آپ اس وقت اس ویب سائٹ کا ٹیکسٹ پر مبنی ورژن دیکھ رہے ہیں جو کم ڈیٹا استعمال کرتا ہے۔ مرکزی ویب سائٹ جہاں تمام تصاویر اور ویڈیوز موجود ہیں دیکھیے
حماس کے ’دھڑکتے ہوئے دل‘ میں سرنگوں کی متلاشی اسرائیلی فوج: بی بی سی نے اسرائیلی فوج کے ہمراہ الشفا ہسپتال میں کیا دیکھا؟
- مصنف, لوسی ولیمسن
- عہدہ, نمائندہ بی بی سی الشفا ہسپتال میں
ہم رات کی تاریکی میں غزہ شہر میں واقع الشفا ہسپتال کے احاطے میں رینگتے ہوئے اور اُس راستے سے داخل ہوئے جو اسرائیلی فوج کے ایک بکتر بند بلڈوزر کی مدد سے بنایا گیا تھا، اس راستے کا مقصد ہسپتال تک اسرائیلی فوج کو محفوظ رسائی فراہم کرنا تھا۔
بی بی سی اُن دو صحافتی اداروں میں سے ایک ادارہ ہے جنھیں اسرائیل کی ڈیفنس فورسز نے الشفا ہسپتال کا دورہ کروایا تاکہ دکھایا جا سکے کہ اسرائیلی فوج کو، اسرائیل کے مطابق، الشفا ہسپتال سے کیا کچھ ملا ہے۔
یہاں کسی بھی قسم کی روشنی جلانا خطرناک ہے، اس لیے ہم ہسپتال کے کمپاؤنڈ میں بھاری ہتھیاروں سے لیس اُن اسرائیلی فوجی اہلکاروں کی پیروی کرتے ہوئے آگے بڑھتے رہے جنھیں الشفا ہسپتال تک ہمیں لے جانے کے لیے بھیجا گیا تھا۔ اس راستے میں عارضی خیمے بھی موجود تھے، چند سوئے ہوئے افراد اور ملبے کا بڑا ڈھیر بھی۔
ہسپتال میں موجود ڈاکٹروں کا کہنا ہے کہ وہ گذشتہ کئی دن سے بجلی، خوراک اور پانی کے بغیر کام کر رہے ہیں۔ انھوں نے یہ بھی بتایا کہ موجودہ صورتحال کے نتیجے میں بہت سے شدید بیمار مریض، بشمول نوزائیدہ بچے، ہلاک ہو چکے ہیں۔ ہسپتال کے احاطے میں اب بھی بہت سے ایسے شہری پناہ لیے ہوئے ہیں جو غزہ میں جاری لڑائی کے باعث بے گھر ہو چکے ہیں۔
اسرائیل کا دعویٰ ہے کہ حماس غزہ میں زیر زمین سرنگوں کا نیٹ ورک چلاتی ہے جس کا کچھ حصہ الشفا ہسپتال کے نیچے بھی موجود ہے۔
اسرائیل کی سپیشل فورسز کے نقاب پوش اہلکار ہمیں ہسپتال کی عمارت کے ملبے اور ٹوٹے ہوئے شیشوں پر سے ہسپتال کے احاطے کی جانب لے جا رہے تھے جو اس بات کی علامت ہے کہ یہاں اب بھی حالات کتنے کشیدہ ہیں۔ ہم یہاں اس وقت آئے ہیں جب اسرائیل کو ہسپتال کا کنٹرول سنبھالے ہوئے ابھی ایک روز ہی ہوا تھا۔ ہماری یہاں موجودگی یہ ظاہر کرتی ہے کہ اسرائیل دنیا کو یہ بتانا چاہتا ہے کہ وہ یہاں (الشفا ہسپتال) کیوں ہیں۔
