر نہیں لائی گئی ہیں اور معلومات ابھی غیر مصدقہ ہیں لیکن خبر رساں ادارے روئٹرز کے مطابق اس میں یہ اہم نکات شامل ہیں:

،تصویر کا ذریعہGetty Images
اسلام آباد میں انسداد دہشت گردی کی ایک عدالت نے نو مئی کو وفاقی دارالحکومت کے تھانہ رمنا پر حملے اور وہاں توڑ پھوڑ کرنے کا الزام ثابت ہونے پر پاکستان تحریک انصاف کے رہنماؤں اور کارکنوں کو مجموئی طور پر 15 سال چار ماہ قید اور جرمانوں کی سزائیں سُنائی ہیں۔
سزا پانے والے 11 ملزمان میں پاکستان تحریکِ انصاف کے رہنما عبدالطیف اور سابق ایم پی اے وزیر زادہ کیلاشی بھی شامل ہیں۔
عدالت کی جانب سے یہ فیصلہ سامنے آنے کے بعد پولیس نے عدالت میں موجود چار ملزمان محمد اکرم، میرا خان، شاہ زیب اور سہیل خان کو اپنی تحویل میں لے کر اڈیالہ جیل منتقل کر دیا۔ عدالت نے غیر حاضر ملزمان کے وارنٹ گرفتاری بھی جاری کر دیے ہیں۔
عدالت نے اپنے فیصلے میں کہا ہے کہ ملزمان نے تھانہ رمنا پر حملہ کیا اور اس دوران پتھراؤ اور فائرنگ کر کے پولیس اہلکاروں کو جان سے مارنے کی کوشش کی گئی۔
فیصلے کے مطابق ’ملزمان نے اپنے مقاصد کے لیے موٹر سائیکلوں کو بھی آگ لگائی۔‘
اس کیس میں مجموعی طور پر 24 گواہان نے اپنی شہادتیں قلمبند کروائیں۔
اس موقع پر جج طاہر عباس سپرا نے ریمارکس دیے کہ ’اگر اسلام آباد کے تھانوں پر ہی حملہ ہوتا ہے تو ملک میں کوئی جگہ رہنے کے قابل نہیں رہے گی۔‘
انھوں نے پولیس پر قاتلانہ حملے کے الزام میں ملزمان کو پانچ سال قید کی سزا اور پچاس ہزار جرمانے کی سزا سنائی۔ اس کے علاوہ موٹر سائیکل جلانے پر چار سال قید اور چالیس ہزار جرمانے کی سزا سنائی گئی۔
جج نے فیصلہ سناتے ہوئے کہا کہ ’تھانہ جلانے کے جرم میں چار سال قید اور چالیس ہزار جرمانہ کی سزا سنائی جاتی ہے۔ جبکہ پولیس کے کام میں مداخلت پر تین ماہ قید کی سزا سنائی جاتی ہے۔‘
مزید سزاؤں میں ’دفعہ 144 کی خلاف ورزی پر ایک ماہ کی سزا اور جتھہ بنا کر جرم کرنے پر دو سال کی سزا سُنائی گئی۔
عدالت نے ملزمان کو ’دہشت گردی کی دفعات پر دس سال سزا اور دو لاکھ جرمانہ کی سزا سنائی ہیں۔

،تصویر کا ذریعہGetty Images
انڈیا کے وزیر اعظم نریندر مودی نے ایک بار پھر پاکستان کو ہدف بناتے ہوئے کہا ہے کہ پاکستان کسی دھوکے میں نہ رہے کیونکہ ’آپریشن سندور‘ ابھی ختم نہیں ہوا ہے۔
انڈیا کے شہر کانپور میں ترقیاتی منصوبوں کے افتتاح کے موقع پر خطاب کرتے ہوئے انڈین وزیر اعظم کا کہنا تھا کہ ’انڈیا نے دہشت گردی کے خلاف اپنی لڑائی میں واضح طور پر تین نکات طے کیے ہیں۔‘
نریندر مودی نے کہا کہ پہلا نکتہ یہ ہے کہ ’انڈیا ہر دہشت گردانہ حملے کا مؤثر اور فوری جواب دے گا۔‘ دوسرا یہ کہ جواب دینے کا ’وقت، طریقہ کار اور ضوابط ہماری مسلح افواج طے کریں گی۔‘
اور تیسرا یہ کہ ’انڈیا اب ایٹم بم کی گیڈر بھبکی سے نہیں ڈرے گا اور نہ ہی اس کی بنیاد پر کوئی فیصلہ کرے گا۔‘
انڈیا کے وزیر اعظم نے ایک بار پھر پاکستان پر دہشت گردی کی سرپرستی کا الزام عائد کیا اور کہا کہ ’پاکستان کا سٹیٹ ایکٹر اور نان سٹیٹ ایکٹر کا کھیل چلنے والا نہیں ہے۔ دشمن کہیں بھی ہو اسے چھوڑا نہیں جائے گا۔‘
واضح رہے کہ پاکستان ماضی میں بھی بارہا ان الزامات کی تردید کرتا رہا ہے۔
یاد رہے کہ پہلگام حملے کے بعد انڈیا نے اس کا الزام براہِ راست پاکستان پر عائد کیا تھا اور اسی تناظر میں اس نے مئی کے اوئل میں پاکستان کے زیر انتظام کشمیر سمیت مختلف علاقوں میں حملے کیے۔ جس کے بعد دونوں ملکوں میں چار روز تک جنگی صورتحال رہی اور دونوں نے ایک دوسرے کی حدود میں متعدد اہداف کو نشانہ بنایا۔
پاکستان نے جنگ بندی کے بعد انڈیا کو امن مذاکرات کی دعوت دی ہے تاہم انڈیا کا کہنا ہے کہ ’دہشت گردی اور مذاکرات ایک ساتھ نہیں چل سکتے۔‘
خیال رہے کہ جنگ بندی کے بعد بھی بارہا انڈین حکام کی جانب سے یہ بیانات دیے جاتے رہے ہیں کہ اگر ضرورت پڑی تو پھر سے پاکستان کے حدود میں اہداف کو نشانہ بنا سکتے ہیں۔

