عافیہ صدیقی کی رہائی کا مطالبہ اور ٹیکساس میں یہودی عبادت گاہ پر حملہ: برطانیہ میں گرفتاریاں، ’میرا بھائی ذہنی بیماری کا شکار تھا‘

امریکی ریاست ٹیکساس کے شہر ڈیلس کے نواح میں ایک یہودی عبادت گاہ میں چار افراد کو یرغمال بنانے والے شخص کے بھائی کے مطابق اُن کا 44 سالہ بھائی ذہنی بیماری کا شکار تھا۔

یاد رہے کہ 44 سالہ برطانوی شہری ملک فیصل اکرم نے سنیچر کی صبح کولیول نامی علاقے میں یہودی عبادت گاہ میں موجود چار افراد کو یرغمال بنا لیا تھا تاہم بعدازاں وہ پولیس کی فائرنگ سے مارے گئے تھے جبکہ یرغمالیوں کو بحفاظت بازیاب کروا لیا گیا تھا۔

امریکہ میں قانون نافذ کرنے والے اداروں کے مطابق فیصل اکرم کو پاکستانی نیورو سائنس دان ڈاکٹر عافیہ صدیقی کی رہائی کا مطالبہ کرتے سُنا گیا تھا جو یہودی عبادت گاہ سے تقریبا 20 میل دور فورٹ ورتھ جیل میں دہشت گردی کے الزامات کے تحت 86 سال قید کی سزا بھگت رہی ہیں۔

’بھائی ذہنی بیماری کا شکار تھا‘

بازیابی کے آپریشن میں ہلاک ہونے والے ملک فیصل اکرم کا تعلق برطانیہ کے علاقے بلیک برن سے تھا جہاں کی مقامی بلیک برن مسلم کمیونٹی کے فیس بک پیج پر ان کے بھائی گلبار کی جانب سے ایک تحریری پیغام جاری کیا گیا ہے۔

اس پیغام میں انھوں نے یہودی عبادت گاہ میں یرغمال بنائے جانے والوں سے معافی مانگتے ہوئے دعویٰ کیا ہے کہ اُن کا بھائی ذہنی بیماری کا شکار تھا۔

فیصل اکرم کے بھائی کے مطابق وہ اس واقعے کے دوران فیصل کے ساتھ ساتھ ایف بی آئی سے بھی رابطے میں تھے تاکہ فیصل کو یرغمالیوں کی رہائی اور ہتھیار ڈالنے پر آمادہ کیا جا سکے۔ لیکن ان کا کہنا تھا کہ ’ہم ایسا کچھ بھی نہیں کر سکتے تھے جس سے اسے ہتھیار ڈالنے پر رضامند کیا جا سکے۔’

ان کا کہنا تھا کہ ’وہ اور ان کا خاندان ملک فیصل اکرم کی جانب سے اٹھائے جانے والے اس اقدام کی حمایت نہیں کرتا اور وہ اس واقعے کے تمام متاثرین سے تہہ دل سے معذرت خواہ ہیں۔’

انھوں نے مذید کہا کہ ’ہم سمجھتے ہیں کہ کسی بھی انسان پر حملہ چاہے وہ یہودی ہو، مسیحی ہو یا مسلمان ہو، غلط ہے اور اس کی ہمیشہ مذمت ہونی چاہیے۔’

برطانیہ میں مزید گرفتاریاں

امریکہ میں ہونے والے اس حملے کے بعد کی جانے والی تحقیقات کے سلسلے میں برطانیہ سے دو نوجوانوں کو گرفتار کیا گیا ہے۔

جنوبی مانچسٹر میں اتوار کی شام گرفتار کیے جانے والے ان لوگوں کے بارے میں اداروں کی جانب سے زیادہ معلومات فراہم نہیں کی گئی ہیں۔

یہ بھی پڑھیے

گریٹر مانچسٹر پولیس کی جانب سے بیان جاری کیا گیا ہے کہ امریکہ سے تحقیقات میں تعاون کیا جا رہا ہے اور گرفتار کیے گئے دونوں افراد کو اسی سلسلے میں حراست میں لیا کیا ہے۔ پولیس کے مطابق زیر حراست افراد سے پوچھ گچھ کی جا رہی ہے۔

یہودی عبادت گاہ میں کیا ہوا تھا؟

امریکہ کی پولیس کے ذرائع کے مطابق ملک فیصل اکرم دو ہفتے قبل نیو یارک جے ایف ایئرپورٹ پر پہنچے تھے۔

یہ واقعہ مقامی وقت کے مطابق صبح تقریباً 11 بجے کے لگ بھگ شروع ہوا جب مقامی پولیس کو ڈیلس کے نواح میں یہودی عبادت گاہ پہنچنے کی کال موصول ہوئی۔

