یہ صفحہ مزید اپ ڈیٹ نہیں کیا جا رہا ہے!
بی بی سی اردو کی لائیو پیج کوریج جاری ہے تاہم یہ صفحہ مزید اپ ڈیٹ نہیں کیا جا رہا ہے۔
دو جون کی خبریں جاننے کے لیے یہاں کلک کریں
یوکرین نے دعوی کیا ہے کہ اس نے روس پر ایک بڑا ڈرون حملہ کیا ہے جس میں اس کے فوجی اڈوں پر 40 جہاز تباہ کر دیے گئے ہیں۔ اس حملے کی ایک ویڈیو بھی جاری کی گئی ہے جس میں دیکھا جا سکتا ہے کہ ڈرون حملوں کے بعد آگ کے شعلوں نے جہازوں کو اپنی لپیٹ میں لیا ہوا ہے۔
بی بی سی اردو کی لائیو پیج کوریج جاری ہے تاہم یہ صفحہ مزید اپ ڈیٹ نہیں کیا جا رہا ہے۔
دو جون کی خبریں جاننے کے لیے یہاں کلک کریں

بلوچستان کے دارالحکومت کوئٹہ میں بم دھماکے کے ایک واقعے میں کم از کم ایک شخص ہلاک اور چار زخمی ہو گئے ہیں۔
دھماکہ شہر میں اتوار کی شب مغربی بائی پاس کے ساتھ بروری روڈ کے آخری سٹاپ ہوا۔
ایس ایچ او بروری پولیس سٹیشن محمود خروٹی نے بتایا کہ دھماکے سے ایک ہنڈا سوک کار متاثر ہوئی۔ انھوں نے بتایا کہ دھماکے سے کار میں سوار ایک شخص ہلاک اور دوسرا زخمی ہوا جبکہ دھماکے سے تین راہگیر بھی زخمی ہوئے۔
ایک اور پولیس اہلکار نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بتایا کہ دھماکہ مقناطیسی بم پھٹنے کی وجہ سے ہوا جوکہ کار میں ڈرائیور کی سائیڈ پر چپکایا گیا تھا۔
اہلکار کے مطابق ہلاک ہونے والے شخص کی شناخت قلات سے تعلق رکھنے والے حسین علی محمد حسنی کے نام سے ہوئی جبکہ گاڑی میں سوار ان کا ساتھی نبیل زخمی ہوا ہے۔
گزشتہ 24 گھنٹوں کے دوران کوئٹہ میں یہ دوسرا بم دھماکہ تھا۔ گزشتہ روز کوئٹہ شہر کے نواحی علاقے ہنہ میں کلی منگلا کے قریب بم دھماکے کے ایک واقعے میں دو افراد ہلاک اور سات افراد زخمی ہوئے تھے۔

یوکرین نے دعوی کیا ہے کہ اس نے روس پر ایک بڑا ڈرون حملہ کیا ہے جس میں اس کے فوجی اڈوں پر 40 جہاز تباہ کر دیے گئے ہیں۔ اس حملے کی ایک ویڈیو بھی جاری کی گئی ہے جس میں دیکھا جا سکتا ہے کہ ڈرون حملوں کے بعد آگ کے شعلوں نے جہازوں کو اپنی لپیٹ میں لے لیا ہے۔
یوکرینی حکام کے مطابق روس کے خلاف حملے میں 472 ڈرونز، سات بیلسٹک اور کروز میزائلوں کا استعمال کیا گیا۔ اس حملے کو روس کے خلاف یوکرین کا اب تک کا سب سے بڑا حملہ قرار دیا جا رہا ہے۔
یہ حملہ ایک ایسے وقت پر کیا گیا ہے جب روس اور یوکرین کے درمیان جنگ بندی کی کوششیں جاری تھیں اور دونوں ممالک ایک بار پھر ترکی کے شہر استنبول میں ملنے جا رہے ہیں۔
امریکہ کے صدر ٹرمپ اس سے قبل روس کی طرف سے یوکرین پر بھی کیے جانے والے حملوں پر اپنا سخت ردعمل دے چکے ہیں۔ انھوں نے چند روز قبل روسی صدر سے فون پر تفصیلی گفتگو بھی کی تھی جس کے بعد انھوں نے جنگ بندی سے متعلق پیشرفت کا دعوی کیا تھا۔
روس کی ایئرفیلڈز پر یوکرینی حملوں کی تصدیق
روس کی وزارت دفاع کا کہنا ہے کہ آج صبح یوکرین نے اس کے پانچ مختلف ریجنز میں ایئرفیلڈ پر حملے کیے ہیں۔
ٹیلیگرام پر روس کی وزارت دفاع نے اسے یوکرین کا مرمنسک، ارکوتسک، ایوانو، ریازن اور امور پر دہشتگردانہ حملہ قرار دیا ہے۔ وزارت دفاع کے مطابق ان تمام حملوں کو پسپا کر دیا گیا ہے۔
وزارت کے مطابق ایئرفیلڈز کے قریبی علاقوں سے ایف پی وی ڈرونز کے حملوں کی وجہ سے ایوی ایشن کے متعدد آلات کو آگ لگی ہے جسے اب بجھا دیا گیا ہے۔
ارکوتسک کے گورنر کا کہنا ہے کہ ٹرکوں سے سریدنی اور سائبریا کے فوجی اڈوں پر حملہ کیا گیا ہے۔
یوکرین کی سکیورٹی سروس کا کہنا ہے کہ آپریشن سپائیڈرز ویب کی ڈیڑھ برس سے منصوبہ بندی کی جا رہی تھی اور صدر زیلنسکی اس کو خود مانیٹر کر رہے تھے۔
روسی میڈیا کے مطابق مرمنسک اور ارکوتسک کے فوجی اڈے فعال ہیں۔