،تصویر کا ذریعہGetty Images
پاکستان کے چیئرمین جوائنٹ چیفس آف سٹاف کمیٹی نے خبر رساں ادارے روئٹرز کو بتایا ہے کہ پاکستان اور انڈیا اپنی سرحد پر فوجیوں کی تعداد کو رواں ماہ کے اوائل میں شروع ہونے والی کشیدگی سے قبل والی تعداد تک لا رہے ہیں۔
یاد رہے کہ پاکستان اور انڈیا کے درمیان اس وقت کشیدگی شروع ہوئی تھی اپریل میں انڈیا کے زیر انتظام کشمیر کے علاقے پہلگام میں ایک حملے میں کم از کم 25 انڈین سیاح مارے گئے اور اس کے بعد چھ مئی کی رات انڈیا کے طیاروں نے پاکستان کے زیر انتظام کشمیر سمیت مختلف علاقوں میں میزائل حملے کیے جس میں پاکستان حکام کے بقول عام شہری ہلاک ہوئے۔ تاہم انڈیا کا دعویٰ ہے کہ اس نے پاکستان میں مبینہ شدت پسندوں کے ٹھکانوں کو نشانہ بنایا۔
اس کے بعد دونوں ممالک میں کشیدگی میں اضافہ ہوا اور چار روز تک دونوں ممالک نے ایک دوسرے کی دود میں متعدد اہداف کو نشانہ بنایا تاہم امریکی صدر کی مداخلت کے بعد دونوں ممالک جنگ بندی پر راضی ہوگئے۔
پاکستان کے جوائنٹ چیفس آف سٹاف کے چیئرمین جنرل ساحر شمشاد مرزا نے رؤٹرز کو دیے ایک انٹرویو میں کہا ہے کہ دونوں افواج نے سرحد پر تعینات فوجیوں کی تعداد کم کرنے کا عمل شروع کر دیا ہے۔
انھوں نے کہا، ’ہم تقریبا 22 اپریل سے پہلے کی صورتحال میں واپس آ چکے ہیں۔‘
انڈیا کی وزارت دفاع اور انڈین چیف آف ڈیفنس سٹاف کی جانب سے تاحال کوئی تبصرہ نہیں کیا گیا۔ شنگریلا ڈائیلاگ فورم میں شرکت کے لیے سنگاپور میں موجود جنرل ساحر شمشاد مرزا نے کہا کہ یہ ایک خطرناک صورتحال ہے۔ ’اس بار کچھ نہیں ہوا‘۔
انھوں نے کہا کہ جوہری ممالک میں تصادم کی صورتحال میں ’آپ کسی بھی وقت کسی بھی سٹریٹجک غلطی سے انکار نہیں کرسکتے ہیں ، کیونکہ بحران کے دوران ردعمل مختلف ہوتا ہے۔‘
انھوں نے یہ بھی کہا کہ مستقبل میں کشیدگی میں اضافے کا خطرہ بڑھ گیا ہے کیونکہ اس بار لڑائی کشمیر کے متنازع علاقے تک محدود نہیں رہی۔
اگرچہ دونوں اطراف سے حریف ملک میں اہم اہداف کو نشانہ بنائے جانے کے دعوے کیے گئے تھے تاہم کسی نے بھی کسی بڑے نقصان کا اعتراف نہیں کیا۔

،تصویر کا ذریعہGetty Images
یاد رہے کہ انڈین وزیر اعظم نریندر مودی نے رواں ماہ پاکستان کو متنبہ کیا تھا کہ اگر انڈیا پر کوئی نیا حملہ ہوا تو وہ پاکستان میں مبینہ ’دہشت گردوں کے ٹھکانوں‘ کو دوبارہ نشانہ بنائیں گے۔
جنرل ساحر شمشاد مرزا نے متنبہ کیا کہ مستقبل میں کشیدگی کی صورت میں بین الاقوامی ثالثی مشکل ہوسکتی ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ ’بین الاقوامی برادری کے لیے مداخلت کرنے کا وقت اب بہت کم ہوگا، اور میں یہ کہوں گا کہ بین الاقوامی برادری کی طرف سے مداخلت سے پہلے ہی نقصان اور تباہی ہوسکتی ہے۔‘
انھوں نے واضح کیا کہ پاکستان مذاکرات کے لیے تیار ہے لیکن ڈائریکٹر جنرل ملٹری آپریشنز کے درمیان کرائسس ہاٹ لائن اور سرحد پر ٹیکٹیکل سطح پر کچھ ہاٹ لائنز کے علاوہ دونوں ممالک کے درمیان کوئی اور رابطہ نہیں ہے۔
دوسری جانب پاکستان کی طرف سے مذاکرات کی پیش کس کے جواب میں انڈیا کے وزیرِ خارجہ جمعرات کے روز ایک بار پھر کہہ چکے ہیں کہ ’مذاکرات اور دہشت گردی ایک ساتھ نہیں چل سکتے۔‘
جنرل ساحر شمشاد مرزا نے وضاحت کی کہ پس پردہ کوئی غیر رسمی بات چیت نہیں چل رہی اور نہ ہی ان کا سنگاپور میں موجود انڈین فوجی حکام سے ملنے کا کوئی ارادہ ہے۔

