اسلام آباد میں تعلیمی اداروں کی بندش اور ’سکیورٹی تھریٹ‘ کے جعلی نوٹیفیکیشن: سکول کے مطابق ’خطرہ تھا‘ پولیس کا کہنا ’حالات پُرامن ہیں‘

،تصویر کا ذریعہGetty Images
- مصنف, شہزاد ملک
- عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام، اسلام آباد
وفاقی دارالحکومت میں قائم سرکاری اور پرائیویٹ تعلیمی اداروں کو مبینہ ’سکیورٹی تھریٹ‘ کے حوالے سے غیر یقینی صورتحال کا گذشتہ دو روز سے سامنا ہے جس کی وجہ سے ان تعلیمی اداروں میں پڑھنے والے طلبا اور طالبات کے علاوہ ان کے والدین اور خود ان تعلیمی اداروں کی انتظامیہ کے اہلکار بھی مخمصے کا شکار ہیں۔
اس ضمن میں سوشل میڈیا اور دیگر ذرائع سے پھیلنے والی افواہوں کے سدباب کے لیے منگل کی شام بھی اسلام آباد پولیس نے ایک بیان جاری کیا ہے جس میں کہا گیا کہ شہر میں سکیورٹی کی وجہ سے کوئی تعلیمی ادارہ، مارکیٹ، بنک یا کوئی نجی ادارہ بند نہیں کروایا گیا ہے۔
بیان کے مطابق ’اسلام آباد میں حالات بالکل پرامن ہیں اور معمولات زندگی رواں دواں ہیں۔‘
اس معاملے پر گذشتہ روز آئی سی سی پی او ڈاکٹر اکبر ناصر خاں کی طرف سے ویڈیو پیغام کے ذریعے وضاحت بھی جاری کی جا چکی ہے۔
پولیس کا مزید کہنا ہے کہ ’شہریوں سے گزارش ہے کہ ایسی بے بنیاد افواہوں کو پھیلانے سے گریز کریں۔‘

،تصویر کا ذریعہGetty Images
کس نے کہا کہ سکیورٹی کا خطرہ ہے؟
گذشتہ دو روز کے دوران اسلام آباد کے بیشتر سوشل میڈیا صفحات پر لوگوں نے ایسی پوسٹیں شیئر کیں جن میں دعویٰ کیا گیا کہ شہر کے سکول ’سکیورٹی تھریٹ‘ کے خطرے کے بعد بند کر دیے گئے ہیں۔ اس نوعیت کے پوسٹس کے نیچے بہت سے والدین نے سکولوں کی جانب سے انھیں بھیجے گئے میسجز بھی شیئر کیے۔
پیر کی صبح کچھ والدین کو تو سکول انتظامیہ کی جانب سے اُس وقت فون کیے گئے جب اُن کے بچے سکول میں تھے۔
والدین کو فون کر کے کہا گیا تھا کہ سکیورٹی وجوہات کی بنا پر تعلیمی ادارے بند کیے جا رہے ہیں لہٰذا وہ فوری طور پر سکول آ کر اپنے بچوں کو لے جائیں۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
بی بی سی اردو کی خبروں اور فیچرز کو اپنے فون پر حاصل کریں اور سب سے پہلے جانیں پاکستان اور دنیا بھر سے ان کہانیوں کے بارے میں جو آپ کے لیے معنی رکھتی ہیں
سبسکرائب کرنے کے لیے کلک کریں
مواد پر جائیں
چوہدری یاسر حسین جن کے بچے اسلام آباد کے ایک نجی تعلیمی ادارے میں تعلیم حاصل کرتے ہیں، نے بی بی سی کو بتایا کہ وہ بزنس کی غرض سے پیر کی صبح اسلام آباد سے باہر تھے کہ ’سکول انتظامیہ کی طرف سے ٹیلی فون آیا کہ چونکہ سکیورٹی کے خدشات ہیں اس لیے وہ سکول فوری طور پر پہنچیں اور اپنے دونوں بچوں کو لے جائیں ورنہ سکول انتظامیہ ذمہ دار نہیں ہو گی۔‘
انھوں نے کہا کہ اس کال کے بعد ان کے خود کے اوسان خطا ہو گئے اور وہ مصروفیات کو ترک کر کے واپس پہنچے اور سکول سے بچوں کو لے کر گھر آ گئے۔
انھوں نے کہا کہ جب انھوں نے سکول کی انتظامیہ سے پوچھا کہ ’کس قسم کا تھریٹ تھا تو سکول کی انتظامیہ کے پاس اس کا کوئی جواب نہیں تھا اور انھوں نے صرف اسی بات پر ہی اکتفا کیا کہ انھیں بتایا گیا تھا کہ سکیورٹی تھریٹ ہے اس لیے سکول کو بند کر دیا جائے۔‘
چوہدری یاسر حسین کا کہنا تھا کہ سکول کی انتظامیہ نے انھیں ابتدائی طور پر بتایا تھا کہ جب سکول دوبارہ کھلنے ہوں گے تو انھیں بذریعہ واٹس ایپ یا ای میل کے ذریعے آگاہ کردیا جائے گا۔ انھوں نے کہا کہ منگل کے روز بھی ان کے بچوں کی آن لائن کلاسز ہوئی ہیں۔
تاہم پیر کی رات بہت سے سکولوں نے والدین کو آگاہ کیا کہ منگل کو سکول کھلے ہوں گے اس لیے بچوں کو سکول بھیجیں۔
یاد رہے کہ اسلام آباد میں واقع انٹرنیشل اسلامک یونیورسٹی کو سکیورٹی تھریٹ کی وجہ سے 26 جنوری تک بند کر دیا گیا ہے۔ انٹرنیشنل اسلامک یونیورسٹی کے ایک ترجمان ناصر فرید نے بی بی سی کو بتایا کہ چونکہ نیشنل ڈیفنس یونیورسٹی کو بھی سکیورٹی خدشات کی وجہ سے بند کردیا گیا ہے اس لیے انٹرنیشل اسلامک یونویرسٹی کی انتظامیہ نے بھی اس کو بند کرنا مناسب سمجھا۔
جب ان سے پوچھا گیا کہ کیا انھیں اس ضمن میں ضلعی انتظامیہ یا سکیورٹی حکام کی طرف سے مطلع کیا گیا تھا تو ناصر فرید کا کہنا تھا کہ اس طرح کے معاملات میں ضلعی انتظامیہ یا متعقلہ ادارے سامنے نہیں آتے بس یونیورسٹی کی انتظامیہ تک پیغام پہنچا دیا جاتا ہے۔
قائد اعظم یونیورسٹی بھی گذشتہ دو روز سے بند ہے تاہم اس یونیورسٹی کی انتظامیہ کے ایک اہلکار کا کہنا ہے کہ سکیورٹی تھریٹ کی وجہ سے بند نہیں ہوئی بلکہ یونیورسٹی کی انتظامیہ اور طالب علموں کے درمیان کسی معاملے پر تنازع پیدا ہوا تھا جو کہ اب حل ک رلیا گیا ہے۔
قائد اعظم یونیورسٹی کی انتظامیہ کے اہلکار کا کہنا تھا کہ یونیورسٹی بدھ سے دوبارہ کھل جائے گی۔

