آپ اس وقت اس ویب سائٹ کا ٹیکسٹ پر مبنی ورژن دیکھ رہے ہیں جو کم ڈیٹا استعمال کرتا ہے۔ مرکزی ویب سائٹ جہاں تمام تصاویر اور ویڈیوز موجود ہیں دیکھیے
رویش کمار کا بی بی سی کے ساتھ خصوصی انٹرویو: ’پارلیمنٹ کوئی نہیں خرید سکتا‘
- مصنف, مکیش شرما
- عہدہ, ڈیجیٹل ایڈیٹر، بی بی سی انڈیا
انڈیا کے معروف صحافی اور این ڈی ٹی وی کے سابق اینکر رویش کمار نے کہا ہے کہ این ڈی ٹی وی سے استعفیٰ دینا، صحیح وقت پر لیا گیا درست فیصلہ ہے اور انھیں اس فیصلے پر کوئی افسوس نہیں۔
بی بی سی ہندی کے ساتھ بات چیت کے دوران رویش کمار نے معروف صنعت کار اڈانی، امبانی، این ڈی ٹی وی کے سابقہ مالکان صحافی پرنائے روئے اور رادھیکا روئے اور مودی حکومت اور سیاست میں آنے کے امکانات کے بارے میں تفصیل سے بات کی۔
رویش کمار نے کہا کہ این ڈی ٹی وی خریدنا کوئی عام کاروباری فیصلہ نہیں۔ اس کے ساتھ انھوں نے یہ دعویٰ بھی دہرایا کہ این ڈی ٹی وی کو انھیں نشانہ بنانے کے لیے خریدا گیا ہے۔
اگرچہ انھوں نے یہ تسلیم کیا کہ سینیئر صحافی کرن تھاپر کو دیئے گئے انٹرویو میں انھوں نے غصے میں کچھ باتیں ضرور کہی تھیں لیکن انھوں نے کچھ غلط نہیں کیا۔
استعفیٰ دینے کے بعد رویش کمار نے پہلے پہل صحافی اجیت انجم کو انٹرویو دیا اور پھر کرن تھاپر کو انٹرویو دیا۔
ان دونوں کے انٹرویو کے بعد بہت سے لوگ پوچھ رہے ہیں کہ کیا رویش کمار خود کو این ڈی ٹی وی سے بڑا برانڈ سمجھنے لگے ہیں؟ بی بی سی نے بھی یہ سوال رویش سے کیا۔
اس سوال کے جواب میں رویش کمار نے کہا کہ ’جب کرن تھاپر نے مجھ سے پوچھا تو میں نے اونچی آواز میں کہا کہ ہاں یہ مجھے نشانہ بنانے کے لیے کیا گیا ہے، میں نے کوئی غلط کام نہیں کیا لیکن یہ تکبر کی بات نہیں۔ ایک انٹرویو میں اگر میں غصے میں بول رہا ہوں تو آپ اس سے اندازہ نہیں لگا سکتے کہ یہ تکبر کی بات ہے۔ میں کیا سمجھ رہا ہوں یہ اہم نہیں۔‘
ان کا مزید کہنا تھا کہ ’اس کمپنی کو خریدنے کی اہم وجوہات جو بھی ہوں لیکن اب تک ایسی کوئی حقیقت سامنے نہیں آئی کہ ڈاکٹر روئے خود یہ کہتے ہوئے بازار گئے ہوں کہ میں اپنی کمپنی بیچ رہا ہوں۔ ڈاکٹر روئے اپنی کہانی سنائیں گے، میں اپنی کہانی سناؤں گا۔‘
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
انھوں نے مزید کہا ’کیس کیسے بنایا گیا لیکن 10 سال کے دوران کچھ نہیں نکلا۔ پھر وہ شخص چینل خریدنے آتا ہے جو میڈیا کے مطابق حکومت کے بہت قریب سمجھا جاتا ہے۔ ہوائی جہاز کی وہ تصویر بھی ہے جس میں اڈانی اور وزیر اعظم بننے والے مودی بیٹھے ہیں، یہ اس قسم کا تاثر پیدا کرنے کے لیے کافی ہے۔‘
رویش کمار نے آخر استعفیٰ کیوں دیا؟
