آپ اس وقت اس ویب سائٹ کا ٹیکسٹ پر مبنی ورژن دیکھ رہے ہیں جو کم ڈیٹا استعمال کرتا ہے۔ مرکزی ویب سائٹ جہاں تمام تصاویر اور ویڈیوز موجود ہیں دیکھیے
’ورنہ میری گولی تو ہے ہی‘: پاکستان، انڈیا کشیدگی کے بیچ وزیراعظم مودی کے سخت بیانات کیا ظاہر کرتے ہیں؟
- مصنف, ثنا آصف ڈار
- عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام، اسلام آباد
22 اپریل کو پہلگام حملے کے بعد پاکستان اور انڈیا کے درمیان شروع ہونے والی کشیدگی تاحال برقرار ہے۔ دونوں ملکوں میں درجنوں افراد کی ہلاکت کے بعد دونوں جوہری طاقتوں کے درمیان سیزفائر تو ہو گیا تاہم اس کے باوجود ایک دوسرے کے خلاف بیان بازی کا سلسلہ اب بھی جاری ہے۔
انڈیا کے وزیر اعظم نریندر مودی نے ایک بار پھر الزام عائد کیا ہے کہ 'انڈیا میں دہشت گردی کی کارروائیاں پاکستان کی جانب سے کی جانے والی ایک سوچی سمجھی سازش ہے۔'
ریاست گجرات کے اپنے دورے کے دوسرے دن گاندھی نگر میں پارٹی کارکنوں سے خطاب کے دوران انھوں انڈیا کے زیر انتظام کشمیر کے علاقے پہلگام میں عسکریت پسندوں کے حملے اور اس کے تناظر میں انڈیا کی جانب سے کی گئی فوجی کارروائی 'آپریشن سندور' پر بھی بات کی۔
پہلگام حملے کے حوالے سے بات کرتے ہوئے وزیر اعظم مودی نے کہا کہ 'اسے پراکسی وار نہیں کہا جا سکتا کیونکہ چھ مئی کو (آپریشن سندور کے نتیجے میں) جن دہشت گردوں کی ہلاکت ہوئی اُن کے جنازے ادا کیے گئے اور انھیں پاکستان میں سرکاری اعزاز دیا گیا۔ اُن کے تابوت پر پاکستان کے جھنڈے لگائے گئے اور پاکستانی فوج نے انھیں سلامی دی۔ اس سے ثابت ہوتا ہے کہ دہشت گردی کی سرگرمیاں پراکسی وار نہیں بلکہ ایک سوچی سمجھی جنگی حکمت عملی ہیں۔'
یاد رہے کہ پاکستان میں سویلین و فوجی حکام بارہا دعویٰ کر چکے ہیں کہ ملک کے مختلف شہروں میں انڈیا کی جانب سے کیے گئے حملوں میں عام شہری ہلاک ہوئے تھے جن میں خواتین اور بچے بھی شامل تھے۔
انڈین وزیر اعظم نریندر مودی کا مزید کہنا تھا کہ ’میں نئی نسل کو بتانا چاہتا ہے ہوں کہ ملک کو کیسے برباد کیا گیا۔ 1960 میں جس انداز میں سندھ طاس معاہدہ کیا گیا، اگر آپ اس کی باریکی میں جائیں گے تو چونک جائیں گے۔ اس معاہدے میں یہاں تک کہا گیا ہے کہ جموں کشمیر میں ندیوں پر جو ڈیم بنے ہیں اُن کی صفائی کا کام نہیں کیا جائے گا اور ڈیمز کے گیٹ نہیں کھولے جائیں گے۔‘
’60 سال تک یہ گیٹ نہیں کھولے گئے۔ انڈیا کے وہ آبی ذخیرے جنھیں اپنی گنجائش کے مطابق 100 فیصد تک بھرنا چاہیے تھا وہ دو سے تین فیصد تک آ گئے۔ کیا میرے ملک کے لوگوں کا پانی پر حق نہیں ہے؟ کیا ہمارے لوگوں کو اُن کے حق کا پانی نہیں ملنا چاہیے کیا؟ اور ابھی تو میں نے (اس ضمن میں) کچھ زیادہ کیا نہیں ہے۔ ابھی تو ہم نے کہا ہے کہ ہم نے (سندھ طاس معاہدے کو) اسے معطل کیا ہے، وہاں (پاکستان) پسینہ چھوٹ رہا ہے۔ اور ہم نے ڈیم کے گیٹ تھوڑے تھوڑے کھول کر صفائی شروع کی، اتنے سے ہی وہاں سیلاب آ جاتا ہے۔‘
جبکہ پاکستانی دفترِ خارجہ نے انڈین وزیراعظم کی جانب سے دیے جانے والے حالیہ بیان پر رد عمل ظاہر کرتے ہوئے کہا ہے کہ ’جوہری طاقت کے حامل مُلک کے وزیراعظم کی جانب سے یہ ایک انتہائی غیر ذمہ دارانہ بیان دیا گیا۔‘