ہسپتال کے ’ایم آر آئی‘ یونٹ کی روشن راہداریوں میں، اسرائیلی فوج کے لیفٹیننٹ کرنل جوناتھن کونریکس ہمیں کلاشنکوف، گولہ بارود اور بلٹ پروف جیکٹوں کے تین ڈھیر دکھاتے ہیں اور دعویٰ کرتے ہیں کہ انھیں یہاں سے چند دستی بموں کے ساتھ ساتھ تقریباً 15 بندوقیں ملی ہیں۔
لیفٹیننٹ کرنل کونریکس ہمیں کچھ عسکری مواد پر مبنی کتابچے اور پمفلٹ بھی دکھاتے ہیں، اور ایک نقشہ بھی جو اُن کے بقول ہسپتال سے داخلے اور باہر نکلنے کے ممکنہ راستوں کی نشاندہی کرتا ہے۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
یہ سب کچھ دکھاتے ہوئے وہ ہمیں بتاتے ہیں کہ یہ سب ظاہر کرتا ہے کہ حماس غزہ کے ہسپتالوں کو فوجی مقاصد کے لیے استعمال کرتی ہے۔
وہ بتاتے ہیں کہ ’[اور] ہم نے (یہاں سے) بہت سارے کمپیوٹرز اور دیگر الیکٹرانک آلات تک رسائی حاصل کی ہے جن کا تجزیہ موجودہ صورتحال کی وضاحت کر سکتا ہے، امید ہے کہ (اسرائیلی) یرغمالیوں کے بارے میں بھی۔‘
ان کا دعویٰ ہے کہ (یہاں سے ملنے والے) لیپ ٹاپس میں ان اسرائیلی یرغمالی شہریوں کی تصاویر اور ویڈیوز موجود ہیں جنھیں اغوا کرنے کے بعد غزہ لے جایا گیا تھا۔ تاہم لیپ ٹاپ میں کیا موجود تھا یہ بی بی سی کو نہیں دکھایا گیا۔
لیفٹیننٹ کرنل کونریکس نے یہ سب دکھاتے ہوئے دعویٰ کیا کہ حماس ’چند روز پہلے تک ‘ یہاں موجود تھی۔
انھوں نے کہا کہ ’(اب) حماس یہاں نہیں ہے کیونکہ انہوں نے بھانپ لیا تھا کہ ہم (اسرائیلی فوج) یہاں آ رہے ہیں۔ شاید یہی وہ چند اشیا ہیں جنھیں وہ پیچھے چھوڑ جانے پر مجبور ہوئے ہیں۔ ہمارا اندازہ یہ ہے کہ اور بھی بہت کچھ ہے یہاں۔‘
اسرائیلی فوج کو اس ہسپتال کے دروازے تک پہنچنے کے لیے ہفتوں طویل زمینی لڑائی لڑنی پڑی ہے۔ اس ہسپتال کے گرد و نواح میں واقع گلیوں نے گذشتہ چند دنوں میں شدید ترین لڑائی دیکھی ہے۔
الشفا ہسپتال کے بی بی سی کے اس دورے کو اسرائیلی فوج سختی سے کنٹرول کر رہی تھی۔ ہمیں یہاں موجود رہنے کے لیے بہت محدود وقت دیا گیا تھا جبکہ ہمیں ہسپتال میں موجود ڈاکٹروں یا مریضوں سے بات کرنے کی اجازت نہیں تھی۔
غزہ تک کا ہمارا سفر ایک بکتر بند گاڑی میں ہوا جس کے کالے شیشے تھے جو سختی سے بند تھے۔ یہ گاڑی ان راستوں پر چلی جس کے ذریعے اسرائیل یہاں (غزہ) تک پہنچا ہے۔
فوجی گاڑی کے اندر موجود سکرینیں (جو باہر کا منظر دکھا رہیں تھی) دکھا رہی تھیں کہ کیسے گاڑی کے ساتھ ساتھ نظر آنے والی زرعی زمین آہستہ آہستہ ملبے کے ڈھیر، ٹوٹی پھوٹی عمارتوں اور تباہ شدہ گلیوں کے دھندلے خاکوں میں تبدیل ہو گئی۔
