آپ اس وقت اس ویب سائٹ کا ٹیکسٹ پر مبنی ورژن دیکھ رہے ہیں جو کم ڈیٹا استعمال کرتا ہے۔ مرکزی ویب سائٹ جہاں تمام تصاویر اور ویڈیوز موجود ہیں دیکھیے
عمران خان سے متعلق سوال مگر جواب میں عافیہ صدیقی کا ذکر، امریکہ میں اسحاق ڈار کا انٹرویو زیرِ بحث
’میں آپ سے اب ایسا سوال کرنے جا رہا ہوں، جو شاید آپ کو اچھا نہ لگے۔۔۔‘ پاکستان کے نائب وزیر اعظم اور وزیر خارجہ اسحاق ڈار کے دورہ امریکہ کے دوران جب ایک صحافی نے یہ الفاظ کہے تو شاید زیادہ تر لوگ جانتے تھے کہ یہ سوال سابق وزیر اعظم عمران خان سے متعلق ہی ہو گا۔ اور ایسا ہی ہوا۔
امریکی تھنک ٹینک اٹلانٹک کونسل کے لیے انٹرویو کے دوران این بی سی نیوز کے نامہ نگار برائے سکیورٹی امور ڈین ڈی لیوس نے پاکستان کے وزیر خارجہ اسحاق ڈار سے عمران خان کی گرفتاری پر سوال کیا۔
اسحاق ڈار نے اس سوال کا جواب تو خاصے تحمل کے ساتھ دیا لیکن اس کے باوجود وہ کچھ ایسا کہہ گئے جس کی وجہ سے سوشل میڈیا پر انھیں خاصی تنقید کا نشانہ بنایا جا رہا ہے۔
دراصل اسحاق ڈار نے عمران خان کی گرفتاری کا جواز پیش کرتے ہوئے اس کا موازنہ امریکہ میں قید پاکستانی سائنسدان ڈاکٹرعافیہ صدیقی سے کیا۔
تاہم سوشل میڈیا پر شدید ردِعمل کے بعد نائب وزیر اعظم اور وزیر خارجہ اسحاق ڈار نے سنیچر کی شب ایکس پر اپنے ایک بیان میں کہا کہ ’میریے گزشتہ روز اٹلانٹک کونسل تھنک ٹینک واشنگٹن میں عمران خان کے کیس کے بارے سوال کے جواب میں ڈاکٹر عافیہ صدیقی کے کیس کے حوالے کو سیاق و سباق سے ہٹ کر لیا جا رہا ہے۔‘
اُنھوں ایکس پر اپنے بیان میں مزید کہا کہ ’پاکستان مسلم لیگ ن کی حکومتوں کے ادوار میں ہم ہمیشہ ڈاکٹر عافیہ صدیقی کی رہائی کے لیے تمام تر سفارتی اور عدالتی معاونت فراہم کرتے رہے ہیں اور آئندہ بھی کرتے رپیں گے جب تک کہ رہائی کا معاملہ حل نہ ہو جائے۔‘
اُن کا کہنا تھا کہ ’ہر ملک کے عدالتی و قانونی طریقہ کار ہوتے ہیں جن کا احترام کیا جاتا ہے چاہے وہ پاکستان ہو یا امریکہ۔ ڈاکٹر عافیہ صدیقی کی رہائی کے معاملے پر ہماری حکومت کا موقف دو ٹوک اور واضح ہے۔‘
اسحاق ڈار کا اپنی اس وضاحت سے قبل دیا جانے والا بیان اس لیے بھی زیادہ تنقید کا نشانہ بن رہا ہے کیونکہ پاکستان میں ایک طبقہ ڈاکٹر عافیہ کے خلاف امریکی عدالت کے فیصلے کو درست نہیں مانتا۔ اس حوالے سے ایک کیس اسلام آباد ہائیکورٹ میں بھی زیرِ التوا ہے۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
واضح رہے کہ مارچ 2003 میں پاکستانی نیورو سائنسدان ڈاکٹر عافیہ کراچی سے لاپتہ ہوئی تھیں۔ انھیں افغانستان میں امریکی فوجیوں پر حملے کے الزام میں 2010 میں امریکہ میں 86 سال قید کی سزا سنائی گئی تھی۔ گذشتہ کئی برسوں سے ان کی پاکستان واپسی کی تحریک چلائی جا رہی ہے جس کی سربراہی ان کی اپنی بہن ڈاکٹر فوزیہ صدیقی کر رہی ہیں۔
