یہ صفحہ اب مزید اپ ڈیٹ نہیں کیا جا رہا
بی بی سی اردو کی لائیو کوریج جاری ہے تاہم یہ صفحہ ابھی مزید اپڈیٹ نہیں کیا جا رہا۔ تامہ ترین اپ ڈیٹس کے لیے اس لنک پر کلک کریں۔
پاکستان پیپلز پارٹی کے چیئرمین اور پاکستانی سفارتی مشن کے سربراہ بلاول بھٹو زرداری نے کہا ہے کہ انڈیا کے ساتھ امن چاہتے ہیں مگر شرائط پر نہیں، مذاکرات ہی امن کا واحد راستہ ہے، امن کا حصول ڈائیلاگ اور سفارت کاری سے ہی ممکن ہے۔ انھوں نے کہا کہ کشمیر کو کوئی فوجی حل نہیں ہے۔
بی بی سی اردو کی لائیو کوریج جاری ہے تاہم یہ صفحہ ابھی مزید اپڈیٹ نہیں کیا جا رہا۔ تامہ ترین اپ ڈیٹس کے لیے اس لنک پر کلک کریں۔

،تصویر کا ذریعہAPP
پاکستان پیپلز پارٹی کے چیئرمین اور پاکستانی سفارتی مشن کے سربراہ بلاول بھٹو زرداری نے کہا ہے کہ انڈیا کے ساتھ امن چاہتے ہیں مگر شرائط پر نہیں، مذاکرات ہی امن کا واحد راستہ ہے، امن کا حصول ڈائیلاگ اور سفارت کاری سے ہی ممکن ہے۔ انھوں نے کہا کہ کشمیر کو کوئی فوجی حل نہیں ہے۔
نیویارک میں اقوام متحدہ کے ہیڈکوارٹر میں نیوز کانفرنس کے دوران پاکستانی پارلیمانی وفد کے سربراہ بلاول بھٹو کا کہنا تھا کہ انڈیا نے بغیر تحقیقات اور ثبوت کے پہلگام واقعہ کا الزام پاکستان پر عائد کیا جب کہ پہلگام واقعے پر وزیراعظم شہباز شریف نے انڈیا کو تحقیقات کی پیشکش کی تھی۔
ان کا کہنا تھا کہ انڈیا کی جانب سے سرحدی حدود کی خلاف ورزی کی گئی اور جارحیت کرکے معصوم شہریوں کو نشانہ بنایا، انڈیا نے مساجد کو نقصان پہنچایا جبکہ انڈیا، بلوچستان اور خیبرپختونخوا میں دہشت گردی میں ملوث ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ ’پاکستان ہر قسم کی دہشت گردی کی بھرپور مذمت کرتا ہے، ہم نے دہشت گردی کے خلاف جنگ میں بھاری قیمت ادا کی ہے، پاکستان دہشت گردی کا سب سے زیادہ متاثر ہے، میری والدہ کو بھی دہشت گردوں نے شہید کیا۔‘
بلاول بھٹو نے کہا کہ ’دہشت گردی کو سیاسی ہتھیار کے طور پر استعمال نہیں کرنا چاہیے، ہم نے دیکھا حالیہ کشیدگی کتنی تیزی سے آگے بڑھی، دو ایٹمی طاقتیں جنگ کے دہانے پر آگئی تھیں، تاہم امریکی صدر سمیت عالمی برادری نے سیز فائر میں اہم کردار ادا کیا۔‘
ان کا کہنا تھا کہ انڈین اقدامات خطے کی سلامتی کے لیے خطرے کا باعث بنے، خطے میں کشدیگی کی بنیادی وجہ مسئلہ کشمیر کا حل نہ ہونا ہے جب کہ انڈیا نے جب پاکستان پر حملہ کیا تو اس نے اسرائیلی ڈرون کا بھی استعمال کیا۔
انھوں نے کہا کہ سندھ طاس معاہدے کی انڈیا کی جانب سے خلاف ورزی قابل مذمت ہے، دنیا سے پوچھنا چاہتا ہوں کہ کسی کی لائف لائن کاٹ دی جائے تو کیا رد عمل ہوگا؟
بلاول بھٹو کا کہنا تھا کہ انڈیا اسرائیل کی طرح عالمی قوانین کی خلاف ورزی کررہا ہے اور انڈیا کی جانب سے پانی روکنا بین الاقوامی معاہدوں کی کھلی خلاف ورزی ہے۔ انھوں کہا کہ پانی کو بطور ہتھیار استعمال کرنے نہیں دیں گے۔
ان کا کہنا تھا کہ ’مودی حکومت انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزیاں کررہی ہے، ہمارے پاس انڈیا کے خلاف شکایات کی لمبی فہرست ہے، انڈیا مسلسل پاکستان کے خلاف بیانات دے رہا ہے، انڈیا اب نیا اصول خطے میں نافذ کرنے کی کوشش کررہا ہے۔‘
بلاول بھٹو نے کہا کہ مودی کو دیکھیں وہ لگتا ہے نیتن یاہو کی کاپی ہے، انڈیا اور اسرائیل کے اقدامات میں مماثلت پائی جاتی ہے۔ ان کے مطابق مودی اور نیتن یاہو انتہاپسند ہیں، جو نفرت کو فروغ دیتے ہیں، خطے کے امن میں سب سے بڑی رکاوٹ مودی اور نیتن یاہو کی پالیسیاں ہیں۔
بلاول بھٹو نے مطالبہ کیا کہ عالمی برادری انڈین جارحیت کا نوٹس لے اور صورت حال بگڑنے سے پہلے عالمی برادری کو کردار ادا کرنا چاہیے۔
ایک سوال کے جواب میں ان کا کہنا تھا کہ دہشت گردی کے خاتمے کے لیے مذاکرات اور تعاون ضروری ہے جب کہ انڈین حکومت اپنے ملک میں دہشت گردی کو مسلمانوں کے تشخص کو مسخ کرنے کے لیے استعمال کرتی ہے، انڈیا نے مقبوضہ کشمیر میں ’ڈیموگرافی‘ تبدیل کرنے کی کوشش کی۔
بلاول بھٹو نے کہا کہ پاکستان کے امریکا اور چین کے ساتھ اقتصادی تعاون کے معاہدے ہیں، صدر ٹرمپ اب پاکستان کے ساتھ جامع تجارتی معاہدے چاہتے ہیں۔

