کارگل جنگ: انڈین فوج کا وہ سپاہی جو 15 گولیاں لگنے کے بعد بھی پاکستانی فوجیوں سے لڑتا رہا

    • مصنف, ریحان فضل
    • عہدہ, بی بی سی ہندی

3 جولائی 1999 کو ٹائیگر ہل پر برفباری ہو رہی تھی۔ رات کے 9:30 بجے آپریشن روم میں فون کی گھنٹی بجی۔ آپریٹر نے کہا کہ کور کمانڈر جنرل کشن پال فوری طور پر میجر جنرل مہندر پوری سے بات کرنا چاہتے ہیں۔

کچھ دیر بات کرنے کے بعد مہندر پوری نے 56 ماؤنٹین بریگیڈ کے ڈپٹی کمانڈر ایس وائی ڈیوڈ سے بات کی اور پوچھا ’پتا کرو کیا ٹی وی رپورٹر برکھا دت قریب میں موجود ہیں؟ کیا وہ ٹائیگر ہل پر فائرنگ کی لائیو کمنٹری کر رہی ہیں؟‘

مہندر پوری بتاتے ہیں ’جیسے ہی مجھے پتا چلا کہ برکھا دت ٹائیگر ہل پر ہمارے حملے کی لائیو کوریج کر رہی ہیں، میں ان کے پاس گیا اور کہا کہ اسے فوراً بند کریں۔ ہم نہیں چاہتے کہ پاکستانیوں کو اس بات کی ہوا بھی لگے۔‘

جنرل پوری نے کہا ’میں نے اس حملے کی اطلاع صرف اپنے کور کمانڈر کو دی تھی جبکہ انھوں نے آرمی چیف کو بھی اس بارے میں آگاہ نہیں کیا تھا۔ اسی لیے میں حیران تھا کہ برکھا دت اتنے حساس آپریشن کی لائیو کوریج کیسے کر رہی ہیں؟‘

انڈیا کا ٹائیگر ہل پر قبضے کا قبل از وقت اعلان

4 جولائی کو انڈین فوج کے ٹائیگر ہل پر مکمل قبضہ کرنے سے پہلے ہی اس وقت کے وزیر دفاع جارج فرنینڈس نے اعلان کر دیا تھا کہ علاقے پر انڈیا قابض ہو چکا ہے۔

تاہم ٹائیگر ہل کی چوٹی ابھی پاکستانی کنٹرول میں ہی تھی۔

اس وقت انڈین فوج کے دو سپاہی لیفٹیننٹ بلوان سنگھ اور کیپٹن سچن نمبالکر پاکستانی فوجیوں کو ٹائیگر ہل کی چوٹی سے ہٹانے کی کوشش میں مصروف تھے۔

وہ ٹائیگر ہل سے 50 میٹر کے فاصلے پر تھے جب بریگیڈ ہیڈ کوارٹر ایک پیغام پہنچا کہ ’وہاں ٹاپ پر کمی ہے۔‘

سرینگر اور ادھم پور سے ہوتے ہوئے جب یہ پیغام دلی پہنچا تو اس وقت تک اس کی زبان بدل چکی تھی۔ پیغام بدل کر کچھ ایسا ہو چکا تھا ’ہم ٹائیگر ٹاپ پر ہیں۔‘

یہ پیغام وزیر دفاع کو تب موصول ہوا جب وہ پنجاب میں ایک جلسے سے خطاب کر رہے تھے۔

پیغام کی تصدیق کیے بغیر انھوں نے اعلان کیا کہ ٹائیگر ہل اب انڈیا کے قبضے میں آ چکا ہے۔

اعلان کے بعد پاکستان کی جانب سے جوابی حملہ

جنرل مہندر پوری نے بتایا کہ جب انھوں نے کور کمانڈر جنرل کشن پال کو یہ اطلاع دی تو انھوں نے سب سے پہلی بات یہ کی کہ ’چلو فوراً جا کر شیمپین سے نہاؤ۔‘

’انھوں نے یہ خبر آرمی چیف جنرل ملک کو سنائی اور انھوں نے مجھے اس کامیابی پر مبارکباد دینے کے لیے فون کیا۔‘