،تصویر کا ذریعہGoogle
حماس کو اس مجوزہ منصوبہ سے تین مسائل ہیں:
پہلا یہ کہ ان کے مطابق اس مجوزہ معاہدے میں کہیں یہ نہیں لکھا گیا کہ یہ سیزفائر دیرپا جنگ بندی کی شکل اختیار کر کے جنگ ختم کرنے کا باعث بنے گا۔
دوسرا یہ کہ معاہدے میں یہ واضح نہیں کیا گیا ہے کہ نام نہاد انسانی امداد کے قواعد کیا ہوں گے
گذشتہ جنگ بندی کے دوران اقوامِ متحدہ کی ایجنسیوں اور دیگر فلاحی اداروں کے 400 سے 500 امدادی ٹرک غزہ میں روزانہ داخل ہوتے تھے۔
اور آخر میں یہ کہ یہ واضح نہیں ہے کہ اسرائیل غزہ سے فوجوں کا انخلا کرتے ہوئے انھیں واپس آخری سیزفائر والی پوزیشنز پر لے جائے گا یا نہیں۔
حماس کی جانب سے اس بارے میں مزید خدشات سامنے آ رہے ہیں جن میں یہ بتایا جا رہا ہے کہ ان کی جانب سے امریکہ سے جو بات بیک چینلز کے ذریعے کی جا رہی تھی وٹکوف کا مجوزہ منصوبہ اس سے یکسر مختلف ہے۔
حماس کے ایک کمانڈر نے بی بی سی کے نامہ نگار رشدی ابوالعوف کو بتایا کہ ان کا ماننا ہے کہ اسرائیل مفت میں یرغمالیوں کی رہائی چاہتا ہے اور حماس ایسا ہونے نہیں دے گا۔

،تصویر کا ذریعہGetty Images
غزہ میں خوراک کی قلت اور کاشت کاری کے لیے زمین کم پڑ جانے کے باعث شہری اپنے تباہ شدہ گھروں کے احاطوں میں سبزیاں اور پھل اگانے پر مجبور ہیں۔

