’کھیتوں میں گئے لیکن گھر واپس نہیں لوٹ سکے‘: پاکستانی جیلوں میں قید انڈین نوجوانوں کی کہانی

ہرپریت سنگھ کی ماں (بائیں)، امرت پال سنگھ کے والد جوگراج سنگھ اور ماں (دائیں)
،تصویر کا کیپشنہرپریت سنگھ کی ماں (بائیں)، امرت پال سنگھ کے والد جوگراج سنگھ اور ماں (دائیں)
    • مصنف, ہرمندیپ سنگھ
    • عہدہ, بی بی سی پنجابی
  • مطالعے کا وقت: 7 منٹ

23 سالہ امرت پال سنگھ گذشتہ سال 21 جون کو اپنے کھیتوں کے لیے گھر سے نکلے تھے۔ وہ اس بات سے بے خبر تھا کہ اب جلد گھر لوٹنا ایک خواب ہو گا۔

ان کا خاندان گذشتہ سات ماہ سے پاکستانی جیل میں قید امرت پال کے وطن واپس آنے کا انتظار کر رہا ہے۔ لیکن انتظار طویل ہوتا جا رہا ہے۔

انڈیا میں ضلع فیروز پور کے گاؤں کھرے کے اُتر کے رہنے والے امرت پال سنگھ اپنے کھیت میں کام کرنے گئے تھے جو پاکستان انڈیا سرحد کے بالکل قریب واقع ہے اور غلطی سے پاکستان میں داخل ہو گئے اور اس دن سے پاکستان کی جیل میں بند ہیں۔

یہ کہانی صرف امرت پال سنگھ کی نہیں ہے۔ فیروز پور ضلع کے ہستی کے گاؤں کا ایک نوجوان ہرپریت سنگھ بھی اگست 2023 میں غلطی سے سرحد پار کر گیا تھا۔ وہ پاکستانی پنجاب کی ایک جیل میں قید ہے۔

پاکستانی جیلوں میں قید ان پنجابی نوجوانوں کے والدین ان کی وطن واپسی کی امید لگائے بیٹھے ہیں جو ابھی تک پوری نہیں ہو سکی۔

دونوں نوجوانوں کو غیر قانونی طور پر پاکستانی سرحد میں داخل ہونے کے جرم میں سزا سنائی گئی۔ وہ اپنی سزائیں پوری کر چکے ہیں لیکن کئی ماہ گزرنے کے باوجود ان نوجوانوں کو ملک بدر نہیں کیا گیا۔ نوجوانوں کے اہل خانہ ان کی فکر میں نڈھال ہیں۔

پاکستان میں انڈیا کے کتنے شہری قید ہیں؟

ہرپریت سنگھ کے والد جوگندر سنگھ اپنے گھر پر بیٹھا اپنے بیٹے کا انتظار کر رہے ہیں۔
،تصویر کا کیپشنہرپریت سنگھ کے والد جوگندر سنگھ اپنے گھر پر بیٹے کا انتظار کر رہے ہیں

بی بی سی اردو کو حاصل معلومات کے مطابق پاکستان کی وزارت خارجہ کی جانب سے ایک فہرست شیئر کی گئی ہے جس کے مطابق 257 انڈین شہری پاکستان کی حراست میں ہیں۔ ان میں سے 58 عام شہری اور باقی ماہی گیر ہیں۔

اس سوال کے جواب میں کہ وہ پاکستان کیسے پہنچے، امرت پال سنگھ کے والد جوگراج سنگھ نے بتایا کہ ان کا بیٹا بھی دیگر کسانوں کی طرح انڈیا کی جانب باڑ والے گیٹ سے روزانہ اپنی زرعی زمین پر کام کرنے جاتا تھا۔

21 جون کی دوپہر کو وہ بھی کھیتوں میں گیا اور انجانے میں سرحد پار کر کے پاکستان میں داخل ہو گیا۔

اسے پاکستان رینجرز نے پکڑ کر پولیس کے حوالے کر دیا۔ جس کے بعد ان کے خلاف ضلع قصور کے کنگن پور تھانے میں ایف آئی آر درج کی گئی۔

ہرپریت سنگھ کے والد جوگندر سنگھ نے بتایا کہ انھوں نے حسینی والا میں پاکستان اور انڈیا کی بین الاقوامی سرحد کے قریب زمین ٹھیکے پر لی تھی اور ہرپریت سنگھ اس زمین پر زرعی کام کے لیے جاتا تھا۔