،تصویر کا ذریعہReuters
گذشتہ ہفتے حماس نے امریکی جنگ بندی کی تجویز کا جواب دیتے ہوئے کہا ہے کہ وہ متعدد فلسطینی قیدیوں کے بدلے 10 زندہ اسرائیلی یرغمالیوں کو واپس دینے کو تیار ہے۔ حماس نے 18 مارے جانے والے یرغمالیوں کی لاشیں واپس کرنے کی بھی حامی بھری ہے۔
حماس نے جنگ بندی سے متعلق پلان میں کچھ ترامیم کرنے کی بھی درخواست کی تھی۔
حماس نے مستقل جنگ بندی، غزہ سے مکمل اسرائیلی انخلا اور انسانی امداد کے مسلسل فراہمی کی ضمانت کے اپنے مطالبات کو دہرائے۔
تاہم امریکہ کے مطابق ان میں سے کوئی بھی چیز ڈیل کا حصہ نہیں ہے۔
امریکہ کی طرف سے پیش کردہ پلان کو حماس نے نہ واضح طور پر قبول کیا اور نہ مسترد کرنے کا بیان دیا۔ واشنگٹن کا کہنا ہے کہ اسرائیل نے اس کے جنگ بندی منصوبے کو تسلیم کرنے کی حامی بھری ہے۔
حماس نے کہا کہ اس نے مشرق وسطیٰ کے لیے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے خصوصی ایلچی سٹیو وٹکوف کے تجویز کردہ امریکی مسودے پر اپنا ردعمل تحریری طور پر پیش کر دیا ہے۔
ایک بیان میں سٹیو وٹکوف نے کہا کہ ’مجھے امریکہ کی تجویز پر حماس کا ردعمل موصول ہوا ہے۔ یہ مکمل طور پر ناقابل قبول ہے اور صرف ہمیں ماضی کی طرف لے جاتا ہے۔ حماس کو اس فریم ورک کی تجویز کو قبول کرنا چاہیے جو ہم نے ممکنہ مذاکرات کی بنیاد کے طور پر پیش کیا ہے۔‘

،تصویر کا ذریعہReuters
ابھی تک ہم غزہ میں عام شہریوں کی ہلاکتوں کے بارے میں کیا جانتے ہیں:
امداد لینے آنے والے فلسطینیوں کو تیسرے روز سے مارا جا رہا ہے۔ گذشتہ 24 گھنٹوں میں ہلاکتوں کی تعداد 40 تک پہنچ چکی ہے۔ کم از کم 208 فلسطینی زخمی ہو گئے ہیں۔
اسرائیلی فوج نے تصدیق کی ہے کہ گولیاں چلائی گئی ہیں۔ حالیہ دنوں میں اسی طرح کے ایک واقعے کی اسرائیلی فوج نے یہ کہہ کر تردید کی تھی کہ اس واقعے کی تفصیلات جمع کی جا رہی ہیں۔

،تصویر کا ذریعہReuters
تازہ ترین خبریں:
حماس کے زیرانتطام وزارت صحت کا کہنا ہے کہ غزہ میں گذشتہ 24 گھنٹوں میں 40 فسلطینی شہری مارے گئے ہیں جبکہ اس عرصے کے دوران 208 شہری زخمی ہوئے ہیں۔
وزرات کے اعدادوشمار کے مطابق سات اکتوبر 2023 سے اب تک 54,510 فلسطینی مارے جا چکے ہیں اور اس دوران زخمی افراد کی تعداد 124,901 تک پہنچ چکی ہے۔

،تصویر کا ذریعہEPA
اقوام متحدہ کے ہائی کمشنر برائے انسانی حقوق وولکر ترک نے خبردار کیا ہے کہ عام شہریوں پر حملے جنگی جرم ہے۔ انھوں نے حالیہ دنوں میں غزہ میں امداد تقسیم کرنے والی سینٹر کے قریب عام شہریوں کی ہلاکتوں کے واقعے کی آزادانہ تحقیقات کا مطالبہ کیا ہے۔
وولکر ترک کا کہنا ہے کہ لگاتار تین دنوں سے امریکہ۔اسرائیل کیا طرف سے قائم کردہ ایک امداد تقسیم کرنے والی جگہ کے قریب عام شہریوں کی ہلاکتیں ہو رہی ہیں۔ انھوں نے کہا کہ ان ہلاکتوں کے ذمہ داران کو انصاف کے کٹہرے میں لانا ہوگا۔
انھوں نے ایک بیان میں کہا کہ ’غزہ میں غذائی امداد کی معمولی مقدار تک رسائی حاصل کرنے کی کوشش کرنے والے شہریوں‘ پر حملے ’ناقابل مذمت‘ ہیں۔ وولکر ترک نے مزید کہا کہ ’شہریوں کے خلاف ہونے والے حملے بین الاقوامی قانون کی سنگین خلاف ورزی اور جنگی جرم ہیں۔‘
ان کا کہنا ہے کہ ’فلسطینیوں کو سب سے سنگین صورتحال کا سامنا ہے، بھوک سے مر جائیں یا پھر اسرائیلی عسکری ذرائع کی طرف سے تقسیم کردہ انسانی امداد سے کم خوراک تک رسائی حاصل کرنے کی کوشش کرتے ہوئے مارے جانے کا خطرہ مول لیں۔
وولکر ترک کا کہنا ہے کہ امداد تک رسائی کی ’جان بوجھ کر رکاوٹ‘ ایک جنگی جرم بن سکتی ہے۔ ’بھوک کے خطرات، 20 ماہ سے شہریوں کے قتل اور بڑے پیمانے پر تباہی، بار بار جبری نقل مکانی، ناقابل برداشت، انتہائی نامناسب الفاظ کا استعمال اور اسرائیل کی قیادت کی طرف سے (غزہ کی) پٹی کو خالی کرنے کی دھمکیاں، بھی بین الاقوامی قانون کے تحت سنگین ترین جرائم کے زمرے میں آتی ہیں۔‘

