نقاب پوش تصویر، خواتین سہولت کار اور بے ہوشی کا انجیکشن: پہاڑ سے گر کر ہلاک ہونے والی استانی کے قتل کا معمہ

    • مصنف, زیویئر سلوا کمار
    • عہدہ, بی بی سی تمل

یہ ایک خاتون کی لاش تھی جس کی موت بظاہر پہاڑ کی بلندی سے گرنے سے ہوئی۔ 20 فٹ گہری کھائی میں موجود لاش کے قریب ہی ایک ہینڈ بیگ بھی موجود تھا جس میں دو سو روپے موجود تھے۔

اس سیاحتی مقام پر ایک ہی سال قبل ایک سوٹ کیس میں بند لاش ملنے کے بعد سے نگرانی کے انتظامات بھی سخت کیے جا چکے تھے۔

خاتون کے بیگ سے ایک ہاسٹل میں ادائیگی کی رسید سمیت ایک شناختی کارڈ ملا لیکن اس کارڈ پر موجود تصویر میں نقاب اوڑھا گیا تھا۔

جلد ہی یہ علم ہوا گیا کہ یہ لاش ایک نجی کوچنگ سینٹر میں پڑھانے والی 35 سالہ خاتون کی تھی۔ اور پھر جیسے جیسے اس بظاہر حادثاتی موت کی تفتیش ہوتی چلی گئی تو یہ معاملہ کچھ اور نظر آیا جس میں محبت اور دھوکے سے قتل کی ایسی واردات کا انکشاف ہوا جس میں مقتولہ کو ایک نرس کی مدد سے انجیکشن لگا کر پہاڑ سے گرانے کا منصوبہ بنایا گیا تھا۔

یہ معاملہ ہے انڈیا کی ریاست تمل ناڈو کا جہاں پولیس نے اس کیس میں انجینیئرنگ کے ایک طالب علم، ایک آئی ٹی ورکر اور نرسنگ کالج کی طالبہ کو گرفتار کیا ہے۔

لیکن یہ پہیلی حل کیسے ہوئی اور پولیس ملزمان تک کیسے پہنچی؟

محبت کا جھانسہ

گذشتہ بدھ تمل ناڈو کے شہر سیلم سے پہاڑی علاقے یرکاڈ تک جانے والی سڑک پر 20 فٹ طویل کھائی میں ایک خاتون کی بوسیدہ لاش ملی تھی۔

خاتون کی لاش کے پاس سے ملنے والے ہینڈ بیگ میں ایک شناختی کارڈ، پی اے این کارڈ، نجی خواتین کے ہاسٹل میں ادائیگی کی رسید اور 200 روپے نقد تھے۔

انڈین ریاست تمل ناڈو کے علاقے یرکارڈ میں حکام کے مطابق ایک نوجوان خاتون کو بے ہوشی کا انجیکشن لگانے کے بعد انھیں پہاڑ سے دھکیل کر قتل کیا گیا۔

پولیس کی تحقیقات میں یہ بات بھی سامنے آئی کہ حراست میں لیے جانے والے ایک انجینیئرنگ کے طالب علم نے مبینہ طور پر مقتولہ سمیت تینوں خواتین کو محبت کا جھانسہ دیا۔

شناختی کارڈ کی تصویر میں مقتول نقاب میں

خاتون کے شناختی کارڈ سے معلوم ہوا کہ 35 سالہ مقتولہ لوکانائیکی سیلم کے ایک پرائیویٹ کوچنگ سینٹر میں ٹیچر تھیں اور ہاسٹل میں رہائش پذیر تھیں۔

یرکاڈ اربن ولیج ایڈمنسٹریٹو آفیسر موہن راج نے بی بی سی تمل کو بتایا کہ ہاسٹل انچارج پولیس سٹیشن میں ان کی گمشدگی کی شکایت بھی درج کروا چکے تھے۔

لیکن پولیس کو اس وقت شک ہوا جب انھوں نے دیکھا کہ شناختی کارڈ پر لوکانائیکی کا نام تو ہے لیکن تصویر میں انھوں نے برقعہ پہنا ہوا ہے۔

پولیس نے ان لوگوں کے نمبروں کا استعمال کرتے ہوئے تحقیقات کا آغاز کیا جنھوں نے ان کے فون پر ان سے رابطہ کیا تھا۔

یرکاڈ پولیس انسپکٹر بالاجی اور سب انسپکٹر مائیکل انٹونی سمیت دیگر پولیس افسران نے بی بی سی تمل کو بتایا کہ تحقیقات کے دوران انھیں معلوم ہوا کہ لوکانائیکی کو کس نے اور کیسے قتل کیا۔

پولیس اہلکار بتاتے ہیں کہ ’جب ہم نے اس فون نمبر کو چیک کیا جس سے خاتون نے آخری بار بات کی تھی تو ہمیں معلوم ہوا کہ یہ عبدالحفیظ (عمر 22 سال) تھے جو ایک نجی انجینیئرنگ کالج میں بی ای کمپیوٹر سائنس کے طالب علم تھے۔‘

پولیس کے مطابق ان کی گرفتاری کے بعد قتل کی تفصیلات سامنے آئیں۔ پولیس انسپکٹر مائیکل انٹونی نے بی بی سی تمل کو بتایا کہ اس معلومات کی بنیاد پر ان کے علاوہ دو خواتین کو بھی گرفتار کیا گیا۔