،تصویر کا ذریعہGetty Images

،تصویر کا ذریعہGetty Images

،تصویر کا ذریعہGetty Images

،تصویر کا ذریعہGetty Images
امریکہ
وائٹ ہاؤس کا کہنا ہے کہ صدر ڈونلڈ ٹرمپ اور ان کے خصوصی مندوب سٹیو وٹکوف نے ایک ایسی سیزفائر معاہدہ پیش کیا جسے اسرائیل کی حمایت بھی حاصل ہے۔
وائٹ ہاؤس نے جمعرات کو کہا کہ ’اس بارے میں بات چیت جاری ہے۔‘ تاہم اس کی جانب سے تاحال مزید تفصیلات نہیں بتائی گئیں۔
اسرائیل
اسرائیلی حکومت کی جانب سے تاحال اس بارے میں کوئی باضابطہ بیان نہیں دیا ہے۔
تاہم وزیرِ اعظم بنیامن نتن یاہو نے اطلاعات کے مطابق یرغمالیوں کے خاندانوں سے جمعرات کو ملاقات کے دوران کہا کہ وہ اس منصوبے کو تسلیم کرتے ہیں اور تاحال حماس نے اس بارے میں کوئی جواب نہیں دیا ہے۔
اسرائیل کے چینل 12 ٹی وی نے رپورٹ کیا کہ نتن یاہو نے میٹنگ کے دوران کہا کہ ’میں وٹکاف کے تازہ ترین منصوبے کو تسلیم کرتا ہوں جو ہمیں آج رات بتایا گیا۔ حماس نے تاحال کوئی ردِ عمل نہیں دیا ہے۔ ہم نہیں سمجھتے کہ حماس آخری یرغمالی رہا کرے گا اور ہم تب تک غزہ کی پٹی نہیں چھوڑیں گے جب تک آخری یرغمالی ہمارے پاس نہ آ جائے۔
حماس
حماس کی جانب سے بھی تاحال کوئی باضابطہ بیان نہیں دیا گیا اور وہ ابھی مجوزہ معاہدے کا جائزہ لے رہے ہیں۔
تاہم حماس کے ایک سینیئر اہلکار نے بی بی سی کو بتایا کہ ان کی جانب سے اس منصوبے کو مسترد کر دیا جائے گا۔ ان کا کہنا ہے کہ اس سے ان کے بنیادی مطالبے پورے نہیں ہوتے جن میں یہ گارنٹیاں بھی شامل ہیں کہ عارضی سیزفائر ایک مستقل جنگ بندی کی شکل اختیار کرے گا یا غزہ میں روزانہ سینکڑوں امدادی ٹرک داخل ہو سکیں گے۔
تاہم حماس اہلکار کا کہنا ہے کہ ان کا گروپ اب بھی ثالثی کرنے والوں سے رابطے میں ہے اور اپنا تحریری جواب جلد جمع کروا دے گا۔
بلوچستان کے ضلع کیچ اور لورالائی میں سکیورٹی فورسز کی کارروائیوں میں مجموعی طور پر پانچ افراد ہلاک ہوئے ہیں۔
سرکاری حکام کے مطابق ہلاک ہونے والے عسکریت پسند تھے جو کہ سکیورٹی فورسز کے ساتھ فائرنگ کے تبادلے میں مارے گئے تاہم آزاد ذرائع سے ان افراد کے مقابلے میں مارے جانے کی تصدیق نہیں ہو سکی ہے۔
پاکستانی فوج کے تعلقات عامہ ادارے آئی ایس پی آر کے مطابق ان میں سے چار ضلع لورالائی میں مارے گئے جو کہ 26 اگست 2024 اور 25 فروری 2025 کی دہشت گردی کے واقعات میں ملوث تھے جن میں 30 معصوم شہری مارے گئے تھے۔ آئی ایس پی آر کا کہنا ہے کہ ایک اور انڈین پراکسی ضلع کیچ میں مارا گیا جو کہ قانون نافذ کرنے والے اداروں کو مطلوب تھا۔
وزیر اعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی نے اپنے ایک بیان میں لورالائی اور کیچ میں سکیورٹی فورسز کی جانب سے دہشتگردوں کے خلاف ان کارروائیوں پر اطمینان کا اظہار کرتے ہوئے انھیں جرات مندانہ اور مؤثر قرار دیا ہے۔
انھوں نے کہا کہ یہ کارروائیاں ریاستی اداروں کے عزم، پیشہ ورانہ مہارت اور بلوچستان میں پائیدار امن کے لیے جاری مسلسل کوششوں کا واضح ثبوت ہیں۔ وزیر اعلیٰ نے کہا کہ لورالائی میں دہشتگردوں کے خلاف کامیاب آپریشن ریاست کی رٹ بحال کرنے کی ایک مضبوط علامت ہے، جبکہ کیچ میں کی گئی کارروائی سکیورٹی اداروں کی غیر معمولی مہارت اور تیاری کی مظہر ہے۔ انہوں نے کہا کہ بلوچستان میں امن و استحکام کو سبوتاژ کرنے والے عناصر کو کسی صورت برداشت نہیں کیا جائے گا۔
دریں اثنا بلوچستان سے لاپتہ افراد کے رشتہ داروں کی تنظیم وائس فار بلوچ مسنگ پرسنز نے ایک بیان میں دعویٰ کیا ہے کہ لورالائی میں مارے جانے والے افراد کا تعلق بزدار قبیلے سے تھا جو کہ مبینہ طور پر جعلی مقابلے میں مارے گئے ہیں جبکہ اس سے قبل 25 مئی کو بھی تین افراد کو رکھنے میں مبینہ جعلی مقابلے میں مارا گیا۔

،تصویر کا ذریعہGetty Images
ایک سینیئر حماس اہلکار نے بی بی سی کو بتایا ہے کہ فلسطینی عسکریت پسند گروہ نئے غزہ سیزفائر اور یرغمالیوں کی رہائی کے مجوزہ منصوبے کو مسترد کرتا ہے۔
جمعرات کو وائٹ ہاؤس کی جانب سے اعلان کیا گیا تھا کہ اسرائیل نے امریکی مندوب سٹیو وٹکوف کے منصوبہ پر ’رضامندی کا اظہار‘ کیا ہے اور اسے حماس سے ایک باضابطہ ردِ عمل کا انتظار ہے۔
اسرائیلی میڈیا کی جانب سے اسرائیلی حکام کے حوالے سے بتایا گیا کہ اس منصوبے کے تحت حماس 10 زندہ یرغمالی واپس کرے گا جبکہ 18 مردہ یرغمالیوں کی لاشیں دو مراحل میں واپس کی جائیں گی اور اس کے بدلے 60 روزہ سیزفائر کیا جائے گا اور ساتھ ہی اسرائیلی جیلوں میں قید فلسطینی قیدیوں کو بھی رہا کیا جائے گا۔
حماس کے اہلکار کا کہنا تھا کہ یہ تجویز ان کے بنیادی مطالبوں کو پورا نہیں کرتی جن میں جنگ کا خاتمہ شامل ہے اور وہ اس حوالے باضابطہ ردِ عمل آنے والے دنوں میں دیں گے۔

