آپ اس وقت اس ویب سائٹ کا ٹیکسٹ پر مبنی ورژن دیکھ رہے ہیں جو کم ڈیٹا استعمال کرتا ہے۔ مرکزی ویب سائٹ جہاں تمام تصاویر اور ویڈیوز موجود ہیں دیکھیے
فٹبال سٹیڈیمز کے علاوہ قطر کے وہ قابل دید مقامات، جو سیاحوں کو اپنی جانب کھینچتے ہیں
- مصنف, مرزا اے بی بیگ
- عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام
قطر کے درالحکومت دوحہ کے چپے چپے پر آپ کو حکومت کی جانب سے تعینات رضا کار نظر آئیں گے جو قطار میں کھڑے آپ کو سٹیڈیم کا راستہ دکھا رہے ہوں گے اور میٹرو سٹیشن پر تو یہ ایک الگ ہی منظر پیش کرتے ہیں جہاں وہ میگا فون اور بڑے سے ہاتھ کے نشان سے راستہ بتا رہے ہوتے ہیں۔
یہاں تک کہ دنیا بھر سے آئے فٹبال کے شائقین بھی ان کے ہمنوا بن جاتے ہیں اور ان کے ساتھ ہر ایک یہی کہتا نظر آتا ہے لوسیل، دس وے؛ لوسیل، دس وے، یعنی لوسیل سٹیڈیم جانے کا راستہ ادھر سے ہے۔
اسی طرح ہر دن الگ الگ سٹیڈیم کی مناسبت سے میٹرو سٹیشنز پر یہی نعرہ سننے کو ملتا ہے۔
گذشتہ ایک ماہ سے قطر میں فٹبال کا خمار اپنے نقطۂ عروج پر پہنچا ہوا ہے لیکن مجھے فائنلز سے قبل ہی واپس انڈیا آنا پڑا۔
واپسی پر جہاز میں بھرت نام کے ایک شخص سے ملاقات ہوئی جن کے پاس فائنل کا ٹکٹ تھا لیکن وہ بھی کسی کام سے واپس جا رہے تھے۔
جب انھیں پتا چلا کہ میرا وہاں دو ہفتے قیام رہا تو ان کی دلچسپی بڑھی اور انھوں نے پوچھ لیا کہ آپ کو قطر میں کون سی جگہیں سب سے زیادہ پسند آئیں۔
پورے قیام کے دوران اس جانب میرا خیال بھی نہیں گزرا تھا، بہرحال میں نے بھرت کے سوال کے جواب میں سوچنا شروع کیا تو کئی مقام ذہن آئے۔
اسی دوران میں نے ان سے پوچھ لیا کہ آپ کو کون سی جگہ سب سے زیادہ پسند آئی تو انھوں نے فوراً ’سوق واقف‘ کا نام لیا۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
تو آئیے آپ کو سوق واقف کے ساتھ قطر کے دارالحکومت دوحہ کے چند مقامات کی سیر کراتے ہیں۔
سوق واقف
سوق عربی زبان میں ’بازار‘ کو کہتے ہیں۔ سوق واقف ایک زمانے سے قطر والوں کی زندگی کا اہم حصہ رہا ہے۔ یہ دوحہ کے وسط میں قائم ہے جہاں سے آپ چہل قدمی کرتے ہوئے کورنیش نکل سکتے ہیں جو کہ ورلڈ کپ کے دوران ایک اہم سیرگاہ ہے۔
اس کی تعمیر از سر نو ہوئی ہے اور موجودہ بازار اس جگہ پر واقع ہے جہاں دارالحکومت کی پرانی اور صد سالہ تجارتی منڈی واقع تھی۔
فٹبال ورلڈ کپ سے قبل پورے دوحہ کو نیا دوحہ بنا دیا گیا۔ جہاں پرانے ایئرپورٹ کی جگہ نیا حماد ایئرپورٹ بھی وجود میں آ گیا۔
جب میں پہلی بار وہاں پہنچا تو سوق واقف کے اندر داخلہ بند کر دیا گیا تھا کیونکہ مراکش نے اپنا پہلا ميچ جیت لیا تھا اور پھر پورے سوق واقف میں جشن جاری تھا۔
لوگوں کی تعداد وہاں کی استطاعت سے کہیں زیادہ تھی اس لیے داخلہ بند کر دیا گیا تھا۔