غزہ شہر کے بالکل جنوب میں، ہماری گاڑی تبدیل کر دی گئی۔
اسرائیلی فوجیوں کے چھوٹے چھوٹے گروپ ٹینکوں کی قطاروں کے ساتھ ساتھ لگائے گئے عارضی چھوٹے کیمپوں کے سامنے رات کا کھانا بناتے ہیں۔ اس دوران ایک فوجی نے کھانے کے بارے میں بات کرتے ہوئے ہمیں کہا کہ ’یہ ایک خفیہ ریسیپی ہے۔‘
اس جگہ موجود عمارتیں گرنے کے بعد عجیب و غریب شکلیں اختیار کر چکی تھیں۔ ایک دکان کے سامنے آدھ کھلا دھاتی دروازہ جھول رہا تھا۔
یہاں موجود دیوار پر ’سٹار آف ڈیوڈ‘ سرخ رنگ کے سپرے سے پینٹ کیا گیا ہے جس کے مرکز میں ’آئی ڈی ایف‘ لکھا تھا، اور اس کے اوپر الفاظ درج تھے: ’نیور اگین (پھر کبھی نہیں)۔‘
7 اکتوبر کے حملوں نے اسرائیل کی حماس کے مطابق سوچ کو بدل دیا ہے۔ اسرائیل نے حماس کی عسکری اور سیاسی طاقت کو تباہ کر کے برسوں سے جاری بے چینی کو ختم کرنے کے عزم کا متعدد مرتبہ اظہار کیا ہے۔
اور اسرائیل کی اسی سوچ کا مظہر اسرائیلی فوج کی غزہ شہر کے وسط میں واقع الشفا ہسپتال میں موجودگی ہے۔
اسرائیلی فورسز اب بھی ہسپتال کے نیچے حماس کی سرنگوں کی تلاش کر رہی ہیں جن کے بارے میں اُن کا خیال ہے کہ حماس کے جنگجو شاید کچھ یرغمالیوں کے ساتھ انھی سرنگوں کے راستے یہاں سے نکلے ہوں گے۔
الشفا ہسپتال کی عمارت اسرائیل کی غزہ کے خلاف جنگ کا محور بن چکی ہے، یہ وہ عمارت ہے جسے اسرائیل حماس کا ’دھڑکتا ہوا دل‘ یعنی کمانڈ سینٹر قرار دیتا ہے۔
اور اس تنازع سے منسلک معلومات کی سفاکانہ جنگ میں یہ اسرائیل کے لیے سچائی کا لمحہ ہے۔
تقریباً 24 گھنٹے ہسپتال کی تلاشی لینے کے بعد، اسرائیل کا کہنا ہے کہ اسے یہاں سے ہتھیار اور دیگر آلات ملے ہیں جو حماس کے جنگجوؤں اور یرغمالیوں دونوں کے بارے میں معلومات فراہم کرنے میں مدد کر سکتے ہیں۔ لیکن انھیں یہاں سے اب تک نہ تو حماس کے جنگجو اور نہ ہی یرغمالی مل سکے ہیں۔
ہم ہسپتال سے نکلے اور غزہ کی ساحلی سڑک کی طرف جانے والے وسیع راستے پر گامزن ہوئے۔ غزہ شہر پر اب ٹینکوں کا راج ہے۔ یہاں کی آسیب زدہ سنسان سڑکیں زلزلے سے شدید متاثرہ کسی علاقے کا منظر پیش کرتی ہیں، یہاں ہونے والی تباہی انتہائی شدید ہے۔
یہ واضح ہے کہ اسرائیل کو ان گلیوں کا کنٹرول حاصل کرنے کے لیے کیا کچھ کرنا پڑا ہے۔