،تصویر کا ذریعہReuters
اسرائیلی حکومت کی جانب سے تاحال اس بارے میں ردِ عمل نہیں دیا گیا ہے لیکن وزیرِ اعظم بنیامین نتن یاہو نے جمعرات کو اطلاعات کے مطابق یرغمالیوں کے خاندانوں کو بتایا کہ انھوں نے وٹکوف کے منصوبے کو تسلیم کر لیا ہے۔
خیال رہے کہ امریکہ، قطر اور مصر کی سہولت کاری کے تحت ہونے والے سیزفائر کے کو ختم کرتے ہوئِے اسرائیل نے 18 مارچ غزہ کا مکمل محاصرہ کرتے ہوئے فوجی کارروائی کا دوبارہ آغاز کیا تھا۔
اسرائیل نے کہا تھا کہ وہ حماس پر 58 یرغمالیوں کی رہائی کے لیے دباؤ ڈالنا چاہتا ہے جن میں سے اس کی اطلاعات کے مطابق کم سے کم 20 اب بھی زندہ ہیں۔
19 مئی کو اسرائیلی فوج نے اپنی فوجی کارروائی میں توسیع کی تھی جس میں نتن یاہو کے مطابق فوجیں ’غزہ کے تمام علاقے‘ کا کنٹرول سنبھال لیں گی۔
غزہ میں وزارتِ صحت کے مطابق گذشتہ 10 ہفتوں کے دوران چار ہزار افراد ہلاک ہو چکے ہیں۔ اقوامِ متحدہ کا کہنا ہے کہ چھ لاکھ افراد کو اسرائیلی زمینی آپریشن کے باعث ایک مرتبہ پھر نقل مکانی کرنی پڑی ہے جبکہ اقوامِ متحدہ کے حمایت یافتہ ادرے آئی پی سی کے مطابق پانچ لاکھ افراد کو آنے والے مہینوں میں شدید بھوک کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔

،تصویر کا ذریعہGetty Images
پاکستان کے تاریخ ساز ایتھلیٹ ارشد ندیم نے جنوبی کوریا میں منعقدہ ایشیئن ایتھلیٹکس چیمپیئن شپ میں جیولن تھرو کے پہلے راؤنڈ میں 86.34 میٹر کی تھرو پھینک کر فائنل کے لیے کوالیفائی کر لیا ہے۔
یہ ارشد ندیم کی اس سیزن کی پہلی تھرو ہے اور سنہ 2024 کے پیرس اولمپکس کے بعد وہ پہلا مقابلہ ہے جس میں وہ شریک ہو رہے ہیں۔
خیال رہے کہ ارشد ندیم نے پیرس اولمپکس میں گولڈ میڈل حاصل کیا تھا اور یہ کارنامہ 92.97 میٹر فاصلے پر نیزہ پھینک کر سرانجام دیا تھا جو نہ صرف ایک اولمپکس ریکارڈ ہے بلکہ ان کے کریئر کی بہترین کارکردگی بھی ہے۔
میاں چنوں سے تعلق رکھنے والے ارشد ندیم کون ہیں؟
ارشد ندیم کا تعلق میاں چنوں کے نواحی گاؤں چک نمبر 101-15 ایل سے ہے۔
ان کے والد راج مستری ہیں لیکن اُنھوں نے اپنے بیٹے کی ہر قدم پر حوصلہ افزائی کی۔ ارشد ندیم کے کریئر میں دو کوچز رشید احمد ساقی اور فیاض حسین بخاری کا اہم کردار رہا ہے۔
رشید احمد ساقی ڈسٹرکٹ خانیوال ایتھلیٹکس ایسوسی ایشن کے صدر ہونے کے علاوہ خود ایتھلیٹ رہے ہیں۔ وہ اپنے علاقے میں باصلاحیت ایتھلیٹس کی سرپرستی اور حوصلہ افزائی میں پیش پیش رہے ہیں۔
سنہ 2021 میں رشید احمد ساقی نے بی بی سی کے نامہ نگار عبدالرشید شکور سے بات کرتے ہوئے بتایا تھا کہ ارشد ندیم جب چھٹی ساتویں جماعت کے طالبعلم تھے، اُنھیں وہ اس وقت سے جانتے ہیں۔ ’اس بچے کو شروع سے ہی کھیلوں کا شوق تھا۔
اس زمانے میں ان کی توجہ کرکٹ پر زیادہ ہوا کرتی تھی اور وہ کرکٹر بننے کے لیے بہت سنجیدہ بھی تھے لیکن ساتھ ہی وہ ایتھلیٹکس میں بھی دلچسپی سے حصہ لیا کرتے تھے۔ وہ اپنے سکول کے بہترین ایتھلیٹ تھے۔‘
اس تحریر میں ایسا مواد ہے جو X کی جانب سے دیا گیا ہے۔ کسی بھی چیز کے لوڈ ہونے سے قبل ہم آپ سے اجازت چاہتے ہیں کیونکہ یہ ممکن ہے کہ وہ کوئی مخصوص کوکیز یا ٹیکنالوجیز کا استعمال کر رہے ہوں۔ آپ اسے تسلیم کرنے سے پہلے X ککی پالیسی اور پرائیویسی پالیسی پڑھنا چاہیں گے۔ اس مواد کو دیکھنے کے لیے ’تسلیم کریں، جاری رکھیں‘ پر کلک کریں۔
X پوسٹ کا اختتام

