اُتراکھنڈ کا یونیفارم سول کوڈ مسلمانوں کی زندگیوں کو کیسے متاثر کرے گا؟

    • مصنف, شکیل اختر
    • عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام, دلی

’جے شری رام‘ اور ’وندے ماترم‘ کے نعروں کی گونج کے درمیان انڈیا کی ریاست اُتراکھنڈ کی اسمبلی میں یونیفارم سول کوڈ بِل پیش کر دیا گیا ہے۔

اس مجوزہ قانون کے تحت انڈیا میں موجود تمام مذاہب سے تعلق رکھنے والے شہریوں پر شادی، طلاق، وراثت میں حقوق وغیرہ جیسے عائلی معاملات پر یکساں قانون کا نفاذ ہو گا۔

فی الحال انڈیا میں سبھی مذاہب کے یہ معاملات اپنے اپنے پرسنل لا کے تحت نمٹائے جاتے ہیں مثلاً اگر کسی مسلمان شخص کا طلاق یا وراثت سے متعلق مسئلہ ہے تو عدالتیں ان کا فیصلہ مسلم پرسنل قوانین کی بنیاد پر کرتی ہیں۔

بی جے پی کے اقتدار والی ریاست اُتراکھنڈ کے وزیر اعلی پشکر سنگھ نے کہا کہ ’يہ بِل آئین ہند کے مطابق بنایا گیا ہے جس کا مقصد سبھی انڈین شہریوں کی بلاتفریق مذہب فلاح ہے اور اس کے بارے میں کسی کو اندیشے کا شکار ہونے کی ضرورت نہیں ہے۔‘

یونیفارم سول کوڈ میں ہے کیا؟

اگر اس بل کو منظوری مل گئی تو آزاد انڈیا میں اُتراکھنڈ یونیفارم سول کوڈ نافذ کرنے والی پہلی ریاست ہو گی۔ نئے یکساں سول کوڈ بل کے تحت ریاست کے سبھی شہریوں کے لیے یکساں سول قانون کے نفاذ کی تجویز دی گئی ہے اور اس کے قانون بن جانے کی صورت میں شادی، بیاہ، طلاق، زمین، جائیداد اور موروثی حق کے معاملوں میں سبھی شہریوں کے لیے بلاتفریق مذہب یکساں قوانین کا اطلاق ہو گا۔

اس بل کو متعارف کروانے والی حکومت کا کہنا ہے کہ اس بِل کے تحت جہاں جہاں خواتین کے ساتھ حقوق کے معاملے میں تفریق برتی جا رہی تھی اسے دور کرنے کی کوشش کی گئی ہے۔

اسمبلی میں پیش کیے گئے بل میں درج تفصیلات کے مطابق مسلمانوں میں ایک بار میں تین طلاق دینے، حلالہ اور ایک ہی وقت میں ایک سے زیادہ شادیوں کو غیر قانونی قرار دیا گیا ہے۔ اس مجوزہ بل میں لڑکیوں کو وراثتی جائیداد میں برابر کا حق دینے کی تجویز پیش کی گئی ہے۔

اس نئے قانون کے تحت ہر مذہب کے افراد کو کسی بچے کو گود لینے کا قانونی حق دیا گیا ہے جبکہ لیو ان ریلیشنز (یعنی بغیر شادی کے ساتھ رہنے والوں) کو قانونی حیثیت حاصل ہو گی لیکن انھیں مقامی پولیس سٹیشن کے ساتھ خود کو رجسٹر کروانا ہو گا۔

بل کے مطابق لیو ان ریلیشنز میں موجود لڑکے اور لڑکی کی عمریں اگر 21 سال سے کم ہیں تو اُن کے والدین کو بھی قانونی طور پر اطلاع دینی ہو گی جبکہ ان کے تعلق سے پیدا ہونے والے بچے کو بھی قانونی حیثیت حاصل ہو گی۔

نئے یکساں قانون کے تحت شادی کی قانونی عمر تمام مذاہب کے پیروکاروں کے لیے 18 برس رکھی گئی ہے۔ ہر شادی کو قانونی طور پر رجسٹر کروانا لازمی ہو گا جبکہ طلاق کے معاملے میں مرد اور عورت کو برابر کے حقوق ہوں گے۔ وراثتی جائیداد سمیت زمین اور دوسری املاک میں لڑکی کو برابر کا حق حاصل ہو گا اور تقسیم کے سلسلے میں لڑکا یا لڑکی لکھنے کے بجائے ’بچہ‘ لکھا جائے گا۔

بل پیش کیے جانے سے قبل ریاستی دارلحکومت دہرہ دون میں سکیورٹی کے انتظامات سخت کر دیے گئے تھے۔