،تصویر کا ذریعہReuters
سعودی عرب سمیت عرب ممالک کے چار وزرائے خارجہ نے اس ہفتے کے اختتام پر مغربی کنارے کے اہم دورے کا منصوبہ بنایا تھا مگر اسرائیل نے یہ دورہ روک دیا ہے۔ ریاض سمیت ان چار عرب ممالک نے اسرائیل کی طرف سے اس دورے کو روکے جانے کی مذمت کی ہے۔
خبر رساں ادارے روئٹرز کے مطابق سعودی عرب کے وزیر خارجہ فیصل بن فرحان نے کہا ہے کہ اسرائیل کے فیصلے سے ’انتہا پسندی‘ اور امن کو مسترد کرنے کے عزائم ظاہر ہوتے ہیں۔
ایک اسرائیلی اہلکار کا کہنا ہے کہ اس دورے کے دوران ہونے والی ملاقات میں فلسطینی ریاست کے قیام سے متعلق خیال کو فروغ دینے کی غرض سے بات چیت کرنا شامل تھی جو کہ ایک ایسی بات ہے جسے موجودہ اسرائیلی حکومت مسترد کرتی ہے۔

،تصویر کا ذریعہAFP via Getty Images
سابق وزیرِ اعظم اور پاکستان تحریکِ انصاف کے بانی عمران خان کا کہنا ہے کہ انھوں نے اپنی جماعت کو ملک گیر عوامی احتجاج شروع کرنے کا حکم دیا ہے جس کی قیادت جیل سے وہ خود کریں گے۔
اتوار کے روز اڈیالہ جیل میں قید سابق وزیرِ اعظم کے ٹوئٹر اکاؤنٹ سے جاری ایک پیغام میں عمران خان کا کہنا تھا، ’پارٹی کے تمام عہدیداران کو پیغام ہے کہ جس میں بھی دباؤ برداشت کرنے کی قوت نہیں ہے وہ عہدے سے الگ ہو جائے اور اپنی جگہ انھیں موقع دے جو پریشر برداشت کرنے کا حوصلہ رکھتے ہیں۔‘
ان کا کہنا تھا کہ پاکستان کی تاریخ میں کسی سیاسی جماعت کے ساتھ اس قدر ظلم نہیں ہوا جیسا تحریکِ انصاف کے ساتھ کیا گیا۔
’ایسے میں ہمارے پاس ملک گیر احتجاج کے سوا کوئی چارہ نہیں ہے۔‘
عمران خان کا کہنا تھا کہ انھوں نے اپنی جماعت کو پیغام بھیجا ہے کہ ملک گیر عوامی احتجاج کی تیاری کریں جس کی قیادت بطور پارٹی سربراہ جیل سے وہ خود کریں گے۔
سابق وزیرِ اعظم نے سپیکر قومی اسمبلی سردار ایاز صادق کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا ہے کہ وہ جس طرح ایوان چلا رہے ہیں، پی ٹی آئی ان کے خلاف عدم اعتماد لائے گی۔
ان کا کہنا تھا کہ سپیکر کے ہوتے ہوئے ایوان سے اراکین قومی اسمبلی کو اغوا کیا گیا اور پی ٹی آئی کے ایم این ایز کی تقاریر سنسر کر دی جاتی ہیں۔ ’اڈیالہ جیل کے باہر پارلیمنٹیرینز پر تشدد ہوتا ہے مگر یہ ہر معاملے میں ممبران قومی اسمبلی کی نمائندگی میں ناکام رہا ہے۔‘

،تصویر کا ذریعہReuters
ایران نے بین الاقوامی ایٹمی توانائی ایجنسی (آئی اے ای اے) کی جانب سے تیار کی گئی رپورٹ کو مغربی طاقتوں کی جانب سے سیاسی استحصال کے لیے استعمال کیے جانے کے خلاف خبردار کرتے ہوئے کہا ہے کہ مغربی ممالک کی جانب سے کسی بھی نامناسب اقدام کا سخت جواب دیا جائے گا۔
آئی اے ای اے کے ڈائیریکٹر جنرل رافیل گروسی آئندہ چند روز میں ایجنسی کے بورڈ آف ڈائیریکٹرز کو ایک رپورٹ پیش کرنے والے ہیں جس میں کہا گیا ہے کہ ایران نے تین مختلف مقامات پر خفیہ جوہری سرگرمیاں سرانجام دیں اور اس کام کے لیے ایسا جوہری مواد استعمال کیا گیا تھا جس کے بارے میں اقوام متحدہ کے جوہری نگران ادارے کو بتایا نہیں گیا تھا۔ ان مقامات کے متعلق ایک طویل عرصے سے تحقیقات جاری تھیں۔
یہ رپورٹ فی الحال شائع نہیں ہوئی ہے لیکن روئٹرز کا کہنا ہے کہ اس کی ایک کاپی اس کے نمائندے نے دیکھی ہے۔
نومبر میں ایجنسی کے 35 ملکی بورڈ آف گورنرز کی جانب سے بین الاقوامی جوہری توانائی ایجنسی سے اس ’جامع‘ رپورٹ کی درخواست کی گئی تھی۔ اس رپورٹ کے نتیجے میں امریکہ، برطانیہ، فرانس اور جرمنی کے لیے ایران کو جوہری عدم پھیلاؤ کی ذمہ داریوں کی خلاف ورزی کا مرتکب قرار دینے کی راہ ہموار ہو جائے گی۔
رافیل گروسی 9 جون کو اقوام متحدہ کے جوہری توانائی ایجنسی کے بورڈ آف گورنرز کو یہ رپورٹ پیش کرنے والے ہیں۔
ایران کے نائب وزیر خارجہ کاظم غریب آبادی نے کہا کہ یہ رپورٹ سیاسی طور پر اور اتفاق رائے کے بغیر تیار کی گئی ہے۔
ان کا کہنا ہے ماضی میں ایران کے جوہری پروگرام کے بارے میں عائد کیے گئے تمام الزامات جوہری معاہدے کے اعلان کے بعد نومبر 2015 کی قرارداد کے تحت ختم کر دیے گئے تھے۔
’لہذا، ایجنسی کی طرف سے یہ کارروائی اس قرارداد کی دفعات کے برخلاف اور غیر ثابت شدہ اور گمراہ کن الزامات کو دوبارہ زندہ کرنا ایک سیاسی اقدام ہے۔‘
رافیل گروسی کی رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ ایجنسی کی تحقیقات کے دوران جن چار مقامت کی جانچ کی گئی ان میں سے دو میں یورینیم کے آثار جبکہ تین جوہری مقامات پر ’خفیہ ٹیسٹنگ‘ کے آثار پائے گئے ہیں۔
رپورٹ میں اس بات پر زور دیا گیا ہے کہ ایران کا جوہری سرگرمیوں کی نگرانی کرنے والے بین الاقوامی ادارے کے ساتھ تعاون ’اطمینان بخش نہیں رہا۔‘
آئی اے ای اے کی رپورٹ میں کیے جانے والے بیشتر الزامات کا تعلقات سالوں پرانی سرگرمیوں سے ہے اور یہ پہلے بھی سامنے لائی جا چکی ہیں۔