،تصویر کا ذریعہGetty Images
سابق وزیراعظم عمران خان نے کہا ہے کہ انھیں تین سال کے لیے موجودہ نظام کو چلنے دینے کے لیے کہا گیا مگر انھوں نے یہ تسلیم نہیں کیا۔ عمران خان نے مزید کہا کہ ان پر چھبیسویں آئینی ترمیم کو تسلیم کرنے سے متعلق بھی زور ڈالا جا رہا ہے اور نو مئی کے واقعات پر معافی مانگنے کا بھی مطالبہ کیا جاتا ہے۔
اڈیالہ جیل میں قید سابق وزیراعظم عمران خان کا یہ تفصیلی بیان ان کے سوشل میڈیا اکاؤنٹ سے جمعرات کی شب جاری کیا گیا جو ان کی اپنے وکلا، پارٹی ورکرز اور صحافیوں سے گفتگو پر مبنی ہے۔
عمران خان نے اپنے بیان میں کہا کہ ’مجھے دو سال پہلے کہا گیا کہ تین سال کے لیے پیچھے ہٹ جاؤں اور موجودہ نظام کو چلنے دوں، لیکن میں کسی یزید کے کہنے پر تین سال تو کیا تین منٹ بھی خاموش نہیں رہوں گا۔ مجھ پر چھبیسویں ترمیم کو قبول کرنے کا بھی زور ڈالا جا رہا ہے لیکن میری جدوجہد ہی قانون کی حکمرانی کی ہے اور چھبیسویں آئینی ترمیم عین اس کے منافی ہے۔‘
عمران خان نے اپنے بیان میں کہا کہ ’مجھ سے نو مئی کی معافی مانگنے کا مطالبہ کیا جاتا ہے۔ انھوں نے کہا کہ نو مئی کے کیسز کی ایک گھنٹہ بھی میرٹ پر سماعت ہو تو یہ بے بنیاد مقدمات فوری ختم ہو جائیں گے، لیکن المیہ یہ ہے کہ یہاں انصاف ہونا تو دور کی بات انصاف ہوتا نظر بھی نہیں آ رہا۔‘
عمران خان نے کہا کہ جب انصاف کا ہر دروازہ بند کر دیا جائے پھر پر امن احتجاج کے سوا کوئی راستہ نہیں بچتا۔ انھوں نے کہا کہ ’تحریک انصاف سمیت پوری قوم کو پیغام دیتا ہوں کہ ملک گیر احتجاج کے لیے تیار رہیں۔‘
انھوں نے کہا کہ ’پاکستان میں قانون مکمل طور پر معطل ہے۔ میری اہلیہ بشریٰ بیگم صرف سہولت کاری کے الزام میں 14 ماہ سے قید تنہائی میں ہیں حالانکہ ان پر جرم ثابت بھی نہیں ہوا۔‘
سابق وزیراعظم کے مطابق ڈاکٹر یاسمین راشد کینسر سروائیور اور بزرگ خاتون ہیں مگر ان کو بھی جعلی مقدمات میں پابند سلاسل کیا گیا ہے۔
عمران خان نے کہا کہ ’پوری قوم انصاف کے لیے عدلیہ کی طرف دیکھ رہی ہے۔ مگر چھبیسویں آئینی ترمیم کر کے عدلیہ کو مفلوج کر دیا گیا ہے۔‘
ان کے مطابق ملٹری کورٹس کے حوالے سے سپریم کورٹ کا فیصلہ آئین کے آرٹیکل 175 (3) کے متصادم ہے جو کہتا ہے کہ عدلیہ انتظامیہ سے الگ ہے مگر یہاں اس آرٹیکل میں ترمیم کیے بغیر ہی ایگزیکٹو کو عدلیہ کے تمام اختیارات سونپ دیے گئے ہیں۔ ملٹری کورٹس کے ساتھ ساتھ مخصوص نشستوں پر بھی بینچ بنا کر تحریک انصاف سے یہ نشستیں چھیننے کی کوشش کی جا رہی ہے۔ انھوں نے کہا کہ ووٹ تحریک انصاف کو پڑا ہے مگر آئین کے بر خلاف یہ نشستیں دوسری جماعتوں کو دینے کی کوشش جاری ہے۔
سابق وزیراعظم نے کہا کہ ’عدلیہ اس قدر مفلوج ہو چکی ہے کہ اعلیٰ عدلیہ اور جج اپنی مرضی سے مقدمات لگا ہی نہیں سکتے۔ نتیجتاً مجھے بھی عدالتوں سے انصاف نہیں مل رہا۔‘
انھوں نے کہا کہ ’کبھی میرے کیسز کے لیے بینچ مکمل نہیں ہوتا تو کبھی سماعت نہیں ہوتی۔ جان بوجھ کر میرے مقدمات کو التوا میں رکھا جاتا ہے۔ میرے بنیادی انسانی حقوق بھی معطل ہیں۔‘
انھوں نے الزام عائد کیا کہ ’جیل مینوئل کے مطابق جو حقوق ایک عام قیدی کو حاصل ہوتے ہیں مجھے وہ بھی نہیں دیے جا رہے ہیں۔‘
عمران خان نے کہا کہ ’میرے بچوں سے میری بات نہیں کروائی جاتی، میری اہلیہ سے ہفتے میں ایک طے شدہ ملاقات بھی روک دی جاتی ہے اور تو اور میری کتابیں تک روک لی جاتی ہیں۔ یہ سب صرف اس لیے کیا جا رہا ہے تاکہ میں ٹوٹ جاؤں۔‘
عمران خان نے کہا کہ ’میرا تحریک انصاف کے لیے خصوصی پیغام ہے کہ جماعت میں کسی کو بھی قربانی دینے سے نہیں گھبرانا چاہیے۔ اگر مجھ سمیت سینکڑوں کارکنان اور لیڈر شپ جیلوں سے نہیں گھبرائی تو آپ لوگوں کو بھی نہیں گھبرانا چاہیے۔‘
انھوں نے کہا کہ پارٹی عہدیداران کو فیصلہ کرنا ہو گا کہ وہ اپنی ذمہ داریوں سے عہدہ بر ہونے کو تیار ہیں یا نہیں۔ اب جو عہدہ دار سرگرم نہیں ہو گا اسے برطرف کر دیا جائے گا۔ اس ملک سے ظلمت کے سائے ختم کرنے کے لیے ہم سب کو اپنے حصے کی قربانی دینا ہو گی۔‘

