آپ اس وقت اس ویب سائٹ کا ٹیکسٹ پر مبنی ورژن دیکھ رہے ہیں جو کم ڈیٹا استعمال کرتا ہے۔ مرکزی ویب سائٹ جہاں تمام تصاویر اور ویڈیوز موجود ہیں دیکھیے
گجرات کا پل حادثہ: بچوں کے لیے ’موت کا پل‘ ثابت ہوا
- مصنف, گیتا پانڈے
- عہدہ, بی بی سی نیوز
- مقام, دلی
انڈیا کی ریاست گجرات میں پولیس کا کہنا ہے کہ موربی شہر میں پل گرنے کے واقعے میں جتنے افراد ہلاک ہوئے ہیں ان میں ایک تہائی تعداد بچوں کی ہے اور ان میں سے بعض بچوں کی عمر تو دو برس تھی۔ یہ پل اتنے سارے بچوں کے لیے لیے موت کا سبب کیوں بنا، اس کی وجوہات کچھ اس طرح ہیں۔
سویتا بین ہسپتال کے بستر پر لیٹے ہوئے چھت پر نظریں ٹکائے ہوئے ہیں۔
دو بچوں کی ماں، 24 سالہ سویتا اس وقت زخمی ہوگئی تھیں جب 19 ویں صدی میں بنا پل موربی شہر کی مچھو ندی میں ٹوٹ کر گر گیا۔
ان کی دو سالہ بیٹی ان کے بستر پر ان کے پیروں کے پاس سو رہی ہے جبکہ ان کی پانچ سالہ بیٹی کمرے میں آتی اور جاتی ہے۔
سویتا کے سر کے پیچھے والے حصے میں چونٹ لگی ہے اور انہیں بولنے میں دشواری ہورہی ہے اس لیے ان کی کزن نرملا بین بتاتی ہیں کہ اتوار کے روز سویتا کے ساتھ۔ کیا ہوا۔
سویتا اپنی تین رشتہ دار خواتین کے ساتھ پل پر سیر کرنے آئی تھیں، ان کے ساتھ پانچ بچے بھی تھے۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
انہوں نے بالکل آخری وقت میں پل کا ٹکٹ خریدا۔ سویتا کی پانچ سال کی بیٹی پل پر بھیڑ دیکھ کر گھبرا گئی۔
اس لیے سویتا اپنے بچوں کے ساتھ رک گئیں اور پل پر نہیں گئیں جبکہ ان کے رشتہ دار پل کی سیر کرنے چلے گئے۔
جب وہ دونوں خواتین واپس آگئیں تو انہوں نے سویتا کو اپنے ساتھ جانے کے لیے منایا۔
نرملا نے بتایا کہ ’وہ جانا نہیں چاہتی تھی لیکن اس کی چاچی نے پل سے جو نظارہ تھا اس کی اتنی تعریف کی کہ وہ مان گئی۔‘
سویتا کو امدادی کارکنان نے پل کے ایک ملبے پر لٹکے ہوئے پایا۔
سویتا ابھی صدمے میں ہے۔ انہیں ابھی یہ نہیں بتایا کہ اس حادثے میں جو 135 ہلاک ہوئے ہیں ان میں سویتا کی چاچی بھی شامل ہیں۔
سویتا کے خاندان والے اس بات کا شکر ادا کررہے ہیں کہ پانچوں بچے صحیح سلامت ہیں۔ لیکن اس دن پل پر جتنے بچے موجود تھے وہ اتنے خوش قسمت نہیں تھے۔
موربی شہر میں ایک سینئیر پولیس اہلکار نے مجھے بتایا کہ اس سانحہ میں 56 بچے ہلاک ہوئے جن میں سے 40 بچوں کی عمر 12 برس سے کم تھیں۔ اس کے علاوہ اس حادثے میں 32 خواتین ہلاک ہوئی ہیں۔
