کیا حماس غزہ کی جنگ میں اپنا وجود قائم رکھ پائے گی؟

    • مصنف, حنان راذق اور اینڈریو ویب
    • عہدہ, بی بی سی نیوز

اسرائیلی وزیر اعظم بنیامن نتن یاہو نے کہا ہے کہ وہ پورے غزہ کا کنٹرول حاصل کرنے کا ارادہ رکھتے ہیں لیکن ان کا کہنا ہے کہ وہ اسے 'اپنے پاس رکھنا نہیں چاہتے۔'

تو غزہ میں حماس کا مستقبل کیا ہوگا اور وہاں کے حالات کیسے ہوں گے؟

نتن یاہو کے بیان سے چند روز قبل مسلح گروپ نے اس بات کا اعلان کیا تھا کہ وہ اس وقت تک ہتھیار نہیں ڈالیں گے کہ جب تک ایک خودمختار فلسطینی ریاست قائم نہیں ہو جاتی۔ واضح رہے کہ حماس ایسا غزہ میں جنگ بندی کے بارے میں بات چیت میں اسرائیل اور امریکہ کے اہم مطالبات میں سے ایک کا جواب دیتے ہوئے کہا گیا ہے۔

اسرائیل حماس کے ہتھیار ڈالنے کو تنازع کے خاتمے کے لیے کسی بھی معاہدے کی کئی اہم شرائط میں سے ایک سمجھتا ہے۔

گزشتہ ہفتے نیویارک میں سعودی عرب اور فرانس کی مشترکہ صدارت میں ہونے والی اقوام متحدہ کی ایک بین الاقوامی کانفرنس میں 17 ممالک، یورپی یونین اور عرب لیگ نے ایک اعلان کیا تھا۔

اس میں حماس سے مطالبہ کیا گیا ہے کہ وہ جنگ کے خاتمے کے لیے غزہ کو غیر مسلح کرے اور اس کا کنٹرول چھوڑ دے۔

مصر اور قطر جو عام طور پر غزہ کے معاملے پر مذاکرات میں ثالثی کرتے رہے ہیں نے اعلامیے میں اپنے نام شامل کیے۔ تاہم اسرائیل اور امریکہ نے اس پر دستخط نہیں کیے تھے۔

حماس کا جنگ جاری رکھنے کا اعلان

حماس کے ایک رہنما نے الجزیرہ کو بتایا کہ ان کا گروپ ’غیر مسلح نہیں ہوگا۔‘

ان کے بیان میں اس بات کا اعادہ کیا گیا ہے کہ جب تک فلسطینی ریاست قائم نہیں ہو جاتی گروپ اپنی مسلح جنگ جاری رکھے گا اور وہ اس کے لیے تیار ہیں۔

غزہ کی الامت یونیورسٹی میں فلسطینی سیاست کے پروفیسر حسام الدجانی کا ماننا ہے کہ کانفرنس کے بعد نیویارک اعلامیے کے آرٹیکل 11 پر میڈیا کی بہت زیادہ توجہ ہے۔

کانفرنس سے جاری ہونے والے باضابطہ اعلامیے میں آرٹیکل 11 کا حوالہ دیتے ہوئے کہا گیا ہے کہ ’تمام فلسطینی علاقوں میں حکمرانی، قانون نافذ کرنے والے اداروں اور سلامتی مکمل طور پر فلسطینی اتھارٹی کے پاس ہونی چاہیے۔‘

الدجانی نے نشاندہی کی کہ دستاویز کے دیگر 41 آرٹیکلز میں سے کچھ فلسطینی ریاست کے قیام اور اسرائیل کے ساتھ اس کی باہمی بقا کا مطالبہ کرتے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ ’اس کا مطلب یہ ہے کہ اعلامیے میں متعدد ایسے طریقوں کا ذکر کیا گیا ہے جو فلسطینی ریاست کی تشکیل کریں گے۔‘

الدجانی نے بی بی سی کو بتایا کہ ’اگر نیویارک اعلامیے کے بقیہ حصے کا اطلاق ہو جاتا ہے تو آرٹیکل 11 کو پہلے ہی منظور کر لیا جائے گا۔‘

فلسطینی ریاست

حماس کو امریکہ، برطانیہ اور دیگر مغربی ممالک نے دہشت گرد تنظیم قرار دیا ہے۔

اس میں کہا گیا ہے کہ ایک بار جب فلسطینی ریاست بن جائے گی تو یہ گروپ مستقبل کے فلسطینی حکام کے سامنے ہتھیار ڈال دے گا۔

تاہم تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ یہ گروپ بڑے پیمانے پر غزہ پر اپنا کنٹرول کھو چکا ہے۔

حماس اب بھی علاقے کی گورننگ باڈی کی حیثیت سے اپنی موجودگی برقرار رکھے ہوئے ہے۔

حماس کی جانب سے اس کا نیا شروع سکیورٹی یونٹ ’سہم‘ جسے ’ایرو یونٹ‘ بھی کہا جاتا ہے، شہری نظم و نسق برقرار رکھنے اور لوٹ مار کو روکنے کے بیان کردہ مقصد کے ساتھ کام کر رہا ہے۔