،تصویر کا ذریعہGetty Images
امریکہ نے مجوزہ جوہری معاہدہ ایران کو بھجوا دیا: وائٹ ہاؤس
دوسری جانب امریکہ کا کہنا ہے کہ اس نے تہران اور واشنگٹن کے درمیان جوہری معاہدے کے لیے تیار کیا گیا مجوزہ معاہدہ ایران کو بھیج دیا ہے۔
ایرانی وزیرِ خارجہ عباس عراقچی کا کہنا ہے کہ عمانی ہم منصب بدر البوسیدی نے تہران کے مختصر دورے کے دوران انھیں ’امریکی معاہدے کے کچھ جزو‘ پیش کیے ہیں۔
سنیچر کے روز وائٹ ہاؤس کی پریس سکریٹری کیرولین لیویٹ نے کہا کہ اس معاہدے کو قبول کرنا تہران کے ’بہترین مفاد میں ہے۔‘
ان کا کہنا تھا کہ صدر ٹرمپ پہلے ہی واضح کر چکے ہیں کہ ایران کو کبھی جوہری بم حاصل کرنے کی اجازت نہیں دی جائے گی۔

،تصویر کا ذریعہIISS/YouTube
پاکستان کے چیئرمین جوائنٹ چیف آف سٹاف کمیٹی جنرل ساحر شمشاد مرزا کا کہنا ہے کہ جنوبی ایشیا میں کرائسس مینجمنٹ کا نظام نہ ہونے کے باعث شاید مستقبل میں بین الاقوامی طاقتیں بروقت پاکستان اور انڈیا کے درمیان محاذ آرائی نہ رکوا پائیں۔
سنیچر کے روز سنگاپور میں انٹرنیشنل انسٹی ٹیوٹ برائے سٹریٹیجک سٹیڈیز کے زیرِ اہتمام منعقدہ ایک سیمینار سے خطاب کرتے ہوئے جنرل شمشاد کا کہنا تھا کہ انڈین پالیسیوں اور سیاست کی ذہنیت کو مدِ نظر رکھتے ہوئے اور کرائسس مینجمنٹ کا نظام نہ ہونے کے باعث شاید مستقبل میں بین الاقوامی طاقتوں کو بروقت مداخلت کرنے اور محاذ آرائی رکوانے کا موقع نہ ملے۔ ’انھیں نقصان اور تباہی روکنے میں شاید بہت دیر ہو جائے۔‘
ان کا کہنا تھا کہ پہلگام واقعے کے بعد نہ صرف متنازع علاقے بلکہ پورے پاکستان اور پورے انڈیا میں جنگ کے امکانات خطرناک حد تک بڑھ گئے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ یہ نہ صرف دونوں ملکوں میں بسنے والے ڈیڑھ ارب لوگوں کے حق میں نہیں بلکہ سرمایہ کاری اور تجارت کے لیے بھی نقصان دہ ہے۔
خطے میں کرائسس مینجمنٹ کے نظام کے فقدان پر بات کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ جہاں تک کرائسس مینجمنٹ کا سوال ہے، پاکستان اور انڈیا کے درمیان رابطے کا واحد فعال ذریعہ دونوں ممالک کے ڈائیریکٹر جنرل ملٹری آپریشنز کے درمیان موجود ہاٹ لائن ہے۔
’حالیہ بحران سے اس بات کی جانب نشاندہی ہوتی ہے جب کوئی بحران پیدا ہوتا ہے تو اس کو روکنے کے لیے رابطے کے مختلف چینل کھلے رکھنے کتنے اہم ہیں۔‘
ان کا مزید کہنا تھا کہ پاکستان اور انڈیا کے درمیان ہونے والی حالیہ کشیدگی ایک بار پھر اس بات کی نشاندہی کرتی ہے کہ کیسے ملکوں کا جنگی جنون علاقائی کرائسس مینجمنٹ کے فریم ورک کو یرغمال بنا لیتا ہے۔