موربی میں رہنے والے سینئیر صحافی پروین ویاس کا کہنا ہے کہ انگریزوں کے زمانے کا یہ ’ہینگنگ‘ یعنی جھولتا ہوا پل جسے حکومت کی سیاحت سے متعلق ویب سائٹ پر ایک ’تکینیکی عجوبہ‘ کہا گیا ہے، مقامی افراد کے درمیان کافی مقبول تھا اور موربی شہر کا مشہور دلکش سیاحتی مقام تھا۔
ان کا مزید کہنا ہے کہ ’شہر کی سکائی لین یا دائرے افق سے اوپر بنے اس پل پر سے پورا شہر دیکھ سکتے ہیں۔ بچوں کو یہ پل بے حد پسند تھا کیونکہ یہ جھولتا تھا۔‘
پروین ویاس مزید بتاتے ہیں کہ اتوار کی شام کو جب یہ سانحہ پیش آیا اس وقت پل پر مقامی اور قریب کے شہروں سے آنے والے سیاحوں سے یہ پل بھرا ہوا تھا کیونکہ دیوالی کے آخری دن لوگ چھٹی منانے یہاں آئے ہوئے تھے۔
ہسپتال میں میری ملاقات 18 سالہ مہیش چاؤڑا سے بھی ہوئی جو اس حادثے میں زخمی ہوگئے تھے۔
انہوں نے مجھے بتایا کہ وہ بچپن سے اس پل پر جارہے ہیں اور انہیں یہ جگہ بہت پسند تھی۔
’جب میں چھوٹا تھا تو میں اپنے والدین کے ساتھ وہاں جاتا تھا۔ گزشتہ چند برسوں میں، میں ہر اتوار کو اپنے دوستوں کے ساتھ وہاں جاتا تھا۔‘
مہیش نے بتایا کہ ان کے دوست بھی اس حادثے میں زخمی ہوئے ہیں لیکن وہ سب بچ گئے۔ ’ہم سب صدمے میں ہیں۔ میں دوبارہ وہاں کبھی نہیں جاؤں گا۔‘
ان کا کہنا ہے کہ انہیں نہیں لگتا کہ اس پل کی مرمت کر کے اسے دوبارہ کھولا جائے گا۔
230 میٹر لمبا اور 4۔1 میٹر چوڑے اس پل کے تعمیر کیے جانے صحیح تاریخ کو بارے میں مختلف آراء ہیں لیکن مقامی افراد کا کہنا ہے کہ اس کو 1880 میں مقامی مہاراجہ واگجی ٹھاکور نے بنوایا تھا۔
نرجن داس قریب میں ہی ایک مندر کی تعمیر میں مزدوری کررہے تھے۔ حادثے کے بعد لوگوں کو بچانے کے لیے جو لوگ سب سے پہلے پہنچے تھے ان میں وہ بھی شامل تھے۔ ان کا کہنا ہے کہ اتنے سارے بچوں کے لاشیں ندی سے نکالیں کہ وہ ان کی گنتی بھی بھول گئے ہیں۔
مقامی افراد کے کہنا ہے کہ بہت سارے بچے اس لیے مر گئے کیونکہ ان کو تیرنا نہیں آتا تھا اور اس لیے بھی کہ نوجوان لوگوں کی طرح وہ پل کے ملبے کو پکڑ کر لٹک نہیں سکے۔
موربی میں پل کا حادثہ انڈیا میں پیش آنے والے بدترین حادثوں میں ایک ہے۔ یہ حادثہ اس لیے بھی دردناک ہے کیونکہ پل کی مرمت کے بعد پانچ روز قبل ہی اسے عوام کے لیے کھولا گیا تھا۔ کسی نے تصور بھی نہیں کیا تھا کہ جس پل کی حال ہی مرمت ہوئی ہے وہ اس طرح سے ٹوٹ کر کے گر جائے گا۔
اس برس مارچ کے مہینے میں پل کو مرمت کے لیے بند کیا گیا تھا۔ سنہ 2008 سے پل کی مرمت، اس کو چلانے اور اس کی دیکھ بھال کا کانٹریکٹ اوریوا گروپ کے پاس تھا۔
پل کو 26 اکتوبر یعنی گجراتی نئے سال کے موقع پر عوام کے لیے دوبارہ کھولا گیا تھا۔