،تصویر کا ذریعہGetty Images
آل پاکستان پرائیویٹ سکولز اینڈ کالجز ایسوسی ایشن کے صدر ملک ابرار کا کہنا ہے کہ ان کی تنظیم کی طرف سے پرائیویٹ تعلیمی اداروں کو بند کرنے کے احکامات نہیں دیے گئے تھے اور نہ ہی اس حوالے سے کوئی سرکلر جاری کیا گیا تھا۔
بی بی سی سے بات کرتے ہوئے انھوں نے کہا کہ اسلام آباد میں جن نجی تعلیمی اداروں کو کوئی سکیورٹی تھریٹ تھا انھوں نے اپنے تئیں سکول بند کیے تھے۔
انھوں نے کہا کہ نیشنل پریس کلب کے سامنے بڑی تعداد میں مظاہرین کی موجودگی کی وجہ سے پرائیویٹ سکولز کی انتظامیہ کو سکیورٹی خدشات ضرور تھے جس کا اظہار انھوں نے متعقلہ حکام سے کیا تھا۔
’امن وامان کی صورتحال کنٹرول میں ہے‘
اسلام آباد کے ڈپٹی کمشنر عرفان میمن کا کہنا ہے کہ ’ضلعی انتظامیہ کی طرف سے سرکاری اور نجی تعلیمی اداروں کی انتظامیہ کو ایسی کوئی ہدایات جاری نہیں کی گئیں جس میں کہا گیا ہو کہ سکیورٹی خدشات کی بنیاد پر تعلیمی اداروں کو بند کر دیا جائے۔‘
بی بی سی سے بات کرتے ہوئے انھوں نے کہا کہ گذشتہ روز بھی ایک جعلی لیٹر سوشل میڈیا پر جاری کیا گیا تھا جو کہ بظاہر ضلعی انتظامیہ کی طرف سے لکھا ہوا تھا اور اس جعلی لیٹر میں کہا گیا تھا کہ اسلام آباد میں سکیورٹی وجوہات کی بنا پر تمام تعلیمی ادارے اور مارکٹیں دو دن کے لیے بند رہیں گی۔
اسلام آباد پولیس کے سربراہ اکبر ناصر نے اپنے ایک ویڈیو پیغام میں کہا کہ شہر میں امن وامان کی صورت حال کنٹرول میں ہے اور پولیس کسی بھی ہنگامی صورت حال سے نمٹنے کے لیے تیار ہے۔