،تصویر کا ذریعہGetty Images
ایشیائی ترقیاتی بینک نے پاکستان میں مالیاتی پائیداری کو مضبوط بنانے اور عوامی مالیاتی نظم و نسق کو بہتر بنانے کے لیے 80 کروڑ ڈالر کا پروگرام منظور کر لیا ہے۔
ایشیائی ترقیاتی بینک کی جانب سے جاری کردہ اعلامیے کے مطابق ’بہتر وسائل کی وصولی اور استعمال کے اصلاحاتی پروگرام‘ کے ذیلی پروگرام میں 30 کروڑ ڈالر کا پالیسی پر مبنی قرض شامل ہے، اور ایشیائی ترقیاتی بینک کی ’پہلی بار پالیسی پر مبنی ضمانت‘ بھی شامل ہے جو کہ پچاس کروڑ ڈالر تک کی ہے، جس کے تحت کمرشل بینکوں سے ایک ارب ڈالر تک کی فنانسنگ حاصل ہونے کی توقع ہے۔
بینک کی پاکستان میں کنٹری ڈائریکٹر ایما فین نے کہا کہ ’پاکستان نے معاشی حالات کو بہتر بنانے میں نمایاں پیش رفت کی ہے۔‘
’یہ پروگرام حکومت کی پالیسی اور ادارہ جاتی اصلاحات کے لیے عزم کی توثیق کرتا ہے، جو عوامی مالیات کو مضبوط بنائے گا اور پائیدار ترقی کو فروغ دے گا۔‘
وزیر خزانہ کے مشیر خرم شہزاد نے بھی ایکس پر ایک پیغام میں کہا ہے بینک کے بورڈ کے پاکستان کے لیے 80 کروڑ ڈالر کی منظور ی دے دی ہے

،تصویر کا ذریعہGetty Images
غزہ ہیومینیٹیرین فاؤنڈیشن کا دعویٰ ہے کہ وہ لاکھوں کھانے تقسیم کر رہی ہے، تاہم اس دعوے پر سوالات اٹھ رہے ہیں کیونکہ ان کے بانٹے گئے کھانے کو پکانے کی ضرورت ہوتی ہے اور بہت سے فلسطینیوں کے پاس کھانا پکانے کی سہولیات ہی دستیاب نہیں ہیں۔
اس نظام کی تشکیل میں واضح طور پر ایک بنیادی خامی موجود ہے۔
صرف ایک یا دو مقامات پر یہ کھانا فراہم کیا جا رہا ہے جہاں ہزاروں لوگ جمع ہوتے ہیں جن میں سے بہت سے لوگ رات بھر پیدل چل کر وہاں پہنچتے ہیں۔ غزہ ہیومینیٹیرین فاؤنڈیشن کا کہنا ہے کہ وہ ان مراکز کی تعداد بڑھانے کا ارادہ رکھتی ہے۔
تاہم جب اسرائیلی فوجی فلسطینیوں کے بڑے اجتماعات دیکھتی ہیں تو انھیں اپنے لیے خطرہ سمجھتی ہیں۔
اسرائیلی فوج کا آج صبح جاری کردہ بیان ایک محدود کارروائی کا تاثر دیتا ہے، مگر یہ اس منظرنامے سے متصادم ہے جس کی اطلاع بی بی سی اور دیگر ذرائع عینی شاہدین سے حاصل کر رہے ہیں جنھوں نے ہمیں ہیوی فائرنگ کی اطلاع دی ہے۔
مجھے اس علاقے میں کام کرنے والے ایک غیر ملکی طبی امدادی کارکن کا پیغام موصول ہوا ہے جس میں انھوں نے بتایا کہ مقامی وقت کے مطابق صبح 3 بج کر 48 منٹ (برطانیہ کے وقت کے مطابق 1:48) سے حالات ’مکمل تباہی‘ کا منظر پیش کر رہے ہیں۔
ان کا کہنا ہے کہ ہسپتال زخمیوں سے بھر چکے ہیں اور طبی عملہ شدید دباؤ کا شکار ہے۔

،تصویر کا ذریعہGetty Images
انڈیا کے وزیر برائے ہیوی انڈسٹریز ایچ ڈی کماراسوامی کا کہنا ہے کہ ایلون مسک کی ملکیتی الیکٹرک گاڑیاں بنانے والی معروف کمپنی ٹیسلا انڈیا میں گاڑیاں تیار کرنے میں دلچسپی نہیں رکھتی۔
یہ بیان ایسے وقت سامنے آیا ہے جب انڈین حکومت نے ملک میں الیکٹرک گاڑیوں کی تیاری کو فروغ دینے کے لیے ایک نئی سکیم کے تحت تفصیلی ہدایات جاری کی ہیں۔
یہ پہلا موقع ہے جب انڈین حکام نے کھل کر تسلیم کیا ہے کہ وہ ایلون مسک کو سرمایہ کاری پر آمادہ کرنے میں ناکام رہے ہیں، حالانکہ گذشتہ برس مارچ میں حکومت نے عالمی کمپنیوں کے لیے خصوصی مراعات کا اعلان بھی کیا تھا۔
وزیر کماراسوامی نے تصدیق کی کہ ٹیسلا انڈیا میں دو شورومز کھولے گی اور اپنی موجودگی صرف ریٹیل سطح تک محدود رکھے گی۔
وزیر نے کہا ’مرسڈیز بینز، ہنڈائی اور کیا جیسی کمپنیاں انڈیا میں الیکٹرک گاڑیاں بنانے میں دلچسپی رکھتی ہیں۔ ٹیسلا سے ایسی کوئی توقع نہیں ہے۔‘
پریس ٹرسٹ آف انڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے ایک اور حکومتی اہلکار نے بتایا کہ ٹیسلا کے نمائندے نے اس منصوبے پر ابتدائی مشاورت کے پہلے مرحلے میں شرکت کی تھی، تاہم دوسرے اور تیسرے مرحلے میں وہ شریک نہیں ہوئے۔
خیال رہے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے فروری میں کہا تھا کہ اگر ٹیسلا انڈیا میں فیکٹری بناتی ہے تو یہ امریکہ کے ساتھ ’غیر منصفانہ‘ ہوگا۔