’21 اگست کو میرا بیٹا ہرپریت سنگھ مویشیوں کے لیے سبز چارہ کاٹنے کے لیے گھر سے نکلا تھا لیکن وہ واپس نہیں آیا۔ میں نے رشتہ داروں اور اپنے بیٹے کے دوستوں سے اس کے بارے میں دریافت کیا۔ لیکن میرے بیٹے کے بارے میں کوئی معلومات نہیں ملی۔‘

’بعد میں مجھے معلوم ہوا کہ میرے بیٹے کو پاکستان رینجرز نے پکڑ لیا ہے۔ ان کے خلاف قصور ضلع کے گنڈا سنگھ والا تھانے میں مقدمہ درج کیا گیا تھا۔‘

ان کا کہنا ہے کہ ان کا بیٹا کھیتوں سے گزرتے ہوئے دریائے ستلج میں گرا اور بہہ کر پاکستان چلا گیا۔

امرت پال کو کیا سزا دی گئی ہے؟

امرت پال سنگھ کے والدین ایک تصویر دیکھ کر اپنے بیٹے کا انتظار کر رہے ہیں
،تصویر کا کیپشنامرت پال سنگھ کے والدین ایک تصویر دیکھ کر اپنے بیٹے کا انتظار کر رہے ہیں

جگراج سنگھ نے بتایا کہ 28 جولائی کو چونیاں میں ایک سول جج کی عدالت نے امرت پال سنگھ کو پاکستان (کنٹرول آف انٹری) ایکٹ 1952 کی دفعہ فور اور فارنرز ایکٹ 1946 کے سیکشن 14 کے تحت مجرم قرار دیا تھا۔

انھیں ایک ماہ قید کی سزا سنائی گئی تھی۔ اس کے علاوہ ایک لاکھ روپے کا جرمانہ بھی عائد کیا گیا۔

ان کا کہنا ہے کہ جرمانے کی عدم ادائیگی کی وجہ سے ان کا بیٹا زیادہ وقت جیل میں کاٹ چکا ہے۔ ان کی پوری سزا 25 ستمبر کو مکمل ہو گئی۔ بعد ازاں حکومت پاکستان نے 26 دسمبر تک تین ماہ کے لیے نظربندی کا حکم جاری کیا اور انھیں بطور انٹرن جیل میں رکھا گیا۔

نظربندی کا مطلب ہے کسی شخص کو بطور قیدی، بنیادی طور پر سیاسی یا فوجی وجوہات کی بنا پر حراست میں لینا۔

جگراج نے اپنے بیٹے کے لیے قانونی جنگ لڑنے کے لیے پاکستان میں ایک نجی وکیل کی خدمات بھی حاصل کی ہیں۔

ہرپریت کو کتنی سزا دی گئی؟

جوگندر سنگھ
،تصویر کا کیپشنہرپریت سنگھ کے سسر جوگندر سنگھ کا کہنا ہے کہ میرا بیٹا اپنی سزا پوری کر چکا ہے لیکن ابھی تک رہا نہیں ہوا
مواد پر جائیں
بی بی سی اردو اب واٹس ایپ پر

بی بی سی اردو کی خبروں اور فیچرز کو اپنے فون پر حاصل کریں اور سب سے پہلے جانیں پاکستان اور دنیا بھر سے ان کہانیوں کے بارے میں جو آپ کے لیے معنی رکھتی ہیں

سبسکرائب کرنے کے لیے کلک کریں

مواد پر جائیں

ہرپریت سنگھ کے اہل خانہ کے مطابق وہ بھی اپنی سزا کاٹ چکے ہیں۔

ان کے والد جوگندر سنگھ کا کہنا ہے کہ ’ہرپریت سنگھ کو ایک ماہ قید اور تین ہزار روپے جرمانے کی سزا سنائی گئی۔ میرے بیٹے نے اپنی سزا پوری کر لی ہے اور جرمانہ بھی عدالت میں ادا کر دیا ہے۔‘

جوگندر سنگھ کا کہنا ہے کہ انھوں نے کسی پرائیویٹ وکیل کی خدمات حاصل نہیں کیں۔ یہ پاکستانی حکومتی پراسیکیوٹر تھا جس نے عدالت میں ان کے بیٹے کی نمائندگی کی۔

ہرپریت سنگھ 16 ماہ جبکہ امرت پال پانچ ماہ سے پاکستان میں قید ہیں۔

ہرپریت سنگھ کا خاندان ان کی بیوی، دو بچوں اور بوڑھے والدین پر مشتمل ہے۔ ان کا بھائی بھی خاندان کے ساتھ رہتا ہے۔

