’سہون شریف ہو یا برطانوی سفارتخانہ شیما کرمانی بہت باہمت رہی، افسوس کہ ایک بھی پاکستانی ان کے ساتھ کھڑا نہیں ہوا‘

    • مصنف, آسیہ انصر
    • عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام، اسلام آباد

’سیز فائر ناؤ، سیز فائر ناؤ‘

تقریب تھی 17 نومبر کو کراچی میں برطانوی ڈپٹی ہائی کمیشن میں کنگ چارلس سوم کی سالگرہ کی مناسبت سے اور موضوع تھا ماحولیاتی تبدیلی سے متعلق پاکستان کو درپیش خطرات کہ اسی دوران سفارتکار کی جاری تقریر کے دوران اچانک شیما کرمانی کا لگایا گیا یہ نعرہ گونجا۔

پاکستان میں گذشتہ روز سے ملک کی معروف کتھک ڈانسر اور نامور سماجی کارکن شیما کرمانی کا نام سوشل میڈیا کے ٹاپ ٹرینڈز میں ہے اور ان کے ساتھ اظہار یکجہتی کے لیے برٹش ہائی کمیشن میں لگایا ہوا نعرہ ہیش ٹیگ ’سیز فائر ناؤ‘ بھی گردش کر رہا ہے۔

اس کی وجہ یہ ہے کہ پاکستان کی پہلی خاتون کتھک ڈانسر اور معروف سماجی کارکن شیما کرمانی کو غزہ کے حق میں نعرہ لگانے پرکراچی میں قائم برطانوی ڈپٹی ہائی کمیشن میں منعقدہ ایک پروگرام سے باہر جانے کو کہا گیا۔

جبکہ برطانوی ہائی کمیشن کے ترجمان کی جانب سے کہا گیا ہے کہ ’ایک ممہان نے تقریب میں خلل ڈالنے کی کوشش کی اور جب ان کو چیخنے سے روکا گیا تو وہ تقریب سے رضاکارانہ طور پر چلی گئیں۔‘

شیما کرمانی اپنے اس نعرے کے دفاع میں کہتی ہیں کہ ’سب لوگ کھڑے ہوئے تھے اور اس وقت برطانیہ کے سفارتکاروں کی تقاریر چل رہی تھیں۔ تو میں نے تقریر کے دوران ہی ’سیز فائر ناؤ‘ کا نعرہ لگایا کیونکہ مجھے ان کی تقریر میں دلچسپی نہیں تھی کہ بلکہ ان کی توجہ اس بات پر دلانی تھی کہ آپ لوگ (فلسطین میں جاری) اس نسل کشی کی بھی تو بات کریں۔‘

’آپ تو ماحول میں خون پھیلا رہے ہیں‘

سالگرہ کی تقریب میں فسلطین کے حق میں شیما کرمانی نے یہ نعرہ کیوں بلند کیا جو متنازعہ بن گیا؟ اس حوالے سے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے شیما کرمانی نے کہا کہ فلسطین میں نسل کشی کی جا رہی ہے اور وہ فلسطین کے حق میں اپنی آواز اٹھاتی رہیں گی۔

’میں وہاں کہنا چاہ رہی تھی کہ آپ ماحولیاتی تبدیلی کی بات کیسے کر سکتے ہیں جب آپ نے جنگ کی صورت پیدا کی ہوئی ہے۔ وہاں (غزہ میں) آپ فاسفورس بھی پھینک رہے ہیں، آپ لوگوں کی جانیں لے رہے ہیں تو آپ تو کلائمیٹ میں خون پھیلا رہے ہیں۔‘

وہ کہتی ہیں کہ ’فلسطین میں جنگ بندی کے حوالے سے میں نے دو چار بار یہ نعرہ لگایا تو وہاں سادہ لباس میں موجود دو تین گارڈز آئے اور انھوں نے مجھے دھکا دے کر باہر نکالنے کی کوشش کی جس پر میں نے انھیں کہا کہ آپ مجھے ہاتھ نہیں لگائیں گے میں خود چلی جاؤں گی۔‘

تو کیا اس تقریب میں فلسطین میں جنگ بندی کی آواز بلند کرنے کا آپ نے پہلے سے سوچا ہوا تھا؟

اس سوال کے جواب میں شیما کرمانی نے کہا کہ انھیں برطانیہ کے کسی فرد واحد سے اختلاف نہیں بلکہ انھوں نے اس مقصد کے لیے آواز اٹھائی۔

’میں یہ سب پہلے سے سوچ کر نہیں گئی تھی بلکہ یہ میرا فوری ردعمل تھا کہ ہم یہاں تقریب میں ہیں اور اس کا مجھے دکھ ہوا کہ اس مسئلہ پر کوئی سنجیدہ نظر نہیں آ رہا اور کوئی بات ہی نہیں ہوئی۔‘

شیما کے مطابق وہ سمجھتی ہیں کہ فلسطین کے مسئلہ پر خاموش نہیں رہا جا سکتا۔

’جس طریقے سے ہماری آنکھوں کے سامنے ایک ’نسل کشی‘ ہو رہی ہے اس کو ہم کیسے خاموشی سے دیکھ سکتے ہیں۔ میں اس پر توجہ دلانا چاہتی تھی۔ برطانیہ کی پارلیمنٹ نے سیز فائر کے خلاف ووٹ ڈالا جبکہ ان کی عوام سیزفائر کا مطالبہ کر رہی ہے۔ جو بھی انسان دل رکھتا ہے وہ اس پر خاموش رہ ہی نہیں سکتا۔‘