کراچی میں ڈسٹرکٹ جیل ملیر کے باہر قیدیوں کے اہلخانہ کی بہت بڑی تعداد موجود ہے جنھوں نے جیل کے باہر نیشنل ہائی وے سے ملحقہ سڑک کو بلاک کر دیا ہے۔
کراچی میں بی بی سی کے نامہ نگار روحان احمد کے مطابق جیل کے باہر موجود قیدیوں کے اہلخانہ کا کہنا ہے کہ انھیں جیل میں بند اپنے عزیزوں سے ملنے نہیں دیا جا رہا۔
خیال رہے ملیر جیل کے سپرنٹنڈنٹ ارشد شاہ نے بی بی سی کو بتایا ہے کہ گذشتہ رات جیل سے فرار ہونے والے 216 قیدیوں میں سے 78 کو دوبارہ حراست میں لے لیا گیا ہے اور اس دوران فائرنگ سے ایک قیدی ہلاک جبکہ پولیس اور ایف سی کے دو، دو اہلکار زخمی ہوئے ہیں۔
اس وقت جیل کے باہر میڈیا کے نمائندوں کی بھی ایک بڑی تعداد موجود ہے اور پولیس حکام صورتحال کو کنٹرول کرنے کے ساتھ ساتھ فرار ہونے والے قیدیوں کو تلاش میں مصروف ہیں۔
روحان احمد کے مطابق جیل کے داخلی راستے پر موجود اندرونی دروازے پر شیشوں کے ٹکڑے پڑے ہیں جن سے بظاہر ایسا لگتا ہے کہ یہاں شاید بہت بگھدڑ مچی ہے یا شاید کوئی حملہ ہوا ہے۔ دروازے پر خون کے دھبے بھی موجود ہیں۔
خیال رہے گذشتہ رات ڈی آئی جی جیل خانہ جات حسن سہتو نے بی بی سی کو بتایا تھا کہ پولیس نے فرار ہونے والے قیدیوں کو روکنے کے لیے ہوائی فائرنگ کی تھی۔
ان کا کہنا تھا کہ پولیس کی ٹیمیں فرار ہونے والے قیدیوں کے پتے پر بھیجی گئی ہیں اور جلد ہی تمام قیدیوں کو گرفتار کر لیا جائے گا۔


،تصویر کا ذریعہGetty Images
حوثی جنگجوؤں نے تل ابیب کے بن گوریون ایئرپورٹ کو ایک بیلسٹک میزائل سے نشانہ بنانے کا دعویٰ کیا ہے۔
اسرائیلی فوج نے دعویٰ کیا ہے کہ یمن سے اسرائیل کی جانب داغا گیا میزائل روک لیا گیا ہے جس کے نتیجے میں ملک کے کچھ علاقوں میں خطرے کے سائرن بجائے گئے تھے۔
حوثی فوج کے ترجمان یحییٰ ساری کا کہنا ہے کہ: ’یمنی مسلح افواج کی میزائل فورس نے یافا کے علاقے میں ایئرپورٹ کو ایک بیلسٹک میزائل سے نشانہ بنایا۔‘
انھوں نے دعویٰ کیا کہ یہ کارروائی ’کامیابی سے مکمل ہوئی‘ اور ایئرپورٹ پر فضائی آپریشن معطل کر دیا گیا ہے۔

،تصویر کا ذریعہReuters
حماس کے عسکری ونگ القسام بریگیڈز نے دعویٰ کیا ہے کہ اس کے جنگجوؤں نے شمالی غزہ کے علاقے جبالیہ میں جھڑپوں کے دوران متعدد اسرائیلی فوجیوں کو ہلاک کیا ہے۔
ٹیلیگرام پر جاری ایک بیان میں بریگیڈز نے کہا: ’القسام کے مجاہدین مشرقی جبالیہ کیمپ کے قریب اسرائیلی افواج سے انتہائی قریب فاصلے پر شدید جھڑپوں میں مصروف ہیں جن میں دشمن کے فوجی ہلاک اور زخمی ہوئے ہیں۔ جھڑپیں تاحال جاری ہیں۔‘
اسرائیلی فوج نے اس واقعے پر تاحال کوئی تبصرہ نہیں کیا۔
دوسری جانب اسرائیلی فوج نے اعلان کیا ہے کہ اس نے وسطی غزہ کے علاقے دیر البلح میں حماس کے کمانڈ اینڈ کنٹرول کمپلیکس پر حملہ کیا ہے۔
آئی ڈی ایف کے ترجمان اویخائے ادرعی نے کہا: ’آئی ڈی ایف اور شین بیت نے کچھ دیر قبل دیر البلح کے علاقے میں حماس کے ایک کمانڈ اینڈ کنٹرول کمپلیکس میں موجود عسکریت پسندوں کو نشانہ بنایا۔‘
انھوں نے دعویٰ کیا کہ یہ عسکریت پسند اس کمپلیکس کو اسرائیلی شہریوں اور فوج پر حملوں کی منصوبہ بندی اور عمل درآمد کے لیے استعمال کر رہے تھے۔
آئی ڈی ایف کے ترجمان اویخائے ادرعی نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر دعویٰ کیا کہ اسرائیلی فوج نے شہری ہلاکتوں کے خدشات کم کرنے کے لیے درجنوں اقدامات کیے ہیں، جن میں درست نشانہ لگانے والے ہتھیاروں کا استعمال، فضائی نگرانی اور دیگر انٹیلیجنس ذرائع شامل ہیں۔
دوسری جانب پیر کو حماس کے عسکری ونگ القسام بریگیڈز نے دعویٰ کیا ہے کہ اس کے جنگجوؤں نے جنوبی غزہ میں خان یونس کے مشرق میں واقع علاقے القرارہ میں اسرائیلی فوجیوں کے ایک اجتماع کو نشانہ بنایا۔ اس کے علاوہ سنیچر کے روز شہر کے مشرق میں ایک فوجی چوکی پر تین قریبی فاصلے تک مار کرنے والے میزائل داغے گئے۔
القسام بریگیڈز نے مزید کہا کہ خان یونس کے جنوبی علاقے قیزان النجار میں ایک اسرائیلی ٹینک اور بلڈوزر کو بھی نشانہ بنایا گیا۔
ادھر اسرائیلی فوج نے خان یونس کے کئی علاقوں میں انخلا کی نئی ہدایات جاری کر دی ہیں۔
ترجمان اویخائے ادرعی نے کہا کہ فوج ان علاقوں میں بھرپور طاقت کے ساتھ کارروائی کرے گی۔ انھوں نے دعویٰ کیا کہ عسکریت پسند تنظیمیں جن کی قیادت حماس کر رہی ہے، اب بھی ان علاقوں سے اپنی سرگرمیاں جاری رکھے ہوئے ہیں۔