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
منگل کے روز پاکستانی وزارت خارجہ کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا کہ وزیراعظم مودی کے بیانات نے پہلے ہی عدم استحکام سے دوچار خطے میں حالات کو مزید ’خطرناک کرنے کا کام کیا۔‘
بیان میں یہ بھی کہا گیا کہ ’عالمی برادری کو انڈیا کی جانب سے پاکستان مخالف بڑھتی بیان بازی پر سنجیدگی سے توجہ دینی چاہیے، جس سے علاقائی استحکام اور دیرپا امن کے امکانات کو نقصان پہنچ سکتا ہے۔‘
یاد رہے کہ پیر کے روز انڈیا کے وزیراعظم نریندر مودی نے گجرات میں ایک ریلی سے خطاب کرتے ہوئے کہا تھا کہ ’جو بھی انڈین شہریوں کا خون بہانے کی کوشش کرے گا، اس کو اس کی زبان میں جواب دیا جائے گا اور آپریشن سندور دہشتگردی کے خاتمے کا مشن ہے۔‘
انھوں نے کہا کہ ’22 اپریل کے بعد میں کبھی چھپا نہیں، سینہ تان کر بہار میں اعلان کیا تھا کہ میں دہشتگردی کے ٹھکانوں کو مٹی میں ملا دوں گا۔‘
مودی نے پاکستان کو سخت پیغام دیتے ہوئے کہا کہ ’سکھ چین کی زندگی جیو، روٹی کھاؤ ورنہ میری گولی تو ہے ہی۔‘
دوسری جانب پاکستان کے وزیراعظم شہباز شریف نے کہا کہ ’ہم مسئلہ کشمیر اور پانی کے مسئلے سمیت تمام تنازعات مذاکرات کے ذریعے حل کرنا چاہتے ہیں اور تجارت اور انسداد دہشت گردی پر بھی اپنے ہمسائے (انڈیا) سے بات کرنے کے لیے تیار ہیں۔‘
دورہ ایران پر پاکستان کے وزیراعظم نے ایرانی صدر مسعود پزشکیان کے ساتھ مشترکہ پریس کانفرنس میں کہا کہ ’اگر انڈیا جارحانہ رویہ برقرار رکھنا چاہتا ہے تو پھر ہم اپنے مادر وطن کا دفاع کریں گے جیسا کہ ہم نےاللہ کے فضل و کرم سے کچھ روز قبل کیا تھا۔‘
انھوں نے مزید کہا کہ ’اگر انڈیا میری امن کی پیشکش قبول کرتا ہے تو پھر ہم دکھائیں گے کہ ہم خلوص نیت کے ساتھ امن چاہتے ہیں۔‘
دونوں ملکوں کے رہنماؤں اور سیاسی قیادت کی جانب سے جاری مسلسل بیان بازی کو دیکھ کر یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ حالیہ کشیدگی کے درمیان ایسے بیان کیا معنی رکھتے ہیں؟ کیا ایسے سخت بیانات کے بعد دونوں ملک سر جوڑ کر بیٹھیں گے اور خطے میں امن کے لیے کوئی مستقل حل تلاش کر پائیں گے؟
بی بی سی نے انڈیا اور پاکستان میں ماہرین سے ان ہی سوالوں کے جواب ڈھونڈنے کی کوشش کی ہے لیکن اس سے پہلے یہ جان لیتے ہیں کہ پیر کے روز مودی نے اپنی تقریر میں کیا کہا؟
’مودی بتا رہے ہیں کہ وہ کتنے طاقتور ہیں‘
انڈین وزیر اعظم نریندر مودی کی جانب سے حالیہ کشیدگی کے درمیان ایسے بیان کیا معنی رکھتے ہیں؟ اس بارے میں انڈیا کی سیاسی تجزیہ کار نروپما سبرامنین نے بی بی سی کے نامہ نگار شکیل اختر سے بات کرتے ہوئے کہا کہ مودی کے بیان کے دو سیاسی تناظر ہیں: ’ایک تو وہ انڈیا کی عوام کو یہ بتا رہے ہیں کہ وہ اتنے طاقتور ہیں کہ پاکستان کی عوام کو بھی خطاب کر رہے ہیں۔‘
’دوسرا اس کا مقصد پاکستان کی عوام میں فوج کے خلاف جذبات کو بھی ہوا دینا ہو سکتا ہے جس کے بارے میں یہاں عام تصور یہ ہے کہ انڈیا اور پاکستان کے درمیان حالیہ لڑائی سے پہلے پاکستانی عوام میں فوج کے خلاف ناراضی تھی لیکن اب فوج کی مقبولیت بظاہر بڑھ گئی ہے۔‘