دوسری جانب برطانوی ہائی کمیشن کے ترجمان نے اس معاملے پر اپنا موقف دیتے ہوئے کہا ہے کہ ’ایک اہم دن کے موقع پر ماحولیاتی تبدیلی جیسے اہم موضوع پر بات چیت می خلل ڈالنے پر شیماکرمانی کو روکا گیا تھا، تاہم وہ چلی گئیں اور بعد میں معذرت بھی کی۔‘

بی بی سی کو دیے گئے موقف میں برطانوی ہائی کمیشن کے ترجمان نے کہا کہ ’ہمیں افسوس ہے کہ ایک مہمان کی وجہ سے برطانوی ڈپٹی ہائی کمشنر کی پاکستان میں ماحولیاتی تبدیلی کے بارے میں ایک اہم تقریر کو روکنا پڑا۔‘

بیان کے مطابق ’معزز مہمانوں کی تقریر کے دوران ایک مہمان کو اس وقت چیخنے سے منع کیا گیا جب وہ پروگرام میں خلل ڈال رہی تھیں ۔ ہم نے انھیں اس عمل سے روکا تاہم اس کے بجائے وہ رضاکارانہ طور پر وہاں سے چلی گئیں۔‘

ترجمان کے مطابق ’بعد میں انھوں نے ہائی کمیشن کے عملے سے معذرت کی ہے۔‘​

’سیز فائر ناؤ‘ شیما کرمانی نے تاریخ میں نام لکھوا لیا

شیما کرمانی کی جانب سے فلسطین کی جنگ بندی کے نعرے کے ساتھ ہی پاکستان کے سوشل میڈیا پر شیما کرمانی کی حمایت اور ’سیز فائرناؤ‘ گردش کر رہا ہے وہیں کئی صارفین اس حوالے سے تقریب میں موجود دیگر شرکا کی مبینہ خاموشی کو بھی تنقید کا نشانہ بنا رہے ہیں۔

عورت مارچ نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر شیما کرمانی کے فلسطین کی لیے آواز اٹھانے کے حق کی حمایت کی اور کہا کہ ’ہمیں لیجنڈ پاکستانی فیمینسٹ آرٹسٹ شیما کرمانی پر بہت فخر ہے۔ شیما کرمانی کو برطانوی ڈپٹی ہائی کمیشن میں شاہ چارلس سوم کی سالگرہ سے متعلق ایک پروگرام میں فلسطین کے لیے آواز اٹھانے پر تقریب سے باہر نکال دیا گیا۔‘

عورت مارچ کی جانب سے مزید کہا گیا کہ ’حقوق نسواں کے لیے آواز اٹھانے والوں کا ساتھ اکثر ہی نہیں دیا جاتا کیونکہ لوگوں کو اس حوالے سے ڈر رہتا ہے تاہم یہی چیز اس مہم کی قدر میں اضافہ بھی کرتی ہے۔‘

عورت مارچ کے مطابق’اس تقریب میں مختلف فنکاروں، سیاست دانوں، بیوروکریٹس اور اعلیٰ عہدیداران شریک تھے لیکن کوئی بھی فلسطین کے ساتھ اظہار یکجہتی کے لیے شیما کرمانی کے ساتھ شامل نہیں ہوا تو آئیے ہم سب مل کر کہتے ہیں کہ ابھی سیز فائر (جنگ بندی) کرو۔‘

سوشل میڈیا پر صارفین کی بڑی تعداد شیما کرمانی کی جانب سے آواز بلند کرنے کو سراہتے ہوئے کہہ رہی ہے کہ انھوں نے تاریخ میں اپنا نام لکھوا لیا۔

سیف اللہ محمد نامی ایک صارف نے ایکس پر اپنے پیغام میں لکھا کہ ’شیما کرمانی نے عمل کرکے بتا دیا کہ وقت قیام سجدے نہیں کیے جاتے، ان کے دو الفاظ ’سیز فائر ناؤ‘ ہزاروں صمٌ بکمٌ شاہ پرستوں پر بھاری ہیں۔

سماجی کارکن ایمان زینب مزاری نے ایکس پر شیما کرمانی کی حمایت میں لکھا کہ ’سہون شریف ہو یا وہاں (ڈپٹی ہائی کمشنرآفس)، شیما کرمانی بہت باہمت رہی ہیں۔ افسوس کی بات ہے کہ ایک بھی پاکستانی ان کے ساتھ کھڑا نہیں ہوا۔‘

واضح رہے کہ فروری 2017 میں سندھ کے شہر سہیون میں واقع درگاہ لعل شہباز قلندر پر خود کش دھماکے کے بعد سندھ کے اہلِ ادب، دانشور اور فنکار یکجہتی کے لیے پہنچے تھے جہاں کلاسیکل رقاصہ شیما کرمانی نے درگاہ میں دھمال ڈال کر عقیدت کا اظہار کیا تھا۔

کئی صارفین شیما کرمانی کے ساتھ اظہار یکجہتی کے دوران ان کی خواتین کے حقوق کے لیے کی جانے والی کاوشوں پر بھی بات کی۔

رخشندہ ناز نامی صارف نے لکھا ’شیما کرمانی آپ نے ثابت کیا کہ حقوق نسواں کے حقیقی کارکن ہمیشہ جنگ کے خلاف کھڑے ہوتے اور امن کو فروغ دیتے ہیں۔‘