،تصویر کا ذریعہISPR
فیلڈ مارشل عاصم منیر نے کہا ہے کہ انڈیا جان لے کہ پاکستان کشمیر کو کبھی نہیں چھوڑے گا، دہشت گردی انڈیا کا اندرونی مسئلہ ہے جس کی بنیادی وجہ اقلیتوں بالخصوص مسلمانوں پر بڑھتا ہوا ظلم اور تعصب پسندی ہے، جبکہ کشمیر ایک عالمی سطح کا مسئلہ ہے۔‘
فیلڈ مارشل عاصم منیر نے مختلف جامعات کے وائس چانسلرز، پرنسپلز اور سینئر اساتذہ کرام سے بات چیت میں ان خیالات کا اظہار کیا۔
ان کا کہنا تھا کہ ’کشمیر کا کوئی بھی سوداممکن نہیں، انڈیا نے کئی دہائیوں سے کشمیر کے مسئلے کو دبانے کی کوشش کی مگر وہ ناکام ہو چکا ہے، اب یہ ممکن نہیں رہا۔‘
عاصم منیر نے کہا کہ ’پانی پاکستان کی ریڈ لائن ہے اور 24 کروڑ پاکستانیوں کے اس بنیادی حق پر آنچ نہیں آنے دیں گے۔ پاکستان انڈیا کی اجارہ داری کبھی قبول نہیں کرے گا۔‘
فیلڈ مارشل عاصم منیر نے دعویٰ کیا کہ ’بلوچستان میں دہشت گرد ’فتنہ الہندوستان‘ ہیں جن کا ان کا بلوچوں سے کوئی تعلق نہیں۔ جو کوئی بھی ریاست کو کمزور بنانے کا بیانیہ بنانے کی کوشش کرے اُس کی نفی کریں۔‘

،تصویر کا ذریعہISPR
ان کا کہنا تھا کہ ’ہم نے پاکستان کو ایسی مضبوط ریاست بنانا ہے جس میں تمام ادارے قانون کے مطابق ، آئین کے تحت، بغیر کسی سیاسی دباؤ، مالی اور ذاتی فائدے کے ، عوام کی فلاح و بہبود کے لیے کام کریں۔‘
ان کا اساتذہ کو خراج تحسین پیش کرتے ہوئے کہنا تھا کہ اساتذہ کرام پاکستان کا سب سے بڑا سرمایہ ہیں، ’میں آج جو کچھ بھی ہوں ، اپنے والدین اور اساتذہ کرام کی وجہ سے ہوں۔ پاکستان کی اگلی نسلوں کی کردار سازی اساتذہ کرام کی ذمہ داری ہے۔‘

،تصویر کا ذریعہANI
انڈیا کی پارلیمنٹ کے ایوان زیریں لوک سبھا میں اپوزیشن لیڈر راہل گاندھی نے وزیر اعظم نریندر سے مطالبہ کیا ہے کہ پونچھ سمیت پاکستانی گولہ باری سے متاثرہ لوگوں کے لیے بحالی پیکیج کا اجرا کیا جائے۔
راہل گاندھی نے وزیر اعظم نریندر مودی کو خط میں لکھا کہ انھوں نے حال ہی میں پونچھ کا دورہ کیا ہے جہاں پاکستانی گولہ باری میں چار بچوں سمیت 14 افراد ہلاک اور درجنوں زخمی ہوئے۔
"ان کے مطابق ’اس اچانک اور اندھا دھند حملے سے عام علاقوں میں بڑے پیمانے پر تباہی ہوئی ہے۔ سینکڑوں مکانات، دکانوں، سکولوں اور مذہبی مقامات کو بری طرح نقصان پہنچا ہے۔ بہت سے متاثرین نے بتایا کہ ان کی برسوں کی محنت ایک ہی جھٹکے میں تباہ ہو گئی۔
پونچھ اور دیگر سرحدی علاقوں کے لوگ کئی دہائیوں سے امن اور بھائی چارے کے ساتھ رہ رہے ہیں۔ آج جب وہ اس گہرے بحران سے گزر رہے ہیں، یہ ہمارا فرض ہے کہ ہم ان کے درد کو سمجھیں اور ان کے لیے تعمیر نو کے لیے ہر ممکن مدد فراہم کریں۔
انھوں نے لکھا کہ ’میں حکومت ہند پر زور دیتا ہوں کہ وہ پونچھ اور پاکستانی گولہ باری سے متاثرہ دیگر تمام علاقوں کے لیے ایک مضبوط اور فراخدلی سے بھرپور ریلیف اور بحالی کا پیکج لائے۔‘