حادثے کے ایک روز قبل اوریوا کمپنی کے مالک جےشک بھائی پٹیل نے ایک پریس کانفرنس میں یہ بتایا تھا کہ پل کی مرمت میں دو لاکھ بیالیس ہزار ڈالر خرچ ہوئے ہیں۔
انہوں کے کہا تھا کہ پل کی مرمت اتنی بہترین ہوئی ہے کہ ’آئندہ آٹھ، دس برسوں میں پل کو کچھ نہیں ہوگا۔ اور اگر پل کو ذمہ داری کے ساتھ استعمال کیا گیا تو آئندہ 15 برس تک کسی بھی طرح کی مرمت کی ضرورت نہیں پیش آئے گی۔‘
اس حادثے کے بعد پولیس نے اب تک اوریوا کمپنی سے منسلک 9 افراد کو گرفتار کیا ہے۔ ان میں دو مینیجر، دو ٹکٹ بنانے والے کلرکس، دو کانٹریکٹر، اور تین سیکورٹی گارڈز شامل ہیں۔
کمپنی کے ایک اہلکار نے کہا ہے کہ پل اس لیے گرا کیونکہ اس پر بہت سارے لوگ جمع تھے اور بعض افراد پل کو ہلانے کی کوشش کررہے تھے۔ گرفتار ہونے والے دو مینیجروں میں سے ایک نے عدالت میں کہا ہے کہ پل کا گرنا ’خدا کی مرضی‘ تھی۔
لیکن حکومتی اہلکاروں کا کہنا ہے کہ یہ حادثہ انسانی غلطی کا نتیجہ ہے۔ ان کا الزام ہے کہ اوریوا کمپنی نے ایسے کانٹریکٹرز سے کام کروایا جو اس کی صلاحیت نہیں رکھتے تھے اور انہوں نے جو مرمت کی ان کا معیار صحیح نہیں تھا۔
مقامی میونسپل چیف سندیپ سن زالہ کا کہنا ہے کہ اوریوا کمپنی کو پل کو دوبارہ کھولنے سے پہلے حفاظتی سرٹیفیکیٹ نہیں دیا گیا تھا۔
کمپنی پر الزام ہے کہ اس نے پل کی قوت برداشت سے زیادہ لوگوں کو پل پر جانے کے ٹکٹ دیے۔ عینی شاہدین کا کہنا ہے کہ پل پر حادثے کی رات تقریبا 500 افراد موجود تھے جبکہ پل پر ایک وقت میں صرف 100 سے 150 افراد کھڑے ہوسکتے تھے۔
بی بی سی نے اوریوا کمپنی کو ای میل اور ٹیکسٹ پیغام کے ذریعے ان پر عائد الزامات کے بارے میں ان کا موقف جاننے کی کوشش کی لیکن انہوں نے جواب نہیں دیا ہے۔
حکومت نے حادثے کی مکمل تفتیش کا اعلان کیا ہے اور حادثے کی وجوہات جاننے کے لیے ایک خصوصی تفتیشی کمیٹی تشکیل کی گئی ہے۔
مقامی افراد اور مقامی صحافیوں حادثے کے لیے پولیس اور حکومت کو بھی ذمہ دار ٹھہرارہے ہیں۔
صحافی پروین ویاس کا کہنا ہے کہ ''اگر جب سے پل دوبارہ کھلا ہے اور اسے دیکھنے کے لیے ہر دن ہزاروں افراد وہاں آرہے تھے تو ایسا کیسے ہوسکتا ہے کہ پولیس اور مقامی اتنظامیہ کو اس کے بارے میں علم نہیں تھاکیونکہ اوریوا کمپنی نے ان سے اس کی اجازت نہیں لی تھی''۔
عوام کے لیے پل کو دوبارہ کھولنے سے چند گھنٹوں قبل ایک مقامی صحافی نے اوریوا کے مینیجر کے ساتھ پل کا دورہ کیا اور اس انٹریو میں انہوں نے اس پل کو ' موربی کی آن، بان اور شان' بتایا تھا۔