برمنگھم کی مسجد کے باہر ایک نمازی پر حملہ

برمنگھم مسجد نمازی حملہ

،تصویر کا ذریعہCCTV

،تصویر کا کیپشنپولیس سی سی ٹی وی کی فوٹیج کے ذریعے حملہ آوروں کو تلاش کرنے کی کوشش کر رہی ہے
    • مصنف, وینیسا پیئرس اور لورا شیورٹن
    • عہدہ, بی بی سی نیوز، ویسٹ مِڈ لینڈ

برمنگھم میں ایک نمازی پر تین افراد نے اس وقت حملہ کیا جب وہ عشاء کی نماز کے بعد گھر واپس جا رہا تھا۔

بدھ کی رات تقریباً گیارہ بجے برمنگھم کے علاقے کنگز ہیتھ میں یارک روڈ پر 73 سالہ بوڑھے شخص کو ان کی پیٹھ پر لات ماری گئی تھی۔

ویسٹ مڈلینڈز پولیس نے کہا کہ وہ شخص اس حملے کے دوران گر گیا تھا اور اس کا سر ایک ڈسپلے بورڈ سے ٹکرایا تھا۔ اس واقعہ کے بعد زخمی شخص کو ہسپتال میں داخل کرا دیا گیا تھا جہاں وہ اب بھی زیرِ علاج ہے۔

پولیس نے مزید کہا کہ اس بات کا کوئی ثبوت نہیں ہے کہ اس حملے کا برمنگھم کے ہی علاقے ایجبسٹن اور مغربی لندن کے علاقے ایلنگ میں مساجد کے قریب ہونے والے حالیہ واقعات سے کوئی تعلق یا ربط بنتا ہے۔

بدھ کے روز ہونے والے واقعے کے حملہ آور سڑک پر کھڑی کالی گاڑی سے نکلے تھے، وہ حملے کے بعد فرار ہو گئے۔

’خوفناک حملہ‘

پولیس نے بتایا کہ متاثرہ شخص ایک ٹوٹے ہوئے ہاتھ اور چہرے پر زخموں کی وجہ سے ہسپتال میں زیرِ علاج ہے۔ پولیس نے مزید کہا کہ حملے کی وجہ واضح نہیں ہے۔

پولیس کے سارجنٹ کرس گیلن نے کہا کہ ’یہ ایک عام شخص پر خوفناک حملہ تھا جس وقت وہ اپنے گھر واپس جا رہا تھا۔

’ہم متاثرہ شخص کا مکمل بیان لیں گے، جو آج ہسپتال میں ہے اور آج صبح ہی سے اس علاقے میں ہمارے افسران تعینات ہیں جو سی سی ٹی وی کی فوٹیج حاصل کرنے کی کوششوں کے ساتھ ساتھ گھر گھر پوچھ گچھ کر رہے ہیں۔‘

پولیس نے کہا کہ ’ہم حملہ آوروں اور وہ جس کار میں تھے اس کی شناخت کے لیے سخت محنت کر رہے ہیں۔‘

برمنگھم مسجد نمازی حملہ

مشتبہ افراد کو دو سفید فام اور ایک سیاہ فام کے طور پر بتایا گیا ہے، جن کی عمریں 18 سے 30 سال کے درمیان ہیں اور انھوں نے ٹریک سوٹ پہن رکھے تھے۔

ویسٹ مڈلینڈز پولیس نے کہا کہ عوام کو یقین دلانے کے لیے اضافی پولیس افسران یارک روڈ اور اس کے آس پاس جائے وقوعہ پر تعینات کر دیے ہیں۔

ایک بیان میں شہر کی مرکزی مسجد نے اعلان کیا ہے کہ اسے ’کمیونٹی کے ایک بزرگ پر حملے سے صدمہ پہنچا ہے‘۔

انتظامی کمیٹی نے کہا کہ ہماری دعائیں ہمارے بزرگ بھائی اور ان کے خاندان کے ساتھ ہیں۔

کمیٹی نے اس بات کی تصدیق کی کہ پولیس شہر میں مساجد کے رہنماؤں کے ساتھ رابطے میں ہے ’کسی بھی قسم کے خوف کو دور کرنے اور مدد فراہم کرنے کے لیے، خاص طور پر رمضان میں مسلسل شام کی نمازوں کے دوران (پولیس مساجد کے ساتھ رابطے میں رہے گی)۔‘

برمنگھم مسجد نمازی حملہ
مواد پر جائیں
بی بی سی اردو اب واٹس ایپ پر

بی بی سی اردو کی خبروں اور فیچرز کو اپنے فون پر حاصل کریں اور سب سے پہلے جانیں پاکستان اور دنیا بھر سے ان کہانیوں کے بارے میں جو آپ کے لیے معنی رکھتی ہیں