ریاست کے ایک سابق وزیر یعقوب صدیقی نے اس بل کے خلاف احتجاج میں کل اپنے حامیوں کے ساتھ اسمبلی کی طرف مارچ کرنے کی کوشش کی تھی۔ وہ اس بل کو واپس لینے کا مطالبہ کر رہے ہیں۔

ایک ٹی وی چینل پر بحث میں حصہ لیتے ہوئے ایک مذہبی رہنما ساجد رشیدی کا کہنا تھا کہ ’ہر مذہب کے الگ الگ ‏عائلی قوانین ہیں۔ سبھی مذاہب کے قوانین کو کیسے مشترک کیا جا سکتا ہے۔‘

حزب اختلاف سماج وادی پارٹی کے ایک رکن پارلیمنٹ ایس ٹی حسن نے اپنے ردعمل میں کہا کہ ’پچھتر سال سے ملک خوش اسلوبی سے چل رہا ہے۔ اس قانون کی ضرورت کیا ہے۔ اگر اس قانون میں کوئی ایسی شق جوڑی گئی ہے جو قرآن کی ہدیات کے خلاف ہے تو ہم اسے نہیں مانیں گے۔ بی جے پی کو تو سیاست کرنی ہے ۔ وہ بس ہندو مسلمان کرتے رہیں گے۔‘

انھوں نے بعض حالات میں ایک زیادہ شادی کرنے کی بھی حمایت کی۔ یکساں سول کوڈ میں ایک زیادہ شادی کو قابل سزا جرم قرار دیا گیا ہے۔

مجوزہ یکساں سول قانون کے تحت سبھی کو گود لینے کا قانونی اختیار دیا گیا ہے۔ انڈیا مین مسلم پرسنل لا قانون کے تحت قانونی طور پر گود لینے کا اختیار نہیں ہے۔ مسلم برادری میں گود لیے ہوئے بچے یا بچی کو قانونی طور پر وارث نہیں مانا جاتا۔ مجوزہ قانون کے تحت گود لیے جانے والی بچی یا بچے کو قانونی وارث قرار دیا گیا ہے۔

مسلم رہنماؤں کی جانب سے شدید مخالفت

مسلم مذہبی رہنما ابتدا سے ہی یکساں سول کوڈ کی مخالفت کرتے آئے ہیں۔ آزادی کے بعد جب آئین وضع کیا جا رہا تھا تو آئین سازوں نے پورے ملک کے شہریوں کے لیے یکساں قوانین نافذ کرنے کا ارادہ کیا تھا۔ اس وقت ہندو مہا سبھا اور مسلم رہنماؤں نے اس کی شدید مخالفت کی تھی۔آئین سازوں نے ملک کے مختلف مذاہب اور ڈائورسٹی کے پیش نظر اسے لازمی قانون کا حصہ نہ بنا کر رہنما اصولوں میں ڈال دیا تھا۔ یہ امید کی گئی تھی کہ مستقبل کی حکومتیں وقت گزرنے کے ساتھ مختلف مذاہب کے درمیان یونیفارم سول کوڈ کے حق میں رائے عامہ ہموار کر یں گی۔ بعد میں جب بھی کسی حکومت نے یونیفارم سول کوڈ لانے کی کوشش کی یا کوئی بحث چھیڑی تو مسلم پرسنل لا بورڈ اور مسلم رہنماؤں نے اس کی شدید مخالفت کی۔

حکمراں بی جے پی نے عوام سے جو تین وعدے کیے تھے ان میں یونیفارم سول کوڈ کا نفاذ بھی شامل ہے۔ مرکزی حکومت نے لا کمیشن آف انڈیا کو یونیفارم سول کوڈ وضع کرنے کی ذمےداری دی ہے۔ لا کمیشن نے اس کے لیے ماہرین کی ایک ٹیم مقرر کی ہے جو اس پر کام کر رہی ہے۔

مرکزی وزير ارجن رام میگھوال کہتے ہیں کہ ’لا کمیشن آف انڈیا یونیفارم سول کوڈ پر کام کر رہا ہے۔اور اس میں کافی پیش رفت ہوئی ہے۔‘

لیکن مرکز سے پہلے ریاست میں اس طرح کا قانون لانے کی کیا وجہ ہے۔ مسلم مذہبی رہنما اس کی مخالفت کر رہے ہیں اور اپوزیشن کانگریس نے اس کے بارے میں مبہم موقف اختیار کر رکھا ہے۔ مخالفت میں صرف مسلمان آگے آگے رہے ہیں۔ بی جے پی ایک ریاست میں اس قانون کو لا کر یہ اندازہ لگانا چاہتی ہے کہ اس کی مخالفت کس حد تک جا سکتی ہے۔