لیکن کہانی ابھی باقی تھی۔ ٹائیگر ہل کی چوٹی پر اتنی کم جگہ تھی کہ وہاں صرف چند نوجوان ہی رہ سکتے تھے۔

پاکستانی فوجی اچانک سے ڈھلوان پر آئے اور انڈین فوجیوں پر حملہ کر دیا۔

اس وقت بادلوں نے چوٹی کو اس طرح ڈھانپ لیا تھا کہ انڈین فوجی پاکستانی فوجیوں کو نہیں دیکھ سکتے تھے۔

اس حملے میں چوٹی تک پہنچنے والے سات انڈین فوجی مارے گئے۔

پاکستانی بنکرز پر خوفناک بمباری

انڈیا کی جانب سے ٹائیگر ہل پر قبضہ کرنے کی پہلی کوشش مئی میں کی گئی تھی لیکن اس حملے میں انھیں بھاری نقصان اٹھانا پڑا۔

اس کے بعد فیصلہ کیا گیا کہ ٹائیگر ہل پر دوسرا حملہ اس وقت تک نہیں کیا جائے گا جب تک قریبی چوٹیوں پر قبضہ نہ کر لیا جائے۔

3 جولائی کو کیے گئے حملے سے پہلے انڈین فوجیوں نے ایک ساتھ مل کر سینکڑوں توپوں سے ٹائیگر ہل پر بمباری کی تھی۔

اس سے قبل میراج 2000 فوجی طیاروں کے ذریعے لیزر کی مدد سے ٹارگٹ ڈھونڈ کر بم گرا کے پاکستانی بنکرر تباہ کیے گئے تھے۔

اس جھڑپ سے قبل اتنی بلندی پر دنیا میں کہیں بھی ایسے ہتھیار استعمال نہیں کیے گئے تھے۔

پاکستانی فوجیوں نے بھاری پتھر پھینکنا شروع کر دیے

علاقے کا معائنہ کرنے کے بعد انڈین فوجیوں نے مشرقی ڈھلوان پر جانے کا فیصلہ کیا۔ یہ ڈھلوان تقریباً 90 ڈگری کے زاویے پر تھی۔ ایسی چڑھائی کو سر کرنا ناممکن کے برابر ہوتا ہے لیکن پاکستانیوں سے بچنے کا یہی واحد راستہ تھا۔

انڈین فوجیوں نے اپنے بیس کیمپ کو رات 8 بجے چھوڑ دیا اور مسلسل چڑھائی کرنے کے بعد اگلے دن صبح 11 بجے ٹائیگر ہل کی چوٹی پر پہنچ گئے۔

اپنی بندوقوں کو پیٹھ پر لاد کر انھوں نے کئی جگہوں پر چڑھنے کے لیے رسیوں کا سہارا لیا اور اس ڈھلوان کو پار کیا۔

سینیئر صحافی ہریندر بویجا اپنی کتاب ’سولجرز ڈائری کارگل دی انسائیڈ سٹوری‘ میں لکھتے ہیں ’ایک وقت ایسا آ گیا تھا جب ان کے لیے پاکستانی فوجیوں کی نظروں سے بچنا مشکل ہو گیا تھا۔ دو انڈین فوجی شدید زخمی ہو گئے تھے۔ جو انڈین فوجی پسپا ہو رہے تھے ان پر پاکستانی فوجیوں نے بھاری پتھر پھینکنا شروع کر دیے تھے۔‘

15 گولیاں لگنے کے باوجود لڑنے والا فوجی

5 جولائی کو گرینیڈیئرز کے دستے دوبارہ آگے بڑھے۔ پاکستانیوں نے ان پر گولیاں برسائیں اور پورے پانچ گھنٹے تک گولیاں چلتی رہیں۔

18 انڈین فوجیوں کو پسپا ہونا پڑا۔ اب وہاں صرف سات انڈین فوجی رہ گئے تھے۔

’دی بریو‘ (The Brave) کتاب کے مصنف بشت راوت کہتے ہیں کہ ’11:30 بجے کے قریب 10 پاکستانی سپاہی یہ دیکھنے کے لیے نیچے اترے کہ آیا انڈین فوجی زندہ ہیں یا نہیں۔ اس وقت ہر انڈین فوجی کے پاس صرف 45 گولے بچے تھے۔ جیسے ہی وہ انڈین فوجیوں کے قریب پہنچے تو سات انڈین فوجیوں نے ان پر فائرنگ شروع کر دی۔‘