گذشتہ مہینے پاکستان کی وفاقی حکومت نے عافیہ صدیقی کیس میں امریکی عدالت میں معاونت کرنے اور فریق بننے سے انکار کر دیا تھا جس کے بعد اسلام آباد ہائی کورٹ نے حکومت سے امریکہ میں کیس کا فریق نہ بننے کی وجوہات طلب کی تھیں لیکن وفاقی حکومت کی جانب سے کوئی جواب جمع نہ کروانے پر وفاقی کابینہ کو توہینِ عدالت کا شوکاز نوٹس بھی جاری کیا گیا۔
اسحاق ڈار نے اپنے انٹرویو میں کیا کہا؟
این بی سی نیوز کے نامہ نگار برائے سکیورٹی امور ڈین ڈی لیوس نے اسحاق ڈار سے پاکستان انڈیا کی حالیہ کیشدگی اور پاکستان امریکہ تعلقات پر گفتگو کرنے کے بعد پاکستانی سیاست پر سوال کیا۔
انھوں نے اپنے سوال کا آغاز کچھ یوں کیا کہ ’میں آپ سے اب ایک ایسا سوال کرنے جا رہا ہوں، جو شاید آپ کو اچھا نہ لگے۔۔۔ دو برس قبل عمران خان کو گرفتار کیا گیا۔ آپ کے ملک اور بیرون ملک میں بھی انھیں اچھی خاصی تعداد میں لوگ سپورٹ کرتے ہیں، اس بارے میں سوال اٹھائے جاتے رہے ہیں کہ ان کے کیس میں قانونی تقاضے پورے نہیں کیے گئے۔‘
اپنی بات جاری رکھتے ہوئے امریکی صحافی نے مزید کہا کہ ’ایسا نہیں کہ پاکستان میں پہلی بار کسی اہم سیاسی شخصیت کو جیل بھیجا گیا ہو، کیا آپ محسوس کرتے ہیں کہ اس حوالے سے پاکستانی کی جمہوری ساکھ متاثر ہو رہی ہے؟
اسحاق ڈار نے اپنے جواب کا آغاز کچھ ایسے کیا کہ وہ 30 برس سے زیادہ عرصے سے پاکستانی سیاست میں ہیں اور انھیں مصالحت کار کے طور پر جانا جاتا ہے۔
’سنہ 2014 میں پی ٹی آئی کے اسلام آباد میں 126 روزہ دھرنے سے ملک کو شدید معاشی نقصان ہوا۔ میں نے اس وقت حکومت کی طرف سے ثالت کا کردار ادا کیا، جسے میں سیاسی سیز فائر کہتا ہوں اور معاملات حل ہو گئے لیکن جب آپ ریاست کے خلاف اٹھ کھڑے ہوں اور اسلحہ اٹھا لیں اور وہ سب چیزیں کریں جو 9 مئی کو ہوئیں، تو بدقسمتی سے پھر میرے جیسا شخص بھی کچھ نہیں کر سکتا اور قانونی طریقہ کار پر عملدرآمد ضروری ہو جاتا ہے۔‘
یاد رہے کہ دو برس قبل نو مئی 2023 کو اسلام آباد ہائی کورٹ کے احاطے سے پاکستان تحریک انصاف کے بانی عمران خان کی رینجرز اہلکاروں کے ہاتھوں گرفتاری کے بعد ملک بھر میں پرتشدد مظاہروں کا سلسلہ شروع ہو گیا تھا جس میں عسکری املاک پر بھی حملے کیے گئے تھے۔
اس کے بعد پاکستان تحریکِ انصاف کے رہنماؤں اور کارکنوں کی گرفتاریوں کا سلسلہ شروع ہوا تھا جس کے نتیجے میں ملک بھر میں متعدد گرفتاریاں عمل میں آئی تھیں۔
اسحاق ڈار نے اپنی بات بڑھاتے ہوئے کہا کہ ہر چیز کو سیاسی رنگ نہیں دینا چاہیے۔ انھوں نے کہا کہ ’مثال کے طور پر اگر میں عافیہ صدیقی کی بات کروں تو وہ دہائیوں سے یہاں (امریکہ میں) ہیں اور خدا جانے وہ کب تک یہاں رہیں گی، اگر قانون پر عملدرآمد کیا گیا، جس کے نتیجے میں عافیہ صدیقی کو سزا ہوئی تو میں اگر اس فیصلے پر تنقید کروں تو یہ غلط ہو گا۔‘