ورلڈ کپ سے قبل بھی لوگ بڑی تعداد میں يہاں آتے ہیں۔ چوکوں اور بازاروں کے اس کمپلیکس سے لطف اندوز ہونے کا بہترین مشورہ یہ دیا جاتا ہے کہ یہاں کی گلیوں کی بھول بھلیوں میں آپ گم ہو جائیں۔
یہاں آپ کو عرب دنیا کے ہر قسم کے عجائبات کا سامنا ہوگا۔ چولھوں پر قدیم عربی کھانے بناتی ہوئی خواتین، عطر اور خوشبو کی دکانیں، ملبوسات اور نایاب تحفے تحائف کی دکانیں۔ اس کے علاوہ پرندے باز کا ہسپتال بھی نظر آتا ہے۔
خیال رہے کہ باز پالنے کا شوق پورے خطہ عرب میں پایا جاتا ہے اور قطر میں اس کی پرورش کا غالب رجحان پایا جاتا ہے۔ یہاں تک کہ یہ قومی تفریح کا حصہ سمجھا جاتا ہے۔
سوق واقف میں آپ کو دو منزلہ عمارتیں نظر آئیں گی لیکن اس کی ایک ہی منزل آباد اور اوپری منزل محض سجاوٹی حیثیت رکھتی ہے۔
یہاں آپ پیدل ہی چل سکتے ہیں جبکہ کھانے کے لیے مختلف ذائقے آپ کو اپنی جانب متوجہ کرتے ہیں۔ لبنانی کھانا ہو کہ ترکی، انڈین، پاکستانی اور افغانی کھانے بھی آپ کو نظر آئیں گے۔
آپ کو جگہ جگہ لوگ چائے، قہوہ، حقہ یا شیشہ پیتے نظر آئیں گے اور پورا بازار ورلڈ کپ میں شامل ممالک کے پرچموں سے بھرا دکھائی دیتا ہے۔
آپ کو اس کے دونوں جانب بڑی مساجد نظر آئیں گی جبکہ فٹبال کی مناسبت سے فیفا کے ترانوں کی دھن بھی سننے کو ملتی ہے۔
کورنیش
فٹبال ورلڈ کپ کے دوران کورنیش میٹرو سٹیشن پر آپ اتر تو سکتے ہیں لیکن آپ وہاں سے کہیں اور جانے کے لیے میٹرو نہیں لے سکتے اور ایسا مسافروں کی تعداد کے مدنظر کیا گیا ہے۔
کورنیش خلیج دوحہ پر سات کلومٹر کا ایک تین چوتھائی بڑا دائرہ بناتا ہے اور یہاں سے سوق واقف سمیت کئی اہم مقامات تک پیدل جایا جا سکتا ہے جن میں نیشنل میوزیم اور میوزیم آف اسلامی آرٹ کے ساتھ دوسرے مقامات بھی ہیں۔
یہاں باکس پارک (کنٹینرز سے بنا ہوا پارک) بھی ہے اور اس دائرہ نما کھلے حصے میں سمندر کی ٹھنڈی ٹھنڈی ہوا آپ کو محسور کرتی ہے جبکہ رات کو نو بجے فٹبال ورلڈ کپ کی مناسبت سے لیزر اور آتش بازی کے مناظر پیش کیے جاتے ہیں۔
یہ بھی پڑھیے
یہ ایک ایسی جگہ ہے جو لوگوں کو کسی مقناطیس کی طرح اپنی جانب غروب آفتاب کے بعد کھینچتی ہے۔
یہاں جگہ جگہ کھانے پینے کی سٹال لگے ہیں اور صاف شفاف عارضی ٹوائلٹ بھی موجود ہیں تاکہ آپ زیادہ سے زیادہ دیر تک وہاں ٹھہر سکیں لیکن پھر آپ کو کسی دوسرے مقام پر جانے کے لیے پیدل کسی دوسرے میٹرو سٹیشن تک جانا ہوگا۔ وہاں سے قریب ترین میٹرو سٹیشن 10-12 منٹ پیدل کی دوری پر ویسٹ بے یا خلیج مغرب ہے۔
عموما آپ یہاں مقامی باشندوں کو اپنی فیملی کے ساتھ دیکھیں گے۔ وہاں لگی بڑی سکرین پر ہم نے پہلا میچ دیکھا جس میں قطری ٹیم کو شکست ہوئی اور ورلڈ کپ کی تاریخ میں پہلی بار ایسا ہوا کہ کوئی میزبان ٹیم اپنا پہلا مقابلہ ہار گئی ہو۔
یہاں آپ کو انتہائی فلک بوس عمارتوں کا ایک جھرمٹ نظر آئے گا اور مختلف عمارتوں پر مشہور فٹبالرز کے ایل ای ڈی ڈسپلے نظر آئیں گے۔
