آپ اس وقت اس ویب سائٹ کا ٹیکسٹ پر مبنی ورژن دیکھ رہے ہیں جو کم ڈیٹا استعمال کرتا ہے۔ مرکزی ویب سائٹ جہاں تمام تصاویر اور ویڈیوز موجود ہیں دیکھیے
بابر اعظم: آپ بھی انجوائے کریں شائقین بھی اور جو ٹی وی پر بیٹھے ہیں وہ بھی
- مصنف, عبدالرشید شکور
- عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام سڈنی
پاکستانی کرکٹ ٹیم کے ٹی ٹوئنٹی ورلڈ کپ فائنل میں پہنچنے پر کپتان بابر اعظم سے زیادہ خوش اور مطمئن اور کون ہو گا؟
اس کی ایک بڑی وجہ یہ بھی ہے کہ ٹیم تو ہار رہی تھی لیکن خود ان کی اپنی پرفارمنس ان کے معیار سے کہیں زیادہ گری ہوئی تھی اور پاکستانی ٹی وی چینلز پر تبصرے کرنے والے سابق ٹیسٹ کرکٹرز کی توپوں کا رخ ان کی طرف تھا۔
لیکن اب پاکستانی ٹیم نے اپنی کارکردگی سے ان توپوں کو خاموش کر دیا ہے اور کپتان بابر اعظم کو بھی اس بات کا بخوبی اندازہ ہے۔ یہ اسی کا نتیجہ ہے کہ جب وہ سیمی فائنل کے بعد میڈیا کے سامنے آئے تو اس سوال پر کہ آپ اور رضوان کی جوڑی کو الگ کرنے کی بہت باتیں ہو رہی تھیں اس پر بابر اعظم کا کہنا تھا ’ہم اپنے وقت کا انتظار کر رہے تھے۔ ہماری سوچ واضح تھی یہ کرکٹ ہے اس میں اتار چڑھاؤ آتے رہتے ہیں۔ تنقید سب کرتے ہیں جب ہم اچھا کرتے ہیں تب بھی وہ تنقید کرتے ہیں۔‘
بابراعظم نے پریس کانفرنس میں موجود صحافیوں کو مخاطب کرتے ہوئے کہا ’یہ جیت آپ بھی انجوائے کریں۔ یہاں کا کراؤڈ اور پاکستانی عوام بھی انجوائے کریں اور وہ لوگ بھی جو ٹی وی پر بیٹھے ہیں۔‘
پاور پلے میں جارحانہ حکمت عملی
بابر اعظم کہتے ہیں ’رضوان اور میں نے یہ سوچ رکھا تھا کہ ہم نے پاور پلے کو صحیح طریقے سے استعمال کرنا ہے اور جب ہم اٹیک کریں گے تب ہی حریف ٹیم بیک فٹ پر جائے گی۔ ہم اپنی حکمت عملی میں کامیاب ہوئے۔‘
بابر اعظم کہتے ہیں ’جب آپ ہدف کا تعاقب کرتے ہیں تو آپ کو رسک لینا ہوتا ہے۔ ہماری پارٹنرشپ سے ٹیم کو مومینٹم ملا جسے ہم نے ادھورا نہیں چھوڑا۔ ہم دونوں میچ کو فنش کرنا چاہتے تھے بدقسمتی سے ہم دونوں آؤٹ ہو گئے لیکن محمد حارث نے ایک بار پھر بہت ہی زبردست اننگز کھیلی۔ اس نوجوان نے زبردست تاثر چھوڑا ہے اور کوئی یہ نہیں کہہ سکتا کہ یہ ان کا پہلا ورلڈ کپ ہے۔‘
خراب ابتدا کے بعد سنبھال لیا
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
بابراعظم کہتے ہیں ’اس ٹورنامنٹ میں ہمارا سٹارٹ اچھا نہیں رہا لیکن ٹیم نے کم بیک کیا۔ جنوبی افریقہ کے خلاف جیت سے ایک نئی امید ملی۔ ہماری ٹیم کی سب سے بڑی خوبی یہی ہے کہ ہم خود پر یقین رکھتے ہیں۔ ہمیں یقین ہوتا ہے کہ ہم کرسکتے ہیں۔ ہم کر کے دکھائیں گے اور ہم نے کر کے دکھایا ہے۔‘
بابر اعظم کہتے ہیں میں نیوزی لینڈ کے خلاف ٹرائی سیریز میں ملنے والے اعتماد کے ساتھ یہاں آیا ہوں لیکن بدقسمتی سے کسی بھی میچ میں مجھ سے رنز نہیں ہوئے اسی طرح رضوان بھی تگ و دو کر رہے تھے لیکن ہمیں اس بات کا یقین تھا کہ اگر ہم سیٹ ہو گئے تو ہم صورتحال بدل سکتے ہیں۔‘