اسحاق ڈار نے مزید وضاحت دیتے ہوئے کہا کہ ’تو سب کے لیے ایسا ہی ہے، کسی کو استثنیٰ حاصل نہیں، اگر آپ مقبول سیاسی لیڈر ہیں تو آپ کو یہ لائسنس نہیں مل جاتا کہ آپ اسلحہ اٹھا لیں، لوگوں کو اشتعال دلائیں اور ملک کی سکیورٹی تنصیبات پر حملہ کریں۔ یہ غداری کے برابر ہے۔‘
انھوں نے مزید کہا کہ ’میں کوئی جج نہیں، میں کچھ نہیں کر سکتا۔ میں ثالثی کرتا تھا لیکن اس معاملے میں میرا جیسا شخص بھی کچھ نہیں کر سکتا۔ قانون پر عملدرآمد ہو گا لیکن میں آپ کو یقین دلاتا ہوں کہ پاکستان کی موجودہ حکومت نے اس معاملے میں کچھ نہیں کیا، یہ عدلیہ اور نگران حکومت نے کیا۔ دنیا کے کسی بھی جمہوری ملک کی طرح ہمیں عدلیہ کے معاملات میں دخل اندازی کرنے کا حق حاصل نہیں۔‘
’کیا فیلڈ مارشل نے ٹرمپ سے عافیہ صدیقی کی رہائی پر بات کی؟‘
پاکستان کے دفتر خارجہ نے اسحاق ڈار کے اٹلانٹک کونسل کے دورے کے حوالے سے بیان تو جاری کیا ہے تاہم اس میں وزیر خارجہ کے عافیہ صدیقی کے حوالے سے بیان کو کوئی ذکر نہیں۔
اسحاق ڈار کے اس بیان پر ان کی جماعت پاکستان مسلم لیگ نون کی جانب سے بھی ابھی تک کوئی ردعمل سامنے نہیں آیا تاہم سوشل میڈیا پر صارفین خاصے غصے میں نظر آتے ہیں۔
پی ٹی آئی رہنما انجینیئرنوید نے لکھا کہ ’عمران خان کی غیر قانونی اور غیر آئینی قید کا جواز پیش کرنے کے لیے اسحاق ڈار نے منصفانہ ٹرائل نہ ہونے کے باوجود ڈاکٹر عافیہ صدیقی کی گرفتاری اور سزا کا دفاع کیا۔‘
انھوں نے مزید لکھا کہ ’یہی وجہ ہے کہ میں ہمیشہ کہتا ہوں کہ مسلم لیگ نون پاکستان کے ساتھ ہونے والی سب سے بدترین چیز ہے۔‘
کچھ صارفین اس موقع پر پاکستان کے فیلڈ مارشل عاصم منیر کے دورہ امریکہ کا ذکر کرتے بھی نظر آئے۔ ایک صارف نے سوال کیا کہ ’کیا انھوں نے ڈونلڈ ٹرمپ سے عافیہ صدیقی کی رہائی پر بات کی؟‘
واضح رہے کہ گذشتہ مہینے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے فیلڈ مارشل کے دورہ امریکہ کے دوران ان کے اعزاز میں وائٹ ہاؤس کے کیبنٹ روم میں ظہرانہ دیا تھا۔
کھانے کے بعد ٹرمپ نے اوول آفس میں صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہا تھا کہ جنرل عاصم منیر نے (پاکستان انڈیا) جنگ روکنے میں اہم کردار ادا کیا اور ’میں پاکستان کے آرمی چیف عاصم منیر سے ملاقات کو اپنے لیے باعثِ اعزاز سمجھتا ہوں۔‘
ڈاکٹر وقاص نواز نے لکھا کہ کہ سب سے بدترین چیز یہ منافقت ہے۔ پاکستان میں اقتدار میں موجود لوگ عوامی طور پر تو ڈاکٹر عافیہ کے خاندان کے ساتھ ہمدردی کا ڈرامہ کرتے ہیں جبکہ نجی طور پر ڈاکٹر عافیہ کی تکلیف کو سیاسی مقاصد کے لیے استعمال کرتے ہوئے اپنی جانب سے ہونے والی خلاف ورزیوں کا جواز پیش کرتے ہیں۔
سیدہ صفوی نامی صارف نے لکھا کہ ’وہ (حکومت) دنیا کو یہ باور کرانے کے لیے کہ وہ صحیح ہیں، کچھ بھی کہہ سکتے ہیں۔‘