ان میں سے ایک فلک بوس عمارت پر معروف زمانہ فٹبالر پیلے کی بھی تصویر نظر آتی ہے۔ قطر آئل کی عمارت بھی یہاں آپ کو نظر آتی ہے۔
کورنیش کا علاقہ روایتی طور پر قومی کھیلوں یا دیگر بڑی تقریبات کا مرکز بھی رہا ہے۔
نیشنل میوزیم
یوں تو قطر میں میٹرو، بس ٹرام سب ’ھیا کارڈ‘ والوں کے لیے مفت ہے لیکن نیشنل میوزیم جانے کے لیے ٹکٹ لگتا ہے۔
نیشنل میوزیم کے اندر جانے کے لیے 100 قطری ریال یعنی تقریبا دو ہزار انڈین روپے کا ٹکٹ ملتا ہے۔ بعد میں پتا چلا کہ وہاں بھی ’ھیا کارڈ‘ والوں کے لیے داخلہ مفت کر دیا گیا لیکن میں اس کی تصدیق نہ کر سکا۔
اگر یہ کہا جائے کہ دوحہ فٹبال ورلڈ کپ کے لیے از سر نو تعمیر ہوا تو غلط نہ ہوگا۔ یہاں ڈیزائنر عمارتوں کی کمی نہیں اور نیشنل میوزیم ان میں سب سے منفرد ہے۔
اسے ایوارڈ یافتہ فرانسیسی معمار ژاں نوویل نے ڈیزائن کیا ہے۔ یہ شیخ عبداللہ بن جاسم الثانی کے محل کے پاس بنایا گیا ہے۔
اس کے اندر قطر کی تاریخ کے ساتھ اس کے خغرافیے کو بھی پیش کیا گیا ہے۔ زندگی کے مختلف شعبوں کو زمانے کے ساتھ بتدریج تبدیل ہوتے ہوئے دکھایا گیا ہے۔
اس میوزیم میں خانہ بدوشوں، چرواہوں، ماہی گیروں اور موتی جمع کرنے والوں کے ساتھ ساتھ 20ویں صدی کے دوسرے نصف میں تیل اور گیس کے ذخائر دریافت کرنے کے بعد قطر کی تیز رفتار جدید کاری اور توسیع کو پیش کیا گيا ہے۔
کتارا
لوسیل سٹیڈیم جانے کے راستے میں دو سٹیشن قبل ’کتارا‘ ایک اہم مرکز ہے جہاں خلیج دوحہ کے ساحل پر پرانے قطر، جھونپڑیوں اور پرانے طرز زندگی کو از سر نو اسی پرانی ہیت میں تیار کیا گیا ہے۔ اس میں مسجد کا احاطہ ریت پر کھجور کی ڈالیوں اور پتوں سے بنایا گیا ہے۔
اس کے ساتھ ہی جدید کتارا کی گلیاں ہیں جس کے گرد مختلف قسم کے مکانات اور دکانیں ہیں وہاں قطر ٹی وی کے باکس بنے ہیں جبکہ دونوں سروں پر دو بڑی بڑی ایل ای ڈی سکرین لگی ہیں جن پر فٹبال میچ دکھایا جاتا ہے۔
سعودی عرب اور ارجنٹائن کا میچ ہم نے وہیں سینکڑوں مداحوں کے درمیان دیکھا اور سعودی عرب کی غیر متوقع جیت کے بعد لوگوں کا جوش و خروش ناقابل بیان تھا۔
یہاں رومن طرز کا ایک تھیٹر بنا ہوا ہے جہاں مختلف قسم کے ڈرامے پیش کیے جاتے ہیں۔
یہ علاقہ دن تین بجے کے بعد ہی کھلتا ہے اور دیر رات تک آباد رہتا ہے۔
دنیا بھر کے اہم برانڈز کی دکانیں یہاں نظر آتی ہیں جبکہ اس کے وسط میں میوزیکل فاؤنٹین ہے جو لوگوں کی توجہ کا مرکز رہتا ہے۔
اس کے ساتھ ایک مصنوعی پہاڑی تیار کی گئی ہے جہاں ایک مقامی شخص کے مطابق ورلڈ کپ کے شروع ہونے کے دن تک کام جاری تھا۔
اس کے علاوہ بھی بہت سے قابل دید مقامات ہیں جن میں نیشنل لائبریری، بولیفارد اور قطر کے مختلف مالز، پرل قطر کا علاقہ، وکرہ ساحل، سی لائن بیچ، مشیرب ڈاؤن ٹاؤن، میوزیم آف اسلامک آرٹ وغیرہ شامل ہیں، جن کی جھلک کبھی پھر پیش کی جائے گی۔