ان میں بلند شہر سے تعلق رکھنے والے 19 سالہ یوگیندر سنگھ یادو بھی تھے۔

یوگیندر سنگھ یادو نے بتایا کہ ’ہم نے پاکستانیوں پر قریب سے فائرنگ کی اور ان میں سے آٹھ کو گرا دیا تاہم ان میں سے دو فرار ہونے میں کامیاب ہو گئے۔‘

’انھوں نے اوپر جا کر اپنے ساتھیوں کو بتایا کہ یہاں ہم میں سے صرف سات انڈین فوجی باقی ہیں۔‘

یہ بھی پڑھیے

’لاشوں پر بھی گولیاں چلائی گئیں‘

یوگیندر سنگھ نے مزید بتایا ’کچھ ہی دیر میں 35 پاکستانیوں نے ہم پر حملہ کیا اور ہمیں چاروں طرف سے گھیر لیا۔ میرے چھ ساتھی مارے گئے۔ میں انڈین اور پاکستانی فوجیوں کی لاشوں کے درمیان پڑا تھا۔ پاکستانیوں نے تمام انڈین فوجیوں کو مارنے کا ارادہ کیا ہوا تھا۔ اسی لیے وہ لاشوں پر بھی گولیاں چلا رہے تھے۔‘

’میں آنکھیں بند کر کے اپنی موت کا انتظار کرنے لگا۔ میری ٹانگ، بازو اور جسم کے دیگر حصوں میں تقریباً 15 گولیاں لگی تھیں لیکن میں پھر بھی زندہ بچ گیا۔‘

اس کے بعد جو ہوا وہ کسی فلمی سین سے کم نہیں تھا۔

یوگیندر سنگھ بتاتے ہیں ’پاکستانی فوجیوں نے ہمارے تمام ہتھیار جمع کر لیے تھے لیکن انھیں میری جیب میں پڑا دستی بم نہیں ملا تھا۔ میں نے اپنی پوری جان لگا کر وہ گرینیڈ نکالا اور اس کی سوئی ہٹا کر آگے بڑھتے ہوئے پاکستانی فوجیوں کی جانب پھینک دیا۔‘

’بم ایک پاکستانی فوجی کے ہیلمٹ پر گرا اور پھٹ گیا۔ پھر میں نے ایک پاکستانی فوجی کی لاش کے پاس پڑی رائفل اٹھائی اور گولیاں چلائیں۔ میری فائرنگ سے پانچ پاکستانی فوجی مارے گئے تھے۔‘

’ندی میں چھلانگ لگا دی‘

اسی وقت یوگیندر سنگھ نے پاکستانی وائرلیس پر بات چیت سنی کہ پاکستانی فوجی ٹائیگر ہل سے پیچھے ہٹ جائیں اور 500 میٹر نیچے انڈین بیس پر حملہ کریں۔

اس وقت تک یوگیندر کا بہت زیادہ خون بہہ چکا تھا اور انھیں ہوش میں رہنے میں مُشکل ہو رہی تھی۔

پاس ہی ایک ندی بہہ رہی تھی۔ یوگیندر اسی حالت میں اس ندی میں کود گئے۔ پانچ منٹ میں یوگیندر 400 میٹر کا فاصلہ طے کر کے نیچے پہنچ گئے۔

وہاں انڈین فوجیوں نے انھیں ندی سے باہر نکالا۔ اس وقت تک یادو کا کافی خون بہہ چکا تھا لیکن جب ان کے کمانڈنگ افسر خوشحال سنگھ چوہان نے ان سے پوچھا کہ کیا یوگیندر انھیں پہچانتے ہیں تو یوگیندر نے تڑپتی ہوئی آواز میں جواب دیا کہ ’سر میں آپ کی آواز پہچانتا ہوں۔ جے ہند سر۔‘

یوگیندر نے خوشحال سنگھ چوہان کو بتایا کہ پاکستانی فوجیوں نے ٹائیگر ہل چھوڑ دیا ہے اور وہ اب انڈیں بیس پر حملہ کرنے آ رہے ہیں۔

