’پاکستان کرکٹ بورڈ میں بھی رجیم چینج۔۔۔‘: رمیز راجہ کی رخصتی، نجم سیٹھی کی سربراہی میں 14 رکنی مینیجمنٹ کمیٹی قائم

وفاقی حکومت نے سابق چیئرمین پاکستان کرکٹ بورڈ (پی سی بی) نجم سیٹھی کی سربراہی میں 14 رکنی مینیجمنٹ کمیٹی قائم کر دی ہے۔ ان کی یہ تعیناتی عارضی بنیادوں پر کی گئی ہے۔

سرکاری نوٹیفکیشن کے مطابق نئی مینیجمنٹ کمیٹی کرکٹ بورڈ کے تمام امور کی ذمہ دار ہو گی اور چار ماہ میں نئے بورڈ آف گورنرز اور نئے چیئرمین پی سی بی کا انتخاب بھی اس کمیٹی کی ذمہ داریوں میں شامل ہے۔

وفاقی حکومت نے پی سی بی کے سنہ 2019 کے آئین کے خاتمے اور سنہ 2014 کے پرانے آئین کو بحال کرنے کی منظوری بھی دی ہے۔ وفاقی کابینہ نے گذشتہ میٹنگ میں ان اقدامات کی منظوری دی تھی۔

نوٹیفیکیشن کے مطابق پاکستان کرکٹ بورڈ کے نئے چئیرمین کا تقرر آئندہ 120 دن میں کیا جائے گا جبکہ اسی دورانیے میں منیجیمنٹ کمیٹی پی سی بی کے بورڈ کے نئے ارکان کا تقرر کرے گی۔

نجم سیٹھی نے ان اقدامات کی بابت اپنے سوشل میڈیا پر پوسٹ کرتے ہوئے لکھا کہ ’رمیز راجہ کی سربراہی میں کرکٹ رجیم ختم ہو چکا۔ 2014 کا پی سی بی کا آئین بحال کر دیا گیا ہے۔ مینیجمنٹ کمیٹی ملک میں فرسٹ کلاس کرکٹ کی بحال کے لیے انتھک محنت کرے گی۔ ہزاروں کرکٹرز کو دوبارہ نوکریاں دی جائیں گی۔‘

یاد رہے کہ نجم سیٹھی کی پاکستان کرکٹ بورڈ میں واپسی کی خبریں گذشتہ کئی روز سے پاکستانی ذرائع ابلاغ میں گرم تھیں۔ اور ان میں تیزی اس وقت آئی جب 17 دسمبر کو وزیراعظم شہباز شریف کی ان سے ملاقات ہوئی۔

اس ملاقات کے بعد ایک تصویر سامنے آئی جس میں وزیراعظم کے ساتھ نجم سیٹھی اور ان کی اہلیہ جگنو محسن کھڑی نظر آ رہی ہیں۔

شکیل شیخ، جو نئی تشکیل دی گئی مییجمنٹ کمیٹی کا بھی حصہ ہیں، انھوں نے 17 دسمبر کو ہی ٹوئٹر پر یہ خبر سنائی تھی کہ ’وزیراعظم نے نجم سیٹھی کو کھانے پر ایک خوشخبری بھی سنائی ہے، جو جلد سامنے آ جائے گی۔‘

ٹوئٹر پر نجم سیٹھی نے اپنے آپ کو اور اپنے خیرخواہوں کوان نئے اقدامات کے تناظر میں کم از کم تین بار مبارکبادیں دی ہیں۔

سپورٹس رپورٹر عبدالماجد بھٹی نے اس تعیناتی پر نجم سیٹھی کے مؤقف سے ہی ملتا جلتا ردعمل دیا ہے۔ انھوں نے اپنے ٹویٹ میں لکھا کہ ’پی سی بی کا 2019 کا آئین ختم، 2014 کا آئین بحال ہو گیا۔ اور رمیز راجہ کے اقتدار کا سورج غروب ہو گیا۔‘

انھوں نے مزید کہا کہ نئے چیلنجوں کے ساتھ کرکٹ نجم سیٹھی اب کرکٹ بورڈ کی ہاٹ سیٹ پر آ گئے ہیں۔

صارف حمزہ اظہر سلام نے اس تعیناتی کو سراہتے ہوئے اس فیصلے کو ’رائٹ مین فار رائٹ جاب‘ قرار دیا ہے۔ نجم سیٹھی کے قریبی سمجھے جانے والے اور مینیجمنٹ کمیٹی کا حصہ بننے والے شکیل شیخ نے تو اس فیصلے کو کرکٹ بچانے سے تعبیر کیا ہے۔ انھوں نے اس فیصلے پر وزیر اعظم کا خصوصی شکریہ ادا کیا ہے۔

صارف آرفا فیروز نے لکھا کہ رمیز راجہ ایک بین الاقوامی کرکٹ کمنٹیٹر ہیں اور چیئرمین پی سی بی کا عہدہ کھونے سے انھیں کوئی فرق نہیں پڑے گا۔

یاد رہے کہ پاکستان ٹیم کے سابق کپتان شاہد آفریدی بھی نئی مینیجمنٹ کمیٹی کا حصہ ہیں۔ ایک صارف نے لکھا کہ شاہد آفریدی نے جہاں رمیز راجہ کے ساتھ کام کیا اب وہ نجم سیٹھی کی مینیجمنٹ کمیٹی کا حصہ بن گئے ہیں۔

تاہم تمام صارفین بظاہر اس فیصلے سے خوش نظر نہیں آ رہے ہیں۔

ایک صارف نے نجم سیٹھی کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ آپ کی محنت کا صلہ آپ کو حکومت نے دے دیا ہے۔ انھوں نے لندن میں نواز شریف اور نجم سیٹھی کی خوشگوار موڈ میں ہونے والی ایک ملاقات کی تصویر بھی شیئرکی ہے۔

یہ بھی پڑھیے

عثمان اشرف نامی صارف نے نجم سیٹھی کو ’حکومت کا نمائندہ‘ قرار دیتے ہوئے لکھا کہ ان کی کچھ ساکھ نہیں ہے اور ان کی تعیناتی سے یہ کھیل بھی اب سیاست کی نذر ہو جائے گا۔

بہت سے لوگ اس تعیناتی کو سیاسی رنگ دیتے بھی نظر آئے۔

تکبیر اعجاز نامی صارف نے لکھا کہ ’کرکٹ بورڈ میں بھی رجیم چینج۔۔۔‘