،تصویر کا ذریعہAFP
اقوامِ متحدہ کے سیکریٹری جنرل نے اتوار کے روز غزہ میں امداد کی تقسیم کے مرکز کے قریب اسرائیلی فائرنگ سے ہونے والی فلسطینی ہلاکتوں کی آزادانہ تحقیقات کا مطالبہ کیا ہے۔
عینی شاہدین نے بتایا کہ انھیں اس وقت گولیوں کا نشانہ بنایا گیا جب وہ رفح میں قائم اُس امدادی مرکز سے خوراک حاصل کرنے کے لیے انتظار کر رہے تھے جو امریکہ اور اسرائیل کی حمایت یافتہ غزہ ہیومینیٹیرین فاؤنڈیشن چلا رہی ہے۔
ریڈ کراس کا کہنا ہے کہ اس کے ہسپتال میں 179 زخمیوں کو لایا گیا جن میں سے 21 افراد ہلاک ہو چکے تھے۔ حماس کے زیر انتظام سول ڈیفنس ایجنسی کے مطابق ہلاکتوں کی تعداد 31 ہے۔
اتوار کو اسرائیلی فوج نے ان الزامات کی تردید کی کہ اس کے فوجیوں نے امداد کے مرکز کے قریب یا اس کے اندر عام شہریوں پر فائرنگ کی ہے۔ آئی ڈی ایف نے فوج نے ان رپورٹس کو جھوٹ قرار دیا۔
غزہ ہیومینیٹیرین فاؤنڈیشن نے ان رپورٹس کو ’سراسر من گھڑت‘ قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ اسے اب تک اپنے قائم کردہ مرکز کے اندر یا آس پاس کسی حملے کے شواہد موصول نہیں ہوئے۔
خیال رہے اسرائیل بی بی سی سمیت بین الاقوامی خبر رساں اداروں کو غزہ میں داخلے کی اجازت نہیں دیتا جس کی وجہ سے وہاں پیش آنے والے واقعات کی آزادانہ تصدیق مشکل ہو گئی ہے۔
یہاں آپ کو ایک بار پھر سے بتاتے چلیں کہ آج پھر رفح میں امداد کی تقسیم کے ایک مرکز پر اسرائیلی فائرنگ سے 24 افراد ہلاک اور درجنوں زخمی ہو گئے ہیں۔

،تصویر کا ذریعہReuters
خان یونس کے ناصر ہسپتال کے ڈائریکٹر جنرل کا کہنا ہے کہ رفح میں امداد کے منتظر فلسطینی شہریوں کے ہجوم پر اسرائیلی افواج کی فائرنگ کے نتیجے میں 24 افراد ہلاک اور 37 زخمی ہو گئے ہیں۔
ان کا کہنا ہے کہ تمام زخمی اور ہلاک افراد ہسپتال لائے گئے ہیں جن میں سے زیادہ تر کو گولیوں کے زخم آئے ہیں۔
اسرائیلی افراج (آئی ڈی ایف) کا دعویٰ ہے کہ امداد کی تقسیم کے مقام کے قریب ’مشکوک افراد‘ کی نشاندہی کے بعد فائرنگ کی گئی اور وہ جانی نقصان سے متعلق رپورٹس سے آگاہ ہیں۔
خیال رہے اسرائیل بی بی سی سمیت بین الاقوامی خبر رساں اداروں کو غزہ میں داخلے کی اجازت نہیں دیتا جس کی وجہ سے وہاں پیش آنے والے واقعات کی آزادانہ تصدیق مشکل ہو گئی ہے۔
غزہ کی سول ڈیفنس ایجنسی کے ترجمان محمود بصل نے بی بی سی کے غزہ کے نامہ نگار رشدی ابو العوف (جو قاہرہ سے رپورٹنگ کر رہے ہیں) کو بتایا کہ رفح میں امداد کی تقسیم کے مرکز پر ہلاک یا زخمی ہونے والوں کی اکثریت پر ٹینکوں، ہیلی کاپٹروں اور کوآڈ کاپٹر ڈرونز سے فائرنگ کی گئی۔
بصل کے مطابق یہ واقعہ اُس مقام سے چند سو میٹر پہلے پیش آیا جہاں عوام کا ہجوم امداد لینے کے لیے جا رہا تھا۔ یہ جگہ ال علم چوراہے سے پہلے واقع ہے، جو غزہ ہیومینیٹیرین فاؤنڈیشن سینٹر سے تقریباً ایک کلومیٹر (0.6 میل) کے فاصلے پر ہے۔