امرت پال سنگھ کا خاندان اس کی بیوی، ایک آٹھ ماہ کا بیٹا، بوڑھے والدین اور ایک چھوٹی بہن پر مشتمل ہے۔ امرت پال جس دن غیر ارادی طور پر پاکستان میں داخل ہوئے اس دن ان کا بیٹا صرف تین ماہ کا تھا۔

جوگندر سنگھ کہتے ہیں، ’ہرپریت کے بچے پوچھتے ہیں کہ ان کے والد کب واپس آئیں گے۔ ہمارے پاس کوئی جواب نہیں ہے۔ اسی لیے ہم انھیں جھوٹی امید دلاتے ہیں۔‘

جگراج سنگھ کہتے ہیں، ’بچوں کے ساتھ گھر میں خوشی ہے لیکن دل بہت اداس ہے۔ دن بہت مشکل سے گزر رہے ہیں۔‘

’ہمیں امید تھی کہ امرت پال 26 دسمبر کو گھر آئے گا۔ لیکن وہ نہیں آیا۔ اس غم میں اس کی دادی اس دن سے بستر سے نہیں اٹھ سکیں۔‘

امرت پال کی والدہ امندیپ کور کہتی ہیں، ’مجھے اپنے بیٹے کی بہت یاد آتی ہے۔ میں دن گن رہی ہوں۔ جب مجھے کچھ امید ملتی ہے تو میں دن گننے لگتی ہوں۔‘

امرت پال کے وکیل کا کیا کہنا ہے؟

امرت پال کے وکیل سہیل احمد انصاری نے بی بی سی اردو کو بتایا کہ دسمبر میں فیڈرل ریویو بورڈ کے اجلاس میں امرت پال کے نام پر بات ہوئی، لیکن منظوری نہیں مل سکی۔

انھوں نے کہا کہ ’جب کوئی قیدی اپنی سزا پوری کرتا ہے تو فیڈرل ریویو بورڈ اس قیدی کے کیس کا جائزہ لیتا ہے۔ اگر اس اجلاس میں منظوری مل جاتی ہے تو متعلقہ قیدی کو اس کے ملک ڈی پورٹ کر دیا جاتا ہے‘

حکومت سے مداخلت کا مطالبہ

امرت پال سنگھ اور ہرپریت سنگھ کا خاندان مرکزی حکومت سے مداخلت کا مطالبہ کر رہا ہے۔

دونوں خاندانوں کے مطابق ہرپریت سنگھ اور امرت پال سنگھ کی واپسی مرکزی حکومت پر منحصر ہے۔ وہ چاہتے ہیں کہ مرکزی حکومت ان کے بیٹوں کے معاملے کو پاکستانی حکومت کے ساتھ ترجیحی بنیادوں پر اٹھائے۔

جوگندر سنگھ کہتے ہیں، ’اگر حکومت چاہے تو میرا بیٹا جلد گھر واپس آ سکتا ہے۔ ہم نے حکومت سے اپیل کی ہے۔ ہم نے انڈین حکومت کے کئی نمائندوں اور وزرا کو ای میل بھیج کر مدد کی درخواست کی ہے۔‘

جگراج سنگھ کا کہنا ہے کہ ’ہم نے پنجاب کے گورنر سے بھی ملاقات کی ہے اور ان سے مدد مانگی ہے۔ ہم مرکزی حکومت اور ہندوستانی سفارت خانے سے درخواست کرتے ہیں کہ میرے بیٹے کو انڈیا واپس لایا جائے۔‘

فیروز پور میں چیف منسٹر کے فیلڈ آفیسر کے طور پر تعینات راجبیر سنگھ نے کہا، ’جب کوئی شخص غلطی سے سرحد عبور کر کے پاکستان پہنچ جاتا ہے تو انتظامیہ کا فرض ہے کہ وہ مقامی سطح پر تحقیقات کرے۔ تحقیقات مکمل ہونے کے بعد رپورٹ پنجاب حکومت کے ہوم ڈیپارٹمنٹ کو بھیجی جاتی ہے۔ پنجاب حکومت کا ہوم ڈیپارٹمنٹ مرکز کے ہوم ڈیپارٹمنٹ کو معلومات بھیجتا ہے۔‘

انھوں نے کہا، ’ہرپریت سنگھ کے والدین نے انتظامیہ سے رابطہ نہیں کیا۔ تاہم ہم امرت پال کے بارے میں معلومات اکٹھی کر رہے ہیں۔‘