،تصویر کا ذریعہGetty Images
جنوبی غزہ کے علاقے رفح میں اسرائیلی ٹینکوں کی گولہ باری اور براہِ راست فائرنگ کے نتیجے میں امدادی مرکز کے قریب کم از کم 26 فلسطینی ہلاک اور 100 سے زائد زخمی ہو گئے ہیں۔
رفح میں موجود مقامی صحافی محمد غریب نے بی بی سی کو بتایا کہ غزہ ہیومینٹیرین فاؤنڈیشن کے زیرِ انتظام امریکی امداد سے چلنے والے مرکز کے نزدیک ہزاروں فلسطینی خوراک حاصل کرنے کے لیے جمع تھے کہ اچانک اسرائیلی ٹینک نمودار ہوئے اور ہجوم پر فائرنگ شروع کر دی۔
مقامی صحافیوں اور امدادی کارکنوں نے ان المناک مناظر کی ویڈیوز شیئر کی ہیں جن میں زخمیوں اور لاشوں کو گدھا گاڑیوں پر رکھ کر رفح کے الماواسی علاقے میں ریڈ کراس کے عارضی ہسپتال منتقل کیا جا رہا ہے۔ بی بی سی کو ملنے والی اطلاعات کے مطابق امدادی ٹیمیں جائے وقوعہ تک پہنچنے میں ناکام رہیں کیونکہ یہ علاقہ اسرائیلی فوج کے مکمل کنٹرول میں ہے۔
بی بی سی نے اسرائیلی ڈیفنس فورس (آئی ڈی ایف) سے واقعے پر مؤقف کے لیے رابطہ کیا ہے۔
محمد غریب کے مطابق فائرنگ کا واقعہ صبح 4:30 بجے (مقامی وقت) الاعلام چوراہے کے قریب پیش آیا جہاں امدادی مرکز کے نزدیک بڑی تعداد میں فلسطینی جمع تھے۔
غریب نے کہا ’لاشیں اور زخمی طویل وقت تک زمین پر پڑے رہے۔‘’ریسکیو ٹیمیں اندر نہیں جا سکیں تو لوگوں نے اپنی مدد آپ کے تحت گدھا گاڑیوں کے ذریعے زخمیوں کو ہسپتال پہنچایا۔‘
ریڈ کراس کے فیلڈ ہسپتال کے ایک ڈاکٹر کے مطابق وہاں 15 میتیں اور 50 زخمیوں کو لایا گیا۔ انھوں نے مزید بتایا کہ زخمیوں کو خان یونس کے ناصر ہسپتال منتقل کرنے کی کوششیں جاری ہیں۔
شہری دفاع کے ترجمان محمود بصل نے فرانسیسی خبر رساں ادارے اے ایف پی کو بتایا کہ اسرائیلی ٹینکوں سے فائرنگ کے نتیجے میں ’کم از کم 10 فلسطینی ہلاک اور 100 سے زائد زخمی ہوئے‘۔ ان کا کہنا تھا کہ فائرنگ اس وقت کی گئی جب ہزاروں فلسطینی امداد کے حصول کے لیے وہاں موجود تھے۔
یہ واقعہ رفح میں بگڑتی ہوئی انسانی صورتحال کی شدت کو مزید واضح کرتا ہے جہاں اسرائیلی فوجی کارروائیوں نے امداد، طبی سہولیات اور نقل و حرکت کو ناممکن بنا دیا ہے۔
ورلڈ فوڈ پروگرام کے مطابق سنیچر کے روز غزہ میں بھوک، خوف اور مایوسی کے عالم میں شہری بڑی تعداد میں امدادی ٹرکوں پر ٹوٹ پڑے، جس سے افراتفری کی صورتحال پیدا ہو گئی۔
غزہ ہیومینٹیرین فاؤنڈیشن ایک نیا ادارہ ہے جو امریکہ اور اسرائیل کی پشت پناہی سے قائم کیا گیا ہے اور غزہ بھر میں مخصوص مقامات پر خوراک تقسیم کر رہا ہے۔ یہ منصوبہ اسرائیل کی جانب سے حماس پر امداد چوری کرنے کے الزامات کے بعد شروع کیا گیا، جس کی حماس سختی سے تردید کرتی ہے۔
ادارے کا کہنا ہے کہ اس نے اس ہفتے دو ملین کھانے تقسیم کیے ہیں تاہم بی بی سی اس دعوے کی آزادانہ تصدیق نہیں کر سکا ہے۔

،تصویر کا ذریعہAnadolu via Getty Images
اسرائیلی فوج کا کہنا ہے کہ تاحال اسے غزہ ہیومینٹیرین فاؤنڈیشن کے زیرِ انتظام امریکی امداد سے چلنے والے مرکز کے نزدیک اپنے فوجیوں کی فائرنگ کے نتیجے میں ہونے والے زخمیوں کے بارے میں سے ہونے والے زخمیوں کے بارے میں فی الحال لاعلم ہے۔
اسرائیلی فوج کا کہنا ہے کہ وہ اس معاملے کا جائزہ لے رہے ہیں۔

،تصویر کا ذریعہMoscow Interregional Transport Prosecutor's Office
روس میں یوکرین کی سرحد کے نزدیک ٹرین تریک پر پل گرنے سے کم از کم سات افراد ہلاک ہو گئے ہیں۔
سنیچر کے روز روس کے علاقے برائنسک میں ایک ہائی وے کا پل گرنے کے نتیجے میں متعدد ٹرک نیچے سے گزرتی ٹرین پر آگرے۔
اس حادثے میں 31 افراد کے زخمی ہونے کی بھی اطلاعات ہیں۔
روسی حکام کے مطابق امدادی ٹیمیں ٹرین پر سوار افراد کی تلاش کر رہی ہیں۔
ٹیلیگرام پر جاری ایک بیان میں ماسکو ریلوے نے الزام لگایا ہے کہ پل نقل و حمل کے آپریشنز میں غیر قانونی مداخلت کے نتیجے میں گرا ہے۔
علاقے کے گورنر الیگزینڈر بوگاماز کا کہنا ہے کہ حادثے میں سات افراد ہلاک ہوئے ہیں جبکہ دو افراد کی حالت تشویشناک ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ تمام زخمیوں کو برائنسک کی ہسپتالوں میں منتقل کر دیا گیا ہے۔
حکام کا کہنا ہے کہ حادثے کی تحقیقات کا آغاز کر دیا گیا ہے۔