اس کے بعد یوگیندر بے ہوش ہو گئے۔

کچھ دیر بعد جب پاکستانی فوجیوں نے وہاں حملہ کیا تو ان کا سامنا کرنے کے لیے انڈیں فوجیوں کے دستے پہلے سے تیار تھے۔

یوگیندر کو ان کی غیر معمولی بہادری کے لیے انڈین حکومت کی جانب سے ملک کے سب سے اہم ’پرم ویر چکر‘ نامی بہادری کے اعزاز سے نوازا گیا۔

انڈین فوج کی عزت کا سوال اور پرچم کشائی

نیچے ریڈیو پر پیغامات کی بھرمار ہو گئی تھی۔ ٹائیگر ہل پر انڈیا کی فتح کے اعلان کی خبر بریگیڈ ہیڈ کوارٹرز تک پہنچ چکی تھی۔

بریگیڈ کمانڈرز جلد از جلد کسی بھی قیمت پر ٹائیگر ہل کی چوٹی پر انڈین پرچم لہرانا چاہتے تھے۔

یہ انڈین فوج کی عزّت کا سوال تھا کیونکہ دنیا کو پہلے ہی بتا دیا گیا تھا کہ ٹائیگر ہل انڈیا کے قبضے میں آ چکا ہے تاہم جب تک انڈیا کا پرچم وہاں نصب نہیں ہوتا تب تک انڈیا کی جیت یقینی نہیں ہوتی۔

اس دوران انڈیا کے 18 گرینیڈیئرز چوٹی کے نزدیک پہنچ گئے تھے جس کی وجہ سے پاکستانی فوجیوں کو اپنی سرزمین کے دفاع کے لیے کئی حصوں میں تقسیم ہونا پڑا۔

ہریندر بویجا اپنی کتاب میں لکھتے ہیں ’انڈین فوجی اس موقع کا انتظار کر رہے تھے۔ اس بار 23 سالہ کیپٹن سچن نمبالکر کی قیادت میں انڈین فوج نے اپنا تیسرا حملہ کیا۔ پاکستانی اتنی جلدی جوابی حملے کی توقع نہیں کر رہے تھے۔‘

’سچن نمبالکر راستوں کو بخوبی جانتے تھے کیونکہ وہ پہلے بھی دو بار اس ڈھلوان پر چڑھ چکے تھے۔ ان کے سپاہی بغیر آواز پیدا کیے ٹائیگر ہل کی چوٹی پر پہنچ گئے اور چند ہی منٹوں میں انھوں نے ٹائیگر ہل پر آٹھ پاکستانی بنکروں میں سے ایک پر قبضہ کر لیا۔‘

یہاں سے پاکستانی فوج کے ساتھ آمنے سامنے جنگ شروع ہوئی۔

اب پاکستانی فوجیوں کو اونچائی پر ہونے کا کوئی فائدہ نہیں تھا۔ رات کے ڈیڑھ بجے تک ٹائیگر ہل کی چوٹی انڈین فوجیوں کے قبضے میں آ چکی تھی تاہم ٹائیگر ہل کے دیگر حصے ابھی بھی پاکستانی فوجیوں کے قبضے میں تھے۔

کامیابی کی قیمت

اسی وقت انڈین فوجیوں نے نیچے لڑنے والے اپنے ساتھیوں کی خوشی کی آوازیں سنی۔ شاید انڈیا کی جیت کا ریڈیو پیغام ان تک پہنچ گیا تھا۔

اب انڈین فوج کی فکر ختم ہو گئی تھی کہ کہیں وزیر دفاع کو دنیا کے سامنے شرمندہ نہ ہونا پڑے۔

انڈین فوجی تھک گئے تھے اور لیفٹیننٹ بلوان صدمے میں تھے کیونکہ جب انھوں نے ٹائیگر ہل پر حملہ کیا تھا تو اس وقت ان کے ساتھ 20 فوجی تھے اور اب صرف 2 جوان زندہ رہ گئے تھے۔

باقی فوجی یا تو شدید زخمی تھے یا ہلاک ہو گئے۔

کچھ لوگوں نے اس اسلحے کے ذخیرے کا جائزہ لینا شروع کر دیا تھا جو پاکستانی وہاں چھوڑ گئے تھے۔