،تصویر کا ذریعہRadio Pakistan
پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری کی قیادت میں یورپ اور دیگر ممالک کے دورے پر موجود پاکستانی پارلیمانی وفد نے اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کے منتخب رکن ممالک کے نمائندوں سے نیویارک میں ملاقات کی ہے۔
ریڈیو پاکستان کے مطابق وفد نے ڈنمارک، یونان، پاناما، صومالیہ، الجزائر، گیانا، جاپان، جنوبی کوریا، سیرا لیون اور سلووینیا کے نمائندوں سے ملاقات میں پاکستان کا مؤقف پیش کیا۔
خیال رہے کہ گذشہ ماہ پاکستان اور انڈیا کے درمیان چار روزہ تنازع اور ایک دوسرے کے خلاف عسکری کارروائیوں کے بعد دونوں ممالک کی حکومتوں نے اعلیٰ سطح کے وفود کو عالمی سفارتی مہم پر روانہ کرنے کا اعلان کیا تھا۔
وزیرِ اعظم کے دفتر کے مطابق پاکستانی وفد ’عالمی سطح پر انڈیا کے پراپیگنڈے اور مذموم سازشوں کو بے نقاب کرے گا۔‘
دوسری جانب انڈیا کی حکومت نے بین الاقوامی سطح پر بڑے پیمانے پر سفارتی مہم چلانے کے لیے امریکہ، یورپ، افریقہ اور مشرق وسطیٰ کے ممالک میں پارلیمانی ارکان پر مشتمل سات مختلف وفود بھیجے ہیں۔
ملاقات میں پاکستانی وفد نے زور دیا کہ پاکستان کشیدگی سے گریز، سندھ طاس معاہدے کی بحالی اور انڈیا کے ساتھ تمام دیرینہ مسائل، بالخصوص مسئلہ کشمیر کے حل کے لیے بامعنی مذاکرات کا خواہاں ہے۔
وفد نے سلامتی کونسل کے ارکان کو بتایا کیا کہ سندھ طاس معاہدے کو معطل کرنا پاکستان میں پانی کی قلت، خوراک کے بحران اور ماحولیاتی تباہی کا باعث بن سکتا ہے۔
پاکستانی وفد نے سلامتی کونسل کے ارکان پر زور دیا کہ وہ محض تنازع کے انتظام تک محدود نہ رہیں بلکہ جنوبی ایشیا میں پائیدار امن کے لیے تنازعات کے جامع اور مستقل حل کی حمایت کریں۔
وفد کے سربراہ بلاول بھٹو زرداری نے کہا کہ انڈیا کے الزامات نہ صرف بے بنیاد اور قبل از وقت ہیں بلکہ ان میں نہ کوئی قابلِ اعتبار تحقیق شامل ہے اور نہ ہی کوئی قابلِ تصدیق ثبوت موجود ہیں۔
بلاول بھٹو زرداری نے کہا کہ انڈیا کے غیر ذمہ دارانہ اقدامات جن میں بے گناہ شہریوں کو نشانہ بنانا اور سندھ طاس معاہدے کی معطلی شامل ہے، خطے کے امن کے لیے شدید خطرہ ہیں۔
انھوں نے کہا کہ پاکستان کا ردعمل نہایت محتاط، ذمہ دارانہ اور اقوام متحدہ کے چارٹر کے مطابق تھا۔
ریڈیو پاکستان کے مطابق اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کے منتخب ارکان نے خطے میں کشیدگی کے خاتمے، بین الاقوامی قوانین کی پاسداری اور تنازعات کے پرامن حل کی اہمیت پر زور دیا۔ انھوں نے کہا کہ اقوام متحدہ کا چارٹر بالخصوص حساس خطوں میں ریاستی رویے کی رہنمائی کا بنیادی اصول ہونا چاہیے۔
سلامتی کونسل کے ارکان نے کسی بھی ممکنہ مزید کشیدگی کے خطرات کو تسلیم کیا اور سفارتی راستے اختیار کرنے کی ضرورت پر زور دیا۔

،تصویر کا ذریعہPolice
کراچی میں ملیر جیل کے سپرنٹنڈنٹ ارشد شاہ نے بی بی سی کو بتایا ہے کہ گذشتہ رات جیل سے فرار ہونے والے 216 قیدیوں میں سے 78 کو دوبارہ حراست میں لے لیا گیا ہے اور اس دوران فائرنگ سے ایک قیدی ہلاک جبکہ پولیس اور ایف سی کے دو، دو اہلکار زخمی ہوئے ہیں۔
ان کا کہنا تھا کہ جیل کی دیوار نہیں ٹوٹی تھی بلکہ زلزلے کے جھٹکوں کے سبب قیدیوں میں خوف و ہراس پھیل گیا تھا، جس کے بعد ایک سے ڈیڑھ ہزار قیدی جیل کے دروازے پر جمع ہوگئے اور ’اتنی بڑی تعداد میں قیدیوں کو کنٹرول کرنا مشکل تھا۔‘
ملیر جیل کے سپرنٹینڈنٹ کا مزید کہنا تھا کہ ’زلزلے کے جھٹکوں سے وہ خوفزدہ ہو گئے تھے کہ کہیں چھت ان پر نہ گر جائے۔‘
ان کا کہنا تھا کہ پولیس کی ٹیمیں فرار ہونے والے قیدیوں کے پتے پر بھیجی گئی ہیں اور جلد ہی تمام قیدیوں کو گرفتار کر لیا جائے گا۔
خیال رہے گذشتہ رات کراچی میں وقفے وقفے سے متعدد بار زلزلے کے جھٹکے ریکارڈ کیے گئے جس کے بعد مقامی اور سوشل میڈیا پر ایسی خبریں سننے کو ملیں کہ مبینہ طور پر جیل کی دیوار گرنے کے باعث کراچی کی ملیر جیل سے متعدد قیدی فرار ہو گئے ہیں۔
سندھ کے وزیر جیل علی حسن زرداری نے واقعے کا نوٹس لیتے ہوئے آئی جی جیل اور ڈی آئی جی جیل سے فوری رپورٹ طلب کر لی ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ ’اگر کوئی قیدی فرار ہوا ہے تو اسے ہر صورت میں دوبارہ گرفتار کیا جائے۔‘ انھوں نے غفلت کے مرتکب افسران کی نشاندہی کر کے ان کے خلاف کارروائی کی ہدایت بھی جاری کی ہے۔
گذشتہ رات بی بی سی سے بات کرتے ہوئے وزیر داخلہ سندھ ضیا الحسن لنجار کا کہنا تھا کہ ’جیل پر کوئی حملہ نہیں ہوا اور انکوائری کر ذریعے یہ معلوم کرنے کی کوشش کریں گے کہ جیل کی دیوار زلزلے کے سبب گری یا اسے قیدیوں نے گرایا‘۔
ان کا کہنا تھا ’پولیس اور قانون نافذ کرنے والے ادارے تمام قیدیوں کو گرفتار کرنے کی کوشش کر رہے ہیں اور کچھ ہی گھنٹوں میں صورتحال مزید واضح ہو جائے گی۔‘
وزیراعلیٰ سندھ کا کہنا تھا کہ سپیشل سکیورٹی یونٹ و آر آر ایف کی پلٹن کو فوری طور پر روانہ کر دیا گیا ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ پولیس، رینجرز اور دیگر قانون نافذ کرنے والے اداروں کو ہدایت دی گئی ہے کہ ضلعی سطح پر مربوط کارروائی کے ذریعے مفرور قیدیوں کو جلد از جلد گرفتار کیا جائے۔ ناکہ بندی، انٹیلیجنس معلومات اور نگرانی کے نظام کو مؤثر بنانے کے احکامات بھی جاری کیے گئے ہیں۔
وزیر داخلہ کا کہنا تھا کہ ’یہ ایک سنجیدہ واقعہ ہے اور اس میں ممکنہ کوتاہی کو بھی نظر انداز نہیں کیا جائے گا۔ ابتدائی معلومات ضرور ملی ہیں، مگر حتمی رپورٹ کے آنے تک کچھ کہنا قبل از وقت ہو گا۔‘