کولیویل کے محکمہ پولیس نے مقامی وقت کے مطابق صبح ساڑھے گیارہ بجے ایک ٹویٹ میں کہا کہ وہ کانگریگیشن بیتھ اسرائیل نامی عبادت گاہ پر ایک ’سپیشل ویپنز اینڈ ٹیکٹکس (سواٹ) آپریشن‘ کر رہی ہے۔ ٹویٹ میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ ’ہم آپ سے درخواست کریں گے کہ آپ اس علاقے میں جانے سے گریز کریں۔‘

امریکی چینل سی بی ایس نے پولیس ذرائع سے بتایا تھا کہ فیصل اکرم اس یہودی عبادت گاہ میں اس وقت داخل ہوئے جب عبادت ہو رہی تھی اور انھوں داخلی دروازے پر بتایا کہ وہ بے گھر ہیں۔

واضح رہے کہ کانگریگیشن بیتھ اسرائیل نامی کنیسا میں جب یہ واقعہ پیش آیا تو وہاں ہونے والی عبادت کو لائیو سٹریم کیا جا رہا تھا۔ اس لائیو سٹریم فیڈ میں ایک شخص (مبینہ طور پر حملہ آور) کو اونچی آواز میں یہ کہتے سُنا جا سکتا تھا کہ وہ کسی کو نقصان نہیں پہنچانا چاہتا۔

وہ اس دوران کہہ رہا تھا ’میری بہن سے فون پر میری بات کروائیں‘ اور ’میں مر جاؤں گا۔‘ انھیں یہ بھی کہتے سُنا گیا کہ ’امریکہ کے ساتھ کچھ غلط ہے۔‘

یرغمال بنائے جانے والے چار افراد تھے جن میں کنیسا کے ربی بھی شامل تھے۔ یرغمال افراد میں سے ایک شخص کو چھ گھنٹے بعد رہا کر دیا گیا تھا جب کہ باقی تین افراد کو بھی کئی گھنٹوں بعد پولیس نے بحفاظت بازیاب کروا لیا تھا۔

10 گھنٹے تک جاری رہنے والے آپریشن کے بعد کولیویل پولیس اور ایف بی آئی کی مشترکہ پریس کانفرنس میں بتایا گیا تھا کہ تمام یرغمالیوں کو بحفاظت رہا کروا لیا گیا ہے جبکہ ملزم مارا گیا ہے۔

پولیس ذرائع کے مطابق ملک فیصل اکرم کے پاس کسی قسم کا دھماکہ خیز مواد موجود نہیں تھا جب کہ امریکی عدالت میں ان کا کوئی ریکارڈ بھی موجود نہیں۔ ایف بی آئی نے کہا ہے کہ فی الحال اس بات کا کوئی اشارہ نہیں ملا ہے کہ اس واقعے میں کوئی اور فرد بھی ملوث تھا۔

امریکی صدر جو بائیڈن نے چار افراد کے یرغمال بنائے جانے کو ’دہشت گردی کی کارروائی‘ قرار دیا اور اس بات کی بالواسطہ طور پر تصدیق بھی کی کہ حملہ آور عافیہ صدیقی کی رہائی کا مطالبہ کر رہا تھا۔

انھوں نے کہا کہ ٹیکساس حملے کا تعلق ’کسی ایسے فرد سے تھا جسے 15 سال قبل گرفتار کیا گیا تھا اور وہ 10 سال سے جیل میں تھا۔‘

یاد رہے کہ ڈاکٹر عافیہ صدیقی کو ایک امریکی عدالت نے افغانستان میں امریکی فوج اور حکومت کے اہلکاروں پر مبینہ طور پر قاتلانہ حملے اور قتل کی کوشش کرنے کے سات الزامات میں مجرم قرار دیا تھا اور انھیں 86 سال قید کی سزا سُنائی تھی۔

عافیہ صدیقی کون ہیں؟

ڈاکٹر عافیہ کو جولائی 2008 میں افغان پولیس نے کیمیائی اجزا اور ایسی تحریریں رکھنے پر گرفتار کیا تھا جن میں نیویارک پر حملے کا ذکر تھا جس میں بھاری جانی نقصان ہو سکتا تھا۔

حکام کے مطابق ڈاکٹر عافیہ نے کیمیائی اجزا اور نیویارک میں حملے کے بارے میں تحریروں کی برآمدگی کے بارے میں سوال پوچھے جانے پر رائفل اٹھا کر فوجیوں پر گولیاں چلائیں۔ اس حملے میں کوئی امریکی زخمی نہیں ہوا تھا۔

ڈاکٹر عافیہ کے وکلا نے موقف اختیار کیا کہ عافیہ نے بدحواسی کی کیفیت میں رائفل چھینی اور فائرنگ کی۔ ان کا موقف تھا کہ عافیہ کے اس عمل کا دہشت گردی کے ساتھ کوئی تعلق نہیں بنتا۔

عافیہ صدیقی کو ایک امریکی عدالت نے افغانستان میں امریکی فوج اور حکومت کے اہلکاروں پر مبینہ طور پر قاتلانہ حملے اور قتل کی کوشش کے سات الزامات میں مجرم قرار دیا تھا اور انھیں 86 سال قید کی سزا سنائی تھی۔