،تصویر کا ذریعہGetty Images
ایک امریکی عدالت نے صدر ٹرمپ کی طرف سے غیرملکی اشیا پر ٹیرف کا نفاذ کو غیر قانونی قرار دیا ہے۔ وائٹ ہاؤس نے اس فیصلے کو اعلی عدلیہ میں چیلنج کرنے کا اعلان کیا ہے۔ ٹیرف کی تفصیلات کیا ہیں؟
ٹرمپ نے ٹیرف میں تین طرح کے اضافے کیے ہیں:
تقریباً ہر ملک پر دس فیصد ٹیرف کا نفاذ کر دیا گیا ہے۔ کچھ ممالک پر زیادہ ٹیرف کا پلان بھی موجود ہے۔
تقریباً ہر ملک پر 10 فیصد ٹیرف۔۔۔ کچھ بڑے ملک کے ساتھ مخصوص نرخ کے منصوبے پہلے ہی روک دیے گئے تھے۔ میکسیکو، کینیڈا اور چین کے لیے اعلیٰ شرح، امریکہ میں فینٹینیل کے غیر قانونی بہاؤ کو روکنے سے منسلک کر دیا گیا۔
صنعت کے لیے مخصوص ٹیرف، سٹیل، ایلومینیم اور کاروں پر 25 فیصد اضافی شرح کا اطلاق کیا گیا۔
عدالت نے کیا حکم دیا ہے؟
عدالت نے مؤثر طریقے سے پہلے دو یعنی ہر ملک پر دس فیصد ٹیرف اور فینٹینیل سے متعلق ٹیرف کو ختم کر دیا ہے۔ فیصلے میں قرار دیا گیا ہے کہ ٹرمپ کو اس متعلق ہنگامی اختیارات کے استعمال کا حق ہی حاصل نہیں تھا جن کا ٹرمپ نے یہ اقدامات اٹھاتے ہوئے حوالہ دیا تھا۔
اب کیا ہوگا؟
ماہرین ابھی تک اس بات پر غور کر رہے ہیں کہ اس فیصلے کے کیا اثرات ہوں گے۔ اس فیصلے میں ٹرمپ انتظامیہ کو فیصلے کی تعمیل کے لیے ضروری اقدامات کرنے کے لیے دس دن کا وقت دیا گیا ہے۔
لیکن وائٹ ہاؤس کا کہنا ہے کہ وہ اس فیصلے کے خلاف اپیل کر رہے ہیں یعنی اب یہ مقدمہ اعلیٰ عدالت میں جائے گا۔

،تصویر کا ذریعہANI
انڈین وزارت خارجہ کے ترجمان رندھیر جیسوال نے کہا ہے کہ ’پاکستان کے ساتھ دو طرفہ تعلقات کے حوالے سے ہمارا موقف اور ہمارا رویہ بالکل واضح ہے۔ ہم اپنے اس عزم کو ایک بار پھر دہرانا چاہتے ہیں کہ دہشت گردی اور بات چیت ایک ساتھ نہیں چل سکتے۔‘
رندھیر جیسوال نے پاکستان کے وزیر اعظم شہباز شریف کے آزربائیجان میں سہہ فریقی اجلاس کے دوران خطاب میں کہے گئے اس بیان کے جواب میں اپنا بیان دیا ہے جس میں شہباز شریف نے کہا تھا کہ پاکستان امن کا خواہاں ہے اور بات چیت کے ذریعے مسائل کا حل چاہتا ہے۔
رندھیر جیسوال نے بیان میں مزید کہا کہ جہاں تک دہشت گردی کا تعلق ہے تو اب پاکستان کے ساتھ مزاکرات دہشت گردوں کی فہرست ہمارے حوالے کرنے کے معاملے پر ہوگی جو ہم انھیں چند سال پہلے فراہم کر چکے ہیں۔
انھوں نے کہا کہ ’جہاں تک جموں و کشمیر کا سوال ہے، دو طرفہ بات چیت صرف اس مسئلے پر ہوگی کہ پاکستان اپنے زیر انتظام کشمیر پر’غیر قانونی طور پر قبضے‘ سے دستبردار ہو جائے گا۔‘

،تصویر کا ذریعہGetty Images
یاد رہے کہ پاکستان کے وزیراعظم شہباز شریف نے بدھ کو آذربائیجان کے شہر لاچین میں پاکستان، ترکی اور آذربائیجان کے سہ فریقی اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کہا تھا کہ ہم کل بھی امن چاہتے تھے، آج بھی چاہتے ہیں اور مستقبل میں بھی امن کو ترجیح دیں گے۔
اس کے بعد ایک اور پروگرام میں خطاب کرتے ہوئے شہباز شریف نے کہا کہ پاکستان تمام معاملات مذاکرات کی میز پر حل کرنا چاہتا ہے۔
انھوں نے کہا کہ انڈیا نے بغیر کسی ثبوت کے پاکستان پر الزام لگایا اور پہلگام واقعہ کے حوالے سے کوئی ثبوت فراہم نہیں کیا۔
انھوں نے کہا کہ ہم نے انڈیا کے ساتھ تحقیقات میں تعاون کرنے پر آمادگی ظاہر کی تاہم انڈیا نے اسے مسترد کر دیا۔