موسمیاتی تبدیلی: کیا صدیوں پرانی گندم دنیا کی غذائی ضروریات کو پورا کرنے میں مدد دی سکتی ہے؟

wheat

،تصویر کا ذریعہBBC/TONY JOLLIFFE

    • مصنف, ربیکا موریل اور ایلسن فرانسز
    • عہدہ, بی بی سی نیوز کلائمنٹ اینڈ سائنس

کیا بدلتے ہوئے ماحول میں دنیا کی بھوک کے خاتمے کا راز 300 سال پرانے میوزیم کے ذخیرے میں پنہاں ہے؟

کچھ سائنسدانوں نے اپنی امیدیں نیچرل ہسٹری میوزیم کے آرکائیوز میں رکھے گئے گندم اور اس سے متعلقہ فصل کے 12,000 نمونوں سے وابستہ کر رکھی ہیں۔

سب سے زیادہ امید افزا نمونے گندم کی سخت اقسام کے جینیاتی رازوں کی نشاندہی کرنے کے لیے ان کے جینوم کو ترتیب دے رہے ہیں۔

موسمیاتی تبدیلی اور کیڑے اور بیماریاں فصل پر دباؤ میں ڈال رہی ہیں۔

گندم کی پرانی اقسام کو سینکڑوں پرانے گتے کی فائلوں میں، صفائی کے ساتھ قطار در قطار میوزیم کے والٹس میں محفوظ کیا جاتا ہے۔ ہر ایک میں سوکھے پتے، تنے یا اناج کی بالیاں ہوتی ہیں، اور کبھی کبھار تو صدیوں پرانے یہ تینوں یعنی پتے، تنے اور اناج کی بالیاں ہیں۔

ان پر احتیاط سے لیبل لگا ہوا ہے، بہت سے خوبصورت تانبے کی پلیٹ میں لکھا ہوا ہے، جس میں یہ بتایا گیا ہے کہ وہ کہاں اور کب ملے تھے۔ یہ سب مفید معلومات یہاں میسر ہیں۔

لاریسا ویلٹن کہتی ہیں کہ ’یہ مجموعہ اٹھارہویں صدی تک پھیلا ہوا ہے، جس میں ایک وہ نمونہ بھی شامل ہے جو کیپٹن کُک کے آسٹریلیا کے پہلے سفر پر جمع کیا گیا تھا۔ وہ خود اس آرکائیو کو ڈیجیٹائز کرنے والی ٹیم کا حصہ ہیں تاکہ اس تک آن لائن رسائی حاصل کی جا سکے۔

جیمز کُک کا نمونہ ایک جنگلی گندم کا پودا ہے۔ یہ کھیتوں میں اُگنے والی اقسام سے بالکل مختلف اور گھاس کی طرح نظر آتا ہے۔ لیکن یہ وہی اختلافات ہیں جن میں ٹیم کی دلچسپی ہے۔

’ہمارے پاس ایسے نمونے ہیں، جو مختلف زرعی تکنیکوں کے متعارف ہونے سے پہلے کے ہیں، لہٰذا وہ ہمیں کچھ بتا سکتے ہیں کہ جنگلی گندم کیسے بڑھ رہی تھی یا مصنوعی کھاد جیسی چیزوں سے پہلے کیسی تھی۔‘

Climate

،تصویر کا ذریعہBBC/TONY JOLLIFFE

اہمیت کی حامل کیا چیز ہے؟

مواد پر جائیں
بی بی سی اردو اب واٹس ایپ پر

بی بی سی اردو کی خبروں اور فیچرز کو اپنے فون پر حاصل کریں اور سب سے پہلے جانیں پاکستان اور دنیا بھر سے ان کہانیوں کے بارے میں جو آپ کے لیے معنی رکھتی ہیں

سبسکرائب کرنے کے لیے کلک کریں

مواد پر جائیں

گندم دنیا کی اہم ترین فصلوں میں سے ایک ہے۔ یہ روٹی اور پاستا سے لے کر ناشتے میں سیریل اور کیک تک بہت سی کھانوں کی اشیا میں استعمال ہوتی ہے اور یہ ہماری خوراک کا ایک لازمی حصہ ہے۔

یوکرین کی جنگ، جہاں بہت زیادہ اناج اگایا جاتا ہے، نے عالمی رسد کو خطرے میں ڈال دیا ہے۔

لیکن یہ واحد مسئلہ نہیں ہے: آب و ہوا کی تبدیلی، اور اس کی وجہ سے شدید موسم کا اثر ہو رہا ہے۔ سائنسدانوں کا اندازہ ہے کہ عالمی درجہ حرارت میں ایک ڈگری سینٹی گریڈ کا اضافہ دنیا بھر میں پیدا ہونے والی گندم کی موجودہ مقدار میں 6.4 فیصد تک کمی کا باعث بن سکتا ہے۔

کیڑے اور بیماریاں بھی بڑے چیلنجز کا باعث بن رہی ہیں، جو ہر سال متوقع سالانہ پیداوار میں تقریباً پانچواں حصہ کمی کا باعث بن رہی ہیں۔

گندم کی جدید فصلیں مشکلات کا شکار ہیں۔ سنہ 1950 اور سنہ 1960 کی دہائیوں میں سبز انقلاب جو کسانوں کے لیے ان قسموں کی کاشت کا باعث بنا جو سب سے زیادہ اناج پیدا کرتی ہیں۔