ٹیچر نے ’عبدالحفیظ کے لیے اسلام قبول کیا تھا‘

عبدالحفیظ کے علاوہ دو خواتین 22 سالہ آئی ٹی ورکر داویہ سلطانہ اور نرسنگ کالج کی 21 سالہ طالبہ مونیشا کو گرفتار کیا گیا ہے۔

پولیس کی طرف سے فراہم کردہ معلومات کے مطابق مقتول لوکانائیکی کے ماں باپ نہیں تھے اور وہ ماضی میں اپنی خالہ کے گھر رہتی تھیں۔

لوکانائیکی نے اپنی ماسٹر ڈگری اور پی ایچ ڈی مکمل کر لی تھی۔ انھوں نے اپنے خاندان کو عبدالحفیظ سے اپنی محبت کے بارے میں بتایا تھا۔ عبدالحفیظ کی عمر ان سے کم تھی جس پر ان کی خالہ کو اعتراض تھا۔

پولیس کے مطابق اسی لیے لوکانائیکی نے تین سال قبل گھر چھوڑ دیا تھا اور سیلم آ گئی تھیں جہاں وہ ایک نجی ہاسٹل میں رہتی تھیں اور کوچنگ سینٹر میں ٹیچر کا کام کر رہی تھیں۔

پولیس اہلکار کا کہنا ہے کہ ’لوکانائیکی نے عبدالحفیظ سے شادی کرنے کے لیے اپنا نام اور مذہب تبدیل کیا تھا۔ وہ ہمیشہ برقعہ پہنتی تھیں۔ لیکن کسی وجہ سے عبدالحفیظ نے ان سے شادی کرنے سے انکار کر دیا تھا۔‘

پولیس کے مطابق لوکانائیکی کو معلوم ہوا تھا کہ عبدالحفیظ سلطانہ کے قریب ہو رہے ہیں لہذا انھوں نے فوراً شادی کا مطالبہ کیا۔

پولیس اہلکار نے بتایا کہ کرائے کی کار میں سوار یہ چار افراد یکم تاریخ کو یرکاڈ گئے تھے اور قتل کی واردات وہیں ہوئی۔ تفتیش کے دوران پولیس کو یہ بھی پتا چلا کہ عبدالحفیظ اسی وجہ سے ڈرائیور کے بغیر کرائے کی کار چلا رہے تھے۔

تفتیش کار مائیکل انٹونی کا کہنا ہے کہ عبدالحفیظ کے اِن تینوں خواتین کے ساتھ تعلقات رہے تھے۔ ’لوکانائیکی شادی پر بضد تھیں اس لیے اس نے انھیں قتل کرنے کا فیصلہ کیا۔ اس نے دیگر دو خواتین کے سامنے لوکانائیکی کو بُری طرح پیش کیا۔‘

وہ کہتے ہیں کہ ’اس نے باقی دونوں خواتین کو الگ الگ یہ کہہ کر دھوکہ دیا کہ لوکانائیکی کی موجودگی میں وہ ان سے شادی نہیں کر سکتے۔ انھوں نے (مبینہ طور پر) دونوں خواتین کے ساتھ مل قتل کیا اور لاش کو پہاڑ سے نیچے پھینک دیا۔‘

بے ہوشی کا ٹیکا

یرکاڈ پولیس نے میڈیا میں گردش کرنے والی ان خبروں کی تردید کی کہ لوکانائیکی کو مہلک انجیکشن لگا کر قتل کیا گیا تھا۔

پولیس کا دعویٰ ہے کہ ملزم نے نرسنگ کی طالبہ مونیشا کی مدد سے سرجری کے لیے استعمال ہونے والی بے ہوشی کی دوا کا دو بار انجیکشن لگایا۔

’ان سے کہا گیا کہ یہ لوکانائیکی کے ہاتھ میں زخم کے لیے درد کم کرنے والا انجیکشن ہے۔‘ پولیس کا کہنا ہے کہ پوسٹ مارٹم رپورٹ آنے کے بعد ہی مزید حتمی نتائج سامنے آئیں گے۔

گذشتہ سال مارچ میں جب پارلیمانی انتخابی ضابطہ اخلاق نافذ تھا، اسی یرکاڈ پہاڑی سڑک پر سوٹ کیس میں ایک خاتون کی لاش ملی تھی۔

جب بی بی سی تمل نے سیلم ڈی آئی جی اوما سے اس بارے میں پوچھا تو انھوں نے کہا کہ ’گذشتہ سال جو قتل ہوا اس میں انھوں نے کہیں اور قتل کیا تھا، پھر یہاں آ کر سوٹ کیس پھینک دیا تھا۔ اب قتل خود اسی علاقے میں ہوا۔ ہر روز ہزاروں سیاح یرکاڈ کا دورہ کرتے ہیں۔‘

’راستے پر ایک پولیس چوکی بھی ہے۔ وقتاً فوقتاً گاڑیوں کا معائنہ بھی کیا جاتا ہے۔ اہم مقامات پر نگرانی کے لیے کیمرے بھی لگائے گئے ہیں۔ پہاڑی سڑکوں پر گھنے جنگل والے علاقوں میں کیمرے لگانا ممکن نہیں۔ لیکن پولیس اس راستے کی مسلسل نگرانی کر رہی ہے۔‘