،تصویر کا ذریعہAFP via Getty Images
سابق وزیرِ اعظم اور پاکستان تحریکِ انصاف کے بانی عمران خان نے چیف آف آرمی سٹاف فیلڈ مارشل عاصم منیر پر الزام لگایا ہے کہ وہ ان کی اہلیہ بشریٰ بی بی کو انتقامی کارروائی کا نشانہ بنا رہے ہیں۔
سنیچر کے روز اڈیالہ جیل میں قید سابق وزیرِ اعظم کے ٹوئٹر اکاؤنٹ سے جاری ایک بیان کے مطابق انھوں نے جیل میں کی وکلا اور میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے دعویٰ کیا کہ ’میں نے بطور وزیراعظم جنرل عاصم منیر کو ڈی جی آئی ایس آئی کے عہدے سے ہٹایا تو عاصم منیر نے اپنے ذرائع سے بشریٰ بی بی تک رسائی کی کوشش کی کہ میں اس حوالے سے آپ سے بات کرنا چاہتا ہوں۔‘
عمران خان کا کہنا تھا کہ بشریٰ بی بی نے جنرل عاصم منیر کو یہ کہہ کر صاف انکار کر دیا کہ اُن کا اِن معاملات سے کوئی تعلق نہیں۔
’بشریٰ بی بی کی گزشتہ 14 ماہ کی ناحق قید اور جیل میں ناروا سلوک کے پیچھے جنرل عاصم منیر کا یہ انتقامی رویہ ہی کارفرما ہے۔‘
سابق وزیرِ اعظم نے دعویٰ کیا کہ انھیں زیر کرنے کیلئے جس طرح ان کی اہلیہ کو انتقام کا نشانہ بنایا جارہا ہے آمریت کے دور میں بھی کبھی ایسا نہیں ہوا۔
عمران خان نے الزام لگایا کہ چار ہفتوں سے ان کی اپنی اہلیہ سے ملاقات بھی نہیں کروائی جارہی۔
’جیل ضابطے کے مطابق کل میری اپنی اہلیہ سے ملاقات کا دن طے تھا مگر عدالتی حکم کے باوجود طے شدہ شیڈول کے مطابق ہماری ملاقات نہیں کروائی گئی۔‘

بلوچستان کے دارالحکومت کوئٹہ کے قریب بم دھماکے کے ایک واقعے میں کم ازکم دو افراد ہلاک اور سات زخمی ہوگئے ہیں۔
اُدھر ضلع مستونگ میں نامعلوم مسلح افراد نے لیویز فورس کے ایک تھانے کو نذر آتش کردیا ہے۔
کوئٹہ شہر کے قریب بم دھماکے کا واقعہ ہنہ اوڑک کے علاقے میں پیش آیا ہے۔
ہنہ پولیس سٹیشن کے ایس ایچ او نوید اختر نے فون پر بی بی سی کو بتایا کہ نامعلوم افراد نے کلی منگلا کے قریب دھماکہ خیز مواد نصب کیا تھا جو اس وقت پھٹ گیا جب ایک گاڑی وہاں سے گزرہی تھی۔
انھوں نے بتایا کہ دھماکہ خیز مواد پھٹنے سے گاڑی میں سوار کم ازکم دو افراد ہلاک اور سات زخمی ہوگئے ۔ ہلاک ہونے والے افراد کی لاشوں کو پوسٹ مارٹم اور زخمیوں کو طبی امداد کی فراہمی کے سول ہسپتال کوئٹہ کے ٹراما سینٹر منتقل کیا گیا۔
دھماکے میں ہلاک ہونے والے افراد سگے بھائی اور مقامی قبائلی شخصیت کے بیٹے تھے۔ پولیس اہلکار کے مطابق واقعے کے بارے میں تحقیقات جاری ہیں۔
محکمہ صحت بلوچستان کے کوآرڈینیٹرڈاکٹر وسیم بیگ کے مطابق دھماکے کی وجہ سے دیگر افراد کو معمولی زخم آئے ہیں جن کو طبی امداد فراہم کی جارہی ہے۔
کوئٹہ سے متصل ضلع مستونگ میں لیویز فورس ولی خان کے حدود میں شام کو نامعلوم مسلح افراد نے لیویز فورس کے تھانے کی عمارت کو نذر آتش کیا۔
مستونگ میں لیویز فورس کے ایک اہلکار نے بتایا کہ آگ کی وجہ سے تھانے کی عمارت کو نقصان پہنچا لیکن کوئی جانی نقصان نہیں ہوا۔ کوئٹہ میں سکیورٹی فورسز کے ایک سینیئر اہلکار کے مطابق اس علاقے میں مسلح افراد نے ناکہ بندی کی بھی کوشش کی لیکن سکیورٹی فورسز نے بروقت کارروائی کرکے ناکہ بندی کی کوشش کو ناکام بنادیا۔
فلسطینی وزارت صحت کا کہنا ہے کہ گزشتہ 24 گھنٹوں کے دوران اسرائیلی حملوں میں مزید 60 افراد ہلاک جبکہ 284 زخمی ہو گئے ہیں۔
حماس کے زیر انتظام وزارت کا کہنا ہے کہ اس تعداد میں شمالی غزہ کی پٹی گورنریٹ میں واقع ہسپتالوں کی تعداد شامل نہیں ہے کیونکہ اس علاقے تک رسائی میں دشواری ہے۔
یاد رہے کہ سات اکتوبر 2023 کو جنگ کے آغاز سے اب تک ہلاکتوں کی تعداد 54،381 ہوگئی ہے۔ جبکہ ایک لاکھ 24 ہزار سے زائد افراد زخمی ہوئے ہیں۔
اسرائیل نے سات اکتوبر کو حماس کے حملے کے جواب میں غزہ میں اپنی فوجی کارروائی کا شروع کی تھی جس میں تقریبا 1،200 افراد ہلاک ہوئے تھے۔