اس کے جواب میں رویش کمار نے 25 نومبر کو فنانشل ٹائمز کو دیے گئے گوتم اڈانی کے انٹرویو کا حوالہ دیا۔
اس انٹرویو میں اڈانی نے کہا تھا کہ ’آپ حکومت پر تنقید کر سکتے ہیں، لیکن اگر حکومت اچھا کام کر رہی ہے، تو آپ میں اس کی تعریف کرنے کی ہمت بھی ہونی چاہیے۔‘
رویش کہتے ہیں ’میں نے سوچا کہ یہ میرے لیے ایک ادارتی حکم ہے، جنھیں ایسا نہیں لگا وہ آج وہاں کام کر رہے ہیں۔ میں نے سوچا کہ یہ میرے لیے بھی ایک اشارہ ہے۔‘
وہ مزید کہتے ہیں ’درمیان میں لگ رہا تھا کہ یہ ملک کبھی اتنا کمزور نہیں ہو گا۔ اس کے صنعت کار اتنے بزدل نہیں ہوں گے کہ ایک صحافی کو برداشت نہ کر سکیں۔ لیکن صنعتکار بزدل نکلے، میرے دروازے بند ہیں۔ اگر یوٹیوب کا ذریعہ نہ ہوتا تو میں اس پیشے سے 10 روپے بھی کما نہیں پاتا۔‘
رویش کمار نے نہ صرف سابق مالکان کا دفاع کیا بلکہ ان کی خوب تعریف بھی کی۔
’این ڈی ٹی وی انتظامیہ نے کبھی مداخلت نہیں کی‘
رویش کمار کے مطابق انھیں اس بارے میں زیادہ تکنیکی معلومات نہیں ہیں لیکن ان کے مطابق یہ بات طے ہے کہ پرنوئے روئے نے قرض کی ادائیگی اور اپنے چینل کو بچانے کی پوری کوشش کی۔
رویش کمار کے مطابق، انھوں نے اپنے این ڈی ٹی وی کے حصص اس لیے نہیں بیچے کیونکہ وہ نہیں چاہتے تھے کہ ڈاکٹر روئے کو برا لگے کہ میری کمپنی میں اتنی کامیابیاں حاصل کرنے والے مترجم اور خط چھاٹنے والے نے موقع ملنے پر پیسے گننا شروع کر دیے۔
بقول اُن کے ’میں اُن کے درد کو سمجھ سکتا ہوں کہ آج وہ کتنا تنہا محسوس کر رہے ہوں گے۔‘
رویش کمار کا کہنا ہے کہ این ڈی ٹی وی انتظامیہ یا ڈاکٹر روئے نے کبھی ان کے کام میں مداخلت نہیں کی۔ ان کے مطابق انھوں نے کبھی نہیں کہا کہ انھیں کیا کرنا چاہیے اور کون سی کہانی نہیں کرنی چاہیے۔
رویش نے کہا کہ وہ ادارتی میٹنگ میں بھی شریک نہیں ہوتے تھے۔ تاہم، انھوں نے یہ بھی واضح کیا کہ وہ اپنے پرائم ٹائم شو کے پروگرام کے بارے میں نہ صرف این ڈی ٹی وی کے ساتھیوں سے بلکہ کئی بار باہر کے لوگوں سے بھی صلاح مشورہ کرتے تھے۔
انھوں نے کہا کہ ایک بار سکرین کو سیاہ کرنے کا فیصلہ بھی ان کا تھا اور اگلے دن بھی کسی نے ان سے اس بارے میں نہیں پوچھا۔ ان کے مطابق، دوسرے پروگراموں کے لوگ بھی پوچھنے لگے کہ کیا وہ بھی ایسا کر سکتے ہیں۔
رویش کمار نے کہا کہ این ڈی ٹی وی میں کام کے دوران ان کے کچھ خراب تجربات بھی تھے، اور یہ سوچ کر وہ پریشان ہو جاتے ہیں کہ وہ اس بارے میں کبھی کیوں نہیں کچھ کہہ پائے۔
لیکن انھوں نے یہ بھی واضح کیا کہ وہ عوامی سطح پر ایسی بات کبھی نہیں کہیں گے کیونکہ ہوسکتا ہے کہ مستقبل میں ’کسی پرنوئے روئے کو کسی صحافی میں رویش کمار جیسی صلاحیت نظر آجائے‘۔