سبسکرائب کرنے کے لیے کلک کریں

مواد پر جائیں

تقریباً دس روز قبل برمنگھم کے علاقے ایجبیسٹن میں ایک شخص کو اس وقت زندہ جلانے کی کوشش کی گئی تھی جب وہ شام کے وقت مسجد سے گھر جا رہا تھا۔ اقدامِ قتل کے اس جرم میں پولیس نے ایک شخص کو گرفتار کر لیا گیا ہے۔

اس مقدمے کی تفتیش انسداد دہشتگردی پولیس کر رہی ہے اور ان کے سامنے یہ سوال ہے کہ آیا اس حملے کا تعلق مغربی لندن کے علاقے ایلنگ میں اسی نوعیت کے ایک دوسرے واقعے سے ہے۔

70 سال سے زیادہ عمر کا متاثرہ شخص برمنگھم میں ایک مسجد سے نکل کر گھر جا رہا تھا جب اس پر حملہ کیا گیا۔ حملہ آور نے اس پر کچھ سپرے کیا اور پھر اس کی جیکٹ پر آگ لگا دی۔

متاثرہ شخص کو زخمی حالت میں ہسپتال لے جایا گیا۔ حملے سے ان کا چہرہ جُھلس گیا تھا تاہم ان کی حالت خطرے سے باہر بتائی گئی تھی۔

سوشل میڈیا پر اس حملے کے بعد کی ویڈیو شیئر کی گئی جس میں یہ دیکھا جاسکتا ہے کہ پولیس متاثرہ شخص سے پوچھ گچھ کر رہی ہے۔

مغربی لندن کے علاقے ایلنگ میں ایسے ہی ایک حملے میں 82 سال کے شخص کو مسجد سے باہر نکلنے پر جلانے کی کوشش کی گئی تھی۔ پولیس ان دونوں واقعات کے درمیان کسی تعلق کے بارے میں تحقیقات کر رہی ہے۔

برمنگھم مسجد نمازی حملہ
،تصویر کا کیپشنجس علاقے میں حملہ ہوا وہاں کے رہائشی خوف زدہ ہیں

برمنگھم میں یارک روڈ پر ہونے والے حملے کے بعد وہاں کی ایک رہائشی، شیریں ہاؤسی، جو اس علاقے میں 26 سال سے مقیم ہیں، نے کہا کہ اس شخص پر حملہ اس وقت ہوا جب وہ رمضان کے مہینے میں رات کی نماز کے بعد گھر جا رہا تھا۔ انھوں نے اس حملے کو ’کافی حد تک خوفناک‘ قرار دیا۔

اس خاتون نے کہا کہ ’ہم اس علاقے میں بہت کثیر ثقافتی، کثیر نسلی، کثیر مذہبی ہیں اور آج صبح ایسی خبریں سننا بہت خوفناک تھا۔‘

وہ اور ان کا خاندان اس حملے کے بارے میں کمیونٹی کے دوسروں سے بات کرنے کے لیے سڑک پر نکل آیا تھا۔

انھوں نے مزید کہا کہ جو کچھ ہوا اس پر ہم سب بہت غصے میں ہیں اور پریشان ہیں اور ہم متاثرہ خاندان کے ساتھ اظہارِ یکجہتی کرنا چاہتے ہیں۔

اس علاقے کے ایک اور رہائشی، مختار ڈار نے کہا کہ یہ حملہ ’پوری کمیونٹی کے لیے ایک مسئلہ‘ ہے۔

انھوں نے وضاحت کی کہ وہ زخمی ہونے والے شخص کے گھر ہمدردی کے اظہار کے لیے گئے ہیں۔

مختار ڈار نے مزید کہا کہ ’یہ حملہ میرے والد پر بھی ہوسکتا تھا۔ یہ کسی کے والد یا ان کے چچا ہو سکتے تھے۔‘

’ہمیں مقامی باشندوں، سیاہ فام، سفید فام ایشیائی، افریقی کیریبین کے طور پر متحد ہونے کی ضرورت ہے، ہر ایک کو اس بات کو یقینی بنانے کے لیے متحد ہونے کی ضرورت ہے کہ ہماری سڑکیں محفوظ ہیں، ہمارے بزرگ لوگ ان پر پیدل چل پھر سکتے ہیں - مسجد، مندر گرودوارے، چرچ، بغیر کسی حملے یا حملہ آور کے خوف کے جا سکتے ہیں۔‘