پاکستان کے وزیر اعظم شہباز شریف کی جانب سے مذاکرات کی پیشکش کے بارے میں نروپما سبرامنین کہتی ہیں کہ موجودہ حالات میں دونوں ملکوں کے درمیان بات چیت شروع ہونے کا کوئی امکان نظر نہیں آ رہا۔
انھوں نے کہا کہ آئندہ چند مہینوں میں کئی انڈین ریاستوں میں اسمبلی انتخابات ہونے والے ہیں۔ ’انتخابات تک یہ ایشو بہت شدت سے سیاسی بحث ومباحثے کا محور ہو گا۔ ان حالات میں کسی طرح کے مذاکرات کی گنجائش نہیں لگتی۔ بات چیت کسی مرحلے پر شروع بھی ہو گی تو وہ ممکنہ طور پر سندھ طاس معاہدے سے شروع ہو گی جسے انڈیا نے یکطرفہ طور پر معطل کر رکھا ہے۔ دونوں ملکوں کو مذاکرات کے ذریعے کوئی نیا معاہدہ کرنا ہو گا۔‘
نروپما کا کہنا ہے کہ ’صدر ٹرمپ نے حالیہ ٹکراؤ کی صورتحال میں گہری دلچسپی دکھائی حالانکہ انڈیا نے پاکستان سے کسی طرح کی بات چیت سے اتفاق کرنے کی سختی سے تردید کی۔ ہو سکتا ہے کہ بیک چینل کے ذریعے کوئی بات چیت شروع ہو لیکن اس مرحلے پر کچھ کہنا بہت مشکل ہے۔‘
’مودی سیاسی نقصان کو کم کرنے کی کوشش کر رہے ہیں‘
انڈیا میں پاکستان کے سابق ہائی کمشنر ڈاکٹر عبدالباسط اس بارے میں کہتے ہیں کہ مودی کے ایسے بیانات دینے کی ایک بڑی وجہ ریاستی انتخابات ہیں۔
ان کا کہنا تھا کہ ’ہمیں یہ سمجھنے کی ضرورت ہے کہ مودی اس وقت اپنی تمام توانائیاں ریاستی انتخابات پر مرکوز رکھے ہوئے ہیں اور پاکستان کے ساتھ حالیہ جھڑپ کے بعد اُن کے بیانیے کو ٹھیس پہنچی ہے اور انھیں ہزیمت اٹھانا پڑی ہے۔‘
ڈاکٹر عبدالباسط کہتے ہیں کہ ’نریندر مودی ایسے بیانات سے سیاسی طور پر پہنچنے والے نقصان کو کم کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔ اگلے چند دنوں میں ریاست بہار میں بھی انتخابات ہونے والے ہیں جس کے پیش نظر یہ کہا جا سکتا ہے کہ اُن کی جانب سے ایسے اشتعال انگیز بیانات کا سلسلہ جاری رہے گا۔‘
ان کا کہنا تھا کہ اس کے برعکس پاکستان کے وزیر اعظم کی جانب سے دیے جانے والے بیانات بہت مثبت نظر اتے ہیں کیونکہ وہ مذاکرات کی پیشکش کر رہے ہیں۔
انھوں نے کہا کہ دونوں حکومتیں اپنی اپنی طرف عوامی بیانیے کے لیے کچھ نہ کچھ بیانات دے رہی ہیں اور جہاں تک مودی کا تعلق ہے اُن کی جانب سے ابھی کچھ عرصے تک ایسے سخت بیانات کا سلسلہ جاری رہے گا۔
اس سوال پر کہ کیا دونوں ممالک کے درمیان مذاکرت کے عمل کا آغاز ہو گا؟ ڈاکٹر عبدالباسط کا کہنا تھا کہ ابھی مذاکرات کا کوئی امکان نہیں۔ وہ کہتے ہیں کہ ’اس وقت کوئی باضابطہ مذاکراتی عمل کا فریم ورک نہیں تو میں نہیں سمجھتا کہ اس وقت میں دونوں ممالک میں کوئی پیشرفت ہو گی۔‘
وہ کہتے ہیں کہ باضابطہ مذاکرات کے لیے ایک سٹریکچرڈ فریم ورک کی ضرورت ہے جو کہ ابھی موجود نہیں۔
ڈاکٹر عبدالباسط کہتے ہیں کہ ’مگر میرا خیال ہے کہ بیک ڈور مذاکرات یا پردے کے پیچھے کوئی ہل جل ضرور ہو گی اور ممکنہ طور پر اس غیر رسمی مذاکرات کا پہلا موقع تو ماسکو میں ہو، جب دونوں ممالک کے قومی سلامتی کے مشیربین الاقوامی کانفرنس برائے قومی سلامتی کے پلیٹ فارم پر ملیں گے۔
وہ کہتے ہیں کہ ممکنہ طور پر یہ پہلا موقع ہو گا جب کشیدگی کے بعد پہلی مرتبہ دونوں ممالک کے قومی سلامتی کے مشیر ایک ہی ہال میں ہوں گے۔