فلسطینی شہریوں نے مظاہروں کی صورت میں حماس سے ناراضگی طاہر کی تاہم حماس کی جنگجوؤں نے احتجاجی مظاہروں میں شامل فلسطینیوں پر کریک ڈاؤن کیا گیا۔

غزہ میں خوراک اور امداد کی کمی کی وجہ سے حالات انتہائی خطرناک ہو چُکے ہیں، دوسری جانب اقوامِ متحدہ سمیت امدادی اداروں نے متنبہ کیا ہے کہ لوگ بھوک کی وجہ سے مر رہے ہیں۔

بہت سے تجزیہ کاروں کا خیال ہے کہ حماس کے جنگجوؤں کی جانب سے سات اکتوبر کے اسرائیل کے حملوں سے قبل نہ تو اسرائیل کی طاقت اندازہ درست انداز میں لگایا گیا تھا بلکہ اس کے ساتھ ساتھ انھوں نے اپنی حکمتِ عملی اور اس بات کا اندازہ درست لگایا تھا کہ وہ کب تک اس جنگ کا حصہ رہ سکیں گے۔ بہت زیادہ متاثر ہیں اور جب انھوں نے 7 اکتوبر کے حملوں کا آغاز کیا تو ان سے اتنی کمزور حالت میں داخل ہونے کی توقع نہیں کی جا سکتی تھی۔

حماس کے جنگجو اسرائیل کی جانب سے حملوں کے جواب میں 22 ماہ سے جاری جنگ سے اب تھک چکے ہیں۔

مقامی ذرائع کا کہنا ہے کہ اس گروپ کے پاس اب بھی ہتھیار موجود ہیں لیکن اس کے ذخائر میں دن بدن کمی واقع ہو رہی ہے۔

ان کا کہنا ہے کہ اس کا انحصار اسرائیل کے حملوں کے باقی ماندہ مواد کو ری سائیکل کرنے پر ہے یعنی زیادہ تر وہ بم جو پھٹنے میں ناکام رہے۔

حماس کے جنگجو اسرائیلی فوجیوں پر حملہ کرنے کے لئے اسرائیل کے بنے دھماکہ خیز مواد کو دوبارہ سے استعمال کرنے میں لگے ہوئے ہیں۔

اسرائیل نے بی بی سی کے نامہ نگاروں کو غزہ تک رسائی دینے سے انکار کر دیا ہے اس لیے آزادانہ طور پر اس کی تصدیق نہیں کی جا سکی ہے۔

علاقائی طور پر مسلح گروپ کے پاس بہت کم اتحادی باقی رہ گئے ہیں۔ اسرائیل اور ایران کے درمیان 12 روزہ جنگ کے بعد تہران نے حماس کی حمایت جاری رکھنے اور اس کی جنگی صلاحیت کو برقرار رکھنے میں کسی حد تک کمی کر دی ہے۔

لبنان میں ایران سے وابستہ حزب اللہ ملیشیا بھی اسرائیل کے حملوں اور اس کے رہنماؤں کے قتل ہو جانے کے بعد سے کمزور پڑ گئے ہیں۔

حزب اللہ کو پہلے ہی لبنانی حکومت کی جانب سے غیر مسلح کرنے کے مطالبے کا سامنا ہے اور اسے اب بیرونی امداد کی فراہمی میں بھی کمی کا سامنا ہے۔

عرب لیگ

عرب لیگ نے نیویارک اعلامیے پر دستخط کیے جس میں حماس کو غیر مسلح کرنے کا مطالبہ کیا گیا تھا۔

اس تنظیم کے 22 رکن ممالک ہیں جن میں وہ ممالک بھی شامل ہیں جو عام طور پر حماس کے ساتھ دوستانہ اور اچھے تعلقات کے اعلان کرتے آئے ہیں، جیسا کہ قطر۔

لندن میں قائم گلوبل افیئرز ڈسکشن فورم چیتھم ہاؤس کے سینیئر کنسلٹنٹ پروفیسر یوسی میکلبرگ کا کہنا ہے کہ ’اسرائیل اور امریکہ اپنے معمول کے موقف کو اپنا رہے ہیں۔‘

لیکن ان کا کہنا ہے کہ ’عرب ریاستوں کا لہجہ بدل گیا ہے۔‘ انھوں نے نشاندہی کرتے ہوئے کہا ہے کہ ’عرب اور علاقائی طاقتوں کی طرف سے بڑھتا ہوا دباؤ حماس کو ’بالکل الگ تھلگ کر سکتا ہے۔‘

یرغمالی

حماس 7 اکتوبر 2023 کو اغوا کیے گئے باقی اسرائیلی یرغمالیوں کو سودے بازی کے طور پر اب بھی اپنے قابو میں رکھے ہوئے ہے۔