وہ کہتے ہیں کہ ’میں ایسی بات نہیں کہوں گا جس سے انھیں یہ احساس ہو کہ انھوں نے ایک خط چھانٹنے والے کو اس مقام تک پہنچا کر غلطی کی۔‘
این ڈی ٹی وی کے ٹیک اوور کے بعد آپ کو ایسا کیوں لگا کہ آپ کو کام کی آزادی نہیں ملے گی؟
اس کے جواب میں رویش کمار نے کہا ’یہ صرف آزادی کی بات نہیں تھی، جو شخص آ رہا ہے اس کی پہچان کیا ہے، مارکیٹ میں اس کی کیا ساکھ ہے۔ آپ کچھ بھی ہو سکتے ہیں، لیکن پرنوئے روئے (جس نے اس ملک کو ٹیلی ویژن انڈسٹری دی) نہیں ہو سکتے۔ کون لوگ ہیں جو مسٹر روئے کی جگہ اس کمپنی میں لے رہے ہیں۔ کیا میں ان سے صحافت کا لیکچر سننے جاؤں گا۔‘
ان کے مطابق استعفے کی کوئی مقررہ وجہ نہیں ہوتی ہے، مختلف استعفوں کے اپنے اخلاقی حالات ہوتے ہیں۔
گوتم اڈانی کے انٹرویو کا حوالہ دیتے ہوئے رویش کمار کہتے ہیں ’حکومت کی تعریف کرنے کی ہمت ہونی چاہیے، یہ مضحکہ خیز ہے۔ نوے فیصد میڈیا بھی ایسا ہی کر رہا ہے۔ ایسا لگتا ہے کہ بہت سے لوگ حکومت پر بس تنقید ہی کر رہے ہیں اور کوئی تعریف نہیں کر رہا، اس لیے آپ حکومت کی تعریف کرنے کے لیے این ڈی ٹی وی خرید رہے ہیں۔‘
رویش پر الزام ہے کہ وہ ہمیشہ مودی حکومت پر تنقید کرتے ہیں اور ایسا کر کے وہ غیرجانبدارانہ صحافت کے بنیادی اصولوں کی خلاف ورزی کرتے ہیں۔
یہ بھی پڑھیے
اس کا جواب دیتے ہوئے رویش کمار کہتے ہیں ’میری تمام تنقید متوازن ہیں، صرف ایک مرکزی حکومت ہے، کیا میں انڈیا کی 28 ریاستوں میں جا کر رپورٹ کروں گا کہ اس میں توازن پیدا ہو جائے، یہ بہت زیادہ ہے، آپ ایک صحافی سے کیا توقع رکھتے ہیں کہ وہی ہر خبر پیش کرے تاکہ وہ خود کو غیر جانبدار ثابت کر سکے۔‘
اپنی بات کو مزید آگے بڑھاتے ہوئے وہ کہتے ہیں کہ ’جس طرح سے میڈیا، گودی میڈیا میں تبدیل ہو گیا ہے، اگر میں ٹی وی پر یہ نہ کہتا تو کسی نے نہ کہا ہوتا؟ کیا میں توازن قائم کرنے کے لیے اتنے عرصے تک خاموش رہتا؟‘
’یہ حکومت رویش کمار سے تعریف کیوں سننا چاہ رہی ہے‘
ان کا مزید کہنا تھا کہ ’میں دیکھ رہا تھا کہ اس ملک کی جمہوریت کا ٹی وی کے ذریعے قتل کیا جا رہا ہے، تو پھر میں نے کہا کہ آپ اس قسم کے ٹی وی کو کیسے دیکھ سکتے ہیں‘۔
شاعری کے ذریعے اپنی بات کی وضاحت کرتے ہوئے انھوں نے کہا کہ ’بہت سی اچھی نظموں میں خاموشیاں ہوتی ہیں، کئی اشعار میں احتجاج کی آوازیں بلند ہوتی ہیں، میرے احتجاج کی آواز سوال کی آواز تھی، احتجاج کی آواز نہیں تھی۔‘
انھوں نے کہا کہ حکومت اپنا موقف پیش کرنے کے لیے ہزاروں کروڑ روپے اشتہارات میں خرچ کرتی ہے۔ اس لیے صحافی ہونے کے ناطے عوام کے لیے صحافت کرنا ان کی ذمہ داری ہے اور وہ صرف صحافت سے وابستہ تھے، لیکن انھیں مودی مخالف قرار دیا گیا۔