لیکن سب سے بڑی فصل پیدا کرنے کے اس ہدف کا مطلب یہ تھا کہ دوسری اقسام کو ایک طرف رکھ دیا گیا، بشمول وہ فصلیں جو انتہاؤں کا مقابلہ کرنے کے قابل ہیں اور گندم کے تنوع کو کم کر دیا گیا۔

نیچرل ہسٹری میوزیم کے ماہر جینیات ڈاکٹر میتھیو کلارک بتاتے ہیں کہ ’ہم یہ دیکھنا چاہتے ہیں کہ آیا کچھ ایسی چیزیں ہیں جو ہم نے کھو دی ہیں، جنھیں ہم بنیادی طور پر پکڑ کر جدید اقسام میں واپس لا سکتے ہیں۔‘

اور یہ اہم ہے: آبادی کے بڑھنے کے ساتھ ساتھ دنیا کو مزید گندم کی ضرورت ہوگی۔ سنہ 2050 تک ایک اندازے کے مطابق 60 فیصد سے زیادہ ضرورت ہوگی۔ اس لیے سائنس دانوں کو گندم کی ایسی اقسام تلاش کرنے کی ضرورت ہے جو ان جگہوں پر کاشت کی جا سکتی ہیں، جہاں اسے فی الحال نہیں اگایا جا سکتا ہے۔ یہ ایسی فصل ہو جو بدلتے ہوئے ماحول میں بھی پروان چڑھ سکتی ہیں۔

ڈاکٹر کلارک کہتے ہیں کہ ’مثال کے طور پر، ان فصلوں کو دیکھ کر جو زیادہ پسماندہ علاقوں میں زندہ رہنے کے قابل تھیں، گرم اور خشک آب و ہوا والی جگہیں، جو زیادہ ترقی پذیر ممالک کو اپنی خوراک کی فراہمی میں اضافہ کرنے میں مدد کر سکتی ہیں۔

وہ بتاتے ہیں کہ یہ روایتی پودوں کی افزائش، جینیاتی تبدیلی یا جین ایڈیٹنگ کے ذریعے کیا جا سکتا ہے، یہ ایک ایسی تکنیک ہے جہاں جینز کو بہت درست طریقے سے شامل یا ہٹایا یا تبدیل کیا جا سکتا ہے۔

Wheat

،تصویر کا ذریعہBBC/TONY JOLLIFFE

یہ بھی پڑھیے

نورویچ کے جان انز سینٹر کے سائنسدان بھی گندم کے پرانے نمونوں کے ذریعے یہ امکانات تلاش کر رہے ہیں۔ ان کا آرکائیو جسے ویٹکنز لینڈریس کولیکشن کہا جاتا ہے، وہ ایک صدی پرانا ہے اور اس میں دنیا بھر سے مختلف اقسام شامل ہیں۔ یہ چار ڈگری سینٹی گریڈ پر ذخیرہ کیا جاتا ہے، لہٰذا بیج اب بھی قابل عمل ہیں، جس کا مطلب ہے کہ انھیں لگایا اور اُگایا جا سکتا ہے۔

ڈاکٹر سائمن گریفتھس، جو اس کولیکشن پر تحقیق کر رہے ہیں، اس کی وضاحت کرتے ہوئے کہتے ہیں کہ ’ہم جو کرنا چاہتے ہیں وہ ہے نئے اور مفید جینیاتی تغیرات کو تلاش کرنا۔ لہٰذا بیماری کے خلاف مزاحمت، تناؤ کے خلاف مزاحمت، پیداوار میں اضافہ، کھاد کے استعمال کی کارکردگی میں اضافہ کرنا اس میں شامل ہے۔

جان انز کی ٹیم کچھ پرانی اقسام لے رہی ہے اور جدید اقسام کے ساتھ ان کی نسل کشی کر رہی ہے، اور انھیں اس میں کچھ کامیابی بھی حاصل ہوئی ہے۔

ڈاکٹر سائمن کا کہنا ہے کہ ’گندم کی ایک بہت اہم بیماری ہے، جو کہ ایک عالمی مسئلہ ہے، جسے زرد زنگ کہا جاتا ہے، اور اس پر قابو پانا مشکل ہوتا جا رہا ہے۔‘

’پرانی گندم کے اس مجموعے کے اندر، اس بیماری کے خلاف نئی مزاحمتیں موجود ہیں، جو اس بیماری کے خلاف کھڑی ہیں، اور گندم کی پیداوار کو درپیش اس اہم خطرے کا دفاع کرنے کے لیے اسے ’بریڈرز‘ کے ذریعے تعینات کیا جا رہا ہے۔‘

سائنسدانوں کی یہ ٹیم مزید غذائیت بخش گندم کی اقسام تلاش کرنے میں بھی دلچسپی رکھتی ہے۔

ان کا کہنا ہے کہ ’گندم میں کیا ہے؟ ہم جانتے ہیں کہ ہم ریشہ کی مقدار، گندم کے معدنی مواد کو بڑھا سکتے ہیں۔ یہاں بہت زیادہ تنوع ہے جس کا جدید گندم پر انحصار کرنے والوں نے ابھی تک مکمل طور پر فائدہ نہیں اٹھایا ہے، اور ہمارا خیال ہے کہ ہم اسے ان تک پہنچا سکتے ہیں۔‘

’ہم جو گندم اگاتے ہیں اسے تبدیل کرنا پڑے گا‘۔ سائنسدانوں کو امید ہے کہ اپنے ماضی میں جھانکنا اور کھوئی ہوئی اقسام کو دوبارہ دریافت کرنا آگے بڑھنے کا بہترین طریقہ ہو سکتا ہے۔