،تصویر کا ذریعہGetty Images
واشنگٹن ڈی سی میں جمعرات کے روز جب ایک نیوز کانفرنس کے دوران وائٹ ہاؤس کی پریس سیکریٹری کیرولن لیویٹ سے پوچھا گیا کہ کیا وہ سعودی عرب کے العربیہ ٹی وی کی اس رپورٹ کی تصدیق کر سکتی ہیں کہ اسرائیل اور حماس نے جنگ بندی کے نئے معاہدے پر اتفاق کیا ہے۔
جس کے جواب میں کیرولن لیویٹ نے کہا کہ ’جی میں اس بات کی تصدیق کر سکتی ہوں کہ خصوصی ایلچی سٹیو وٹکوف اور صدر نے حماس کو جنگ بندی کی تجویز پیش کی جس کی اسرائیل نے حمایت کی ہے۔ حماس کو بھیجنے سے قبل اس تجویز پراسرائیل نے دستخط کر دیے تھے۔‘
دوسری جانب اسرائیل کے ٹی وی چینل 12 نے یہ بھی اطلاع دی ہے کہ اسرائیلی صدر نیتن یاہو نے یرغمالیوں کے اہل خانہ سے ایک ملاقات میں کہا کہ ’ہم وٹکوف کے اس تازہ ترین منصوبے کو قبول کرنے پر اتفاق کرتے ہیں جو ہمیں آج رات بتایا گیا تھا تاہم حماس نے ابھی تک کوئی جواب نہیں دیا ہے۔‘
نیتن یاہو کے مطابق ’ہمیں یقین نہیں کہ حماس آخری یرغمالی کو رہا کرے گی اور ہم اس وقت تک غزہ کی پٹی نہیں چھوڑیں گے جب تک تمام یرغمالی ہمارے حوالے نہیں کر دیے جاتے۔‘
تاہم اس کے بعد اسرائیلی صدر کے دفتر نے ایک بیان جاری کرتے ہوئے الزام عائد کیا کہ چینل کے ایک رپورٹر نے اس کمرے میں ریکارڈنگ ڈیوائس سمگل کرنے کی کوشش کی جہاں یہ ملاقات ہوئی تھی۔ لیکن اان کی جانب سے امریکی تجویز سے متفق ہونے کی تردید نہیں کی گئی۔

،تصویر کا ذریعہGetty Images
غزہ میں جنگ بندی کے لیے مجوزہ امریکی منصوبے پر ردِ عمل دیتے ہوئے فلسطینی تنظیم حماس کا کہنا ہے کہ اس نے رواں ہفتے کے اوائل میں پیش کی جانے والی امریکی تجویز پر اپنا جواب جمع کرا دیا ہے۔
حماس کی جانب سے جاری ایک بیان میں کہا گیا ہے کہ وہ فلسطینی قیدیوں کی رہائی کے بدلے دس زندہ اور 18 مردہ یرغمالیوں کی لاشیں واپس کرنے کے لیے تیار ہے۔
تاہم حماس نے اپنے جواب میں مستقل جنگ بندی، غزہ سے اسرائیل کا مکمل انخلا اور انسانی امداد کی مسلسل ترسیل کے اپنے مطالبات دہرائے ہیں۔ ان میں سے ایک بھی شرط امریکی مجوزہ منصوبے میں شامل نہیں۔
حماس کا جواب نہ تو مجوزہ منصبے سے واضح طور پر انکار ہے اور نہ ہی اس کا مطلب یہ ہے کہ انھیں امریکی شرائط پر جنگ بندی منظور ہے۔
اسرائیل پہلے ہی اس منصوبے پر رضامندی ظاہر کر چکا ہے۔
حماس کا کہنا ہے کہ اس نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے خصوصی ایلچی برائے مشرقِ وسطیٰ سفیر سٹیو وٹکوف کی جانب سے تجویز کردہ مسودے پر اپنا جواب جمع کروا دیا ہے۔
سٹیو وٹکوف کی جانب سے جاری ایک بیان میں کہا گیا ہے کہ انھیں حماس کا جواب موصول ہو گیا ہے جو کہ نہ صرف ’ناقابل قبول‘ ہے بلکہ اس پورے عمل نقصان پہنچائے گا۔
ان کا کہنا تھا کہ حماس کو مجوزہ فریم ورک کی تجویز قبول کرلینی چاہیے جو ابتدائی مذاکرات کی بنیاد بن سکتے ہیں۔ ان کے مطابق یہ مذاکرات آنے والے ہفتے شروع ہو سکتے ہیں۔
مبینہ جنگ بندی کی تجویز میں کیا ہے؟
حماس کا کہنا ہے کہ امریکہ کی جانب سے غزہ میں جنگ بندی کے منصوبے میں گروپ کے بنیادی مطالبات کو پورا نہیں کیا گیا۔
منصوبے کی مکمل تفصیلات ابھی تک منظر عام پر نہیں لائی گئی ہیں اور معلومات ابھی غیر مصدقہ ہیں لیکن خبر رساں ادارے روئٹرز کے مطابق اس میں یہ اہم نکات شامل ہیں:

،تصویر کا ذریعہPTV
وزیراعظم پاکستان شہباز شریف نے کہا ہے کہ بلوچستان کے لوگ دلیر ہیں لیکن اگر کوئی شکوہ ہے تو بیٹھ کر اس پر بات کرنی چاہیے۔
کوئٹہ میں بلوچستان گرینڈ جرگے سے خطاب میں وزیراعظم شہباز شریف نے کہا کہ دہشت گرد خون کے پیاسے ہیں اور پاکستان کی ترقی اور خوشحالی ان کو پسند نہیں۔
وزیراعظم نے گرینڈ جرگے کو کہا کہ دہشتگردوں کے راستے اور ان کے ہتھکنڈوں کو آپ کو ناکام بنانا ہے، اس حوالے سے جو نقائص ہیں، وہ ہم آپ کے مشورے سے دور کر سکتے ہیں۔
اس دوران وزیراعظم نے یہ اعلان بھی کیا کہ اگلے مالی سال میں ایک ہزار ارب روپے کے ترقیاتی پروگرام میں بلوچستان کا حصہ 250 ارب روپے ہو گا اور کوشش ہونی چاہیے کہ یہ فنڈ شفافیت کے ساتھ خرچ ہوں۔
انڈیا کی اپوزیشن جماعت کانگریس نے مطالبہ کیا ہے کہ انڈین مسلح افواج کے چیف آف ڈیفینس سٹاف کے بیان کے بعد کچھ ایسے سوال پیدا ہوتے ہیں، جن کے جواب جاننا ضروری ہیں۔
کانگریس کے صدر ملک ارجن کھرگے نے کہا ہے کہ یہ سوال اسی صورت میں ہی پوچھے جا سکتے ہیں، اگر اس کے لیے پارلیمان کا خصوصی اجلاس فوری طور پر طلب کیا جائے۔
واضح رہے کہ سنیچر کے روز بلوم برگ ٹی وی کے ساتھ ایک انٹرویو میں انڈین مسلح افواج کے چیف آف ڈیفنس سٹاف انیل چوہان نے پاکستان کی جانب سے طیارے گرائے جانے کے دعوؤں کے بارے میں پہلی مرتبہ جواب دیتے ہوئے کہا کہ ’اہم بات یہ نہیں کہ طیارے گرائے گئے بلکہ یہ کہ وہ کیوں گرائے گئے۔ کیا غلطیاں ہوئیں، یہ باتیں اہم ہیں۔ نمبر اہم نہیں ہوتے۔‘
ایکس پر اپنے پیغام میں ملک ارجن کھرگے نے مزید لکھا کہ کانگریس پارٹی، کارگل ریویو کمیٹی کی طرز پر ایک آزاد کمیٹی کے ذریعے ملک کی دفاعی تیاریوں کا جامع جائزہ لینے کا مطالبہ کرتی ہے۔
انھوں نے یہ سوال بھی کیا کہ اگر پاکستان اور انڈیا کے درمیان کشیدگی دوبارہ بڑھتی ہے تو دونوں ملکوں کے درمیان سیز فائر کی شرائط کیا ہوں گی؟
اس تحریر میں ایسا مواد ہے جو X کی جانب سے دیا گیا ہے۔ کسی بھی چیز کے لوڈ ہونے سے قبل ہم آپ سے اجازت چاہتے ہیں کیونکہ یہ ممکن ہے کہ وہ کوئی مخصوص کوکیز یا ٹیکنالوجیز کا استعمال کر رہے ہوں۔ آپ اسے تسلیم کرنے سے پہلے X ککی پالیسی اور پرائیویسی پالیسی پڑھنا چاہیں گے۔ اس مواد کو دیکھنے کے لیے ’تسلیم کریں، جاری رکھیں‘ پر کلک کریں۔
X پوسٹ کا اختتام
پاکستان کی وزارت داخلہ نے انڈیا میں اسلاموفوبیا کے بڑھتے واقعات پر گہری تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ پاکستان انڈیا سے مطالبہ کرتا ہے کہ وہ اپنے تمام شہریوں کے حقوق اور تحفظ کا خیال رکھے۔
وزارت داخلہ کے ترجمان کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا ہے کہ انڈیا کو اپنے تمام شہریوں کے حقوق اور تحفظ کا خیال رکھنا چاہیے، اگرچہ ان کا تعلق کسی بھی مذہب سے ہو۔
بیان کے مطابق ’نفرت انگیز تقاریر، امتیازی کارروائیوں اور ریاستی مداخلت کے ذریعے مسلمانوں کو نشانہ بنانا بین الاقوامی برادری کے لیے سنگین تشویش کا باعث ہے۔‘
ترجمان وزارت داخلہ کے بیان میں یہ بھی کہا گیا کہ ’ایک ایسے وقت میں جب تحمل اور مفاہمت کی سب سے زیادہ ضرورت ہے، سیاسی یا نظریاتی مقاصد کے لیے مذہبی منافرت کو جان بوجھ کر بھڑکانا انسانی حقوق کی بین الاقوامی ذمہ داریوں کی خلاف ورزی کرتا ہے اور فرقہ وارانہ ہم آہنگی اور علاقائی استحکام کے امکانات کو نقصان پہنچاتا ہے۔‘

،تصویر کا ذریعہPTV
پاکستان کے وزیراعظم شہباز شریف نے کہا ہے کہ انڈیا کی جانب سے حالیہ جارحیت کا پاکستان نے صرف جواب نہیں دیا بلکہ بازی ہی پلٹ دی۔
کوئٹہ کے کمانڈ اینڈ سٹاف کالج میں خطاب کے دوران شہباز شریف نے کہا کہ پاکستان کی مسلح افواج ہماری خودمختاری اور سالیمت کی محافظ ہیں۔ انھوں نے کہا کہ ’انڈیا نے پہلگام کی آڑ میں جارحیت کی کوشش کی لیکن پاکستان نے صرف جواب نہیں دیا بلکہ بازی ہی پلٹ دی۔‘
وزیراعظم نے کہا کہ چھ مئی کو انڈیا نے حملہ کیا تو پاکستان نے زمین اور فضائی حدود میں منہ توڑ جواب دیا۔
واضح رہے کہ وزیر اعظم پاکستان کا یہ بیان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے، جب آج ہی انڈین مسلح افواج کے چیف آف ڈیفنس سٹاف انیل چوہان نے پاکستان کی جانب سے طیارے گرائے جانے کے دعوؤں کے بارے میں پہلی مرتبہ جواب دیا۔
سنیچر کے روز بلوم برگ ٹی وی کے ساتھ انٹرویو میں جب ان سے پوچھا گیا کہ حالیہ تنازع کے دوران پاکستان انڈیا کے چھ لڑاکا طیارے گرانے میں کامیاب ہوا یا نہیں؟ تو انیل چوہان نے کہا کہ ’اہم بات یہ نہیں کہ طیارے گرائے گئے بلکہ یہ کہ وہ کیوں گرائے گئے۔ کیا غلطیاں ہوئیں، یہ باتیں اہم ہیں۔ نمبر اہم نہیں ہوتے۔‘
یاد رہے کہ پاکستان کی جانب سے انڈین طیارے گرائے جانے کے دعوے کی اس سے قبل انڈیا نے تصدیق یا تردید نہیں کی تھی اور انڈیا کے خارجہ سیکریٹری وکرم مسری نے ایک پریس بریفنگ میں کہا تھا کہ وہ اس بارے میں جواب صحیح وقت پر دیں گے۔
شہباز شریف نے دوران خطاب یہ بھی کہا کہ فیلڈ مارشل عاصم منیر کی پیشہ وارانہ صلاحیتوں کے باعث پاکستان کو تاریخی کامیابی ملی اور انھوں نے یہ ثابت کیا کہ وہ فیلڈ مارشل کے عہدے کے حقدار ہیں۔
وزیراعظم کا یہ بھی کہنا تھا کہ انڈیا کو پانی کو بطور ہتھیار استعمال کرنے کی اجازت نہیں دیں گے۔