یاد رہے کہ حماس نے اس غیر معمولی حملے کے دوران 251 افراد کو یرغمال بنایا تھا جس میں تقریبا 1200 افراد ہلاک ہوئے تھے۔ حماس کے زیر انتظام وزارت صحت کے مطابق غزہ میں اسرائیل فوج کے غزہ پر حملوں کے نتیجے میں اب تک 60 ہزار سے زائد افراد ہلاک ہو چکے ہیں۔

امریکہ کا کہنا ہے کہ غزہ میں کم از کم 20 یرغمالی اب بھی موجود ہیں تاہم ان میں سے کچھ کی موت ہو چکی ہے اور کچھ کو اسرائیل واپس کر دیا گیا ہے۔ مگر معاملہ پیچیدہ اور اس کے بارہ میں وضاحت کسی بھی جانب سے نہیں کی جا رہی ہے کہ اب تک حماس کے پاس کتنے اسرائیلی یرغمالی زندہ موجود ہیں اور کتنے ہلاک ہو چُکے ہیں۔

حماس نے اگست کے آغاز میں یرغمالی ایواٹر ڈیوڈ کی ایک ویڈیو جاری کی تھی جس میں انھیں کمزور اور لاغر دکھایا گیا تھا۔

مبصرین کا کہنا ہے کہ حماس کو امید تھی کہ اس ویڈیو سے یرغمالیوں کے اہل خانہ اسرائیلی وزیر اعظم بنیامن نتن یاہو پر جنگ ختم کرنے کے لیے مزید دباؤ ڈالیں گے۔

ویڈیو کے بعد اہل خانہ نے نتن یاہو سے مطالبہ کیا کہ وہ یرغمالیوں کی رہائی کو ترجیح دیں۔

7 اکتوبر 2023 سے اب تک ہلاک ہونے والے حماس کے رہنما

اکتوبر 2023 کے بعد سے اسرائیل حماس کے کئی سرکردہ رہنماؤں کو قتل کر چکا ہے جن میں تنظیم کے مجموعی رہنما اسماعیل ہانیہ بھی شامل ہیں۔ وہ ایران کے دارالحکومت تہران میں ایک حملے میں ہلاک ہوئے تھے۔

اسرائیل نے یحییٰ سنوار کو بھی ہلاک کر دیا ہے جن کے بارے میں خیال کیا جاتا ہے کہ وہ 7 اکتوبر کے حملوں کے ماسٹر مائنڈ تھے۔

میکلبرگ کے مطابق غزہ کے اندر موجود حماس کے رہنماؤں کے بیرونی مُمالک میں موجود رہنماؤں سے مفادات مختلف ہیں۔

وہ کہتے ہیں کہ جسمانی طور پر زندہ رہنے کی ترجیح کے علاوہ ’وہ سیاسی مطابقت برقرار رکھنے کی کوشش کرتے ہیں جسے ابھی بھی کسی معاہدے تک پہنچنے کے لیے کچھ حمایت حاصل ہے۔‘

لیکن اس گروپ کو اپنی اہمیت برقرار رکھنے کے لیے اس کے باقی رہنماؤں کو سخت فیصلے کرنے ہوں گے۔

اور جمعرات 7 اگست 2025 کو نتن یاہو کے غزہ کا ’مکمل کنٹرول‘ حاصل کرنے اور ’حماس کو ہٹانے‘ کے اعلان کردہ اپنے ارادے کے بعد، گروپ کے پاس اب اپنے آئندہ کے منصوبے کو حتمی شکل دینے کے لیے دن کم رہ گئے ہیں۔

حماس کا مستقبل

تو کیا حماس بطور تنظیم غزہ کی اس جنگ کے بعد اپنا وجود قائم رکھ پائے گی؟

اگر فلسطینی ریاست قائم ہوتی ہے اور حماس اپنے بیان کردہ وعدوں پر پورا اترتی ہے تو وہ طاقت کا استعمال ترک کر دے گی۔

تاہم فلسطینی ریاست کی تشکیل اُس وقت تک بہت دور دکھائی دیتی ہے جب تک موجودہ اسرائیلی حکومت اپنا موقف تبدیل نہیں کرتی۔

یہاں تک کہ اگر ایسا ہوتا بھی ہے تو اس کا مطلب یہ نہیں ہوگا کہ حماس کا وجود ختم ہو جائے گا۔

چیتھم ہاؤس کی یوسی میکلبرگ نے پیش گوئی کی ہے کہ اس گروپ کو اب بھی ’مستقبل میں خود کو از سر نو تشکیل دینے اور فلسطینی سیاسی منظر نامے کا حصہ رہنے کا موقع مل سکتا ہے۔‘

واضح رہے کہ ایسا فلسطینی علاقوں کے اندر سے بھی ہو سکتا ہے اور باہر سے بھی۔

بہت سی باتوں کا انحصار اس بات پر بھی ہے کہ ممکنہ فلسطینی ریاست کے بارے میں اسرائیل کا موقف کیا ہے اور ساتھ یہ بھی اہم ہوگا کہ غزہ کے باشندے اس تباہ کن صورت حال کے بعد حماس کو کتنی اہمیت دیتے ہیں یا یہ تنظیم غزہ میں اپنی مقبولیت کس حد تک قائم رکھ پائے گی۔