اس کے برعکس، وہ پوچھتے ہیں کہ ’یہ حکومت رویش کمار سے تعریف کیوں سننا چاہ رہی ہے‘، جب کہ بی جے پی نے پارٹی کے ترجمانوں کو بھی ان کے شو میں آنے سے منع کر دیا تھا۔
کیا رویش سیاست میں آئیں گے؟
اس کے جواب میں رویش کمار نے کہا کہ ان کے بہت سے دوست اور خیر خواہ کہتے رہتے ہیں کہ وہ سیاست میں شامل ہو جائیں، لیکن کسی سیاسی پارٹی نے انھیں کوئی دعوت نہیں دی۔
لیکن انھوں نے یہ ضرور کہا کہ ’تصور کریں کہ اگر میں لوک سبھا میں ہوں تو ان کے (مودی) سامنے ہوں گا، اور کوئی بھی لوک سبھا (پارلیمنٹ کا ایوان زیریں) کو نہیں خرید سکتا۔‘
لیکن پھر رویش کمار نے کہا ’بہرحال کام صرف وہی کرنا چاہیے جو آپ کے خواب میں آئے۔ میں اب بھی اپنے خوابوں میں ٹی وی دیکھتا ہوں۔ جس دن یہ خواب بدل جائے گا، میں بھی بدل جاؤں گا۔‘
اڈانی اور امبانی کی ملکیت کا فرق
این ڈی ٹی وی کی ان کی پرانی ساتھی برکھا دت نے ایک ٹویٹ کیا جس میں انھوں نے کہا کہ ’این ڈی ٹی وی اس وقت آزاد تھا جب مکیش امبانی کے پاس 30 فیصد حصہ تھا لیکن اڈانی نے وہی 30 فیصد خرید لیا اور این ڈی ٹی وی ختم ہو گیا۔‘
اس کے جواب میں رویش کمار نے ایک کہانی سنائی۔ انھوں نے کہا ’ایک بار برکھا دت کو این ڈی ٹی وی کے دفتر میں چکر آیا تو انھوں نے ڈاکٹر پرنوئے روئے کو برکھا دت کے پاؤں کو رگڑتے ہوئے دیکھا تھا۔‘
مکیش امبانی کے 30 فیصد مالک ہونے اور اڈانی کے نئے مالک ہونے کے درمیان فرق کی وضاحت کرتے ہوئے رویش کمار کہتے ہیں ’مکیش امبانی کے ایڈیٹروں میں سے کوئی بھی نیوز روم میں نہیں آیا، ان کا کوئی آدمی میٹنگ میں نہیں آیا۔ انھوں نے ایک بار بھی یہ بیان دیا کہ کسی کو حکومت کی تعریف کرنے کی ہمت ہونی چاہیے، یا کیا انھوں نے کبھی کہا کہ وہ الجزیرہ جیسا عالمی برانڈ بنائیں گے؟‘
رویش کمار کا اگلا قدم کیا ہوگا؟
اس کے جواب میں ان کا کہنا تھا کہ دنیا بھر سے لوگ ان کی مدد کے لیے آگے آئے ہیں اور لوگوں کے تعاون کی وجہ سے ہی ان کا یوٹیوب چینل بہت تیزی سے مقبول ہوا ہے۔
انھوں نے کہا کہ ’جو لوگ جمہوریت کو مردہ بنانا چاہتے ہیں، میں انھیں بتانا چاہتا ہوں کہ یہ ابھی تک زندہ ہے‘۔
انھوں نے کہا کہ فی الحال وہ یوٹیوب چلاتے رہیں گے اور فی الحال ان کے پاس گراؤنڈ رپورٹس کے لیے ضروری وسائل نہیں ہیں۔
انھوں نے کہا کہ وہ آہستہ آہستہ سیڑھیاں چڑھنا چاہتے ہیں۔ انھوں نے بھوجپوری یوٹیوب چینل بھی شروع کیا ہے۔
انھوں نے اس کا بھی ذکر کیا اور کہا کہ ان کی مادری زبان بھوجپوری ہے، ہندی نہیں۔ رویش کمار کے مطابق انھوں نے مراٹھی معاشرے سے اپنی زبان اور ثقافت کا احترام کرنا سیکھا ہے۔