افغان طالبان کا پاکستان پر ڈرون حملوں کا الزام: افغانستان نے کابل میں پاکستانی سفیر کو ڈیمارش جاری کیا، وزیر خارجہ کی تصدیق

افغانستان

،تصویر کا ذریعہGetty Images

،تصویر کا کیپشنصوبہ خوست میں ’لاہوری گاؤں‘ کے مقام پر ہوئے مبینہ ڈرون حملے کے بعد کا منظر: طالبان حکام نے مطابق اس واقعے میں ایک تاجر کا گھر نشانہ بنا

پاکستان کے نائب وزیراعظم اور وزیر خارجہ اسحاق ڈار نے تصدیق کی ہے کہ افغانستان نے کابل میں تعینات پاکستانی سفیر کو مبینہ ڈرون حملوں کے بعد ڈیمارش جاری کیا۔

یاد رہے کہ افغانستان میں طالبان کی عبوری حکومت نے الزام عائد کیا ہے کہ صوبہ ننگرھار اور خوست میں دو مختلف مقامات پر کیے گئے پاکستانی ڈرون حملوں میں کم از کم تین بچے ہلاک جبکہ سات افراد زخمی ہوئے ہیں۔

طالبان حکام کا کہنا ہے کہ بدھ کو رات گئے پیش آنے والے ان واقعات کے بعد کابل میں تعینات پاکستانی سفیر کو طلب کر کے اس معاملے پر ’شدید احتجاج‘ ریکارڈ کروایا گیا۔

واضح رہے کہ پاکستان کی وزارت خارجہ یا فوج نے اس معاملے پر فی الحال کوئی باضابطہ بیان جاری نہیں کیا۔ بی بی سی اُردو کی جانب سے پاکستانی وزارت خارجہ کو بھیجے گئے سوال کا بھی تاحال کوئی جواب موصول نہیں ہوا۔

پاکستان کا الزام ہے کہ افغانستان کی سرزمین پاکستان میں شدت پسندی کی کارروائیوں کے لیے استعمال ہو رہی ہے اور یہ معاملہ بارہا افغان حکام کے ساتھ اٹھایا گیا۔

بی بی سی پشتو اور خبررساں ادارے روئٹرز کے مطابق طالبان حکام نے الزام عائد کیا ہے کہ ’خوست اور ننگرھار صوبوں میں ہونے والے پاکستانی ڈرون حملوں میں عام شہریوں کے گھروں کو نشانہ بنایا گیا اور ان حملوں میں متاثر ہونے والوں میں زیادہ تر خواتین اور بچے ہیں۔‘

صوبہ خوست میں حکومتی ترجمان مستغفر گرباز نے بی بی سی پشتو سے بات کرتے ہوئے دعویٰ کیا کہ اُن کے صوبے کے ضلع سپیرا کے ’لاہوری گاؤں‘ میں زردان سے تعلق رکھنے والے ایک تاجر حاجی نعیم خان کے گھر کو پاکستانی ڈرونز نے نشانہ بنایا جس کے نتیجے میں تین بچے ہلاک جبکہ پانچ افراد زخمی ہوئے۔ انھوں نے کہا کہ زخمیوں میں خواتین بھی شامل ہیں۔

مستغفر گرباز کا مزید کہنا تھا کہ حاجی نعیم خان کے گھر پر ’پاکستانی ڈرون نے بدھ کی رات لگ بھگ ساڑھے دس بجے حملہ کیا۔‘

ترجمان نے مزید دعویٰ کیا کہ جس خاندان کو نشانہ بنایا گیا ان کی کسی جماعت یا گروہ سے وابستگی نہیں تھی۔ ’متاثرہ شخص (حاجی نعیم) ایک عام تاجر ہیں جن کی کسی گروپ سے وابستگی نہیں۔‘

اسی طرح ایک اور واقعے میں افغانستان کے مشرقی صوبہ ننگرھار میں طالبان انتظامیہ کی جانب سے جاری کردہ پریس ریلیز میں الزام عائد کیا گیا کہ ضلع شنوار میں ایک عام شہری کے گھر کو پاکستانی ڈرون نے نشانہ بنایا جس کے نتیجے میں وہاں موجود خاتون سمیت سات بچے زخمی ہوئے ہیں۔

افغانستان

،تصویر کا ذریعہGetty Images

،تصویر کا کیپشنننگرھار میں ہوئے مبینہ ڈرون حملے کے بعد طالبان سکیورٹی اہلکار، میڈیا کے نمائندے اور عام شہری جائے وقوعہ پر کھڑے ہیں

’یہ کُھلی جارحیت ہے‘

طالبان عبوری حکومت کی وزارت خارجہ کی جانب سے جاری کردہ بیان میں ان مبینہ پاکستانی حملوں کو ’کُھلی جارحیت‘ قرار دیا گیا ہے۔

افغان وزارت خارجہ کا کہنا ہے کہ ان واقعات کے بعد کابل میں موجود پاکستانی سفیر کو طلب کیا گیا اور احتجاج ریکارڈ کروایا گیا۔

پاکستانی وزارت خارجہ نے سفیر کی طلبی کے معاملے پر بھی کوئی تبصرہ نہیں کیا۔

طالبان حکومت کی وزارت خارجہ کی جانب سے جاری کردہ بیان کے مطابق ’پاکستان پر واضح کر دیا گیا کہ افغانستان کی سرزمین کی حفاظت امارت اسلامیہ افغانستان کے لیے ریڈ لائن ہے اور اس طرح کے غیر ذمہ دارانہ اقدامات کے لامحالہ نتائج برآمد ہوں گے۔‘