اسلحے کا یہ ذخیرہ دیکھ کر لیفٹننٹ بلوان کی روح کانپ اٹھی۔ اسلحہ اتنا زیادہ تھا کہ پاکستانی بغیر رسد کے ہفتوں تک وہاں لڑ سکتے تھے۔

جنگ بندی

ٹائیگر ہل پر حملے سے دو روز قبل انڈین فوجیوں نے پاکستانی فوج کے ایک سپاہی کو زندہ پکڑ لیا تھا۔ ان کا نام محمد اشرف تھا اور وہ بری طرح زخمی تھے۔

بریگیڈیئر ایم پی ایس باجوہ بتاتے ہیں ’میں نے اپنے جوانوں سے کہا کہ وہ اسے میرے پاس بھیج دیں۔ میں ان سے بات کرنا چاہتا ہوں۔ جب انھیں میرے پاس لایا گیا تو میں نے اپنی وردی پہن رکھی تھی۔ وہ بالکل میرے سامنے تھے اور ان کی آنکھوں پر پٹی باندھی گئی تھی۔ میرے پاس آنے کے بعد انھوں نے رونا شروع کر دیا۔‘

’میں یہ دیکھ کر بہت حیران ہوا اور میں نے ان سے پنجابی میں پوچھا کہ ’آپ کیوں رو رہے ہیں؟‘ تو انھوں نے جواب دیا ’میں نے زندگی میں کبھی کمانڈر کو نہیں دیکھا۔ وہ ہمارے پاس کبھی نہیں آتے۔ یہ میرے لیے اعزاز کی بات ہے کہ آپ اتنے بڑے افسر ہیں اور آپ مجھ سے میری زبان میں بات کر رہے ہیں۔‘

’لاشوں کو باعزت طریقے سے دفنایا گیا‘

جب پہاڑوں میں جنگ ہوتی ہے تو مرنے والوں کی تعداد بہت زیادہ ہوتی ہے کیونکہ گولی لگنے سے زخمی ہوئے فوجیوں کو نیچے لانے میں کافی وقت لگتا ہے۔ تب تک بہت زیادہ خون بہہ چکا ہوتا ہے۔

ٹائیگر ہل پر پاکستانی فوج کے بھی کئی جوان مارے گئے تھے۔ جنرل مہندر پوری نے ایک بیان میں کہا تھا کہ ’بہت سے پاکستانی فوجیوں کو انڈین علما کی موجودگی میں اسلامی رسومات کے مطابق سپرد خاک کیا گیا۔‘

شروع میں پاکستانی فوج اپنے جوانوں کی لاشیں قبول نہیں کر رہی تھی۔ ان کا کہنا تھا کہ ان لوگوں کا پاکستانی فوج سے کوئی تعلق نہیں تاہم بعد میں اپنی لاشیں واپس لینے پر راضی ہوگئے تھے۔

بریگیڈیئر باجوہ بتاتے ہیں ’ٹائیگر ہل پر فتح کے چند دن بعد مجھے پاکستان سے ایک ریڈیو پیغام موصول ہوا کہ ہم چاہتے ہیں کہ آپ ہمارے مقتول ساتھیوں کی لاشیں واپس کر دیں۔‘

بریگیڈیئر باجوہ نے پوچھا کہ وہ بدلے میں کیا کر سکتے ہیں؟ تو جواب آیا کہ ہم واپس چلے جائیں گے اور آپ کو ہمیں ہٹانے کے لیے حملہ نہیں کرنا پڑے گا۔

باجوہ بتاتے ہیں کہ ’ہم نے میدان جنگ میں ان کی لاشوں کو بڑے اعزاز کے ساتھ پاکستانی پرچم میں لپیٹ دیا تھا۔ میں نے یہ شرط رکھی تھی کہ آپ لاشیں اٹھانے کے لیے اپنے سٹریچرز خود لائیں گے۔ ہم نے ان کی لاشیں پورے فوجی اعزاز کے ساتھ واپس کر دیں۔‘

’یہ پورا عمل فلمایا گیا تھا جو آج بھی یوٹیوب پر دیکھا جا سکتا ہے۔‘