،تصویر کا ذریعہReuters
پاکستان کی مسلح افواج کے چیئرمین جوائنٹ چیفس آف سٹاف کمیٹی جنرل ساحر شمشاد مرزا کا کہنا ہے کہ انڈیا کے ساتھ حالیے تنازعے کے دوران 96 گھنٹوں کے دوران جو کچھ ہوا، وہ مکمل طور پر پاکستان نے خود اپنے طور پر کیا۔ کہیں سے کوئی مدد نہیں حاصل کی گئی۔
سنگاپور میں شنگریلا ڈائیلاگ کے دوران بی بی سی کے سکیورٹی کے نامہ نگار فرینک گارڈنر کو انٹرویو میں ان کے اس سوال کہ چین سے پاکستان کو کتنی مدد حاصل ہوئی؟ کیونکہ ایسی رپورٹس آئی ہیں کہ چین نے پاکستان کی مدد کے لیے سیٹلائٹس کی پوزیشن بدلیں۔
جنرل ساحر شمشاد مرزا نے کہا کہ اس دوران ہم نے جو آلات استعمال کیے وہ یقیناً ایسے ہی ہیں جیسے انڈیا کے پاس ہیں اور ہم نے کچھ ساز و سامان دوسرے ملکوں سے خریدا ہے، مگر اس کے علاوہ حقیقی وقت میں ہم نے کہیں سے کوئی مدد حاصل نہیں کی۔ صرف اور صرف پاکستان کی اندرونی صلاحیتوں پر انحصار کیا گیا۔
فرینک گارڈنر نے ان سے سوال کیا کہ اب حالات اتنے نازک ہو چکے ہیں کہ کسی بھی وقت جنگ چھڑ سکتی ہے۔ کسی بھی تنازعے کو بڑی جنگ میں بدلنے کے لیے بہت کم وقت اور جواز چاہیے۔ ایسا کیوں ہو رہا ہے؟
جنرل ساحر شمشاد مرزا کا کہنا تھا کہ پہلی بات یہ ہے کہ پہلے جو جھڑپیں ہوتی تھیں، وہ صرف متنازعہ علاقوں تک محدود رہتی تھیں۔ وہ کبھی بین الاقوامی سرحد تک نہیں پہنچتی تھیں۔ لیکن اس بار معاملہ اُلٹا تھا، سرحدوں پر نسبتاً سکون رہا اور شہروں میں کشیدگی تھی اور یہ سب زیادہ تر بین الاقوامی سرحد کے آس پاس ہوا۔
انھوں نے کہا ’اب چونکہ کسی بھی تنازعے کو بڑی جنگ میں بدلنے کے لیے بہت کم وقت اور جواز چاہیے، اس کا مطلب ہے کہ مستقبل میں اگر کوئی تنازع ہوا تو وہ صرف مخصوص علاقوں تک محدود نہیں رہے گا، بلکہ پورے انڈیا اور پورے پاکستان کو متاثر کرے گا۔ اور اس کا اثر 1.5 ارب لوگوں کی تجارت، سرمایہ کاری اور ترقی کی ضروریات پر بھی پڑے گا۔‘
جنرل ساحر شمشاد مرزا نے مزید کہا کہ اس وقت پاکستان اور انڈیا کے درمیان تنازعات کو حل کرنے یا قابو میں رکھنے کے لیے کوئی مؤثر اور منظم طریقہ کار موجود نہیں، سوائے ڈی جی ایم او ہاٹ لائن کے۔ دونوں ملکوں کے ڈائریکٹر جنرل ملٹری آپریشنز کے درمیان یہ ہاٹ لائن منگل کے دن باقاعدگی سے استعمال ہوتی ہے تاکہ معلومات اور مسائل کا تبادلہ کیا جا سکے اور کسی بھی ہنگامی یا ناخوشگوار واقعے کی صورت میں کسی بھی وقت رابطے کے لیے دستیاب ہوتی ہے۔
’یہی واحد ذریعہ ہے اور اگر تنازعے سے نمٹنے کے لیے آپ کے پاس صرف ایک ہی نظام ہو، جو اتنے بڑے بحران کو سنبھالنے کے لیے کافی نہ ہو، اور دوسری جانب آپ کا واسطہ ایک ایسے ملک سے ہو جس کی قیادت انتہا پسندانہ ذہنیت رکھتی ہو اور بین الاقوامی سرحد تک غیر ذمہ دارانہ اقدامات کرنے پر آمادہ ہو، تو ایسے میں عالمی برادری کے پاس مداخلت کے لیے جو تھوڑا بہت وقت ہوتا ہے، جیسے اس بار امریکہ اور دیگر ممالک نے کیا، وہ مہلت بھی اب بہت محدود ہو چکی ہے۔