،تصویر کا ذریعہGetty Images
انڈین مسلح افواج کے چیف آف ڈیفنس سٹاف انیل چوہان نے پاکستان کی جانب سے طیارے گرائے جانے کے دعوؤں کے بارے میں پہلی مرتبہ جواب دیتے ہوئے کہا ہے کہ ’اہم بات یہ نہیں کہ طیارے گرائے گئے بلکہ یہ کہ وہ کیوں گرائے گئے۔ کیا غلطیاں ہوئیں، یہ باتیں اہم ہیں۔ نمبر اہم نہیں ہوتے۔‘
سنگاپور میں جاری شنگریلا ڈائیلاگ کے موقع پر سنیچر کے روز بلوم برگ ٹی وی کے ساتھ ایک انٹرویو میں جب ان سے پوچھا گیا کہ حالیہ تنازع کے دوران پاکستان نے انڈیا کے چھ لڑاکا طیارے گرانے میں کامیاب ہوا یا نہیں؟ تو انیل چوہان نے پاکستان کے اس دعوے کو ’قطعی طور پر غلط‘ قرار دیا کہ اس نے انڈیا کے چھ لڑاکا طیارے مار گرائے۔
ان کا کہنا تھا کہ ’اہم بات یہ نہیں کہ طیارے گرائے گئے، بلکہ یہ ہے کہ وہ کیوں گرائے گئے۔‘ تاہم انھوں نے یہ نہیں بتایا کہ انڈیا نے کتنے طیارے کھوئے۔
چوہان نے کہا ’طیارے کیوں گرے، کیا غلطیاں ہوئیں، یہ باتیں اہم ہیں۔ نمبر اہم نہیں ہوتے۔‘
پاکستان کی جانب سے انڈین طیارے گرائے جانے کے دعوے کی اس سے قبل انڈیا نے تصدیق یا تردید نہیں کی تھی اور انڈیا کے خارجہ سیکریٹری وکرم مسری نے ایک پریس بریفنگ میں کہا تھا کہ وہ اس بارے میں جواب صحیح وقت پر دیں گے۔
انڈین فضائیہ (آئی اے ایف) کے ایئر مارشل اے کے بھارتی نے ایک پریس بریفننگ کے دوران ایک سوال کے جواب میں کہا تھا کہ ’جنگ میں نقصان معمول کی بات ہے‘ لیکن انھوں نے بھی پاکستانی دعوے پر براہ راست تبصرہ کرنے سے گریز کیا تھا۔
خیال رہے پاکستان کا دعویٰ ہے کہ اس سے چھ اور سات مئی کی درمیانی شب انڈیا کے 6 طیارے مار گرائے جن میں تین رفال بھی شامل ہیں۔
یاد رہے کہ بی بی سی ویریفائی نے تین ایسی ویڈیوز کی تصدیق کی تھی جن کے بارے میں دعویٰ کیا تھا کہ ان میں نظر آنے والا ملبہ فرانسیسی ساختہ رفال طیارے کا ہے۔ اسی نوعیت کی ایک تصدیق واشنگٹن پوسٹ بھی کر چکا ہے۔

،تصویر کا ذریعہGetty Images
صوبائی ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی (پی ڈی ایم اے) نے خیبرپختونخوا میں حالیہ بارشوں، آندھی، ژالہ باری اور آسمانی بجلی گرنے سے ہونے والے جانی و مالی نقصانات کی تفصیلات جاری کی ہیں۔
رپورٹ کے مطابق 27 مئی سے جاری شدید موسم کے دوران مختلف حادثات میں کم از کم 10 افراد ہلاک جبکہ 30 افراد زخمی ہوئے ہیں۔ ہلاک ہونے والوں میں پانچ مرد، تین خواتین اور دو بچے شامل ہیں جبکہ زخمیوں میں 13 مرد، 10 خواتین اور سات بچے شامل ہیں۔
پی ڈی ایم اے کا کہنا ہے کہ موسمی اثرات کے باعث صوبے بھر میں 34 گھروں کو نقصان پہنچا جن میں سے 32 کو جزوی جبکہ 2 کو مکمل نقصان ہوا۔
یہ حادثات صوبے کے مختلف اضلاع مردان، صوابی، پشاور، شانگلہ، دیر لوئر، سوات، تورغر، باجوڑ، مہمند، مانسہرہ اور ہری پور میں پیش آئے۔
پی ڈی ایم اے نے متعلقہ ضلعی انتظامیہ کو متاثرہ خاندانوں کو فوری امداد فراہم کرنے اور زخمیوں کو بہترین طبی سہولیات مہیا کرنے کی ہدایات جاری کر دی ہیں۔
ادارے کے مطابق بارشوں کا سلسلہ 31 مئی تک جاری رہنے کا امکان ہے، جس کے پیش نظر تمام اضلاع کو پہلے ہی الرٹ رہنے اور پیشگی اقدامات اٹھانے کی ہدایات دی گئی ہیں۔
پی ڈی ایم اے کا کہنا ہے کہ اس کا ایمرجنسی آپریشن سنٹر مکمل فعال ہے اور عوام کسی بھی ناخوشگوار واقعے کی اطلاع ہیلپ لائن 1700 پر دے سکتے ہیں۔