اس بیان میں مزید کہا گیا کہ ’امارت اسلامیہ افغانستان کی وزارت خارجہ پاکستانی فوج کی جانب سے افغانستان کی فضائی حدود کی خلاف ورزی اور ڈیورنڈ لائن کے قریب شہریوں پر بمباری کی شدید مذمت کرتی ہے اور اسے افغانستان کی علاقائی سالمیت کی صریح خلاف ورزی اور اشتعال انگیز عمل تصور کرتی ہے۔‘

ننگرھار

،تصویر کا ذریعہGetty Images

،تصویر کا کیپشنننگرھار: طالبان حکام کا دعویٰ ہے کہ حالیہ مبینہ ڈرون حملوں میں عام شہریوں کو نشانہ بنایا گیا

افغانستان میں مبینہ پاکستانی فضائی کارروائیوں کا تاریخ

مواد پر جائیں
بی بی سی اردو اب واٹس ایپ پر

بی بی سی اردو کی خبروں اور فیچرز کو اپنے فون پر حاصل کریں اور سب سے پہلے جانیں پاکستان اور دنیا بھر سے ان کہانیوں کے بارے میں جو آپ کے لیے معنی رکھتی ہیں

سبسکرائب کرنے کے لیے کلک کریں

مواد پر جائیں

ماضی میں بھی طالبان حکام کی جانب سے پاکستان پر افغانستان کی سرزمین پر فضائی کارروائیوں کا الزام عائد کیا جا چکا ہے۔ طالبان حکام کا دعویٰ ہے کہ گذشتہ تین برسوں کے دوران اس نوعیت کی پاکستانی کارروائیوں میں خوست، کنٹر اور دیگر سرحدی علاقوں کو نشانہ بنایا جس میں ’عام شہری‘ ہلاک ہوئے۔

اس موقع پر بھی پاکستان کی وزارت خارجہ نے اس معاملے پر اگرچہ کوئی براہ راست تبصرہ تو نہیں کیا تھا تاہم اتنا ضرور کہا گیا تھا کہ پاکستانی فورسز نے ’اپنے شہریوں کی دہشت گرد گروہوں سے حفاظت کے لیے سرحدی علاقوں میں کارروائیاں کی ہیں۔‘

اس حملے کے بعد پاکستان کے دفتر خارجہ نے دعویٰ کیا تھا کہ سرحد کے قریب افغانستان کی حدود میں دہشتگردوں کے خلاف انٹیلیجنس معلومات کی بنیاد پر کارروائی میں حافظ گل بہادر گروپ سے تعلق رکھنے والے دہشتگرد ہدف تھے جو ٹی ٹی پی کے ساتھ پاکستان میں متعدد حملے کرنے میں ملوث ہیں۔

طالبان نے یہ دعویٰ بھی کیا تھا کہ اس مبینہ حملے میں ہلاک ہونے والوں میں سے 22 افراد کا تعلق ایک ہی خاندان سے تھا اور یہ وہ لوگ تھے جو وزیرستان سے بےگھر ہو کر خوست اور کنٹر میں رہائش پذیر تھے۔

اس مبینہ حملے کے بعد طالبان وزارت خارجہ نے کابل میں پاکستانی سفیر کو طلب کرتے ہوئے شدید احتجاج کیا تھا۔ اپریل 2022 کے مبینہ حملوں کے بعد افغانستان کے مختلف شہروں میں احتجاج بھی ہوئے تھے۔

اس حملے کے بعد اقوام متحدہ کے ادارے یونیسیف کی جانب سے جاری کردہ ایک بیان میں دعویٰ کیا تھا کہ 16 اپریل 2022 کو ہوئے حملے میں ہلاک ہونے والے میں 15 لڑکیوں اور پانچ لڑکوں سمیت 20 بچے شامل ہیں۔ یونیسیف نے کہا تھا کہ ’یہ بچے اس وقت مارے گئے جب وہ اپنے گھروں میں سو رہے تھے۔‘

اسی طرح پاکستانی فوج کے شعبہ تعلقات عامہ نے حالیہ مہینوں میں دو مختلف واقعات میں 104 ایسے مبینہ شدت پسندوں کو ہلاک کرنے کا دعویٰ کیا تھا جو افغانستان سے پاکستان میں داخل ہونے کی کوشش کر رہے تھے۔ پہلا واقعہ شمالی وزستان کے ساتھ افغانستان کی سرحد پر پیش آیا تھا جبکہ ددسرا بلوچستان میں ضلع ژوب کے قریب پیش آیا تھا۔

یاد رہے کہ پاکستان باضابطہ طور پر طالبان حکام کی جانب سے عائد کردہ اس نوعیت کے الزامات پر تبصرہ نہیں کرتا مگر پاکستانی فوج اور وزارت خارجہ سرحدی علاقوں میں تحریک طالبان پاکستان کے مبینہ شدت پسندوں کے خلاف کارروائیوں کی بابت آگاہ کرتی رہتی ہے۔

پاکستان اور افغانستان کے درمیان گذشتہ کچھ عرصے سے تعلقات میں تناؤ ہے اور اسلام آباد نے بار بار کابل سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ کالعدم تحریک طالبان پاکستان (ٹی ٹی پی) کے خلاف کارروائی کرے جو افغان سرزمین کو پاکستان میں حملوں کے لیے استعمال کر رہی ہے تاہم طالبان حکومت ان الزامات کی تردید کرتی رہی ہے۔