،تصویر کا ذریعہShahbazgill/facebook
نیشنل سائبر کرائم انوسٹی گیشن ایجنسی نے شہباز گل کے خلاف مقدمہ درج کر لیا۔
ان کے خلاف یہ مقدمہ سابق پنجاب پولیس کے سابق اہلکار مظہر اقبال کی درخواست پر دائر کیا گیا ہے۔
درخواست گزار کی شکایت کہ شہباز گل نے اپنے سوشل میڈیا یوٹیوب چینل کے ذریعے ایک ویڈیو اپ لوڈ کی جس میں ان کے خلاف فحش اور توہین آمیز الفاظ کا استعمال کرتے ہوئے جھوٹے الزامات لگائے گئے تھے۔
درخواست کے مطابق ان ویڈیوز میں مبینہ طور پر ان کے خاندان کی بھی کردار کشی کی گئی۔
شکایت کنندہ نے یوٹیوب سے ویڈیوز ڈیلیٹ کرانے کی درخواست کے ساتھ شہباز گل کے خلاف کارروائی کرنے کی بھی درخواست کی۔
نیشنل سائبر کرائم انوسٹی گیشن ایجنسی کے مطابق ’دوران تفتیش ڈاکٹر شہباز گل اپنے یوٹیوب چینل اور ٹک ٹاک ٹو کے ذریعے شکایت کنندہ کے خلاف انتہائی توہین آمیز ویڈیو شیئر کرنے میں ملوث پائے گئے۔ ‘
مزید یہ کہ ’ان کی جانب سے اپ لوڈ کی گئی پوسٹس اور ویڈیوز کو ہزاروں دیگر سوشل میڈیا صارفین نے دیکھا جس سے شکایت کنندہ کی حرمت پر حملہ ہوا۔‘
پاکستان کی وفاقی حکومت کی سالانہ منصوبہ بندی رابطہ کمیٹی (اے پی سی سی) نے آئندہ مالی سال میں وفاقی پبلک سیکٹر ڈویلپمنٹ پروگرام کے لیے ایک ہزار ارب روپے مختص کرنے کی سفارشات کی منظوری دے دی ہے۔
اجلاس وفاقی وزیر برائے منصوبہ بندی، ترقی اور خصوصی اقدامات احسن اقبال کی زیر صدارت منعقد ہوا۔ اجلاس کا مقصد پبلک سیکٹر ڈویلپمنٹ پروگرام (پی ایس ڈی پی) 2024-25 کی پیش رفت کا جائزہ لینا اور آئندہ پی ایس ڈی پی 2025-26 کے لیے سفارشات کو حتمی شکل دینا تھا۔
اجلاس میں وفاقی اور صوبائی سطح کے اعلیٰ حکام، جن میں سیکریٹریز، پرنسپل اکاؤنٹنگ افسران، اور گلگت بلتستان و آزاد جموں و کشمیر کے منصوبہ بندی افسران شامل تھے، نے شرکت کی۔
اجلاس کے بعد جاری کردہ اعلامیے میں کہا گیا کہ وزارت خزانہ نے آئی ایم ایف سے مشاورت کے بعد وفاقی پی ایس ڈی پی کے لیے 1,000 ارب روپے کی اشارتی حد مقرر کی ہے، جس میں 270 ارب روپے غیر ملکی امداد شامل ہے۔
پی ایس ڈی پی 2025-26 کی تیاری میں وزارتوں اور صوبوں کے ساتھ تفصیلی مشاورت کی گئی، جس میں ترجیحی کمیٹی اجلاس اور ڈپٹی وزیراعظم و مشیر وزیراعظم کی زیر صدارت اعلیٰ سطحی جائزے شامل تھے۔
حتمی سفارشات میں جاری شدہ، اعلیٰ اثر والے، غیر ملکی امداد یافتہ اور مکمل ہونے کے قریب منصوبوں کو ترجیح دی گئی ہے۔ مجوزہ پی ایس ڈی پی میں کل 1,120 منصوبے شامل کیے گئے ہیں، جن میں سے بہت سے آئندہ 3-4 سالوں میں مکمل ہو سکتے ہیں بشرطیکہ مالی گنجائش برقرار رہے۔
اعلامیے کے مطابق پاکستان کو پانی کی حفاظت کا سنجیدہ چیلنج درپیش ہے، لہٰذا دیامر بھاشا ڈیم کو اولین ترجیح دی گئی ہے۔ حیدرآباد-سکھر موٹر وے کا آغاز بھی 2025-26 میں کیا جائے گا۔ بلوچستان کو سب سے زیادہ، تقریباً 250 ارب روپے کی ترقیاتی فنڈز ملیں گے۔
شعبہ جاتی مختص کردہ فنڈز کے مطابق 644 ارب روپے انفراسٹرکچر کے لیے مختص کیے گئے ہیں، جن میں 332 ارب روپے ٹرانسپورٹ اور مواصلات، اور 144 ارب روپے توانائی کے لیے ہیں۔ سماجی شعبے کے لیے 150 ارب روپے کی تجویز ہے، جس میں تعلیم و اعلیٰ تعلیم کے لیے 63 ارب، اور صحت کے لیے 22 ارب روپے رکھے گئے ہیں۔
آزاد جموں و کشمیر اور گلگت بلتستان کے لیے 63 ارب روپے، جبکہ خیبر پختونخوا کے ضم شدہ اضلاع کے لیے 70 ارب روپے مختص کیے گئے ہیں۔ سائنس اور آئی ٹی کے لیے 53 ارب، اور گورننس کے لیے 9 ارب روپے تجویز کیے گئے ہیں۔ پیداواری شعبوں، جیسے خوراک، زراعت، اور صنعت کے لیے 11 ارب روپے رکھے گئے ہیں۔

،تصویر کا ذریعہ@AmbMudassir
ایران میں پاکستان کے سفیر مدثر ٹیپو نے کہا ہے کہ ’میں نے آج سفارت خانے میں اپنے ان شہریوں سے ملاقات کی ہے جنھیں ایرانی اور پاکستانی انسانی سمگلروں نے اغوا کر لیا تھا۔‘ پاکستانی سفیر کا مزید کہنا تھا کہ بازیاب کروائے گئے ان دس پاکستانی شہریوں کو اگلے چند دنوں میں پاکستان واپس بھیج دیا جائے گا۔
انھوں نے ایکس پر لکھا کہ ’ان پر ہونے والے مظالم، درد، تکلیف اور ان کے ذہنوں پر جذباتی اثرات کی خوفناک کہانیوں کے بارے میں جاننا بہت افسوسناک تھا۔‘

،تصویر کا ذریعہ@AmbMudassir
انھوں نے کہا کہ ’میں اپنے شہریوں سے اپیل کرتا ہوں کہ انسانی سمگلروں کے جال میں نہ پھنسیں۔‘ مدثر ٹیپو کے مطابق پاکستانی سفارتخانے نے ہمارے شہریوں کے ساتھ عزت اور ہمدردی کا سلوک کیا اور ان کی محفوظ واپسی کو یقینی بنائے گا۔‘
ایران میں پاکستانی سفیر مدثر ٹیپو نے بی بی سی اردو کو بتایا کہ پاکستانی شہریوں کو تہران سے اغوا کیا گیا تھا اور انھیں کچھ دن اغواکاروں کی حراست میں ہی گزارنے پڑے۔
ایران میں پاکستان سفیر کے مطابق اغوا میں پاکستانی اور ایرانی دونوں سمگلرز ملوث تھے۔