آسام اور بی جے پی کے اقتدار والی بعض دوسری ریاستوں نے اعلان کیا ہے کہ اتراکھنڈ کے سول کوڈ کو وہ اپنے یہاں بھی نافذ کریں گی۔ انتخابات سے پہلے اسے لانے کو ایک سیاسی قدم بھی تصور کیا جا رہا ہے۔ اس کی مخالفت بنیادی طور پر مسلم مذہبی رہنماؤں کی جانب سے ہو رہی ہے۔ بی جے پی اس بل کے ذریعے اپنے حامیوں کو یہ پیغام دے رہی ہے کہ اس نے مسلمانوں کے شادی بیاہ ، طلاق اور دوسرے معاملات کو قانون کی گرفت میں لے لیا ہے جس کی وہ مزاحمت کر رہے تھے۔

’خواتین کے لیے مساوی حقوق کے لیے یونیفارم سول کوڈ ضروری‘

خواتین کے حقوق کے لیے کام کرنے والی رہنما ذکیہ سومن کہتی ہیں کہ مرد اور عورت کو مساوی حقوق دینے کے لیے یونیفارم سول کوڈ بہت ضروری ہے۔

انھوں نے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے کہا کہ اس میں سنجیدگی کی کمی لگ رہی ہے۔ ’جب جنڈر یا جنسی مساوات کا سوال پورے ملک کے لیے ہے تو اسے ریاست کی سطح پر لانے کا کیا جواز ہے۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ یہ قدم پوری طرح سیاسی ہے۔‘

لیکن ذکیہ سومن کہتی ہیں کہ یونیفارم سول کوڈ سے مسلم خواتین کو یقیناً فائدہ ہو گا۔

’پولیگیمی یعنی ایک سے زیادہ بیوی، حلالہ اور تین طلاق جیسی روایات کو ہٹانا بالکل صحیح قدم ہے ۔ لیکن ہر معاملے کو سزا سے جوڑنا مناسب نہیں ہے۔ اس کی سپرٹ ایسی ہونی چاہیے کہ لوگ اس پر خود بخود عمل کریں۔‘

وہ مزید کہتی ہیں کہ یکساں سول کوڈ کا مقصد عورت اور صنفی مساوات ہے۔ اس میں سنجیدگی کی ضرورت ہے۔ مسلمانوں کی قیادت بالخصوص مذہبی رہنما اس کی مخالفت کرتے رہے ہیں۔

وہ کہتی ہیں ’عام مسلمان اس کے خلاف نہیں ہیں۔ انھیں جب اس کے بارے میں سمجھایا جاتا ہے تو عموماً کسی کو اعتراض نہیں ہوتا لیکن جب آپ یہ پراپیگنڈہ کریں گہ کہ یونیفارم سول کوڈ شریعت کے خلاف ہے ، اس سے اسلام میں دخل دیا جا رہا ہے تو لوگ یقیناً اس پراپیگنڈہ کی زد میں آ جاتے ہیں۔ یونیفارم سول کوڈ کا دور رس اثر ہو گا اور اس سے مسلمانوں کو فائدہ پہنچے گا۔‘

وہ مزید کہتی ہیں ’مسلم برادری میں مسلم پرسنل لا بورڈ اور مذہبی رہنماؤں کے ذریعے مذہب کی غلط تشریح کے سبب خواتین کے ساتھ جو ناانصافی ہو رہی ہے اس پر روک لگ جائے گی اور انھیں وہ حقوق بھی ملیں گے جو سلب کر لیا گیا تھا۔ مجھے یقین ہے کہ مسلم اس پر عمل کریں گے ۔ اس کا اندازہ اس سے لگایا جا سکتا ہے تین طلاق کے طریقے پر قانونی پابندی لگنے کے بعد اس کا چلن واقعی بہت کم ہوا ہے۔‘

سپریم کورٹ کے وکیل اور شہری حقوق کے علمبردار کالن گونزالس کہتے ہیں کہ یونیفارم سول کوڈ بی جے پی کی پالیسی کا حصہ ہے۔

وہ کہتے ہیں ’یہ جو بل وہ اسمبلی میں لائے ہیں اگر اس میں مرد اور عورت کے درمیان مساوات نہیں ہے تو لوگ اسے ہائی کورٹ میں چیلنج کریں گے۔ مثال کے طور پر زرعی زمین کے معاملے میں عورت کے ساتھ تفریق برتی جاتی ہے۔‘

ان کا کہنا ہے کہ ’اس قانون میں دیکھنا ہوگا کہ بی جے پی اسے ختم کرتی یا نہیں ۔ اس بل سے یہ معلوم ہو گا کہ بی جے پی عورت کو برابر کا حق دینے کے حق میں ہے یا نہیں۔‘